سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیٹنٹ فائلنگ اور ریسرچ پیپر رائٹنگ کی تربیت کے لیے اے این آر ایف پورٹل کا اعلان کیا، سائنسی محکموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا

نیا پلیٹ فارم ریسرچ کی صلاحیت اور سائنسی اشاعت کے ایکو سسٹم کو مضبوط کرے گا: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سائنسی کامیابیوں اور بہترین طور طریقوں کا باقاعدہ تبادلہ قومی ریسرچ کے اثرات کو بڑھا سکتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سائنسی مواصلات اور آؤٹ ریچ کو بھارت کی بڑھتی ہوئی تحقیقی صلاحیتوں کے ہم پلہ ہونا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 5:14PM by PIB Delhi

بھارت کے تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، سائنس اور ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور پی ایم او، عملے، عوامی شکایات اور پنشن، ایٹمی توانائی کے محکمے اور خلائی محکمے کے وزیرِ مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج اے این آر ایف کی مدد سے تیار کردہ ایک ڈیجیٹل پورٹل کا اعلان کیا، جس کا مقصد ملک بھر کے محققین، طلباء اور جدت طرازوں  کے لیے پیٹنٹ فائلنگ سپورٹ اور ریسرچ پیپر رائٹنگ اسسٹنس میں تربیت کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

یہ اعلان سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی ایس ٹی)، بائیو ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی بی ٹی)، سائنسی اور صنعتی تحقیق کے محکمے (ڈی ایس آئی آر) اور ارضیاتی سائنسز کی وزارت(ایم اوای ایس) کے ایک مشترکہ جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا گیا۔ اس میٹنگ کے دوران وزیر موصوف نے اہم سائنسی اقدامات، اداروں کے باہمی تال میل کے طریقۂ کار، سائنس ایڈمنسٹریشن اصلاحات، آؤٹ ریچ سرگرمیوں اور آنے والے قومی سائنسی پروگراموں کی تیاریوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔

جائزہ میٹنگ میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود، محکمۂ بائیو ٹیکنالوجی کے محکمےڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شیو کمار کلیان رامن اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی ایس ٹی)، بائیو ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی بی ٹی)، سائنسی اور صنعتی تحقیق کے محکمے (ڈی ایس آئی آر)اور ارضیاتی سائنسز کی وزارت (ایم او ای ایس) کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ نیا پورٹل محققین اور نوجوان جدت طرازوں کے لیے سائنسی تحریر، اشاعت کے عمل، املاک دانش کے تحفظ اور پیٹنٹ سے متعلق طریقۂ کار میں منظم مدد فراہم کر کے صلاحیت سازی کے ایک اہم وسیلے کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے وسائل تک رسائی کو بہتر بنانے سے تحقیق کے معیار میں بہتری آئے گی، جدت طرازی کے نتائج میں اضافہ ہوگا اور محققین کو اپنے سائنسی کام کو اشاعتوں اور املاک دانش کے اثاثوں میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

سائنسی محکموں اور اداروں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مختلف محکموں کے تحت کام کرنے والی سائنسی تنظیموں کو ایک مربوط اور باہمی تعاون کے انداز میں کام کرنا چاہیے تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی تحقیق، جدت طرازی اور عوامی سرمایہ کاری سے قومی سطح پر بھرپور نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ متعدد سائنسی ادارے اکثر ایک دوسرے کے تکمیلی امور پر کام کرتے ہیں لیکن محکموں کے درمیان ہونے والی پیشرفت سے پوری طرح باخبر نہیں ہوتے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لیبارٹریوں اور اداروں کے درمیان باقاعدہ تبادلۂ خیال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ بڑے پروجیکٹوں، تکنیکی کامیابیوں اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کے لیے منظم طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ ایک محکمے میں دستیاب مہارت سے دوسرے محکمے بھی مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھا سکیں۔

وزیر موصوف نے خاص طور پر ادارہ جاتی کامیابیوں اور کامیابی کی کہانیوں کو نمایاں کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر جائزہ طریقۂ کار میں باری باری مختلف تجربہ گاہوں اور اداروں کی نمایاں سائنسی کامیابیوں پر پریزنٹیشنز شامل کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طرزِ عمل سے نہ صرف سائنسی کامیابیوں کی نمائش میں اضافہ ہوگا بلکہ ایک جیسے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کے مابین باہمی سیکھنے اور اشتراکِ عمل کو بھی فروغ ملے گا۔

سائنسی مواصلات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تمام سائنسی محکموں میں آؤٹ ریچ کی ایک مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے سائنسی کامیابیوں کو شہریوں، طلباء، اسٹارٹ اپس اور محققین کے لیے آسان فہم انداز میں پیش کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور مواصلات کے نئے ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سائنسی نظام کے اندر سائنسی کامیابیوں اور جدت طرازی کے نتائج کی تشہیر کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ مواصلاتی پلیٹ فارمز تلاش کرنے کی تجویز بھی دی۔

سائنسی انتظام کاری کے لیے صلاحیت سازی کے اقدام کا جائزہ لیتے ہوئے، وزیر موصوف نے مزید کہا کہ قیادت اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے والے سائنسدانوں کے لیے حکومتی طریقۂ کار، مالیاتی قوانین اور ادارہ جاتی انتظام کے نظام سے بہتر واقفیت ضروری ہے۔ انہوں نے ایسے پروگراموں کو وسعت دینے اور اداروں میں سائنسی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے مشن کرم یوگی کے تحت جاری صلاحیت سازی کی کوششوں کے ساتھ انہیں مربوط کرنے کی وکالت کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے فائلوں کو نمٹانے، شکایات کے ازالے، قانونی چارہ جوئی کے انتظام اور اخراجات سے متعلق محکمہ جاتی کارکردگی کے اشاریوں کا بھی جائزہ لیا۔ انتظامی کارکردگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ نظم و نسق سے متعلق کارکردگی کے معیارات کی باریک بینی سے نگرانی کریں اور فائلوں کو بروقت نمٹانے، شکایات کے مؤثر ازالے اور اسکیموں و پروجیکٹوں کے بہتر نفاذ کو یقینی بنائیں۔

وزیر موصوف نے ایسٹک 2026  کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس ایونٹ کو بھارت کی سائنسی کامیابیوں، جدت طرازی کے نظام اور ابھرتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے سائنسی اداروں، اسٹارٹ اپس، صنعت کے نمائندوں، طلباء اور نوجوان جدت طرازوں کی وسیع پیمانے پر شرکت کی تجویز دی اور ساتھ ہی بین الاقوامی ماہرین اور فکری رہنماؤں کے ساتھ مضبوط روابط کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

میٹنگ کے دوران ہونے والی گفتگو میں جاری آؤٹ ریچ پروگراموں، اداروں کی مواصلاتی حکمتِ عملیوں، اے این آر ایف کے اقدامات، نئے اعلان کردہ ریسرچ سپورٹ پورٹل اور مختلف سائنسی محکموں کے تحت چلنے والے پروگراموں کی پیشرفت کا بھی احاطہ کیا گیا۔ وزیر موصوف نے سائنسی اداروں اور معاشرے کے درمیان مسلسل روابط قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سائنسی ترقی وسیع تر عوامی بیداری اور سماجی فوائد کی شکل میں تبدیل ہو۔

جائزے کے دوران، سینئر حکام نے وزیر موصوف کو سائنسی نظم و نسق  کے صلاحیت سازی کے پروگرام، آؤٹ ریچ کے اقدامات، اے این آر ایف کے پروگراموں، اداروں کے باہمی تال میل کی کوششوں اور ایسٹک 2026 کی تیاریوں کے تحت جاری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ سائنسی اداروں کے درمیان باقاعدہ تبادلۂ خیال، بہترین طور طریقوں کے اشتراک اور محکموں کے مابین مواصلاتی ذرائع کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔

میٹنگ کا اختتام سائنسی محکموں کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے، ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سائنسی تحقیق و جدت طرازی کی نمائش اور سماجی اثرات کو بڑھانے کے اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا۔

****

 

ش ح۔ک ح

U-7984

                          


(रिलीज़ आईडी: 2269000) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil