PIB Backgrounder
سرکاری سیکیورٹیز میں غیر ملکی شرکت بڑھانے کے لیے اصلاحات
प्रविष्टि तिथि:
06 JUN 2026 1:33PM by PIB Delhi
بانڈ بازاروں کو مضبوط کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا
حکومت عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ہندوستان کی حیثیت کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل اصلاحات کر رہی ہے۔ سرمایہ بازار کو گہرا کرنے کے لیے اس نے سرکاری سیکیورٹیز (جی-سیکس) میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کی شرکت بڑھانے کے لیے اصلاحات کا ایک سلسلہ متعارف کرایا ہے۔ کلیدی اقدامات میں سودی آمدنی، طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اور قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) پر ٹیکس میں چھوٹ، فلّی ایکسیسیبل روٹ (ایف اے آر) کے تحت مخصوص سیکیورٹیز کے دائرۂ کار میں توسیع، اور سرمایہ کاری کے ضوابط کو مزید ہموار بنانا شامل ہے۔
ان اصلاحات کا مقصد مستحکم طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کو راغب کرنا، جی-سیک مارکیٹ کو گہرا کرنا، اور سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسیع اور متنوع بنا کر ہندوستان کے قرضہ بازارکو مضبوط کرنا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شرکت بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، شہری ترقی، موسمیاتی اقدامات اور دیگر قومی ترجیحات کے لیے مالی وسائل کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کرے گی۔ اس سے بازار میں لیکویڈیٹی اور قیمتوں کے تعین کے عمل میں بھی بہتری آئے گی، منافع کی شرح کے منحنی خطوط (یلڈ کَرو) کو ہموار بنانے میں مدد ملے گی، سرکاری قرض گیری کی لاگت کم ہوگی، مالیاتی منڈیوں کے معیارات مضبوط ہوں گے اور پوری معیشت میں مالیاتی پالیسی کی مؤثر ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
یہ اصلاحات طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، جیسے پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور خودمختار دولت فنڈز کو راغب کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں، جس سے زیادہ مستحکم اور پائیدار سرمایہ کاری کی آمد متوقع ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور ہندوستانی مالیاتی منڈیوں کی لچک اور استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔
ڈیکوڈنگ ایف آئی آئی، ایف پی آئی، سرکاری سیکیورٹیز (جی-سیکس) اور بی آئی ایس
غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری (ایف آئی آئی): ایف آئی آئی کو اب ایف پی آئی نظام کے ایک ذیلی زمرے کے طور پر سمجھا جاتا ہےجو خاص طور پر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، جیسے میوچل فنڈز، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور ہیج فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔ یہ ادارے جمع شدہ فنڈز کو مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور عموماً سرمایہ کاری کی تحقیق اور فیصلہ سازی میں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔
غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (ایف پی آئی):ایف پی آئی سے مراد غیر ملکی افراد، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں یا دیگر اداروں کی جانب سے مالیاتی آلات، جیسے اسٹاک، بانڈز، میوچل فنڈز اور سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری ہے۔ ایف پی آئی ان کمپنیوں کے انتظام یا فیصلہ سازی میں حصہ نہیں لیتے جن میں وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں، اس لیے انہیں عموماً غیر فعال سرمایہ کار سمجھا جاتا ہے۔
سرکاری سیکیورٹیز (جی-سیکس):جی-سیکس قابلِ تجارت قرض جاتی آلات ہیں جو مرکزی یا ریاستی حکومتیں عوامی منصوبوں کی مالی اعانت، مالی خسارے کے انتظام اور مارکیٹ کی لیکویڈیٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے جاری کرتی ہیں۔
بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس):بی آئی ایس ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جو مرکزی بینکوں کی ملکیت ہے۔ یہ عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کے درمیان مالیاتی اور زرّی تعاون کے لیے ایک فورم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ مرکزی بینکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے بینکر اور اثاثہ منیجر کی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔
ٹیکس میں کیا تبدیلیاں آئیں؟
تازہ ترین اصلاحات سے قبل، سیبی میں رجسٹرڈ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) سمیت غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) پر انکم ٹیکس ایکٹ 2025 کی دفعہ 210 کے تحت ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔ سرکاری سیکیورٹیز (جی-سیکس) میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی ٹیکس کے دائرے میں آتی تھی۔
خصوصی طور پر:
- ایف آئی آئی/ایف پی آئی کے لیے جی-سیکس پر حاصل ہونے والی سودی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔
- جی-سیکس کی فروخت سے حاصل ہونے والے قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر، لین دین کی نوعیت کے لحاظ، 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔
- طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر 12.5 فیصد ٹیکس لاگو تھا۔
- اس طرح غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جی-سیکس رکھنے یا ان کی تجارت سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک حصہ ہندوستان میں ٹیکس کی صورت میں ادا کرنا پڑتا تھا۔
نیا ٹیکس نظام
عالمی سرمائے کو راغب کرنے میں مسابقتی ٹیکس نظام کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے جی-سیکس میں سرمایہ کاری کرنے والے ایف پی آئی/ایف آئی آئی کے لیے ٹیکس میں چھوٹ متعارف کرائی ہے۔
نئے نظام کے تحت ایف پی آئی/ایف آئی آئی کو درج ذیل آمدنی پر ٹیکس سے استثنا حاصل ہوگا:
- جی-سیکس سے حاصل ہونے والی سودی آمدنی؛ اور
- سرکاری سیکیورٹیز (جی-سیکس )کی فروخت، منتقلی، تبادلے یا میعاد پوری ہونے پر اصل رقم کی واپسی سے حاصل ہونے والا سرمایہ جاتی منافع ۔
یہ چھوٹ یکم اپریل 2026 کو یا اس کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی پر لاگو ہوگی۔ انکم ٹیکس (ترمیمی) آرڈیننس، 2026 میں جی-سیکس میں سرمایہ کاری کرنے والے ایف آئی آئی/ایف پی آئی کو یہ چھوٹ فراہم کرنے کے لیے مخصوص دفعات شامل کی گئی ہیں۔
کیپٹل گینز کی درجہ بندی
طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اس وقت حاصل ہوتا ہے جب سرکاری سیکیورٹی مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک رکھی جائے۔
- درج شدہ جی-سیکس: 12 ماہ سے زیادہ
- غیر درج شدہ جی-سیکس: 24 ماہ سے زیادہ
قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) اس وقت حاصل ہوتا ہے جب سرکاری سیکیورٹی مقررہ مدت سے کم عرصے تک رکھی جائے۔
- درج شدہ جی-سیکس: 12 ماہ تک
- غیر درج شدہ جی-سیکس: 24 ماہ تک
جی-سیک مارکیٹ اصلاحات
غیر ملکی سرمایہ کار جنرل روٹ اور فلّی ایکسیسیبل روٹ (ایف اے آر) جیسے راستوں کے ذریعے ہندوستانی جی-سیکس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ جنرل روٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے معیاری راستہ ہے۔ یہ انہیں اجازت یافتہ ہندوستانی جی-سیکس خریدنے اور فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم اس کے ساتھ بعض پابندیاں بھی وابستہ ہیں، جیسے کسی مخصوص سیکیورٹی میں سرمایہ کاری کی حد، کم از کم ہولڈنگ مدت اور مجموعی سرمایہ کاری کی حد۔
اس کے برعکس، ایف اے آر ایک کھلی رسائی کا راستہ ہے، جہاں غیر ملکی سرمایہ کار جنرل روٹ کے تحت لاگو پابندیوں کے بغیر منتخب جی-سیکس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
12 مئی 2026 تک، ایف پی آئی کے پاس 3,75,171 کروڑ روپے مالیت کے جی-سیکس موجود تھے، جو 112.42 لاکھ کروڑ روپے کے کل بقایا جی-سیکس اسٹاک کا 3.34 فیصد بنتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان سرمایہ کاریوں کا بڑا حصہ ایف اے آر کے تحت ہے، جہاں ایف پی آئی کی ہولڈنگ 3.21 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو ایف اے آر کے تحت اہل 47.63 لاکھ کروڑ روپے کے بقایا اسٹاک کا 6.74 فیصد بنتی ہے۔
سرکاری سیکیورٹیز میں ایف پی آئی کی سرمایہ کاری (12 مئی 2026 تک)
|
روٹ (راستہ)
|
ایف پی آئی ہولڈنگز
|
بقایا اسٹاک
|
حصہ
|
|
عمومی راستہ
|
54,091 کروڑ روپے
|
64.78 لاکھ کروڑ روپے
|
0.83فی صد
|
|
مکمل طور پر قابل رسائی راستہ (ایف اے آر)
|
3,21,080 کروڑ روپے
|
47.63 لاکھ کروڑ روپے
|
6.74فی صد
|
|
کل
|
3,75,171 کروڑ روپے
|
112.42 لاکھ کروڑ روپے
|
3.34 فی صد
|
سرمایہ کاروں کی مضبوط دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے ایف اے آر کے دائرۂ کار کو وسعت دینے اور جی-سیک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے مزید اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔
مکمل طور پر قابلِ رسائی روٹ (ایف اے آر) کی توسیع
حکومت نے اب ایف اے آر کے تحت اہل سیکیورٹیز کی فہرست میں توسیع کر دی ہے، جس سے جی-سیکس کی وسیع تر رینج میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔
ایف اے آر فریم ورک میں اب درج ذیل شامل ہوں گے:
- 15 سالہ گورنمنٹ سیکیورٹیز کے نئے اجرا
- 30 سالہ گورنمنٹ سیکیورٹیز کے نئے اجرا
- 40 سالہ گورنمنٹ سیکیورٹیز کے نئے اجرا
- ایف اے آر کی اہل مدت کے دوران جاری کیے گئے سوورین گرین بانڈز (ایس جی آر بی)
توقع ہے کہ اس توسیع سے مختلف مدتِ میعاد کے حامل سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور طویل مدتی خودمختار قرض جاتی آلات میں زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
جنرل روٹ کے تحت سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی
جی-سیکس میں ایف پی آئی کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو آسان بنانے کے لیے حکومت نے درج ذیل پابندیاں ختم کر دی ہیں:
- قلیل مدتی سرمایہ کاری کی حد
- ارتکاز کی حد
- سیکیورٹی کے لحاظ سے سرمایہ کاری کی حد
تاہم، سرمایہ کاری کی مجموعی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے:
- مرکزی حکومت کی سیکیورٹیز کے بقایا اسٹاک کا 6 فیصد
- ریاستی حکومت کی سیکیورٹیز (ایس جی ایس) کے بقایا اسٹاک کا 2 فیصد
مزید برآں، ایف پی آئی سرمایہ کاری کے لیے موجودہ "جنرل" اور "لانگ ٹرم" زمروں کو بالترتیب مرکزی اور ریاستی حکومت کی سیکیورٹیز کے لیے ایک واحد سرمایہ کاری حد میں ضم کر دیا جائے گا۔
گہرے اور زیادہ عالمی سطح پر مربوط سرمایہ بازاروں کی جانب
مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے اور عملی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے ذریعے یہ اقدامات عالمی معیار کی منڈیوں سے ہم آہنگ ایک زیادہ ہموار سرمایہ کاری کا تجربہ فراہم کریں گے۔
وقت گزرنے کے ساتھ توقع ہے کہ یہ اقدامات عالمی اشاریوں میں ہندوستانی بانڈز کی زیادہ شمولیت کی حمایت کریں گے، طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کو راغب کریں گے، قرض اور ایکویٹی دونوں منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی شرکت میں اضافہ کریں گے اور ہندوستان کے مالیاتی نظام کو عالمی معیشت کے ساتھ مزید مربوط بنائیں گے۔
یہ اصلاحات دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہندوستان، میں مواقع تلاش کرنے والے عالمی سرمایہ کاروں کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کریں گی۔
حوالہ جات
وزارتِ خزانہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2269169®=48&lang=2
https://x.com/finminindia/status/2062769417390588095?s=48&t=CSE0glwGSDCXRHUtG7cLjw
وزارتِ قانون و انصاف
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/document/2026/Jun/doc202665883801.pdf
ریزرو بینک آف انڈیا
https://www.rbi.org.in/commonman/english/scripts/FAQs.aspx?Id=711#1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
UR-8059
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2269810)
आगंतुक पटल : 22