بھاری صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے تحت بھارت اور کینیڈا کے درمیان صاف توانائی کے ذریعے نقل و حمل اور اہم معدنیات کے شعبوں پر ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں

ایچ ڈی کمارا سوامی نے اسٹریٹجک صنعتی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی

بیٹریوں، ای وی ایکو سسٹم اور پائیدار سپلائی چین پر خصوصی توجہ

اس  میٹنگ سے ’وکست بھارت@2047‘ اور ’نیٹ زیرو‘کے وژن کو مزید تقویت

دونوں ممالک منظم بات چیت اور تعاون کو جاری رکھنے پر متفق

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 4:30PM by PIB Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت اور ’وکست بھارت@2047‘ اور ’نیٹ زیرو‘کے قومی وژن کی رہنمائی میں، بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے مرکزی وزیر، ایچ ڈی کمار سوامی نے ادیوگ بھون، نئی دہلی میں کینیڈا کے وزیر برائے قدرتی وسائل، عزت مآب جناب ٹم ہوڈسن کی قیادت میں آئے کینیڈائی وفد کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ میٹنگ کا انعقاد کیا، تاکہ اہم معدنیات، کلین موبلٹی (صاف نقل و حمل)، جدید مینوفیکچرنگ اور پائیدار صنعتی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001HUOU.jpg

یہ ملاقات بھارت کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ تھی جن کا مقصد مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ صنعتی نظام کی تشکیل ہے۔ یہ کوششیں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس وژن کے مطابق ہیں جس میں پائیدار ترقی، ٹیکنالوجی میں قیادت اور تزویراتی شعبوں میں خود انحصاری پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

کینیڈائی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے مرکزی وزیر، ایچ ڈی کمار اسوامی نے ابھرتے ہوئے شعبوں اور پائیدار ٹیکنالوجیز میں بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعاون کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002W44C.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے وکسِت بھارت 2047 اور 2070 تک صفر کاربن اخراج کا وژن پیش کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خودکار صنعت، بھاری برقی آلات اور سرمایہ جاتی سامان کے شعبے اس پائیدار ترقی کے سفر کے بنیادی ستون ہیں جو اس ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آٹوموبائل اور برقی نقل و حمل کے شعبوں میں آج بھارت دنیا کے نمایاں ترین پیداواری ممالک میں شامل ہے، جہاں مسافر گاڑیوں، تجارتی گاڑیوں، بھاری ٹرکوں اور دو پہیہ و تین پہیہ گاڑیوں کی بڑی مقدار میں مینوفیکچرنگ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے خودکار گاڑی ساز ممالک میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت نے برقی گاڑیوں کو تیزی سے اپناتے ہوئے دیکھا ہے، جس میں فیم-2 اسکیم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 16 لاکھ سے زائد برقی گاڑیوں کو فروغ ملا اور ملک بھر میں 10,900 سے زیادہ چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے میں مدد فراہم کی گئی ہے۔

اس پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر  موصوف نے پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم اور پی ایم ای بس سیوا اقدام کو ایساانقلابی پروگرام قرار دیا جو برقی دو پہیہ، تین پہیہ گاڑیوں، بسوں، برقی ٹرکوں، چارجنگ  کےبنیادی ڈھانچے اور جانچ کی سہولتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے ملک کی اندرونی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنایا جا رہا ہے اور یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ہماری تیار کردہ مصنوعات عالمی معیارِ حفاظت اور کارکردگی پر پوری اتریں۔

جناب ایچ  ڈی  کماراسوامی نے مزید کہا کہ بات چیت میں ایک اہم توجہ قابلِ اعتماد اور مضبوط بیٹری سازی کے نظام کی ترقی اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیوں کے لیے ناگزیر اہم معدنیات تک رسائی پر مرکوز رہی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت نے تقریباً دو ارب امریکی ڈالر کا ایک پرعزم ترغیبی پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد جدید کیمیائی خلیات میں خود انحصار صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ ہم نہ صرف اہم معدنیات کی دستیابی میں بلکہ ان کی پروسیسنگ کی صلاحیتوں میں بھی کینیڈا کی طاقت کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ عوامل مضبوط اور قابلِ اعتماد سپلائی چینز کی تشکیل کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قومی معدنی ترقیاتی کارپوریشن کینیڈا میں کوئلے کے ذخائر کی تلاش میں سرگرم ہے تاکہ بھارت کی فولاد سازی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے اور طویل المدتی توانائی تحفظ کو مضبوط کیا جا سکے۔

کینیڈا کے وفد کے سربراہ وزیر ٹِم ہڈسن نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں اور صنعتی جدت میں بھارت کی تیز رفتار ترقی کو سراہا۔ انہوں نے بھارت کو بیٹری ٹیکنالوجی اور صاف توانائی سے چلنے والی نقل و حمل کے حل میں عالمی رہنما قرار دیا اور کہا کہ کینیڈا بھارتی شراکت داروں کے ساتھ جدید بیٹری ٹیکنالوجیز کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے برقی نقل و حرکت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھارتی نجی شعبے کی شاندار کارکردگی کو تسلیم کیا اور بھارتی منڈیوں تک زیادہ رسائی کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی اعادہ کیا کہ کینیڈا بھارت کی لیتھیم، کوبالٹ، گریفائٹ اور نایاب زمینی مواد کی ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے، جو سبز منتقلی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

مذاکرات کے دوران بیٹری سیل اور اس کے اجزا کی تیاری، اگلی نسل کی بیٹریوں پر تحقیق و ترقی، اہم معدنیات کی سپلائی چینز، جانچ اور تصدیق کے ڈھانچے، صاف نقل و حرکت کے حل اور پائیدار صنعتی طریقۂ کار پر مشترکہ تعاون کے فریم ورک اور مواقع پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ان مذاکرات میں بھاری صنعتوں کی وزارت اور وزارتِ فولاد کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جن میں بھاری صنعتوں کی وزارتِ کے سکریٹری کامران رِضوی، ایڈیشنل سیکریٹری حنیف قریشی، جوائنٹ سیکریٹری وجے متل، وزارتِ فولاد کے جوائنٹ سیکریٹری ونود کمار ترپاٹھی، قومی معدنی ترقیاتی کارپوریشن کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر امیتابھ مکھرجی، بھارت ہیوی الیکٹریکل لمیٹڈ کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر کے  ایس  مرُتی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جو اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے حکومتِ ہند کے مضبوط ادارہ جاتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003X1ZH.jpg

وزارتِ خارجہ کے نمائندوں اور کینیڈائی وفد کے سینئر ارکان نے بھی ان مذاکرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس سے متعدد سطحوں پر جامع روابط کو یقینی بنایا گیا۔

بات چیت کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے، ایچ ڈی کمارا سوامی نے صاف توانائی (کلین انرجی)، قدرتی وسائل اور جدید مینوفیکچرنگ میں کینیڈا کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات مل کر ایک صاف، لچکدار اور خود انحصار آٹوموٹیوایکو سسٹم تیار کر رہے ہیں، جو ہندوستان کو پائیدار نقل و حمل کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کر رہا ہے

انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت صاف توانائی اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں کینیڈا کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے، اور کینیڈا کی مہارت بھارت کے صاف توانائی پر مبنی نقل و حرکت کے اہداف اور صنعتی ترقی کے مقاصد کے لیے ایک بہترین تکمیل فراہم کرتی ہے۔

یہ میٹنگ مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں دونوں فریقین نے تعمیری اور نتیجہ خیز گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آنے والے مہینوں میں منظم فالو اپ میکانزم، تکنیکی مشاورت اور صنعت کی سطح پر روابط کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ان مذاکرات کو ٹھوس منصوبوں اور شراکت داریوں میں تبدیل کیا جا سکے۔

پائیداری، اختراع (انوویشن) اور ہمہ جہت ترقی میں مشترکہ ترجیحات کے ساتھ، ہندوستان اور کینیڈا نے اہم معدنیات، کلین موبلٹی اور پائیدار مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ایک مضبوط، طویل مدتی اور مستقبل کے لیے تیار اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 *****

 

ش ح۔ ش ت۔ ص ج

U. No-8325

 


(रिलीज़ आईडी: 2272041) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English , Kannada