PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

قومی یوم رائے دہندگان 2026


میرا بھارت، میرا ووٹ

प्रविष्टि तिथि: 24 JAN 2026 9:43PM by PIB Delhi

اہم نکات

  • قومی یومِ رائے دہندگان ہر سال 25 جنوری کو ملک بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ رائے دہندگان کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے، نوجوانوں کی انتخابی عمل میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے، جمہوری اقدار کو مضبوط بنایا جائے اور بالغ رائے دہی کے عالمگیر حق کو فروغ دیا جا سکے۔
  • قومی یومِ رائے دہندگان 2026 کا موضوع ‘‘میرا بھارت، میرا ووٹ’’ہے، جبکہ اس کا ذیلی نعرہ شہری، بھارتی جمہوریت کا محور رکھا گیا ہے۔
  • بھارت کے الیکشن کمیشن نے انتخابی نظام کی شفافیت اور دیانت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ایس وی ای ای پی پروگرام نے ووٹر بیداری اور انتخابی تعلیم کو فروغ دیا ہے، جبکہ ای سی آئی این ای ٹی کے ذریعے انتخابی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر تعاون کو تقویت ملی ہے۔
  • سی ویجل ایپ نے انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی فوری اطلاع دینے کی سہولت فراہم کی ہے۔ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر سو فیصد ویب کاسٹنگ نے انتخابی عمل میں شفافیت کو مزید بڑھایا ہے، جبکہ ای  پی آئی سی کی فراہمی کا دورانیہ کم کرکے 15 دن کر دیا گیا ہے۔

 تعارف

بھارت میں ہر سال 25 جنوری کو قومی یومِ رائے دہندگان منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد جمہوریت کا جشن منانا اور ہر شہری کو انتخابی عمل میں فعال شرکت کے لیے بااختیار بنانا ہے۔ یہ دن الیکشن کمیشن آف انڈیا کے یومِ تاسیس کی یاد میں منایا جاتا ہے، جسے بھارتی آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت 25 جنوری 1950 کو قائم کیا گیا تھا۔

image002KVC5.jpg

 

الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک اہم آئینی ادارہ ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں انتخابات کے انعقاد، نگرانی اور انتظام کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ اب تک یہ ادارہ 18 لوک سبھا انتخابات اور 400 سے زائد ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کامیابی سے منعقد کرا چکا ہے۔کمیشن راجیہ سبھا، ریاستی قانون ساز کونسلوں (جہاں یہ موجود ہیں)، مرکز کے زیر انتظام علاقوں پڈوچیری اور قومی دارالحکومت دہلی کی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کے علاوہ صدرِ ہند اور نائب صدرِ ہند کے انتخابات کی بھی نگرانی کرتا ہے۔الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی آئینی ادارہ ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور دو دیگر الیکشن کمشنر شامل ہوتے ہیں۔

قومی یومِ رائے دہندگان 2026 کا موضوع ‘‘میرا بھارت، میرا ووٹ’’ ہے، جبکہ اس کا ذیلی نعرہ "شہری، بھارتی جمہوریت کا محور" رکھا گیا ہے۔ یہ موضوع الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ان کوششوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا مقصد شہریوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے انتخابی نظام کی تشکیل ہے۔کمیشن اپنی تمام پالیسیوں اور اقدامات میں شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتا ہے اور انہیں انتخابی عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی ترغیب دیتا ہے۔

image003DRCZ.png

قومی یومِ رائے دہندگان (این وی ڈی) کی مرکزی تقریب نئی دہلی میں منعقد ہوتی ہے۔ اس موقع پر صدرِ ہند تقریب سے خطاب کرتے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ نئے رجسٹرڈ نوجوان ووٹروں کے ایک گروپ کو الیکٹررز فوٹو شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) بھی دیتے ہیں اور انتخابی افسران کو ان کی شاندار کارکردگی پر اعزاز سے نوازتے ہیں۔ یہ اعزازات انتخابی انتظام میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سول سروس تنظیموں کو بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں سراہا جاتا ہے۔

قومی یومِ رائے دہندگان کی اہمیت

جمہوری اور انتخابی عمل میں ووٹروں کی شرکت کسی بھی جمہوریت کے کامیاب اور مؤثر طور پر چلنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ شفاف اور جامع جمہوری انتخابات کی اصل بنیاد ہے۔

 

بھارت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر اہل شہری کا نام انتخابی فہرست میں شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ انتخابی فہرست میں شامل تمام افراد کو رضاکارانہ طور پر ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جائے۔ قومی یومِ رائے دہندگان (این وی ڈی )اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ دن ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی عمل میں شرکت کے حوالے سے بیداری پیدا کرتا ہے اور اہل شہریوں کو اپنا نام درج کرانے اور اپنے جمہوری حقِ رائے دہی کو استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ دن ملک کے تمام ووٹروں کے نام وقف ہوتا ہے۔ اس موقع پر نئے ووٹروں کا اندراج ایک اہم توجہ کا مرکز ہوتا ہے اور پورے بھارت میں نئے ووٹروں کو اس دن اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔

قومی یومِ رائے دہندگان ملک بھر میں تقریباً 11 لاکھ پولنگ بوتھوں پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسروں (ڈی ای او) اور ریاستی سطح پر چیف الیکٹورل آفیسروں (سی او ای) کے ذریعے بھی منایا جاتا ہے۔بوتھ لیول آفیسروں (بی ایل او) ہر پولنگ اسٹیشن کے علاقے میں تقریبات منعقد کرتے ہیں اور نئے رجسٹرڈ ووٹروں کو اعزاز سے نوازتے ہیں۔

عوام تک رسائی کے مقصد سے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے 2011 میں اپنے یومِ تاسیس یعنی 25 جنوری کو قومی یومِ رائے دہندگان (این وی ڈی) منانے کا آغاز کیا۔ یہ دن پورے ملک میں جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اس موقع پر مختلف بیداری سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، جن میں سمپوزیم، سائیکل ریلیاں، انسانی زنجیریں، لوک فن کے پروگرام، منی میراتھن، مقابلے اوربیداری سیمینار شامل ہیں۔ان سرگرمیوں کا زیادہ تر ہدف نوجوان ہوتے ہیں تاکہ انہیں ووٹ دینے کی اہمیت اور جمہوری نظام کے بارے میں بہتر طور پر بیدار کیا جا سکے۔

اہم سرگرمیاں اور تقریبات

الیکشن کمیشن آف انڈیا قومی یومِ رائے دہندگان کی تقریبات کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے۔

قومی انتخابی ایوارڈز این وی ڈی 2026 کے موقع پر دیے جاتے ہیں۔

ایک منظم اعزازاتی پروگرام این وی ڈی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے، جو انتخابی انتظام اور ووٹر بیداری کے میدان میں بہترین کارکردگی کو سراہتا ہے۔ یہ ایوارڈز قومی اور ریاستی دونوں سطحوں پر این وی ڈی کی تقریبات کے دوران دیے جاتے ہیں۔ اس سال یہ اعزازات بہترین انتخابی اضلاع کو دیا جائے گا۔

بہترین انتخابی ضلع ایوارڈز 2026 میں درج ذیل موضوعات کے تحت حاصل کی گئی نمایاں کامیابیوں کو تسلیم اور سراہا جائے گا۔

جدید ووٹر بیداری اقدامات: ایسے تخلیقی ووٹر تعلیم پروگراموں، بیداری مہمات اور عوامی رابطہ سرگرمیوں کو سراہنا جو شہریوں کو شامل اور بااختیار بنائیں۔

انتخابات میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال: انتخابی عمل کی کارکردگی، شفافیت اور درستگی کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو تسلیم کرنا۔

تربیت اور استعداد کار میں اضافہ: انتخابی عملے کے لیے منظم اور مؤثر تربیتی پروگراموں اور جامع استعداد کار کی ترقی کو سراہنا۔

انتخابی انتظام اور لاجسٹکس: پولنگ اسٹیشنوں، انتخابی مواد کی فراہمی اور عملے کی تعیناتی سمیت انتخابی انتظامات میں بہترین طریقۂ کار کو تسلیم کرنا۔

ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کا نفاذ اور عملدرآمد: آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ضابطہ اخلاق کے مؤثر نفاذ اور اس پر عملدرآمد کی حکمت عملیوں کو سراہنا۔

میڈیا ایوارڈز: مختلف میڈیا پلیٹ فارمز بشمول پرنٹ، ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن/سوشل میڈیا پر ووٹر تعلیم سے متعلق شاندار مہمات کو تسلیم کرنا۔

این وی ڈی 2026 پر اجرا

این وی ڈی ایک ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے معزز صدرِ ہند کی باوقار موجودگی میں درج ذیل اقدامات کا آغاز کیا جاتا ہے:

1۔ووٹر بیداری مہمات یا عوامی رابطہ اقدامات

2۔ادارہ جاتی اشاعتیں، رپورٹس یا علمی و معلوماتی مواد

3۔آڈیو ویژول مواد جو جمہوری عمل، ووٹر شرکت اور انتخابی اختراع کو اجاگر کرے

4۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کامیابیوں پر مبنی اشاعت کا اجرا

5۔بہار میں عام انتخابات کے کامیاب انعقاد سے متعلق اشاعت کا اجرا

6۔انتخابی انتظام اور جمہوری ترقی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی عالمی قیادت کی عکاسی کرنے والی ویڈیو کا اجراء

 

image0041JA2.png

تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں

تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو خصوصی سرگرمیاں منعقد کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں مباحثے، گفتگو اور مختلف مقابلے شامل ہوتے ہیں۔ طلبہ ڈرائنگ، اسکیٹس، گانے، پینٹنگ اور مضمون نویسی جیسے مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نوجوان ذہنوں کو ذمہ دار ووٹر بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔

یہ سرگرمیاں سسٹمیٹک ووٹرز ایجوکیشن اینڈ الیکٹورل پارٹیسپیشن (ایس وی ای ای پی) پروگرام کے تحت کی جاتی ہیں، جس کا مقصد باخبر اور جامع انتخابی شرکت کو فروغ دینا ہے۔

ایس وی ای ای پی الیکشن کمیشن آف انڈیا کا ایک اہم فلیگ شپ پروگرام ہے، جو ملک بھر میں ووٹر تعلیم،بیداری اور انتخابی خواندگی پر توجہ دیتا ہے۔ یہ پروگرام 2009 میں شروع کیا گیا تھا اور تب سے یہ بھارت کے ووٹروں کو انتخابی عمل کے بنیادی علم سے روشناس کرا رہا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران انتخابی نظام میں اصلاحات

بھارت کا انتخابی نظام ادارہ جاتی، تکنیکی اور ووٹر مرکوز اصلاحات کے سلسلے کے ذریعے مسلسل تبدیلی سے گزرا ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد جمہوری شرکت کو مضبوط بنانا اور انتخابی عمل کی دیانت داری اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

image0059WHJ.jpg

دیگر کلیدی اقدامات

مزید متعدد اقدامات نے انتخابی عمل کی کارکردگی، شمولیت اور شفافیت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

پولنگ اسٹیشن کا انتظام

پولنگ اسٹیشنوں پر موبائل جمع کرانے کی سہولت: پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موبائل فون جمع کرانے کے کاؤنٹر قائم کیے جاتے ہیں تاکہ قواعد کی پابندی یقینی بنائی جا سکے اور ووٹنگ کے عمل کو ہموار بنایا جا سکے۔

پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز کی حد 1200: ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد 1200 مقرر کی گئی ہے تاکہ بھیڑ کم ہو اور قطاریں مختصر رہیں۔ بلند عمارتوں اور سوسائٹیوں میں اضافی بوتھ بھی قائم کیے جاتے ہیں۔

