سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
بھارت کی قومی شاہراہوں کی اتھارٹی کے کام کاج اور دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے لیے پیشگی پیش گوئی پر مبنی اثاثہ جاتی انتظام کی طرف منتقلی کرے گا
प्रविष्टि तिथि:
16 JUN 2026 6:25PM by PIB Delhi
اعلیٰ معیار اور زیادہ مؤثر قومی شاہراہی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے بھارت کی قومی شاہراہوں کی اتھارٹی (این ایچ اے آئی) قومی شاہراہوں کے آپریشن اور رکھ رکھاؤ (او اینڈ ایم) کے نظام میں ایک اہم تبدیلی لا رہی ہے اور پیش گوئی پر مبنی اثاثہ جاتی انتظام کو اپنایا جا رہا ہے۔روایتی دیکھ بھال کے طریقۂ کار سے پیش گوئی پر مبنی رکھ رکھاؤ کے نظام کی جانب یہ تدریجی منتقلی اس بات کی عکاس ہے کہ این ایچ اے آئی ایک طرف بڑے پیمانے پر قومی شاہراہوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ان شاہراہوں کی دیکھ بھال کو بھی اعلیٰ ترین معیار کے مطابق یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ پیش گوئی پر مبنی رکھ رکھاؤ کے ذریعے سڑکوں میں خرابی کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی ممکن ہوگی اور بروقت مرمت و اقدامات کیے جا سکیں گے، جس سے قومی شاہراہوں کو بہترین حالت میں برقرار رکھا جا سکے گا۔
یہ منتقلی تین اسٹریٹجک ستونوں پر قائم ہے ۔ اس منتقلی کا پہلا ستون بڑے پیمانے پر اثاثوں کی حالت کی نگرانی ہے ۔ این ایچ اے آئی نے او اینڈ ایم کے تحت قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک میں نیٹ ورک سروے وہیکلز (این ایس وی) کو نصب کیا ہے تاکہ راستوں کی حالت کے اعداد و شمار جیسے کھردری ، حالت بگڑنے ،دراڑیں پڑنے اور ساختی دشواری کو اکٹھا کیا جا سکے ۔ اس کے علاوہ ، ڈرون اینالیٹکس مانیٹرنگ سسٹم (ڈی اے ایم ایس) کا استعمال قومی شاہراہ کے اثاثوں کی ڈیجیٹل انوینٹری بنانے ، ڈھانچوں کی نگرانی کرنے اور تجاوزات کی نشاندہی کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے ، جبکہ فالنگ ویٹ ڈیفلیکٹومیٹر (ایف ڈبلیو ڈی) راستوں کی ساختی حالت کا جائزہ لینے اور نظر آنے والی ناکامیوں کے سامنے آنے سے پہلے کمزور حصوں کا پتہ لگاتا ہے ۔ ڈیٹا کے بہتر حصول کو مزید مؤثر بنانے کے لیے این اےایچ آئی نے آپریشنل قومی شاہراہوں کے مختلف حصوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیش کیم اینالیٹکس سروسز (ڈی ایس اے) کے نفاذ کا آغاز کیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے خودکار طور پر سڑکوں کی متعدد خامیوں کی نشاندہی ممکن ہوگی، جن میں گڑھے، خراب یا ٹوٹی ہوئی کریش بیریئرز، ناقص روشنی کا نظام اور پانی کی نکاسی کے مسائل شامل ہیں۔
دوسرا ستون ایک مرکزی اثاثہ جاتی انٹیلی جنس نظام کی تشکیل ہے۔ اس کے تحت این ایس ویز ، ڈرونز، ڈیش کیمز اور ایف ڈبلیو ڈی سرویز کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ایک ہی مربوط نظام میں ضم کیا جا رہا ہے، جس سے قومی شاہراہوں کے پورے نیٹ ورک میں اثاثوں کی حالت کے بارے میں ایک واحد اور جامع ماخذ دستیاب ہو جائے گا۔ اس سے معلومات مختلف استعمال اور او اینڈ ایم کے شراکت داروں کے لیے قابلِ استعمال بنیں گی اور این ایچ اے آئی کو بکھری ہوئی معائنہ جاتی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایک مسلسل اپڈیٹ ہونے والے ڈیجیٹل نظام کی جانب لے جائیں گی، جو قومی شاہراہوں کے اثاثوں کی حقیقی حالت کو ظاہر کرے گا۔
تیسرا ستون پیش گوئی پر مبنی نگرانی اور خطرات کی بنیاد پر فیصلہ سازی ہے۔ تاریخی ڈیٹا، معائنہ رپورٹس اور جاری نگرانی کے نظام کو یکجا کر کے این ایچ اے آئی کو یہ صلاحیت حاصل ہوگی کہ وہ ابتدائی مرحلے میں رجحانات کو شناخت کرے، کمزور اور خطرے سے دوچار حصوں کو ترجیح دے اور مسائل کے سنگین ہونے سے پہلے ہی بروقت اقدامات کرے۔
ان تمام ستونوں کی بنیاد پیشگی اقدامات اور کارکردگی پر مبنی انتظام ہے، جو معیاری رکھ رکھاؤ کےمینوئلز، بہتر دیکھ بھال کے معاہدوں اور مضبوط معاون نظام کے ذریعے ممکن بنایا جا رہا ہے۔
یہ اقدام قومی شاہراہوں کے آپریشن اور رکھ رکھاؤ کے لیے ایک جدید اور ڈیٹا پر مبنی نظام فراہم کرے گا۔ جدید مانیٹرنگ ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور کارکردگی پر مبنی رکھ رکھاؤ کے نظام کے انضمام کے ذریعے این ایچ اے آئی کا مقصد قومی شاہراہوں کی عمر میں اضافہ کرنا، دیکھ بھال کے عمل کو مؤثر بنانا اور ملک بھر کے صارفین کو عالمی معیار کا سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م ش ۔ ن م۔
U-8705
(रिलीज़ आईडी: 2273696)
आगंतुक पटल : 11