سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نےروک تھام، علاج اور بازیابی کے ذریعے نشہ آور اشیاء کے استعمال کے خلاف قومی جدوجہد کو مضبوط بنایاہے
این اے پی ڈی ڈی آر اور نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت پورے بھارت میں بحالی اورسماج میں دوبارہ شمولیت تک رسائی میں توسیع ہو رہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
05 JUN 2026 3:19PM by PIB Delhi
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت منشیات کے استعمال میں کمی سے متعلق قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت ایک جامع اور عوام مرکوز حکمتِ عملی کے ذریعے بھارت میں منشیات کے استعمال کے مسئلے کے خلاف اپنی کوششوں کو مضبوط بنا رہی ہے، جس میں روک تھام، بیداری، علاج، بحالی اور سماجی بحالی جیسے پہلو شامل ہیں۔
منشیات کا استعمال، جسے زیادہ درست طور پر نشہ آور اشیاء کے استعمال کی خرابی کہا جاتا ہے، ایک اہم نفسیاتی اور صحتِ عامہ سے متعلق مسئلہ ہے جو افراد، کنبوں اور معاشروں کو متاثر کرتا ہے اور ساتھ ہی پیداواریت، سماجی ہم آہنگی اور انسانی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس مسئلے کی سنگینی کو وزارت کے پہلے قومی سروے نے واضح کیا، جو 2019 میں بھارت میں منشیات کے استعمال کی وسعت کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔ اس سروے کے مطابق 7 کروڑ سے زائد افراد نشہ آور اشیاء کے استعمال کی خرابی سے متاثر پائے گئے، جن میں تقریباً 1.2 کروڑ بچے اور 58 لاکھ خواتین شامل تھیں۔اس صورتحال کے پیش نظر، وزارت نے منشیات کی طلب میں کمی کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر قومی ایکشن پلان برائے منشیات کی طلب میں کمی کا آغاز کیا، جو روک تھام، بیداری، استعداد کار میں اضافہ، علاج، بحالی اور سماج میں دوبارہ شمولیت جیسے پہلوؤں پر مشتمل ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
سال 2020 میں شروع ہونے والی نشہ مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) نے ان کوششوں کو مزید مضبوط کیا ہے، جس کے ذریعے عوامی سطح پر آگاہی اور کمیونٹی موبلائزیشن کو وسعت دی گئی ہے تاکہ منشیات کے استعمال کے خلاف مشترکہ سماجی جدوجہد کو فروغ دیا جا سکے۔
منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک متوازن حکمتِ عملی درکار ہے۔ اسی لیے منشیات کی طلب میں کمی قومی سطح پر ایک اہم ستون بن چکی ہے، جس میں شواہد پر مبنی اقدامات، مؤثر روک تھام کی حکمتِ عملی اور مسلسل عوامی آگاہی مہمات پر زور دیا جا رہا ہے۔

ان کوششوں کا اثر اُن افراد کی زندگیوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جنہوں نے بروقت مدد کے ذریعے صحت یابی حاصل کی اور اپنی زندگی دوبارہ سنوار لی۔جموں و کشمیر کے بڈگام سےایک مثال 25 سالہ علاقائی کرکٹر کی ہے ۔ اسے ڈی-ایڈکشن سینٹر کے ذریعے مفت علاج، ڈیٹاکسیفیکیشن سہولیات، کونسلنگ، نفسیاتی مدد اور فالو اپ نگہداشت فراہم کی گئی، جس کی بدولت اس نے اپنی خود اعتمادی بحال کی، صحت بہتر بنائی اور دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں واپسی کی۔ بعد ازاں اس نے نشہ مکت بھارت ابھیان کے لئے رضاکار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

ایک اور روشن مثال منی پور کے ضلع امپھال ویسٹ کی ہے، جہاں 37 سالہ ایک خاتون کو شدید جذباتی دباؤ کے دوران نشے کی لت لگنے کے بعد خواتین پر مرکوز ڈی-ایڈکشن سینٹر کے ذریعے مدد فراہم کی گئی۔ مفت علاج، کونسلنگ، بحالی اور خاندانی تعاون کی بدولت انہوں نے نشے سے نجات حاصل کی، اپنی زندگی میں استحکام پیدا کیا، دوبارہ نرسنگ لیکچرر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور مالی خودمختاری حاصل کی۔ یہ مثال خواتین کے لیے قابلِ رسائی اور بدنامی سے پاک خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
وزارت نے حالیہ برسوں میں علاج اور بحالی کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں توسیع کی ہے اور اب ملک بھر میں 768 ڈی-ایڈکشن اور بحالی مراکز فعال ہیں۔ عوامی اعتماد میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ علاج کے لیے رجوع کرنے والے افراد کی تعداد میں 294 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2020 میں 2.08 لاکھ سے بڑھ کر 2025 میں 8.20 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔

سپورٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹول فری ڈی-ایڈکشن ہیلپ لائن 14446 بھی فعال کی گئی ہے، جس پر اب تک 4.69 لاکھ کالز موصول ہو چکی ہیں۔ یہ ہیلپ لائن اُن افراد اور کنبوں کے لئے پہلا رابطہ فراہم کرتی ہے جو مدد کے خواہاں ہوتے ہیں۔ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس مہم کو مزید تقویت ملی ہے، خاص طور پر این ایم بی اے ایپ 2.0 کے ذریعے، جو ریاستوں، اضلاع، مذہبی تنظیموں اور دیگر شراکت داروں کو فیلڈ سرگرمیوں کا ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے تاکہ حقیقی وقت میں نگرانی اور شہری مرکوز شفاف نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل کے لئے وزارت نے ایک عملی منصوبہ چار بنیادی ستونوں ، مسئلے کی وسعت کا جائزہ، علاج کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، استعداد کار میں اضافہ اور بیداری پیدا کرنا پر استوار کیا ہے۔ نشہ مکت بھارت کے وژن کی طرف پیش رفت کے ساتھ یہ مہم ایک اجتماعی کوشش کی دعوت دیتی ہے، جس میں شہری، ریاستی و مرکزی حکومتیں، متعلقہ وزارتیں اور سول سوسائٹی سب مل کر ہمدردی، ہم آہنگی اور مشترکہ ذمہ داری کی بنیاد پر جن آندولن کے طور پر حصہ لیں۔
شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ سرکاری این ایم بی اے پلیٹ فارم کے ذریعے نشہ مکت بھارت کا عہد لیں اور ایک صحت مند اورمضبوط ملک کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں۔
***
ش ح۔ ک ا۔م ذ
U.NO.8010
(रिलीज़ आईडी: 2269342)
आगंतुक पटल : 16