PIB Backgrounder
ہوا کا عالمی دن 2026
بھارت کا 100جی ڈبلیو اور اس سے آگے کا راستہ
प्रविष्टि तिथि:
14 JUN 2026 1:05PM by PIB Delhi
بنیاد تیار کرنا: ہوا کے عالمی دن 2026 کو یادگار بنانا

ہوا کی توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اس کے کردار کو فروغ دینے کے لیے ہر سال 15 جون کو ہوا کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہندوستان 15 جون 2026 کو گوا میں "ونڈ انرجی: ایمبیشن ٹو ایکسلریشن" کے موضوع کے تحت ہوا کا عالمی دن 2026 کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ یہ کانفرنس سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی (سی ای اے)، سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا (ایس ای سی آئی)، انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( آئی آر ای ڈی اے)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ونڈ انرجی ( این آئی ڈبلیو ای)، گرڈ انڈیا، بڑی ریاستی حکومتوں، اور صنعت و انجمنوں کے سینئر نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گی۔
یہ کانفرنس ہندوستان کے ونڈ انرجی کے سفر کے اگلے مرحلے کی تشکیل دینے والی اہم ترجیحات پر توجہ مرکوز کرے گی، جن میں وسائل کی دستیابی، گرڈ کی تیاری، صلاحیت میں اضافہ، گھریلو پیداوار کی مسابقت، برآمدی مواقع، اور قابلِ تجدید توانائی کی پیش گوئی اور نظام کی مضبوطی میں پیش رفت شامل ہیں۔ کانفرنس کے دوران صنعت سے متعلق رپورٹ "ایلیویٹنگ انڈیاز ونڈ ٹربائن ایکسپورٹس فار گلوبل مارکیٹس" بھی جاری کی جائے گی۔
ہندوستان کا ونڈ انرجی منظرنامہ
ہندوستان کا ونڈ انرجی سیکٹر کلیدی ریاستوں میں بڑھتی ہوئی نصب شدہ صلاحیت اور مضبوط ونڈ ریسورس کی استعداد کے ساتھ مسلسل پھیل رہا ہے۔ اسے گھریلو مینوفیکچرنگ اور قابلِ تجدید توانائی کے اہداف کو پورا کرنے میں اس کے کردار کی وجہ سے تیزی سے حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
ہوا کے وسائل کی صلاحیت
- ہندوستان کی تخمینہ شدہ مجموعی ونڈ پاور صلاحیت 120 میٹر پر 695.5 گیگاواٹ اور سطحِ زمین سے 150 میٹر بلندی پر 1,163.9 گیگاواٹ ہے۔
- 150 میٹر پر اندازہ شدہ ہوا کی صلاحیت کا بیشتر حصہ آٹھ اعلیٰ وسائل والی ریاستوں میں مرکوز ہے: راجستھان: 284.2 گیگاواٹ؛ گجرات: 180.8 گیگاواٹ؛ مہاراشٹر: 173.9 گیگاواٹ؛ کرناٹک: 169.3 گیگاواٹ؛ آندھرا پردیش: 123.3 گیگاواٹ؛ تمل ناڈو: 95.1 گیگاواٹ؛ مدھیہ پردیش: 55.4 گیگاواٹ؛ تلنگانہ: 54.7 گیگاواٹ۔
- ہوا کے وسائل کا نقشہ تیار کرنے اور ہوا سے توانائی کی ترقی کے لیے اعلیٰ صلاحیت والے مقامات کی نشاندہی کرنے کے لیے ملک بھر میں 900 سے زائد ہوا کی نگرانی کے اسٹیشن نصب کیے گئے ہیں۔
- ہوا کی صلاحیت کے نقشے 50 میٹر، 80 میٹر، 100 میٹر، 120 میٹر اور 150 میٹر ہب ہائٹ پر تیار کیے گئے ہیں۔
- ہندوستان کا وسیع ونڈ ریسورس بیس 2030 تک 100 گیگاواٹ اور 2036 تک 156 گیگاواٹ ونڈ صلاحیت حاصل کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ہوا کی صلاحیت اور مینوفیکچرنگ (پیداوار) میں اضافہ
- ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت کے اعتبار سے ہندوستان عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے۔
- ونڈ پاور کی نصب شدہ صلاحیت مارچ 2014 میں 21.04 گیگاواٹ سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 56.09 گیگاواٹ ہو گئی، جو 2.66 گنا اضافہ ہے۔
- مزید 28 گیگاواٹ صلاحیت کے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔
- ہندوستان نے 2025-26 میں اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ سالانہ ونڈ صلاحیت کا اضافہ 6.05 گیگاواٹ ریکارڈ کیا، جس نے 2024-25 کے 4.15 گیگاواٹ کے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
- تقریباً 45 فیصد ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی چوٹی کی طلب کے اوقات میں حاصل ہوتی ہے، جو شمسی توانائی کی تکمیل اور گرڈ کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو مضبوط بناتی ہے۔
- ونڈ ٹربائن مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 2014 میں 10 گیگاواٹ سے بڑھ کر مارچ 2026 تک تقریباً 24 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔
- اس شعبے نے کلیدی اجزا میں 70 تا 80 فیصد مقامی کاری حاصل کر لی ہے۔
- بلیڈ، ٹاور، گیئر باکس اور دیگر اہم آلات کے لیے مضبوط گھریلو سپلائی چین موجود ہیں۔
ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی ہندوستان کے بجلی کے نظام کا زیادہ مستحکم اور مربوط حصہ بنتی جا رہی ہے۔ تکنیکی اپ گریڈیشن اور متنوع تعیناتی کے ساتھ اس کا کردار مزید وسعت اختیار کرے گا۔
حکومت کے اہم اقدامات
حکومت کی ترجیحات ونڈ توانائی کی تنصیب میں اضافے، آف شور ترقی اور گرڈ کی جدید کاری پر مرکوز ہیں۔ ان اقدامات کو ہدف شدہ اسکیموں، مالی مراعات اور ریگولیٹری اصلاحات کی حمایت حاصل ہے۔
- گجرات اور تمل ناڈو کے ساحلوں پر 500-500 میگاواٹ کے دو آف شور ونڈ پروجیکٹس (مجموعی طور پر 1,000 میگاواٹ) کے لیے 6,853 کروڑ روپے کی وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) کی منظوری دی گئی۔
- 2025-26 کے دوران جنریشن بیسڈ انسینٹو (جی بی آئی) اسکیم کے تحت 500 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔
- کنٹریکٹس فار ڈفرینس (سی ایف ڈی) کے تحت 500 میگاواٹ کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ سی ایف ڈی ایک ایسا طریقۂ کار ہے جو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے ڈویلپرز کو آمدنی کی یقین دہانی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
- ریگولیٹری، اراضی، ٹرانسمیشن اور نفاذ سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جنوری 2026 میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔
- پائیدار طلب کو یقینی بنانے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی خریداری کی ذمہ داریوں (آر پی اوز) کے تحت مخصوص ونڈ جزو متعارف کرایا گیا۔
- صنعتوں کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی کی براہِ راست خریداری کو آسان بنانے کے لیے گرین انرجی اوپن ایکسیس رولز متعارف کرائے گئے۔
- ماڈلز اور مینوفیکچررز کی منظور شدہ فہرست (اے ایل ایم ایم)، شفاف بولی کے رہنما اصولوں اور لیٹ پیمنٹ سرچارج رولز کے نفاذ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔
- گرڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہائبرڈ اور راؤنڈ دی کلاک (آر ٹی سی) قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ونڈ انرجی کی ترجیحات میں شامل ہیں:
- مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور اوڈیشہ جیسی ابھرتی ہوئی ریاستوں میں ونڈ توانائی کی تنصیب میں اضافہ۔
- گجرات اور تمل ناڈو میں شناخت شدہ لیز شدہ علاقوں کے ذریعے ہندوستان کے آف شور ونڈ سیکٹر کا آغاز۔
- اسٹوریج سے منسلک کاروباری ماڈلز کے ذریعے راؤنڈ دی کلاک (آر ٹی سی) قابلِ تجدید توانائی کے حل میں ونڈ پاور کا انضمام۔
- قابلِ تجدید توانائی کے انتظام کے لیے گرڈ کو جدید بنانا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی پیش گوئی کے آلات(نظام) کو تعینات کرنا۔
- پوری ونڈ انرجی ویلیو چین میں گھریلو مینوفیکچرنگ کو مزید مضبوط بنانا۔
ونڈ انرجی میں عالمی شراکت داری
بھارت اس شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے برطانیہ، ڈنمارک اور بیلجیم کے ساتھ ونڈ انرجی تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے۔ یہ شراکت داریاں آف شور ونڈ کی تعیناتی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بہتر گرڈ انضمام پر مرکوز ہیں۔ یہ پالیسی سازی، مالیاتی ماڈلز اور منصوبوں کے نفاذ سے متعلق معلومات کے تبادلے کو بھی ممکن بناتی ہیں۔
ہندوستان-برطانیہ:
- ہندوستان-برطانیہ آف شور ونڈ ٹاسک فورس کا آغاز فروری 2026 میں ویژن 2035 اور چوتھے ہندوستان-برطانیہ توانائی مکالمے کے تحت کیا گیا۔
- توجہ کے شعبوں میں مارکیٹ ڈیزائن، بندرگاہی بنیادی ڈھانچہ، سپلائی چین اور مرکب مالیات شامل ہیں۔
بھارت-بیلجیم:
- ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) 2026 میں ہندوستان اور بیلجیم نے آف شور ونڈ، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور گرین ٹیکسونومی میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، جو ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی میں بڑھتی ہوئی یورپی دلچسپی کا مظہر ہے۔
بھارت-ڈنمارک:
- ہندوستان نے آف شور ونڈ کی صلاحیت سازی کے لیے 2019 میں ڈنمارک کی وزارتِ برائے توانائی ، افادیت اور آب و ہوا کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
- مئی 2025 میں دو طرفہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی تجدید کی گئی۔
- تعاون کے دائرے میں اب پاور سسٹم ماڈلنگ، متغیر قابلِ تجدید توانائی کا انضمام اور ماہرین کی مشترکہ تربیت بھی شامل ہے۔
ہوا سے چلنے والی توانائی (ونڈ انرجی )کے لیے آگے کا راستہ
جیسے جیسے ہندوستان اپنی توانائی کی منتقلی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، ہوا سے چلنے والی بجلی قابلِ اعتماد، سستی اور گھریلو ذرائع سے حاصل ہونے والی صاف توانائی کی فراہمی میں تیزی سے اہم کردار ادا کرے گی۔ ملک کے وسیع سمندری اور ساحلی ہوا کے وسائل طویل مدتی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے منصوبوں پر عمل درآمد، مضبوط ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر، بہتر پیش گوئی کی صلاحیتوں اور مسلسل پالیسی معاونت کی ضرورت ہوگی۔ نئے جغرافیائی خطوں میں توسیع کرکے، ونڈ کو اسٹوریج اور چوبیس گھنٹے دستیاب بجلی کے حل کے ساتھ مربوط کرکے، اور گھریلو مینوفیکچرنگ اور برآمدی مسابقت کو مضبوط بنا کر، ہندوستان ونڈ انرجی کو نہ صرف اپنے ماحولیاتی اور توانائی تحفظ کے اہداف میں ایک کلیدی معاون کے طور پر بلکہ صنعتی ترقی اور اقتصادی ترقی کے محرک کے طور پر بھی پیش کر سکتا ہے۔
حوالہ جات
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت
ہوا کا عالمی دن 2026
***
(ش ح۔اس ک )
UR-8587
(रिलीज़ आईडी: 2272664)
आगंतुक पटल : 16