پولنگ اسٹیشنوں  پر 100 فیصد ویب کاسٹنگ: تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ویب کاسٹنگ کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ پولنگ کے دن کی اہم سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے بغیر عمل مکمل ہو۔

ووٹر خدمات اور معلومات

واضح ووٹر معلوماتی پرچی (وی آئی ایس): ووٹر معلوماتی پرچی کو دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ اس میں سیریل اور پارٹ نمبر واضح طور پر دکھائی دیں، جس سے ووٹر کی تصدیق کا عمل مزید آسان ہو گیا ہے۔

ای پی آئی سی کی تیز تر فراہمی: نئی معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) کے تحت انتخابی فہرست میں کسی بھی اپ ڈیٹ کے بعد ای پی آئی سی  15 دن کے اندر فراہم کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے ہر مرحلے پر ووٹر کو ایس ایم ایس کے ذریعے معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

انتخابی فہرست کا انتظام

بہارانتخابی فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی:جس کا مقصد نااہل ناموں کو حذف کرنا اور تمام اہل ووٹروں کے نام شامل کرنا تھا۔

موت کی رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا حصول: انتخابی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اموات کی رجسٹریشن کے ڈیٹا کا الیکٹرانک طور پر تبادلہ ممکن بنایا گیا۔

ضمنی انتخابات سے قبل خصوصی خلاصہ نظرثانی (ایس ایس آر): تقریباً 20 سال بعد پہلی بار ضمنی انتخابات سے قبل خصوصی خلاصہ نظرثانی کا انعقاد کیا گیا۔

ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈکوارٹر میں ڈیجیٹلائزیشن اور وسائل کے بہتر استعمال کے اقدامات: ای-آفس نظام، بایومیٹرک حاضری، اور مؤثر کارکردگی کے لیے آئی آئی آئی ڈی ای ایم (انڈیا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیموکریسی اینڈ الیکشن مینجمنٹ) میں منتقلی شامل ہے۔

ڈیجیٹل انڈیکس کارڈز اور رپورٹس: ریٹرننگ افسران کو انتخابی نتائج کے اعلان کے 72 گھنٹوں کے اندر انڈیکس کارڈز ڈیجیٹل طور پر جاری کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

تربیت اور صلاحیت سازی

بوتھ لیول ایجنٹوں (بی ایل اے) کی تربیت: بی ایل اے کو انتخابی فہرست کی تیاری اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے تحت اپیل کے طریقہ کار پر تربیت دی گئی۔

انڈیا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیموکریسی اینڈ الیکشن مینجمنٹ (آئی آئی آئی ڈی ای ایم) میں بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کی تربیت: ملک بھر سے 7000 سے زائد بی ایل او اور سپروائزرز، بشمول بہار سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو آئی آئی آئی ڈی ای ایم میں تربیت دی گئی تاکہ زمینی سطح پر استعداد کار کو مضبوط بنایا جا سکے۔

پولیس افسران کی تربیت: انتخابات کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اہلکاروں کے لیے خصوصی تربیتی سیشن منعقد کیے گئے۔

نوڈل مواصلاتی افسران کے لیے تربیت: تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے میڈیا اور کمیونیکیشن افسران کو مؤثر رابطہ کاری اور عوامی رسائی کے لیے تربیت فراہم کی گئی۔

انتخابی عملے اور افسران

بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کے لیے فوٹو شناختی کارڈز: بوتھ لیول افسران کو معیاری فوٹو شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں تاکہ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہو۔

گنتی کا عمل

پوسٹل بیلٹس کی گنتی کو منظم بنانا: پوسٹل بیلٹس کی گنتی کو ای وی ایم/وی وی پی اے ٹی کی گنتی کے آخری سے پہلے والے مرحلے سے قبل مکمل کیا جاتا ہے۔

اسٹیک ہولڈر کی شمولیت

ملک بھر میں آل پارٹی اجلاس: سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کے لیے چیف الیکٹورل آفیسرز (سی ای او) ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرز (ڈی ای او) اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر او) کے ذریعے باقاعدہ میٹنگیں کی جاتی ہیں ۔ مجموعی طور پر 4719 آل پارٹی میٹنگیں منعقد کی گئیں ۔ اس میں سی ای اوز کی طرف سے 40 میٹنگیں ، ضلع انتخابی افسران (ڈی ای او) کی طرف سے 800 اور انتخابی رجسٹریشن دفاتر (ای آر او) کی طرف سے 3879 میٹنگیں شامل تھیں ۔

پارٹی قیادت کے ساتھ ای سی آئی کی ملاقاتیں: قومی اور ریاستی پارٹی قیادت کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری رکھی گئی ۔  اب تک ایسی 25 میٹنگیں ہو چکی ہیں ۔

سیاسی جماعتوں کا ضابطہ کار

رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں (آر یو پی پی) کی فہرست سے اخراج: دو مراحل میں 808 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فہرست سے خارج کیا گیا۔ ان جماعتوں نے رجسٹریشن کے لیے درکار بنیادی شرائط کو پورا نہیں کیا تھا۔

قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ

ای سی آئی کے قانونی فریم ورک کو دوبارہ ترتیب دینا: ای سی آئی کے قانونی فریم ورک کو مضبوط اور دوبارہ ترتیب دینے کے لیے قانونی مشیروں اور سی ای اوز کے ساتھ قومی کانفرنس  منعقد کی گئی ۔

بین الاقوامی تعاون

دیگر ممالک کے انتخابی انتظامی اداروں کے ساتھ دو طرفہ روابط: اس سلسلے میں مختلف ممالک کے انتخابی انتظامی اداروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں منعقد کی گئیں۔ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل انڈیا انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈیموکریسی اینڈ الیکشن مینجمنٹ (آئی آئی سی ڈی ای ایم ) 2026 تھی، جو 21 سے 23 جنوری 2026 تک نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے 40 سے زائد انتخابی انتظامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس 23 جنوری 2026 کو دہلی اعلامیہ 2026 کی متفقہ منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

یہ اعلامیہ عالمی جمہوری انتخابی عمل کو تعاون اوراختراع کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے پانچ بنیادی ستونوں کا تعین کرتا ہے۔

ستون اول: انتخابی فہرستوں کی پاکیزگی۔ اسے جمہوریت کی بنیاد تسلیم کیا گیا ہے۔ای ایم بی  تمام اہل ووٹروں کو فوٹو شناختی کارڈ جاری کرنے کے لیے کوشش کریں گے تاکہ شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔

ستون دوم: انتخابات کا انعقاد ۔ شمولیتی، جامع، شفاف، مؤثر، آزاد اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا، جہاں انتخابی ادارے آئینی و قانونی مینڈیٹ کے مطابق کام کریں اور تمام فریقین کو شامل کیا جائے۔

ستون سوم: تحقیق اور اشاعتیں۔ جمہوریتوں کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کا عزم، جس میں عالمی انتخابی نظاموں کا اٹلس شامل ہوگا (متعلقہ انتخابی اداروں کی منظوری سے)۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی آئیڈیا کی قیادت میں 7 موضوعات اور بھارت کےآئی آئی آئی ڈی ای  ایم کی قیادت میں 36 موضوعات پر تفصیلی رپورٹس تیار کی جائیں گی۔

ستون چہارم: ٹیکنالوجی کا استعمال ۔ انتخابی دیانت داری کو برقرار رکھنے، ووٹروں کی سہولت اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا اپنانا۔ بھارت اپنے ای سی آئی این ای ٹی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو دیگر انتخابی اداروں کے ساتھ مشترکہ ترقی کے لیے پیش کر رہا ہے، جسے ان کے قوانین اور زبانوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

ستون پنجم: تربیت اور استعداد کار میں اضافہ ۔آئی آئی آئی ڈی ای  ایم، جو دنیا کا سب سے بڑا انتخابی تربیتی ادارہ ہے، گزشتہ 15 برسوں میں دس ہزار سے زائد بھارتی اہلکاروں اور 100 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کو تربیت دے چکا ہے۔ اس وسیع تجربے کی بنیاد پر بھارت دنیا بھر کے انتخابی اداروں کے لیے تربیتی سہولیات اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی پیشکش کرتا ہے۔

شرکت کرنے والے ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان ستونوں کو قابلِ پیمائش اقدامات، باہمی تعاون اور سالانہ پیش رفت کے جائزوں کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی، جبکہ اگلی میٹنگ 3 تا 5 دسمبر 2026 کو نئی دہلی میں آئی آئی آئی ڈی ای  ایم میں منعقد کی جائے گی۔ یہ تاریخی اعلامیہ انتخابی دیانت داری اور عالمی جمہوری معیار کو آگے بڑھانے میں بھارت کی قیادت کو نمایاں کرتا ہے۔

بین الاقوامی آئی ڈی ای اے 2026 کی بھارت کی صدارت

ہندوستان نے چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کی قیادت میں 2026 کے لیے بین الاقوامی آئی ڈی ای اے کے رکن ممالک کی کونسل کی صدارت سنبھالی ہے۔  اس قیادت کے تحت ، ہندوستان کا مقصد جمہوری اختراع کو فروغ دینا ، عالمی شراکت داری کو مضبوط کرنا ، اور دنیا بھر میں جامع ، پرامن ، لچکدار اور پائیدار جمہوری نظام کو آگے بڑھانا ہے ۔  ہندوستان کا وسیع انتخابی تجربہ اور مضبوط جمہوری ادارے اسے 2026 میں بین الاقوامی آئی ڈی ای اے کی قیادت کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔  صدارت کا موضوع "ایک جامع ، پرامن ، لچکدار اور پائیدار دنیا کے لیے جمہوریت" ہے ، جس کی رہنمائی دو بنیادی ستونوں سے ہوتی ہے:

  • مستقبل کے لیے جمہوریت کا ازسر نو تصور (اے آئی ، تنوع ، پائیداری ، ایس ڈی جی اور مستقبل کے لیے تیار نظاموں پر توجہ مرکوز کرنا)
  • مضبوط ، آزاد اور پیشہ ورانہ ای ایم بی (ٹیکنالوجی ، رسک مینجمنٹ ، ووٹر کی تعلیم ، اصلاحات ، اور صلاحیت سازی پر زور دینا)

بھارت اعلیٰ اثر رکھنے والی سرگرمیوں کی میزبانی کرے گا، جن میں ای ایم بی  کے سربراہان کے سمٹ، پالیسی ڈائیلاگ، ماہرین کی ورکشاپس، مشترکہ تحقیق، علمی و معلوماتی مواد اورآئی  آئی آئی ڈی ای ایم اور انٹرنیشنل آئی ڈی ای اے کے ذریعے استعداد کار میں اضافے کے اقدامات شامل ہوں گے، تاکہ جمہوری بہترین کارکردگی کی ایک پائیدار عالمی وراثت قائم کی جا سکے۔

نتیجہ

قومی یومِ رائے دہندگان بھارت کے جمہوری اقدار اور جامع طرزِ حکمرانی کے عزم کی ایک واضح مثال ہے۔ 2011 میں اس کے آغاز کے بعد سے یہ سالانہ تقریب ملک کے سب سے وسیع شہری تقریبات میں سے ایک بن چکی ہے، جو ملک کے ہر حصے تک اپنی رسائی رکھتی ہے۔ 2026 کا موضوع اس پیغام کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ہر ووٹ اہم ہے اور ہر شہری کا ایک اہم کردار ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی ووٹر پیچھے نہ رہ جائے۔ بڑھتی ہوئی انتخابی شرکت، خواتین ووٹروں کے اندراج میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ساتھ بھارت کا جمہوری سفر دنیا کے لیے ایک مثال بنا ہوا ہے۔

حوالہ جات

Election Commission of India

Vikaspedia

Press Information Bureau

My Bharat Gov

Others:

Click here for pdf file.

********

) ش ح ۔ ش آ۔ن ع)

U.No. 8761


(रिलीज़ आईडी: 2274196) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati