الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
نیپال کے لیے ’’وائس فرسٹ‘‘ لسانی ترجمہ پلیٹ فارم کی قومی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی مشترکہ تشکیل
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی اور کٹھمنڈو یونیورسٹی (کے یو) کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط
प्रविष्टि तिथि:
06 JUN 2026 9:46PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (میٹی) کے تحت ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے نیپال کے کٹھمنڈو یونیورسٹی کے مرکز برائے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ و مصنوعی ذہانت (ڈی پی آئی-اے آئی) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔
اس مفاہمت نامے کا مقصد ہندوستان اور نیپال میں زبان پر مبنی مصنوعی ذہانت (لینگویج اے آئی)، کثیر لسانی ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور جامع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے باہمی تعاون کا ایک مؤثر فریم ورک قائم کرنا ہے۔
اس مفاہمت نامے پر ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ ناگ اور کٹھمنڈو یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ ڈین جناب پروفیسر بال کرشن بال نے دستخط کیے۔
مفاہمت نامے کا تبادلہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر، وزیرِ خارجہ، حکومتِ ہند اور جناب ششیر خانال، وزیرِ خارجہ، حکومتِ نیپال، کی موجودگی میں نئی دہلی میں منعقدہ دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران انجام پایا۔
یہ موقع ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر) اور جامع ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہندوستان اور نیپال کے مشترکہ عزم کا مظہر تھا۔
یہ شراکت داری ہندوستان اور نیپال کے اُس مشترکہ ویژن کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی کو جامع ترقی، سماجی بااختیاری اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔ یہ مفاہمت نامہ محض تکنیکی تعاون تک محدود نہیں، بلکہ اسے عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے، لسانی ورثے کے تحفظ اور زبان، خواندگی اور ڈیجیٹل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے خطے کے لوگوں کے لیے مواقع تک مساوی رسائی کو ممکن بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس مفاہمت نامے کے تحت دونوں ادارے اعلیٰ معیار کے نیپالی زبان کے ڈیٹا سیٹس، صوتی ذخائر (اسپیچ کارپس) اور کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے وسائل کی تیاری میں تعاون کریں گے۔ ان وسائل میں آواز سے تحریر (اسپیچ ٹو ٹیکسٹ)، تحریر سے آواز (ٹیکسٹ ٹو اسپیچ)، مشینی ترجمہ (مشین ٹرانسلیشن) اور کثیر لسانی مکالماتی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں شامل ہوں گی۔
یہ شراکت داری ہندوستان-نیپال خطے کی کم وسائل والی اور کم نمائندگی رکھنے والی زبانوں کے لسانی و ادبی ورثے کے تحفظ اور ڈیجیٹلائزیشن میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ برادریاں جن کی زبانیں ڈیجیٹل دنیا سے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، اپنی مادری زبان میں مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ آلات اور خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
بھاشنی کے کھلے اور باہمی مطابقت رکھنے والے لسانی ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کے ذریعے یہ تعاون حکومتِ نیپال کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنے شہریوں کو ان کی پسندیدہ زبانوں میں ڈیجیٹل عوامی خدمات فراہم کر سکے اور آخری سطح تک زبان، خواندگی اور ڈیجیٹل رسائی سے متعلق رکاوٹوں کو کم کر سکے۔
اس مفاہمت نامے کے تحت قدرتی زبان کی پروسیسنگ (این ایل پی)، کثیر لسانی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی، تربیتی پروگراموں اور آزمائشی منصوبوں (پائلٹ پروجیکٹس) کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کی جامعات، محققین، لسانی ماہرین اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا جائے گا۔
اس شراکت داری سے نیپالی شہریوں، طلبہ، کاروباری افراد اور پیشہ ور ماہرین کے لیے نئے معاشی اور سماجی مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔ اس کے ذریعے تعلیم، ہنرمندی کی تربیت، ڈیجیٹل تجارت اور عوامی خدمات تک کثیر لسانی رسائی ممکن ہوگی، جس سے نہ صرف نیپال کے اندر بلکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں میں بھی مواقع کے دروازے کھلیں گے۔
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ ناگ نے کہا:
’’کٹھمنڈو یونیورسٹی کے ساتھ یہ شراکت داری خطے کے لیے جامع لسانی ٹیکنالوجی کی تعمیر کے حوالے سے ہندوستان کے عزم میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ بھاشنی کا کھلا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ ماڈل جنوبی ایشیا میں کروڑوں شہریوں کے لیے ڈیجیٹل رسائی کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تعاون ہمیں اس ویژن کو ہندوستان کی سرحدوں سے آگے بڑھانے میں مدد دے گا، جبکہ ہمارے مشترکہ لسانی اور ثقافتی ورثے کو مزید مضبوط بناتے ہوئے عالمی جنوب کے لیے کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کی اگلی نسل کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔‘‘
کٹھمنڈو یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ ڈین پروفیسر بال کرشن بال نے کہا:
’’یہ مفاہمت نامہ نیپال اور ہندوستان کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی طاقت کو لسانی شمولیت اور سماجی اثرات کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ کٹھمنڈو یونیورسٹی کے ڈی پی آئی-اے آئی مرکز اور بھاشنی کے درمیان تعاون کے ذریعے ہم کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق، اختراع اور صلاحیت سازی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، تاکہ ہمارا بھرپور لسانی ورثہ ڈیجیٹل مستقبل میں شرکت کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ ایک محرک قوت بن سکے۔‘‘
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) کے بارے میں
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی)، جو وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے تحت ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کا ایک اہم شعبہ ہے، مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر لسانی ڈیجیٹل شمولیت اور لسانی ٹیکنالوجی کے لیے ہندوستان کا قومی اقدام ہے۔
قومی مرکز برائے لسانی ٹیکنالوجی (این ایچ ایل ٹی) کے ذریعے بھاشنی ہندوستانی زبانوں میں توسیع پذیر آواز اور لکھائی پر مبنی مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرتا ہے، جو حکمرانی، عوامی پلیٹ فارمز اور مختلف اداروں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔
یہ پلیٹ فارم 800 سے زائد سرکاری ویب سائٹس کو خدمات فراہم کرتا ہے، روزانہ 1.5 کروڑ سے زیادہ اے آئی استنتاجی عمل (انفرنسز) انجام دیتا ہے اور 36 ہندوستانی تحریری زبانوں، 23 ہندوستانی صوتی زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں کی معاونت کرتا ہے۔
ڈی آئی بی ڈی کھلے ماخذ (اوپن سورس) اختراع، کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کی تحقیق، ڈیٹا سیٹس کی تیاری، نوآموز کاروباری اداروں (اسٹارٹ اپس) کی حوصلہ افزائی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کو بھی فروغ دیتا ہے، جس کے ذریعے ہندوستان کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-8073
(रिलीज़ आईडी: 2269969)
आगंतुक पटल : 6