کابینہ
کابینہ نے دہلی-این سی آر میں پرانے ٹرکوں اور بسوں کی جگہ نئی گاڑیوں کولانے کیلئے این سی آر پی بی کو مدد فراہم کرنے سے متعلق اسکیم کو منظوری دی
प्रविष्टि तिथि:
03 JUN 2026 3:17PM by PIB Delhi
وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے دہلی-این سی آر خطے میں فضائی آلودگی کو کم کرنے اور صاف ستھری نقل و حمل کو فروغ دینے کے لئے ایک تاریخی دو سالہ اسکیم کی منظوری دی ہے۔یہ اسکیم ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) کے تحت نیشنل کیپیٹل ریجن پلاننگ بورڈ (این سی آر پی بی) کے ذریعے فنڈ کی جائے گی، جبکہ اس پر عمل درآمد سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت (ایم او آر ٹی ایچ) اور وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس (ایم او پی این جی) کریں گے۔ اس پروگرام کو دہلی، ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش کی شراکت دار ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔
اس اسکیم کا کل لاگت 9,585 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 5,041 کروڑ روپے شامل ہے، جبکہ شریک ریاستوں کی جانب سے اندازاً 1,601 کروڑ روپے کی ٹیکس مراعات فراہم کی جائیں گی۔اس اسکیم کا مقصد دہلی-این سی آر میں رجسٹرڈ ان ٹرکوں اور بسوں کے مالکان کو ترغیب دینا ہے، جو بی ایس- IVیا اس سے پرانے کاربن کے اخراج کے معیارات کے مطابق ہیں، تاکہ وہ اپنی پرانی گاڑیوں کو بی ایس- VI یا اس سے اعلیٰ معیار کی کاربن کے کم اخراج والی گاڑیوں یا الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) سے تبدیل کریں۔صاف ستھری ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز کی طرف تیز رفتار منتقلی کے ذریعے یہ اسکیم گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی کو نمایاں طور پر کم کرنے اور دہلی-این سی آر کے مجموعی فضائی معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی صحت عامہ کے لئے خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں ایک شدید چیلنج بنی ہوئی ہے ۔ اے آر اے آئی اور ٹی ای آر آئی کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق، ٹرانسپورٹ سیکٹر دہلی-این سی آر میں پی ایم 2.5 کے 14فیصد، کاربن مونو آکسائیڈ کے 40فیصد اور نائٹروجن آکسائیڈ کے 63فیصد اخراج ہوتا ہے۔نقل و حمل کے شعبے میں ، ٹرک اور بسیں کل بیڑے کے صرف 3فیصد کے ساتھ پی ایم 2.5 کے اخراج کا 36فیصد ہیں ۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک واحد پری-بی ایس ہیوی ڈیوٹی گاڑی 14 بی ایس-VI کے مطابق گاڑیوں سے کاربن کا اخراج ہوتاہے ۔ یہاں تک کہ ایک بی ایس- IV گاڑی بی ایس- VI کے مقابلے میں 2.7 گنا زیادہ اخراج کرتی ہے۔لہذا ، نئے بیڑے سے گاڑیوں کی آلودگی میں کافی کمی آنے کی توقع ہے ۔
اس اسکیم سے دہلی-این سی آر (دہلی ، ہریانہ ، راجستھان اور اتر پردیش پر مشتمل) میں تقریبا 2.07 لاکھ (1.91 لاکھ ٹرک اور 16,329 بسیں) مالکان کو فائدہ پہنچے گا ۔
بی ایس III یا اس سے پرانی گاڑیوں کے لئے ، رجسٹرڈ وہیکل اسکریپنگ سہولیات پرا سکریپنگ لازمی ہے ، جبکہ بی ایس IV گاڑیوں کو یا تو اسکریپ کیا جا سکتا ہے یا غیر این سی اے پی شہروں/قصبوں میں این سی آر سے باہر فروخت کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے بعد مالکان کو این سی آر کے اندر بی ایس-VI یا سخت معیارات کے مطابق یا برقی گاڑی خریدنی اور رجسٹر کرنی ہوگی ۔ تاہم ، دہلی میں ، اسکیم کے تحت خریدی گئی ہلکی سامان والی گاڑیاں الیکٹرک ہونی چاہئیں ، جبکہ بسیں بی ایس-VI سی این جی یا صرف الیکٹرک ہونی چاہئیں ۔ سرکاری گاڑیاں اس اسکیم کے دائرے میں نہیں ہیں۔
اس اسکیم کے فوائد درج ذیل ہیں:
مرکزی حکومت پانچ سال تک قرض پر 5 فیصد شرح سود کی سبسڈی، گاڑی کی قسم کے مطابق 4,800 روپے تک ماہانہ فیول واؤچر اور الیکٹرک گاڑی (ای وی) کی خرید یا اسکریپنگ کے بدلے ایک مرتبہ دی جانے والی مالی مراعات فراہم کرے گی۔
ریاستی حکومتیں رجسٹریشن فیس معاف کریں گی اور نئی گاڑیوں کے لئے 10 سال تک 100 فیصد جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں کے لئے 50 فیصد تک موٹر وہیکل ٹیکس میں رعایت دیں گی۔ اس کے علاوہ، اس اسکیم میں شامل پرانی گاڑیوں پر واجب الادا بقایاجات بھی معاف کیے جائیں گے۔
اسکیم میں حصہ لینے والے آٹو او ای ایم گاڑیوں کی ایکس-شو روم قیمت پر 8 فیصد رعایت دیں گے۔
اس کا نفاذ مکمل طور پر ایک مربوط ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے کیا جائے گا، جو ریئل ٹائم اہلیت کی جانچ، خودکار شرحِ سود سبسڈی کے دعوے، ماہانہ فیول واؤچر کریڈٹس اور آلودگی میں کمی کے نتائج کی نگرانی کو ممکن بنائے گا۔
مرکزی حکومت کے فوائد نئی گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ سے 5 سال تک جاری رہیں گے تاکہ دو سالہ اندراج کی مدت سے آگے بھی مسلسل اثر یقینی بنایا جا سکے۔
اس اسکیم کی نگرانی ایک بااختیار کمیٹی کرے گی، جس کی صدارت کابینہ سیکریٹری کریں گے۔ اس میں نیتی آیوگ کےسی ای او، ایم او ایچ یو اے، ایم او آر ٹی اینڈ ایچ، ایم او پی این جی اور ڈی ایف ایس کے سکریٹری، دلی- این سی آر کی ریاستوں کے چیف سیکریٹریز بطور اراکین شامل ہوں گے، جبکہ این سی آر پی بی کے ممبر سکریٹری بطور کنوینر کام کریں گے۔ ضلع سطح پر اس اسکیم کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ کلیکٹرز/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے سپرد ہوگی۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ع ا
U.NO.7922
(रिलीज़ आईडी: 2268418)
आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Bengali
,
Assamese
,
Manipuri
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam