پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت توانائی ہفتہ 2026: اوپیک کے منظرنامے کے مطابق بھارت عالمی سطح پر توانائی کی مانگ میں فیصلہ کن اضافہ کرے گا


توقع ہے کہ 2050 تک بھارت کی توانائی کی مانگ  دوگنی ہو جائے گی، جبکہ تیل اور گیس عالمی توانائی کے نظام میں مرکزی حیثیت برقرار رکھیں گے

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 8:56PM by PIB Delhi

27 سے 30 جنوری 2026 تک گوا میں منعقد ہونے والے بھارت توانائی ہفتہ 2026 کے دوران تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے تحقیقی شعبے کے توانائی مطالعاتی محکمے کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرزاق بن یوسف کی جانب سے پیش کردہ "عالمی تیل منظرنامہ 2025" کے مطابق، بھارت کے 2050 تک عالمی تیل کی مانگ میں اضافے کا سب سے بڑا محرک بننے کا امکان ہے۔

بھارت توانائی ہفتہ 2026 کے دوسرے دن اوپیک کے تحقیقی شعبے کے توانائی مطالعاتی محکمے کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرزاق بن یوسف نے تنظیم کے اہم طویل مدتی توانائی کے منظرنامے "عالمی تیل منظرنامہ 2025" کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ صرف بھارت میں ہی 2050 تک یومیہ تیل کی مانگ میں 8.2 ملین بیرل کا اضافہ متوقع ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر نقل و حمل، پیٹروکیمیکل صنعت اور صنعتی سرگرمیوں کی توسیع کے باعث ہوگا۔عالمی سطح پر بھی درمیانی اور طویل مدت میں تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جو 2050 تک تقریباً 123 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اضافے کا بڑا حصہ غیر ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے بجائے ترقی پذیر ممالک پر مشتمل خطوں میں مرتکز ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق عالمی بنیادی توانائی کی مانگ میں اضافے کا سب سے بڑا اور مستقل محرک بھارت ہوگا۔ بھارت کی مجموعی بنیادی توانائی کی مانگ2024 میں تقریباً 22 ملین بیرل تیل مساوی یومیہ سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 43.6 ملین بیرل تیل مساوی یومیہ ہونے کی توقع ہے، یعنی موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ۔

اسی عرصے کے دوران عالمی بنیادی توانائی کی مانگ میں تقریباً 23 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو 2024 کے تقریباً 308 ملین بیرل تیل مساوی یومیہ سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 378 ملین بیرل تیل مساوی یومیہ ہو جائے گی۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک عالمی توانائی کی مجموعی مانگ کا تقریباً 72 فیصد حصہ غیر ترقی یافتہ صنعتی ممالک پر مشتمل خطوں سے آئے گا۔

اقتصادی اعتبار سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 سے 2050 کے درمیان تقریباً 5.8 فیصد اوسط سالانہ شرح نمو کے ساتھ بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر ابھرنے کی توقع رکھتا ہے۔ عالمی مجموعی قومی پیداوار میں بھارت کا حصہ 2024 میں تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 2050 تک 17 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر اس کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبادیاتی رجحانات مستقبل میں توانائی کی مانگ میں بھارت کے مرکزی کردار کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے ناطے بھارت عالمی آبادی میں اضافے اور توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ایک اہم مرکز بنا رہے گا۔عالمی سطح پر 2050 تک آبادی میں تقریباً 1.5 ارب افراد کا اضافہ متوقع ہے، جس کا تقریباً پورا حصہ ترقی پذیر ممالک میں ہوگا۔ بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور بہتر معیارِ زندگی بھی توانائی کی مانگ میں اضافے کے اہم عوامل ہوں گے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور موجودہ وسائل کی قدرتی کمی کی تلافی کے لیے مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ عالمی سطح پر 2025 سے 2050 کے درمیان تیل کے شعبے میں مجموعی سرمایہ کاری کی ضرورت تقریباً 18.2 کھرب امریکی ڈالر بتائی گئی ہے، جس میں سے تقریباً 15 کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری تیل و گیس سرگرمیوں کے لیے درکار ہوں گے۔

بھارت توانائی ہفتہ کے بارے میں

بھارت توانائی ہفتہ ملک کا نمایاں عالمی توانائی پلیٹ فارم ہے جو حکومتی رہنماؤں، صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں اور اختراع کاروں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے تاکہ محفوظ، پائیدار، طویل مدتی اور کم لاگت توانائی کے مستقبل کی جانب پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔یہ ایک غیر جانب دار بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیتا ہے اور عالمی توانائی کے منظرنامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 ***

ش ح ۔ع ح۔ع ن

U. No.7899


(रिलीज़ आईडी: 2268258) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी