دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے’’ آر ای ڈبلیو اے آر ڈی یعنی جدت پر مبنی ترقی کے ذریعے زرعی لچک کے لیے واٹرشیڈز کی بحالی” کے تحت بہتر واٹرشیڈ مینجمنٹ کے لیے قومی تکنیکی رہنما اصول (این ٹی جی) پر دوسری قومی سطح کی مشاورتی میٹنگ

प्रविष्टि तिथि: 18 JUN 2026 10:40AM by PIB Delhi

حکومت ہند کی دیہی ترقی کی وزارت کے محکمہ زمینی وسائل(ڈی او ایل آرکا نالج پارٹنرنیشنل رین فیڈ ایریا اتھارٹی (این آر اے اے) نے عالمی بینک  کے تعاون سے چلنے والےآر ای ڈبلیو اے آر ڈی پروگرام یعنی’’جدت پر مبنی ترقی کے ذریعے زرعی لچک کے لیے واٹرشیڈز کی بحالی‘ کے تحت واٹر شیڈزکے بہتر انتظامات کےلیے مجوزہ قومی تکنیکی رہنما اصول (این ٹی جی) پر دوسری قومی سطح کی مشاورتی میٹنگ 17 تا18 جون 2026 کو نئی دہلی کے پسہ میں واقع این اے ایس سی کمپلیکس ہوئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001YXMK.png

افتتاحی اجلاس کی صدارت محکمہ زمینی وسائل کے سکریٹری جناب نریندر بھوش نے کی، جبکہ ڈاکٹر چندر شیکھر کمار، چیف ایگزیکٹو آفیسر، این آر اے اے، کے ساتھ ساتھ ڈی او ایل آر اور این آر اے اے کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

اس مشاورتی میٹنگ میں واٹرشیڈ ترقی اور قدرتی وسائل کے انتظام سے وابستہ اہم فریقین نے شرکت کی، جن میں محکمہ زمینی وسائل، نیشنل رین فیڈ ایریا اتھارٹی، عالمی بینک،آر ای ڈبلیو اے آرڈی ریاستیں (کرناٹک اور اڈیشہ)، این آر اے اے کے کنسورشیم پارٹنرز،این اے بی اے آر ڈی، آئی سی اے آر ادارے اور دیگر قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان شامل تھے۔

صحرا زدگی اور خشک سالی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جناب نریندر بھوشن نے ایک مختصر فلم ’میری مٹی، میرا فرض’کو ریلیزکیا، جس کا مقصد ہماری مٹی کا تحفظ، بنجر زمینوں کی بحالی، بارانی علاقوں کی بہتری اور واٹرشیڈ کی ترقی کے ذریعے ایک پائیدار مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔

ڈی او ایل آر کے سکریٹری نے زور دیا کہ واٹرشیڈ مینجمنٹ کو سائنسی بنیادوں پر، کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ اور انتظامی سادگی کے اصول پر چلایا جانا چاہیے، جس میں کسانوں اور مقامی واٹرشیڈ اداروں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ رہنما اصول تیار کرتے وقت بارانی علاقوں کی ترقی، زرعی پیداوار میں اضافہ، فصلوں کی شدت کو بہتر بنانے، پانی کی سلامتی اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کو مضبوط کرنے، موسمیاتی لچک پیدا کرنے، اور واٹرشیڈ اثاثوں کی مرمت و دیکھ بھال جیسے قومی اہداف کو مدظر رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ این ٹی جی میں تجویز کردہ اقدامات قابل توسیع ہونے چاہییں۔

این آر اے اے کےچیف ایگزیکٹو آفیسر نے ڈرافٹ این ٹی جی کے حوالے سے پہلے قومی سطح کے مشاورتی اجلاس میں ہونے والی سابقہ تجاویز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کی زیادہ شمولیت، اعدادوشمار پر مبنی نقطۂ نظر، ہم آہنگی، پنچایتی راج اداروں (پی آر آئی) کی شمولیت اور منصوبے کے بعد پائیداری جیسے امور پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چیٹ بوٹس کے ساتھ مربوط ایپلی کیشنز کا انضمام، ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور تشخیصی نظاموں کا استعمال، مضبوط فیصلہ سازی کے معاون نظام (ڈی ایس ایس) کی تیاری اور قومی ویب پورٹل نظاموں کی ترقی ضروری ہے تاکہ مستقبل کے واٹرشیڈ پروگراموں کے لیے بامعنی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

ڈی او ایل آر کےجوائنٹ سکریٹری(واٹر مینجمنٹ) نے مشورہ دیا کہ منصوبہ بندی کے لیے ہائی ریزولوشن کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کیا جائے، ایل آر آئی اور ہائیڈرولوجی-لائٹ طریقہ کار کو اپنایا جائے، ریاستوں میں ادارہ جاتی اور نفاذی نظاموں میں اصلاحات کی جائیں تاکہ واٹرشیڈ منصوبوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے اور تکنیکی سروس فراہم کرنے والوں، اداروں/این جی اوز کی شمولیت کے ذریعے منصوبے کے بعد دیکھ بھال اور واٹرشیڈ اثاثوں کی پائیداری کے طریقہ کار تلاش کیے جائیں۔

یہ مشاورتی اجلاس ڈرافٹ قومی تکنیکی رہنما اصولوں پر غور و خوض اور ماہرین کی آراء کو شامل کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے ،تاکہ ملک بھر میں واٹرشیڈ منصوبہ بندی، نفاذ، نگرانی اور پائیداری کو مضبوط بنایا جا سکے۔ توقع ہے کہ یہ مباحثے واٹرشیڈ حکمرانی کو بہتر بنانے اور بارانی علاقوں میں موسمیاتی لچک کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

اس موقع پرمتعدد تکنیکی سیشنز کا اہتمام کیا گیا ہے ،جن میں اہم موضوعاتی شعبے شامل ہیں، جیسے زمینی وسائل کی فہرست سازی (ایل آر آئی)، ہائیڈرولوجی، فیصلہ سازی کے معاون نظام (ڈی ایس ایس)، ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور جائزہ نظام، کمیونٹی کی شمولیت اور سماجی متحرک سازی، روزگار کے فروغ، واٹرشیڈ کی پائیداری اور ریموٹ سینسنگ و جی آئی ایس پر مبنی ویب پورٹل کی تیاری۔

اس تقریب میں مختلف ریاستوں اور نامور اداروں کی نمائندگی کرنے والے تقریباً 100 ماہرین اور عملی تجربہ رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جو ملک میں سائنسی اور پائیدار واٹرشیڈ مینجمنٹ کے طریقوں کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع بنیادوں پر عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No .8801


(रिलीज़ आईडी: 2274429) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil