وزارت دفاع
ہندوستانی بحریہ کولکاتا میں مقامی طور پر تیار کردہ تین بحری جہازوں کو باضابطہ طور پر اپنی خدمات میں شامل کرنے کیلئے تیار
प्रविष्टि तिथि:
19 JUN 2026 4:57PM by PIB Delhi
ہندوستانی بحریہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تین جدید جنگی بحری جہازوں—دوناگیری، سنشودھک اور آگرے—کو 21 جون 2026 کو کولکاتا میں باضابطہ طور پر بحریہ کی خدمات میں شامل کیا جائے گا۔
اس تاریخی تقریب کی صدارت عزت مآب وزیر اعظم کریں گے۔ https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2275033®=3&lang=1)
ہندوستانی بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو کی جانب سے ڈیزائن اور کولکاتا میں واقع گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (جی آر ایس ای) کی جانب سے تیار کیے گئے یہ بحری جہاز سمندری جنگی کارروائیوں، ہائیڈروگرافک سروے اور آبدوز شکن جنگی صلاحیتوں کے میدان میں اہم عملی استعداد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ تینوں جہاز مجموعی طور پر ہندوستانی بحریہ کے متوازن صلاحیت سازی کے نقطۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد گہرے سمندر میں آپریشنز کی استعداد کو مضبوط بنانا، سمندری حدود سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا اورخشکی سے متصل سمندرکے ابھرتے ہوئے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔

دوناگیری، پروجیکٹ 17 اے کے تحت تیار کیا گیا پانچواں اسٹیلتھ فریگیٹ ہے، جوبرہموس سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائلوں اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (ایم آر-ایس اے ایم) نظام سمیت جدید ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس ہے۔ یہ جنگی جہاز ہندوستانی بحریہ کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

سنشودھک،سروے ویسل (لارج) منصوبے کے تحت تیار کیا گیا چوتھا بحری جہاز ہے، جسے ساحلی اور گہرے سمندری علاقوں میں ہائیڈروگرافک سروے انجام دینے اور دفاعی و شہری مقاصد کے لیے سمندری اور ارضی طبعی (جیو فزیکل) معلومات جمع کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ جہاز خودکار زیرآب گاڑیوں اور ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز سمیت جدید سروے نظاموں سے لیس ہے۔

آگرے،ارنالا کلاس کی آبدوز شکن کم گہرے پانی میں کارروائی کرنے والی جنگی کشتیوں میں چوتھا جہازہے۔ یہ ہلکے وزن کے ٹارپیڈوز، مقامی طور پر تیار کردہ راکٹ لانچرز اور کم گہرے پانی میں کام کرنے والے سونار نظاموں سے لیس ہے، جو ساحلی اور کم گہرے سمندری علاقوں میں زیرِ آب خطرات کا سراغ لگانے اور ان سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ تینوں بحری جہاز ہندوستان کے مقامی جہاز سازی کے شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور پختگی کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ سامانوں کا تناسب 75 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان کی تعمیر میں ہندوستانی صنعت نے بھرپور حصہ لیا، جس میں 200 سے زائد بہت چھوٹے، چھوٹے اوردرمیان درجہ کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) بھی شامل ہیں اور اس عمل سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔
ان بحری جہازوںکی باضابطہ شمولیت حکومت ہند، ہندوستانی بحریہ، سرکاری شعبے کے شپ یارڈز، نجی صنعت اور ایم ایس ایم ایز کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتی ہے، جن کا مقصد آتم نربھر بھارت کے وژن کو آگے بڑھانا اورہندوستان کی سمندری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
***
ش ح – م ع ن- ن ع
U.No. 8900
(रिलीज़ आईडी: 2275312)
आगंतुक पटल : 11