کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدے ترقی، اختراع، معیار میں بہتری اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیں گے: جناب پیوش گوئل
ہندوستان-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری اور اختراعی تعاون کے نئے مواقع فراہم کرے گا: جناب پیوش گوئل
ہندوستان کی نوجوان افرادی قوت، مسابقتی لاگت اور وسعت پذیر بازار ترقی یافتہ معیشتوں کے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے لیے موزوں تکمیل فراہم کرتے ہیں: جناب پیوش گوئل
پالیسی اصلاحات اور جدید بنیادی ڈھانچہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں: جناب پیوش گوئل
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 7:15PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا گلوبل انوویشن کنیکٹ کے پانچویں سالانہ اجلاس کی اختتامی نشست میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کی ہندوستان کی حکمت عملی کا مقصد عالمی سطح پر روابط کو وسعت دینا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اختراع کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، معیار میں بہتری لانا اور بین الاقوامی تجارت میں ہندوستان کی شمولیت کو بڑھانا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان خصوصی تعلقات قائم ہیں اور یورپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) کے ممالک کے ساتھ طے پانے والے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹیپا) نے تجارت، سرمایہ کاری اور اختراع پر مبنی شراکت داری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ہندوستانی اور سوئس کمپنیوں کو طویل مدتی تعاون کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ، ناروے، لکٹنسٹائن اور آئس لینڈ نے ٹیپا معاہدے کے تحت 15 برسوں میں ہندوستان میں 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان ایک وسیع اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی منڈی ان ممالک کے لیے کھول رہا ہے جبکہ سرمایہ کاری کا وعدہ اس معاہدے کا ایک اہم حصہ ہے، جو دونوں فریقوں کے مفادات میں توازن پیدا کرتا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کا تعلق مسابقی نہیں بلکہ باہمی تکمیل پر مبنی ہے۔ انہوں نے یورپ، امریکہ، کینیڈا، اسرائیل، خلیجی ممالک، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی فی کس آمدنی ہندوستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، لیکن وہ عمر رسیدہ آبادی جیسے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان کو نوجوان افرادی قوت کا فائدہ حاصل ہے، جہاں اوسط عمر 30 برس سے کم ہے اور آئندہ تین دہائیوں تک یہ آبادیاتی برتری برقرار رہنے کی توقع ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں پیداوار اور تحقیق و ترقی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ان کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں ہندوستان اور ان ممالک کے درمیان شراکت داری، ہندوستان کی نوجوان صلاحیتوں، کم لاگت اور وسیع مارکیٹ کو ترقی یافتہ معیشتوں کے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارت کے ساتھ جوڑ کر دونوں کے لیے فائدہ مند مواقع پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین برس میں ہندوستان نے 38 ممالک کے ساتھ نو آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں سے نئی بازاروں تک رسائی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون، عالمی ویلیو چینز میں شمولیت اور سرمایہ کاری و روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
وزیر تجارت نے کہا کہ ان ممالک کے پاس بڑی مقدار میں سرمایہ موجود ہے جو موزوں سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش میں ہے، جبکہ 1.4 ارب آبادی اور تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے ساتھ ہندوستان ایسی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بن کر ابھرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسیوں، طریقہ کار اور ضابطوں کے بوجھ کو کم کرنے، ٹیکس نظام کو آسان بنانے، دیوالیہ پن اور قرض نادہندگی سے متعلق اصلاحات نافذ کرنے اور قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں تاکہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
جناب گوئل نے بنیادی ڈھانچے میں حکومت کی وسیع سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہندوستان صرف موجودہ ضروریات ہی نہیں بلکہ مستقبل کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے۔
توانائی کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے پاس 500 گیگاواٹ سے زائد صلاحیت پر مشتمل متحدہ قومی بجلی گرڈ موجود ہے۔ 2014 سے پہلے مختلف علاقائی گرڈ الگ الگ کام کرتے تھے، لیکن حکومت نے انہیں ایک قومی گرڈ میں ضم کر دیا، جس سے استحکام، کارکردگی اور قابل تجدید توانائی کے انضمام میں بہتری آئی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ اب قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے پیرس معاہدے کے تحت اپنے قومی عہد (این ڈی سی) مقررہ مدت سے پہلے ہی پورے کر لیے ہیں اور جی-20 ممالک میں موسمیاتی وعدوں پر عمل درآمد کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ متحدہ بجلی گرڈ اور قابل تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت نے ہندوستان کو ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک پرکشش مقام بنا دیا ہے۔ انہوں نے جمہوری نظام، قانون کی حکمرانی، ڈیٹا تحفظ اور دانشورانہ املاک کے مؤثر تحفظ کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اہم عوامل قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں سب سے کم ڈیٹا لاگت، نسبتاً کم تعمیراتی اخراجات، کم لاگت صنعتی و دفتری ڈھانچہ اور مسابقتی اخراجات پر دستیاب ہنرمند افرادی قوت ہندوستان کی نمایاں خصوصیات ہیں، جن کی وجہ سے عالمی کمپنیاں یہاں مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔
اختراع اور تحقیق کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ہندوستان کو اختراع کی ثقافت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اختراع پر مبنی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کمپنیوں اور ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت املاک دانش کے قوانین کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور اختراع دوست بنایا جا سکے۔ انہوں نے ہندوستان کے تیزی سے ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپ نظام کا بھی ذکر کیا، جسے سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر حمایت حاصل ہے۔
جناب گوئل نے بتایا کہ حکومت کا تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کا تحقیق و ترقی فنڈ فعال ہو چکا ہے اور اس کے تحت ابتدائی منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور اسرائیل کی طرح ہندوستان بھی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اختراعی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔
بین الاقوامی تجارت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض ممالک اپنے مخصوص صنعتی شعبوں کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کرتے ہیں، تاہم عالمی تجارت اب بھی بڑی حد تک اصولوں پر مبنی نظام کے تحت چل رہی ہے۔ ہندوستان ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات، تعاون اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے راستے پر قائم ہے۔
آخر میں جناب پیوش گوئل نے کہا کہ حکومت ان تمام کمپنیوں کا خیرمقدم کرتی ہے جو ہندوستان میں پیداوار قائم کر کے روزگار اور اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تجارتی شراکت داریوں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اختراع پر مبنی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے ہندوستان کی اقتصادی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں عالمی معیشت میں اس کے کردار کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔
***
ش ح ۔ م د ۔ م ص
U :8303
(रिलीज़ आईडी: 2271871)
आगंतुक पटल : 32