وزارت دفاع
’مستقبل کے لیے تیار رہنے کی غرض سے سلامتی سے متعلق ضروریات میں خود انحصاری ناگزیر‘
وزیردفاع کا 10,000 ٹن صلاحیت کے ایلومینیم ایکسٹروژن پریس کے لیے وائی آئی ایل، ناگپور میں بھومی پوجن کے بعد بیان
’’ملک دفاعی پیداوار کے 3 لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات کے 50 ہزار کروڑ روپے کے اہداف مقررہ مدت سے پہلے حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ‘‘
کارپوریٹائزیشن کے بعداو ایف بی کی دفاعی پیداوار مالی سال 20-2019 کے12,755 کروڑ روپے کے مقابلے میں مالی سال 26-2025 میں بڑھ کر 26,282 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات 81 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4,561 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں
آر اینڈ ڈی اور سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کسی بھی صنعتی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل
प्रविष्टि तिथि:
19 JUN 2026 2:12PM by PIB Delhi
وزیردفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 19 جون 2026 کو مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس کے ہمراہ ینترا انڈیا لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کے یونٹ، آرڈیننس فیکٹری امباجھری، ناگپور میں جدید ترین 10,000 ٹن صلاحیت کے ایلومینیم ایکسٹروژن پریس کے لیے بھومی پوجن انجام کے موقع پر کہا کہ ’جو قوم اپنی ضروریات خود پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سب سے زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ ایکسٹروژن پریس ملک کے اس بدلتے ہوئے نقطۂ نظر کی علامت ہے، جس کے تحت درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے اہم اور حساس مصنوعات ملک کے اندر ہی تیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے موجودہ عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات کے تناظر میں مستقبل کے لیے تیار رہنے کی خاطر سلامتی سے متعلق ضروریات پر خود انحصاری کو ناگزیر قرار دیا۔

مجوزہ ایکسٹروژن پریس اپنی نوعیت کی ملک کی جدید ترین تنصیبات میں سے ایک ہوگا۔ اس کے ذریعے دفاعی نظاموں اور پلیٹ فارمز، ایرو اسپیس اور ہوابازی کے ڈھانچوں، میزائل پروگراموں، ریلوے اور نقل و حمل کے شعبوں سمیت دیگر تزویراتی صنعتی استعمالات کے لیے درکار بڑے اور پیچیدہ ایلومینیم الائے پروفائلز تیار کیے جا سکیں گے۔یہ منصوبہ اہم ایلومینیم ایکسٹروژنز کی درآمد پر انحصار کم کرنے، ملکی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور مقامی پیداوار کے ذریعے تزویراتی شعبوں کی مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ یہ ایکسٹروژن پریس ایک نہایت اہم ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ جدید لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور جدید خلائی پروگراموں کے لیے ایسی دھاتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہلکی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مضبوط بھی ہوں اور سخت ترین حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس قسم کی دھاتیں خصوصی پیداواری عمل کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ اگر دھات کا معیار اعلیٰ ہو تو وہ ہر قسم کے حالات میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
آپریشن سندور کی کامیابی میں’میڈ اِن انڈیا‘(ملک میں تیار کیے گئے) دفاعی سازوسامان کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی افواج کے جوانوں کی بہادری کے شایان شان مضبوط اور جدید دفاعی آلات کی مقامی تیاری میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی مشینوں کی حقیقی طاقت ہزاروں اہم پرزوں پر مشتمل ہوتی ہے اور یہ ایکسٹروژن پریس اس اہم شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
وزیردفاع نے مزید کہا کہ اگرچہ آج جنگ کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور دشمن کی شناخت پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے، تاہم روایتی جنگ اور اس سے وابستہ ذرائع کی اہمیت آج بھی اتنی ہی برقرار ہے جتنی 1947 میں تھی اور 2047 میں بھی بڑی حد تک برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط فوجی و صنعتی بنیاد کی اہمیت آئندہ بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی اور یہ ایکسٹروژن پریس مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کی ایک بڑی قومی ضرورت پوری کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت وزیراعظم جناب نریندر مودی کے آتم نربھر بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بیک وقت چار اہم ستونوں—ٹیکنالوجی، افرادی قوت، علم اور ملک پر اعتماد—پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ملک کی دفاعی پیداوار جو 2014 میں 46 ہزار کروڑ روپے تھی، مالی سال 26-2025میں بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں ہندوستان کے دفاعی سازوسامان اور ہتھیاروں کی برآمدات ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، جو اب بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ صرف اعداد و شمار میں اضافہ نہیں ،بلکہ ہندوستان کی صلاحیتوں میں نمایاں وسعت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ملک کے بڑھتے ہوئے خود اعتمادی کا بھی مظہر ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آئندہ دو سے تین برسوں کے لیے مقرر کیے گئے اپنے اہداف—3 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار اور 50 ہزار کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات—کو ہم مقررہ وقت سے پہلے ہی حاصل کر لیں گے۔
وزیردفاع نے خود انحصاری کے ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے ینترا انڈیا لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے پیش نظر نظام کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے آرڈیننس فیکٹری بورڈ (او ایف بی) کی کارپوریٹائزیشن کی گئی تھی اور وائی آئی ایل اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارپوریٹائزیشن کے بعد ہمارا تصور یہ تھا کہ نئی کمپنیوں کو اپنے کام کاج میں خاطر خواہ خود مختاری حاصل ہو اور انہیں اختراع، خطرات مول لینے، تحقیق اور برآمدات کے شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے مواقع میسر آئیں۔ تمام نئی دفاعی سرکاری کمپنیاں (ڈی پی ایس یوز) کامیابی کے ساتھ اسی سمت میں آگے بڑھی ہیں۔ مالی سال 2019-20، جو کارپوریٹائزیشن سے قبل کا آخری سال تھا، میں آرڈیننس فیکٹری بورڈ کی پیداوار 12,755 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 26-2025میں بڑھ کر 26,282 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ دفاعی برآمدات کے شعبے میں بھی کارپوریٹائزیشن سے قبل یہ اعداد و شمار محض 81 کروڑ روپے تھے، جو اب بڑھ کر 4,561 کروڑ روپے ہو گئے ہیں، جن میں وائی آئی ایل کا حصہ 397 کروڑ روپے ہے۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آج کے مسابقتی دور میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور سرمایہ جاتی سرمایہ کاری ایسے بنیادی عناصر ہیں جو کسی بھی صنعتی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی ترقی اور مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے تحقیق و ترقی نہایت اہم ہے اور جو ادارے اختراع اور جدت کو اپناتے ہیں، وہی مستقبل میں قیادت کرتے ہیں۔
سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نئی مشینری کی تنصیب یا جدید آلات میں سرمایہ کاری سے صنعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جدید مشینری کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز مینوفیکچرنگ نظام کا حصہ بن جاتی ہیں، جس سے پیداواری عمل کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، مصنوعات کے معیار میں بہتری آتی ہے اور پورا نظام زیادہ جدید اور مؤثر بن جاتا ہے۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری شعبے کے اداروں کو مؤثر مشینری کی تنصیب اور جدید کاری کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور ترقی یافتہ پیداواری نظاموں میں سرمایہ کاری مستقبل میں مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کارپوریٹ ادارے قومی توقعات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ عالمی معیار پر بھی اپنی مضبوط موجودگی قائم کر سکیں گے۔ انہوں نے دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں (ڈی پی ایس یوز) پر زور دیا کہ وہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنے کے لیے ،جہاں ضرورت ہو، بہترین طریقۂ کار کا مطالعہ کریں اور انہیں عملی جامہ پہنائیں۔
اپنے خطاب میں مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ نے ایلومینیم ایکسٹروژن پریس کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی رہنمائی میں آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی کوششوں کے باعث ہندوستان کا دفاعی شعبہ عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ملک بین الاقوامی منڈی میں دفاعی سازوسامان برآمد کرنے والے ایک اہم ملک کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔
جناب دیویندر فڑنویس نے آپریشن سندور کو نئےہندوستان کی تکنیکی مہارت اور منفرد صلاحیتوں کی شاندار مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں (ڈی پی ایس یوز) اور نجی شعبے کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ملک کو نئی بلندیوں کی جانب لے جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ یہ ایکسٹروژن پریس ناگپور اور پورے خطے کو دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے ہدف کے حصول کے لیے ایک اہم مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس موقع پر سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار، محکمہ دفاعی پیداوار کی جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر گریما بھگت، ینترا انڈیا لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کے ڈائریکٹر (آپریشنز) اور چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر (اضافی چارج) جناب وجے کمارایر، محکمہ دفاعی پیداوار اور وائی آئی ایل کے دیگر سینئر حکام، دفاعی افواج کے افسران اور صنعتی شعبے کے نمائندے بھی موجود تھے۔
***
ش ح – م ع ن- ن ع
U.No. 8879
(रिलीज़ आईडी: 2275201)
आगंतुक पटल : 10