جل شکتی وزارت
چھتوں اور تالابوں سے لے کر زیرِ زمین آبی ذخائرتک: ‘جل سنچے، جن بھاگیداری’ کے تحت اڈیشہ میں زیرزمین پانی کی بحالی
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 4:39PM by PIB Delhi
پورے اڈیشہ میں جیسے ہی مانسون کی بارش ہو تی ہے،جاجپور کے اسکولوں کی چھتوں سے لے کر کٹک کے کمیونٹی تالابوں اور گنجام کے ریچارج کنوؤں تک ایک خاموش مگر مؤثر زیرِ زمین پانی کی بحالی کا انقلاب نظر آ رہا ہے۔وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وژن اور “جل سنچے، جن بھاگیداری” کے تحت مکمل حکومت اور مکمل معاشرے کے نقطۂ نظر سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ریاست موسمی بارشوں کو پانی کی سلامتی کے ایک پائیدار ذریعہ میں تبدیل کر رہی ہے۔جہاں بارش کا پانی گرتا ہے وہیں اسے محفوظ کر کے اور زیرِ زمین آبی ذخائر میں اس کی ریچارجنگ کو ممکن بنا کر، اڈیشہ ہر مانسون کی بارش کو اپنے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو مضبوط کرنے اور مستقبل کے آبی دباؤ کے خلاف مضبوطی پیدا کرنے کے ایک موقع میں بدل رہا ہے۔
ریاست بھر میں اسکولوں، کالجوں، سرکاری دفاتر اور دیگر ادارہ جاتی عمارتوں سے بارش کا پانی جمع کر کے، فلٹر کیا جا رہا ہے اور ریچارج کنوؤں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کمزور ہوتے آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مدد مل سکے۔ اسی طرح، تالابوں اور دیگر آبی ذخائر کے اندر بنائی گئی ریچارج ساختیں اضافی مانسونی پانی کو سطحی بہاؤ میں ضائع ہونے کے بجائے زمین کے اندر گہرائی تک جذب ہونے کے قابل بنا رہی ہیں۔یہ اقدامات زیرِ زمین پانی کی سطح کو بحال کرنے، خشکی کے دورمیں پانی کی دستیابی بہتر بنانے اور پانی کے تحفظ کا ایک پائیدار ماڈل تشکیل دینے میں مدد دے رہے ہیں، جو “جل سنچے، جن بھاگیداری” کے بنیادی جذبے کے مطابق عوامی شمولیت اور حکومتی اقدامات کو یکجا کرتا ہے۔
جَاجپور : زیرزمین پانی کی بحالی میں اضافہ
جاجپور ضلع “جل سنچے، جن بھاگیداری” کے تحت سائنسی انداز میں زیرِ زمین پانی کے انتظام کی ایک اہم مثال کے طور پر ابھرا ہے۔
سال2022-23 اور 2026-2025 کے درمیان، ضلع نے اے آر یو اے اسکیم کے تحت 117 ریچارج شافٹس تعمیر کئے اور سرکاری اداروں اور تعلیمی کیمپسز میں چھت اسکیم کے تحت 114 چھتوں سے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے نظام نصب کئے۔ یہ اقدامات کوریئی، بنجھرپور، باری، رسولپور، دَشرتھ پور اور جاجپور سمیت اعلیٰ ترجیحی بلاکس میں حکمتِ عملی کے تحت نافذ کیے گئے۔
سائنسی نگرانی اور جائزہ کو یقینی بنانے کے لیے ضلع نے ایک مضبوط زیرِ زمین پانی مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کیا، جس میں 47 ڈیجیٹل واٹر لیول ریکارڈر اسٹیشنز اور 72 آبزرویشن ویلز شامل ہیں۔ ان نظام کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا سے اقداماتی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی حالت میں بہتری اور آبی ذخائر کے صحت مند رویے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ان اقدامات کے فوائد صرف پانی کے تحفظ تک محدود نہیں ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی بہتر دستیابی نے پینے کے پانی کی سلامتی کو مضبوط کیا ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کیا ہے اور گھروں خصوصاً خواتین پر پانی لانے کے بوجھ کو کم کیا ہے۔ آگاہی مہمات، عملی مظاہروں اور عوامی رابطہ سرگرمیوں کے ذریعے کمیونٹیز بھی زیرِ زمین پانی کے تحفظ میں فعال شراکت دار بن گئی ہیں۔
کٹک: انجینئرنگ اور عوامی شراکت کا انضمام
کٹک ضلع یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل عوامی شرکت کے ساتھ تکنیکی اقدامات کو جوڑ کر زیرِ زمین پانی کے تحفظ کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔
چھت اسکیم کے تحت سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی سہولیات میں 57 چھتوں سے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے نظام نصب کیے گئے۔ ساتھ ہی، اے آر یو اے اسکیم کے تحت تالابوں اور آبی ذخائر میں 35 ریچارج شافٹس تعمیر کئے گئے تاکہ زیرِ زمین آبی ذخائر کی گہرائی میں ریچارج کو ممکن بنایا جا سکے۔
یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ طویل مدتی پائیداری عوامی ملکیت پر منحصر ہے، ضلع نے وسیع معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) سرگرمیوں کو نافذ کیا۔ دیہی اور شہری علاقوں میں نکڑ ناٹک، آگاہی مہمات، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جن میں اپنی مدد آپ گروپس، طلبہ، پنچایتی راج ادارے اور مقامی کمیونٹیز کو زیرِ زمین پانی کے تحفظ کی کوششوں میں شامل کیا گیا۔
ضلع کا زیرِ زمین پانی کی نگرانی کا نظام، جس میں 66 خودکار مانیٹرنگ اسٹیشنز اور 100 آبزرویشن ویلز شامل ہیں، آبی ذخائر کی صورتحال کا مسلسل جائزہ فراہم کرتا ہے۔ زیرِ زمین پانی کے وسائل کے جائزے کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع نے ایک مستحکم زیرِ زمین پانی کا نظام برقرار رکھا ہے، جہاں 2024 اور 2025 کے درمیان زیرِ زمین پانی کے استعمال کی شرح تقریباً 47 فیصد رہی، جو پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کو متوازن کرنے میں ریچارج اقدامات کے مثبت اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
دِگ پہانڈی: شہری زیرِ زمین پانی کی بحالی کا ایک مقامی ماڈل
گنجم ضلع کے دِگ پہانڈی شہری علاقے میں، زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا انحصار، بارش میں کمی اور شہری ترقی کے پھیلاؤ نے زیرِ زمین پانی کے دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2020 اور 2022 کے درمیان کئی مقامات پر زیرِ زمین پانی کی سطح میں ایک سے تین میٹر تک کمی دیکھی گئی۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سرکاری دفاتر، اسکولوں اور عوامی اداروں میں چھتوں پر بارش کے پانی کو جمع کرنےکے نظام نصب کیے گئے۔ یہ ڈھانچے چھتوں سے بہنے والے بارش کے پانی کو جمع کرتے ہیں، اسے فلٹر کرتے ہیں اور ریچارج بورویلز میں منتقل کرتے ہیں، جس سے بارش کا پانی زیرِ زمین آبی ذخائر تک رسائی حاصل کر کے زمین میں جذب ہو جاتا ہے۔
ان اقدامات سے غیر معمولی نتائج سامنے آئے ہیں۔ تقابلی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مون سون کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری آئی ہے، موسمی اتار چڑھاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے اور اقدامات سے متعلق جگہوں کے اطراف مقامی ریچارج زونز وجود میں آئے ہیں۔ ریچارج ڈھانچوں کے قریب آبزرویشن ویلز میں زیرِ زمین پانی کی بہتر حالت ریکارڈ کی گئی ہے، جو چھتوں پر بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے نظام کی مؤثریت کو ایک پائیدار شہری حل کے طور پر ظاہر کرتی ہے۔
اس اقدام میں عوامی شمولیت نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ آگاہی مہمات، نکڑ ناٹک، اسکول ورکشاپس اور عوامی رابطہ پروگراموں نے رہائشیوں، خواتین، نوجوان گروپس اور مقامی نمائندوں کو زیرِ زمین پانی کے تحفظ میں فعال طور پر حصہ لینے کی ترغیب دی ہے، جس سے مقامی آبی وسائل کے لیے ملکیت اور ذمہ داری کا احساس مضبوط ہوا ہے۔
عوامی تحریک کی حدتک پانی کا تحفظ
اڈیشہ کی زیرِ زمین پانی کی بحالی کی کوششوں کی ایک نمایاں خصوصیت کمیونٹی کی شمولیت پر زور دینا ہے۔ مختلف اضلاع میں آگاہی مہمات، ورکشاپس، عملی مظاہروں اور عوامی شرکت کی سرگرمیوں نے زیرِ زمین پانی کے تحفظ کو صرف تکنیکی اقدام سے بڑھا کر ایک اجتماعی سماجی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔
سرکاری ادارے، تعلیمی کیمپس، خود امدادی گروپس، مقامی بلدیاتی ادارے اور کمیونٹی تنظیمیں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ریچارج ڈھانچوں کی دیکھ بھال اور پائیدار آبی استعمال کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ سائنسی منصوبہ بندی اور عوامی شراکت کا یہ امتزاج “جل سنچے، جن بھاگیداری” کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔
مستقبل کو پانی کے لحاظ سے محفوظ بنانا
جاجپور، کٹک اور دِگ پہانڈی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پائیدار زیرِ زمین پانی کا انتظام اس وقت سب سے مؤثر ہوتا ہے جب بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو عوامی ملکیت کے ساتھ جوڑا جائے۔ چھتوں سے بارش کے پانی کو جمع کرنے والی “چھت اسکیم” اور تالابوں و ذخائر سے اضافی پانی کو زیرِ زمین آبی ذخائر میں منتقل کرنے والی‘‘اے آر یو اے اسکیم” کے ذریعے اڈیشہ نے زیرِ زمین پانی کے تحفظ کا ایک قابلِ پیمائش اور قابلِ نقل ماڈل تشکیل دیا ہے۔
ہر سال جاری مون سون بارشوں کے ساتھ، اڈیشہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ بارش کے پانی کو صرف موسمی پانی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی وسائل کے طور پر دیکھا جائے۔ آبی ذخائر کی بحالی، آبی تحفظ کی مضبوطی اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے “جل سنچے، جن بھاگیداری” ایک زیادہ مستحکم اور پانی سے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔









***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.8284
(रिलीज़ आईडी: 2271754)
आगंतुक पटल : 11