ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے اہم شعبوں میں نافذ اقدامات کا جائزہ لیا گیا
این سی آر کی ریاستوں، جی این سی ٹی ڈی اور پنجاب نے فضائی معیارکے بندوبست سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) کی ہدایات کو مقررہ وقت کے اندر نافذ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا
प्रविष्टि तिथि:
13 JUN 2026 8:26PM by PIB Delhi
این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں فضائی معیارکے بندوبست سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) کی حفاظتی اور نفاذکی ذیلی کمیٹی کا 25واں اجلاس
12 جون 2026 کو جناب راجیش ورما کی صدارت میں منعقد کی ہوئی۔ اس اجلاس میں این سی آر کی ریاستی حکومتوں، قومی راجدھانی علاقہ دہلی حکومت (جی این سی ٹی ڈی) اور پنجاب حکومت کی جانب سے فضائی آلودگی کے اہم ذرائع والے شعبوں میں نفاذکے اقدامات اور تیاری کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
اس جائزے میں درج ذیل اہم شعبے اور کمیشن کی قانونی ہدایات کے نفاذ سے متعلق امور شامل تھے:
گاڑیوں کا شعبہ:
- ہدایت نمبر 101 کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت 1 اکتوبر 2026 سے این سی آر میں بغیر درست آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی سی) کے گاڑیوں کو ایندھن فراہم کرنے پر پابندی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے دہلی حکومت (جی این سی ٹی ڈی) اور اتر پردیش، ہریانہ اور راجستھان کی ریاستی حکومتوں کی جانب سے تمام پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز پر خودکار نمبر پلیٹ شناخت (اے این پی آر) کیمرے نصب اور فعال کرنے کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
- ہدایت نمبر 94 کے نفاذ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد 1 جنوری 2026 سے موٹر گاڑی ایگریگیٹرز، ڈیلیوری سروس فراہم کنندگان اور ای-کامرس اداروں میں صاف توانائی پر مبنی نقل و حمل کو فروغ دینا ہے۔ اس میں ویب پورٹلز کی تیاری، اچانک معائنوں اور تعمیل کی نگرانی کے ذریعے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
- سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2025 کے حکم کی تعمیل میں سڑکوں پر غیر قابلِ استعمال یعنی بی ایس-III اور اس سے نچلے معیار کی گاڑیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- دہلی اور این سی آر کے شہروں میں ٹریفک جام کے اہم مقامات کی نشاندہی، ٹریفک کی بھیڑبھاڑ کو بہتر بنانے، جام میں کمی لانے اور گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے ان مقامات پر پیش رفت اور اضافی ٹریفک انتظامی عملے و بنیادی ڈھانچے کی تعیناتی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
- ہدایت نمبر 70 کے تحت 31 دسمبر 2026 تک این سی آر کے تمام اضلاع سے ڈیزل آٹو رکشا کو مرحلہ وار مکمل طور پر ختم کرنے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سڑک کی دھول اور تعمیراتی و انہدامی ملبہ :
- اجلاس میں، تعمیر و انہدامی (سی اور ڈی) کچرے کے جمع کرنے، نقل و حمل، پروسیسنگ اور سائنسی انتظام کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس میں پروسیسنگ صلاحیت میں اضافے اور شہری مقامی اداروں (یو ایل بی) و دیگر ایجنسیوں کے ذریعے ری سائیکل شدہ مصنوعات کے استعمال کی صورتحال بھی شامل تھی۔
- دہلی میں روزانہ پیدا ہونے والے تقریباً 5500 سے 6000 میٹرک ٹن سی اور ڈی کچرے کے مؤثر انتظام کے لیے موجودہ پروسیسنگ پلانٹس کے آپریشن اور اضافی صلاحیت کی تنصیب میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- تعمیراتی اور انہدامی مقامات پر گردوغبار کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ملبے کے مؤثر انتظام سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- سڑکوں کی دھول کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات، اضافی مکینیکل روڈ سویپنگ مشینوں کی خریداری اور 30 ستمبر 2026 تک ان کی تعیناتی کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے موسمِ سرما کے مرحلے سے قبل دہلی-این سی آر کے تمام راستوں، خصوصاً گردوغبار کے ہاٹ اسپاٹس، سے دھول کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
پرالی جلانا
- ہدایت نمبر 99 کے نفاذ کے لیے کی گئی تیاریوں اور پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کی جانب سے 2026 میں دھان کی پرالی جلانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ عملی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد ان واقعات کا مکمل خاتمہ ہے۔
- فصلوں کی تبدیلی، ڈائریکٹ سیڈڈ رائس ٹیکنالوجی کے فروغ، بایوماس کے استعمال، زرعی باقیات کے صنعتی استعمال اور کسانوں میں وسیع پیمانے پر آگاہی مہم (آئی ای سی) کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- پنجاب اور ہریانہ کی ریاست (این سی آر سے باہر والے اضلاع) میں واقع اینٹوں کے بھٹوں میں دھان کے بھوسے پر مبنی بایوماس پیلیٹس کے استعمال کو لازمی قرار دینے سے متعلق ہدایت نمبر 92 پر عمل درآمد کی صورتحال، جس کا مقصد دھان کی پرالی جلانے کی روک تھام اور کنٹرول ہے اور جس کے تحت یکم نومبر 2026 تک 30 فیصد ہدف حاصل کرنا ہے، کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔پنجاب اور ہریانہ کی ریاستی حکومتوں کو ہدایت نمبر 92 کے ذریعے کمیشن کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ این سی آر سے باہر واقع تمام اینٹوں کے بھٹوں میں دھان کے بھوسے پر مبنی بایوماس پیلیٹس/بریکیٹس کے استعمال کو لازمی قرار دیں تاکہ کھیتوں میں دھان کی باقیات کو جلانے کے عمل کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے تحت دھان کے بھوسے پر مبنی پیلیٹس/بریکیٹس کے ساتھ کم از کم 20 فیصد کو-فائرنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت یہ شرح یکم نومبر 2025 سے 30 فیصد، یکم نومبر 2026 سے 40 فیصد اور یکم نومبر 2027 سے 50 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔
- اجلاس میں یہ بھی نوٹس میں آیا کہ کئی اینٹ بھٹے اب بھی بغیر منظور شدہ ایندھن کے استعمال میں ملوث ہیں۔ اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن نے نفاذکے اداروں کو ہدایت دی کہ معائنہ کی مہمات کو مزید سخت کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ تمام قانونی ہدایات پر مکمل سنجیدگی اور پابندی کے ساتھ عمل کیا جائے۔
- بلدیاتی ٹھوس فضلہ (ایم ایس ڈبلیو ) اور بایوماس مینجمنٹ:
- پرانے بلدیاتی ٹھوس فضلے (ایم ایس ڈبلیو ) کے خاتمے کی صورتحال، روزانہ پیدا ہونے والے نئے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی گنجائش میں اضافہ، ایم ایس ڈبلیو اور بایوماس کے کھلے میں جلانے کے واقعات کی روک تھام اور کنٹرول، اور دہلی-این سی آر میں کچرا پروسیسنگ انفراسٹرکچر کی توسیع کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
- متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے کچرے کے سائنسی نمٹارے، لینڈفل سائٹس پر آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام، اور نگرانی و نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- دیگر:
- این سی آر ریاستوں کی حکومتوں، دہلی حکومت اور متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے علاقے میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے تیار کردہ سالانہ ایکشن پلانز کے تحت کیے گئے اقدامات اور ان کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
- نئے معیارات کے مطابق این سی آر کے مختلف اضلاع میں اضافی مسلسل ماحولیاتی ہوا کے معیار کی نگرانی کے مراکز (سی اے اے کیوایم ایس) کے قیام کی صورتحال اور پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- ہدایت نمبر 98 کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جو دہلی-این سی آر کی صنعتوں میں سخت اخراج کے معیارات کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مقررہ ذرات (پی ایم) اخراج کی حد 50 mg/Nm³ کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتی یونٹوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے مطابق بڑے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے یہ معیار 01.08.2026 سے نافذ ہوگا، جبکہ دیگر تمام صنعتوں کے لیے یہ معیار 01.10.2026 سے نافذ ہوگا۔ مقررہ حد کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتی یونٹوں کے خلاف بندش سمیت سخت کارروائی کی جائے گی۔
- نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ قانونی ہدایات کے مؤثر نفاذ کے لیے اپنائے گئے نفاذکے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس میں سی اور ڈی سائٹس، صنعتی اکائیوں اور ڈی جی سیٹس کے خفیہ/اچانک معائنے اور تعمیل کی نگرانی کی صورتحال کا بھی جائزہ شامل تھا۔
- مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی جانب سے مقرر کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس اوپی) کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موصول ہونے والی شکایات اور دہلی حکومت (جی این سی ٹی ڈی) اور این سی آر ریاستوں کی متعلقہ ایجنسیوں کو ٹیگ کی گئی شکایات کے بروقت ازالے میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- کمیشن کی جانب سے تیار کیے جا رہے انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (I3سی) سے منسلک کرنے کے لیے مختلف ریاستی حکومتوں/محکموں کے موجودہ پورٹلز کے ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) فراہم کرنے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
- کمیشن کی جانب سے 03.03.2026 کو جاری کردہ “فضائی آلودگی کے کنٹرول کے لیے این سی آر ریاستوں اور دہلی حکومت کے لیے مخصوص معلومات، تعلیم اور کمیونیکیشن (آئی ای سی) اقدامات کے فریم ورک” کے مطابق آئی ای سی منصوبہ تیار کرنے اور اس کے تحت کیے گئے اقدامات اور سرگرمیوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تمام عملدرآمد کرنے والی ایجنسیوں نے کمیشن کی ہدایات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے سخت، مخصوص اور بروقت اقدامات کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ ساتھ ہی، علاقے میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں جاری سرگرمیوں اور اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لینے اور ضروری اصلاحی اقدامات کرنے کا بھی یقین دلایا گیا۔
***
ش ح۔ ع ح۔ ش ب ن
U-NO-8614
(रिलीज़ आईडी: 2272917)
आगंतुक पटल : 6