حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
بھارت میں روبوٹکس کے اسٹریٹجک روڈ میپ پر تبادلہ خیال کے لیے ایمپاورڈ ٹیکنالوجی گروپ (ای ٹی جی) کے تحت ٹیکنالوجی ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی) کا اجلاس
प्रविष्टि तिथि:
03 FEB 2026 9:30PM by PIB Delhi
بھارت میں روبوٹکس کے ایکو سسٹم (صلاحیتوں اور نظام)، کامیابیوں، چیلنجوں اور اسٹریٹجک روڈ میپ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے، ایمپاورڈ ٹیکنالوجی گروپ (ای ٹی جی) کے تحت قائم کردہ ٹیکنالوجی ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی) کا تیسرا اجلاس 3 فروری 2026 کو منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت حکومتِ ہند کے سائنسی مشیرکے سربراہ (پی ایس اے) پروفیسر اجے کمار سود نے کی۔

اس اجلاس میں ٹیکنالوجی ایڈوائزری گروپ (ٹی اے جی) کے ارکان، ایمپاورڈ ٹیکنالوجی گروپ (ای ٹی جے) کے نمائندے، حکومت کے اعلیٰ حکام، نامور ماہرینِ تعلیم، اور روبوٹکس کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو ایک جگہ جمع کیا گیا تاکہ ملک کے گھریلو روبوٹکس ایکو سسٹم کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل کا نقشہ تیار کیا جا سکے۔

حکومتِ ہند کے چیف سائنسی مشیر (پی ایس اے) کے دفتر کی مشیر اور سائنسدان جی ڈاکٹر پریتی بنسل نے اپنے استقبالیہ خطبے میں، فروری 2025 میں جدید مینوفیکچرنگ پر منعقدہ دوسرے ٹی اے جی اجلاس کو یاد کیا۔ انہوں نے اس تیسرے اجلاس کے بنیادی مقصد، یعنی جدید روبوٹک ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں، پروفیسر سود نے ملکی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے روبوٹکس کے شعبے میں خود کفیل ہندوستان کے وژن کو شیئر کیا۔ انہوں نے روبوٹکس میں آنے والی انقلابی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد انسانی محنت کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے باہمی تعاون کرنے والے روبوٹس اور فزیکل اے آئی کے ساتھ ساتھ دفاع اور اندرونی سلامتی کے لیے بغیر پائلٹ اور دوہرے استعمال والے پلیٹ فارمز جیسے شعبہ جاتی ترجیحات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی ) کے سکریٹری جناب ایس کرشنن نے قومی روبوٹکس حکمتِ عملی کے مسودے کا ذکر کیا، جسے مختلف وزارتوں اور متعلقہ افراد کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایم ای آئی ٹی وائی کے موجودہ منصوبے جیسے کہ انڈیا اے آئی مشن، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن اور الیکٹرانک پرزوں کا ایکو سسٹم، مستقبل کے روبوٹکس مشن کے لیے بنیادی ستون کے طور پر کام کریں گے۔ڈی آر ڈی اوکے چیئرمین ڈاکٹر سمیر کامت نے سافٹ ویئر کے میدان میں خود مختاری حاصل کرنے کی اسٹریٹجک ضرورت پر زور دیا اور بالخصوص ڈیزائن اور سیمولیشن ٹولز کو مقامی سطح پر تیار کرنے کی اپیل کی۔ ان کی تائید کرتے ہوئے ڈی بی ٹی کی سابق سکریٹری ڈاکٹر رینو سواروپ نے مانگ پر مبنی طریقہ کار کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ اثر انگیز شعبوں کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار ہونی چاہئیں اور اس سے پہلے ترجیحات کا درست تعین لازمی ہے۔قومی سلامتی کونسل سیکرٹریٹ (این ایس سی ایس) کے ملٹری ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل این ایس راجا سبرامنی (ریٹائرڈ) نے اس بات پر زور دیا کہ قومی دفاعی نظام میں روبوٹکس کو شامل کرنا اب محض ایک متبادل یا انتخاب نہیں رہا، بلکہ یہ جدید جنگی حکمتِ عملی کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
پی ایس اے (پی ایس اے) آفس کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر (سی ٹی او) جناب روہت گپتا نے قومی اور عالمی سطح پر روبوٹکس کی موجودہ صورتحال کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا، جس نے آئندہ گفتگو کے لیے ایک بہترین بنیاد فراہم کی۔
اس اجلاس میں روبوٹکس کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے نامور ماہرین کی جانب سے درج ذیل موضوعات پر تفصیلی پریزنٹیشنز دی گئیں:
- آرٹ پارک(آئی آئی ایس سی بنگلور)کے سی ای او جناب رگھو دھرم راجو نے اے آئی اور روبوٹکس ٹیکنالوجیز کو لیبارٹری کی تحقیق سے نکال کر مارکیٹ کے لیے تیار مصنوعات اور حل میں تبدیل کرنے کے لیے آرٹ پارک کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
- پروفیسر سبیر کمار سہا اور جناب اشوتوش دت شرما (آئی آئی ٹی دہلی) نے تحقیق و ترقی، انٹرپرینیورشپ اور ہنرمندی کی ترقی کے ذریعے تعلیمی تحقیق اور صنعتی 'کوبوٹکس' کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے، 'آئی-ہب فاؤنڈیشن فار کوبوٹکس' (آئی ایچ ایف سی) اور نیشنل انٹر ڈسپلنری سائبر-فزیکل سسٹمز مشن (این ایم-آئی سی پی ایس) کے تعاون یافتہ مقاصد کی وضاحت کی۔
- آئی آئی ٹی مدراس سے پروفیسر ایم منیوَنّن نے ایمبوڈیڈ اے آئی کی بنیاد کے طور پر لمس کے احساس اورہیپٹکس ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے ملکی تحقیق اور قومی سطح پر ٹیکٹائل انٹیلیجنس مہم کی ضرورت کو پیش کیا۔
- جنرل آٹونومی کے شریک بانی، جناب فرید احسن نے ملکی سطح پر تیار کردہ انسان نما اور چار ٹانگوں والے روبوٹس کا استعمال کرتے ہوئے ایمبوڈیڈ اے آئی پر مبنی آٹومیشن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) اسکیم کی حمایت، ڈیٹا پلیٹ فارمز اور بڑے پیمانے پر چیلنجز جیسے قومی محرکات کی ضرورت پر زور دیا۔
- گرے اورینج کے سی ای او جناب آکاش گپتا نے گوداموں اور ریٹیل آٹومیشن میں بڑے پیمانے پر 'فزیکل اے آئی' کے استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے اہم پرزوں کی ملکی سطح پر تیاری، ٹیلنٹ کی ترقی، قومی معیارات کی اہمیت، ایمبوڈیڈ اے آئی کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) اور حکومتوں کے درمیان (جی 2ٹی) سرٹیفیکیشنز پر پریزنٹیشن دی۔
- علاوہ ازیں، اجلاس کی بات چیت اور متعلقہ فریقین کی تجاویز میں درج ذیل اہم نکات پر زور دیا گیا:
- ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور کوالٹی، لاگت اور تکنیکی صلاحیت کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے سرکاری خریداری کو فروغ دینے کے لیے ایک مربوط پالیسی اور مراعات کے فریم ورک کی ضرورت ہے۔
- ایکچوایٹرز، سینسرز، ٹرانسڈیوسرز، چپ سیٹس، درست گیئرز، اور ڈیزائن و سیمولیشن ٹولز سمیت ہارڈ ویئر اور اسپیئر پارٹس کے نظام میں نمایاں خامیاں پائی گئی ہیں، جو اسٹریٹجک کمزوری کا باعث بن رہی ہیں۔
- ٹیسٹنگ، سرٹیفیکیشن اور کوالٹی کے معیارات کے فریم ورک کو مضبوط کرنے کی اہمیت، اور اہم پرزوں کو ملکی سطح پر تیار کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار اپنانے پر زور دیا گیا۔
- دفاع، صحت اور زراعت کے شعبوں میں روبوٹکس کے استعمال کو فروغ دینے، بہترین اور ہدف پر مبنی ڈیٹا کی دستیابی کو یقینی بنانے، اور سافٹ ویئر ٹولز و ڈیزائن پلیٹ فارمز کی ملکی سطح پر تیاری سمیت سپلائی چین کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ 'نیشنل ڈیٹا اور فیڈریٹڈ انفراسٹرکچر' قائم کرنے پر اتفاق رائے ہوا۔ یہ بنیادی ڈھانچہ اختراع کو عام کرنے، تعیناتی کو تیز کرنے اور ٹیلنٹ کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔
- ہیپٹکس ٹیکنالوجی کو ترجیح دینا، ضرورت پر مبنی صارفین کو ہدف بنانا اور ترقی کے مراحل میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا، نیز پروڈکٹ کی تیاری اور استعمال کی رہنمائی کے لیے صارفین کے طے کردہ اشاریوں (کے پی آئیز) کو اپنانا۔
- آئی ڈیکس ماڈل کی طرز پر بڑے چیلنجز کی حوصلہ افزائی کرنا اور روبوٹکس کے شعبے کے لیے مخصوص فنڈز فراہم کرنے کے لیے آرڈی آئی جیسے منصوبوں کا استعمال کرنا، اور ساتھ ہی اسٹریٹجک شعبوں میں سرکاری خریداری کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا۔
- میکانکس، مٹیریل سائنس، ہیپٹکس، کمیونیکیشن، انڈسٹریل انجینئرنگ اور انسٹرومینٹیشن کے شعبوں میں مشن موڈ پر مبنی تحقیق و ترقی کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان دوری کو ختم کرنے کے لیے اسے 'پروڈکٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پارٹنرشپ' (پی ڈی پی) ماڈل کے ذریعے مدد دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ایم ایس ایم ای کلسٹرز، ترقیاتی انفراسٹرکچر اور تحقیق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیلڈ اور کلینیکل تصدیق کی ضرورت ہے۔
- ملکی سطح پر موجود حفاظتی خطرات کو دور کرنے اور برآمدات میں آنے والی غیر ٹیرف رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متحرک انضباطی ڈھانچہ کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں یہ سفارش کی گئی کہ ایسی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جائیں جن کے ذریعے بھارتی روبوٹس عالمی معیارات (آئی ایس او/سی ای) پر پورا اتر سکیں اور امریکہ جیسے ممالک میں ان کی برآمدات آسان ہو سکیں۔


پی ایس اے دفتر کی سائنسی سیکریٹری، ڈاکٹر (محترمہ) پرویندر مائنی نے اجلاس کے اہم نتائج کا مختصر خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ روبوٹکس کا شعبہ روایتی خودکاری سے آگے بڑھ کر مجسم ذہانت ، حیاتیاتی تحریک یافتہ نظاموں اور ایسی موافق مشینوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے جو غیر منظم حقیقی دنیا کے ماحول میں مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔ڈاکٹر مائنی نے اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے مشن سے منسلک گرانٹس کے نفاذ، ضابطہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے، اور یکساں معیارات و سرٹیفیکیشن کے نظام کی تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کلیدی ٹیکنالوجیز کی مقامی سطح پر ترقی پر مرکوز ایک ‘‘قومی روبوٹکس روڈ میپ’’ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق اگرچہ مشن موڈ یا کنسورشیم پر مبنی نقطۂ نظر کے حق میں اتفاقِ رائے موجود تھا، تاہم اس کے موجودہ سرکاری پروگراموں کے ساتھ انضمام کے حوالے سے مزید تفصیلی غور و خوض کی ضرورت ہے۔
اپنے اختتامی خطاب میں، پروفیسر سود نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روبوٹکس کے حوالے سے ایک منظم اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی بھارت کی طویل مدتی صنعتی ترقی اور ایک مضبوط ‘‘پروڈکٹ نیشن’’ کے طور پر ابھرنے کے عزم کے لیے نہایت اہم ہوگی۔ "انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ روبوٹکس کو قومی مشنز کے لیے ایک قوت افزا، بھارت کی صنعتی اور دفاعی ترقی کے لیے ایک اہم محرک اور اعلیٰ قدر کی مینوفیکچرنگ کی بنیاد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آخر میں، انہوں نے تمام شرکاء سے درخواست کی کہ وہ اپنی مخصوص سفارشات پیش کریں تاکہ فزیکل اے آئی اور روبوٹکس کے لیے ایک جامع اور اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کرنے میں مدد مل سکے۔
****
(ش ح ۔ ع ح۔م ش(
U.No.8875
(रिलीज़ आईडी: 2275052)
आगंतुक पटल : 18