سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے طلبہ کو ’’ مضامین کے اسیر ‘‘ ہونے سے آزاد کر دیا ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر موصوف نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے میٹرو شہروں سے باہر بھی تعلیمی مواقع کو عام اور سب کیلئے قابلِ رسائی بنا دیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
10 JUN 2026 5:10PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیرِ اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمۂ ایٹمی توانائی اور محکمۂ خلاء کے وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ نے آج قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کو بھارت کے تعلیمی شعبے میں سب سے انقلابی اصلاحات میں سے ایک اور مودی حکومت کے 12 سالہ دور کی نمایاں ترین کامیابیوں میں شمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی نے طلبہ کو پہلے سے متعین تعلیمی راستوں تک محدود رہنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور خواہشات کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دی ویک ایجوکیشن کنکلیو 2026 سےخطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا نفاذ ہے۔ اس کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پالیسی نے ’’بچوں کو اُن مضامین تک محدود ہونےسے آزاد کر دیا ہے جو ان کے والدین ان کے لیے منتخب کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تعلیمی نظام میں اکثر طلبہ کو اپنی دلچسپیوں سے قطع نظر مخصوص تعلیمی شعبوں میں تعلیم جاری رکھنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا، جس سے انفرادی انتخاب اور لچک محدود ہو جاتی تھی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت متعارف کرائی گئی لچک نے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق تعلیمی سمت تبدیل کرنے کا اختیار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو طلبہ روایتی پیشہ ورانہ راستے اختیار نہیں کرنا چاہتے، اب انہیں بایوٹیکنالوجی، ادب اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں سمیت مختلف مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں نوجوان اپنی پسند کے مطابق پیشوں کا انتخاب کر رہے ہیں، نہ کہ مجبوری کے تحت، جس سے مستقبل کی افرادی قوت کے معیار، صلاحیت اور حوصلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
تعلیمی شعبے میں ہونے والی ان تبدیلیوں کے سائنسی نظام پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے کہا کہ آج تحقیقی اداروں میں آنے والے نوجوان سائنس دانوں کا معیار اور رجحان ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت سے نوجوان اپنی حقیقی دلچسپی اور صلاحیت کی بنیاد پر سائنس کو بطور پیشہ اختیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تحقیق اور اختراع کے میدان میں زیادہ وابستگی، لگن اور عمدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تعلیم تک رسائی کے فروغ میں ٹیکنالوجی کے رول پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران تعلیم تک سبھی کی رسائی آسان ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی اور کم خرچ بنایا ہے، جس سے وہ رکاوٹیں کم ہوئی ہیں جو پہلے تعلیمی مواقع کو معاشرے کے ایک خاص طبقے تک محدود رکھتی تھیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مسابقتی امتحانات میں سامنے آنے والے نئے رجحانات اس تبدیلی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قومی سطح کے امتحانات میں اعلیٰ درجہ حاصل کرنے والے امیدواروں میں اب چھوٹے شہروں اور غیر میٹرو علاقوں کے طلبہ کی تعداد بڑھ رہی ہے، جن میں سے بہت سے مہنگے کوچنگ اداروں میں تعلیم حاصل کیے بغیر کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی وسائل کی بڑھتی ہوئی دستیابی کی عکاس ہے، جس نے ملک بھر کے امیدواروں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آج کے تعلیمی ماحول میں کامیابی کا انحصار بڑھتے ہوئے عزم و استقامت،از خود مطالعہ اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر ہے۔ انہوں نے محدود وسائل رکھنے والے ایسے طلبہ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا، جنہوں نے انتہائی مسابقتی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس بات پر زور دیا کہ مضبوط ارادہ اور منظم محنت آج بھی کامیابی کے بنیادی عناصر ہیں۔
ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے موجودہ دور کو بھارت کے تعلیمی سفر کے سب سے امید افزا ادوار میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے طلبہ کو مواقع اور وسائل تک ایسی رسائی حاصل ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے وکست بھارت 2047 کے قومی وژن کا حوالہ دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ آج کے نوجوان بھارت کے مستقبل کی تشکیل اور ملک کے ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
وزیر موصوف نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کی ترقی کے اس تبدیل آفرین دور میں میسر مواقع کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔ انہوں نے انہیں ترغیب دی کہ وہ موجودہ سازگار تعلیمی اور سماجی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیت، جدت طرازی اور عوامی خدمت کے ذریعے قوم کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے اس موقع پر اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ نئی نسل کی رہنمائی اور تربیت میں ان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔

مرکزی وزیرڈاکٹر جتیندر سنگھ بدھ کے روز نئی دہلی میں منعقدہ داد ویک ایجوکیشن کنکلیو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے



***
ش ح۔ ک ا۔ ش ہ ب
U.NO.8226
(रिलीज़ आईडी: 2271246)
आगंतुक पटल : 13