صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے ایمس بھٹنڈا کے دوسرے کنووکیشن سے خطاب کیا
وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا صحت کا نظام علاج پر مبنی ماڈل سے ایک جامع صحت کے فریم ورک میں تبدیل ہو چکا ہے
انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند بھارت “وِکست بھارت @2047” کے وژن کی تکمیل کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنایا جائے، لیکن مریضوں کی دیکھ بھال میں ہمدردی، احساس اور انسانی ربط کا خاص خیال رکھاجائے
مرکزی وزیر صحت نےایمس بھٹنڈامیں جدید ترین پی ای ٹی-سی ٹی اور دوسری ایچ ای ایل اے سہولت کا افتتاح بھی کیا تاکہ کینسر کے علاج کو مزید بہتر بنایا جا سکے
प्रविष्टि तिथि:
02 JUN 2026 2:59PM by PIB Delhi
صحت اورخاندانی بہبود کےمرکزی وزیرجناب جے پی نڈا نے آج ایمس بھٹنڈا کے دوسرے کنووکیشن سے خطاب کیا اور فارغ التحصیل طلبہ کو ان کے پیشہ ورانہ سفر کے آغاز پر مبارکباد دی۔انہوں نے ادارے کی بڑھتی ہوئی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایمس بھٹنڈا تین سطحی صحت کی دیکھ بھال، طبی تعلیم اور تحقیق کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب جے پی نڈا نے طلبہ کو ان کے تعلیمی سفر کی کامیابی سے تکمیل پر مبارکباد دی اور دوسرے کنووکیشن کو طلبہ، ان کے والدین، فیکلٹی اراکین اور پورے ایمس بھٹنڈابرادری کے لئے فخر اور جشن کا لمحہ قرار دیا۔انہوں نے ادارے کی تیز رفتار ترقی اور خطے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اس کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایمس بھٹنڈاروزانہ تقریباً 3,000 او پی ڈی مریضوں اور تقریباً 600 آئی پی ڈی مریضوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ ایمز برانڈ سے وابستہ اعلیٰ معیار اور ساکھ کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مرکزی وزیر صحت نے ایمس بھٹنڈاکی کمیونٹی تک رسائی سے متعلق سرگرمیوں کی بھی تعریف کی، جن میں 59 قریبی دیہات میں ہر ماہ دو بار آیوشمان کیمپوں کا انعقاد شامل ہے، جہاں شہریوں کی غیر متعدی امراض جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور کینسر کے لئے اسکریننگ کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیلی میڈیسن خدمات، موبائل میڈیکل یونٹس، دیہی آگاہی مہمات اور صحت عامہ سے متعلق آؤٹ ریچ پروگراموں کے ذریعے یہ ادارہ اسپتال کی حدود سے باہر بھی عوامی صحت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں متعارف کرائی گئی صحت اصلاحات کے تبدیلی لانے والے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا صحت کا نظام اب بنیادی طور پر علاج پر مبنی ماڈل سے آگے بڑھ کر ایک جامع فریم ورک میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں احتیاطی، فروغِ صحت، بحالی، تکلیف میں کمی اور بزرگوں کی دیکھ بھال شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک بھر میں 1.82 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندر صحت خدمات کے لیے پہلا رابطہ مرکز بن چکے ہیں۔

انہوں نے احتیاطی صحت کی دیکھ بھال پر حکومت کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ 30 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو پنچایتوں، آشا کارکنوں اور فرنٹ لائن صحت کارکنوں کے ذریعے باقاعدہ اسکریننگ کے لیے ترغیب دی جا رہی ہے۔انہوں نے ان اقدامات کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 36 کروڑ سے زائد افراد کی منہ کے کینسر کے لئے اسکریننگ کی جا چکی ہے، 17 کروڑ سے زیادہ خواتین کی بریسٹ کینسر کے لیے اور 9 کروڑ سے زائد خواتین کی سروائیکل کینسر کے لیے اسکریننگ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 42 کروڑ سے زائد افراد کی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے لیے اسکریننگ کی جا چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں تپِ دق کی اسکریننگ مہم بھی جاری ہے۔
جناب نڈا نے معیارِ صحت اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایمس بھٹنڈاکی این اے بی ایل سے منظور شدہ لیبارٹریوں کو سراہا اور ادارے سے کہا کہ وہ طبی تحقیق اور جدت کا ایک نمایاں مرکز بننے کی سمت آگے بڑھے۔
انہوں نے قوم سازی میں صحت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “وِکست بھارت@2047” کا وژن صرف ایک صحت مند اور پیداواری آبادی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ حکومتیں بنیادی ڈھانچہ اور جدید سہولیات فراہم کر سکتی ہیں، لیکن صحت کی دیکھ بھال کا انحصار بالآخر ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی لگن، قابلیت اور ہمدردی پر ہوتا ہے۔انہوں نے ڈاکٹروں کو صحت کے نظام کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر صحت کا “ہارڈویئر” ہے، جبکہ صحت کے پیشہ ور افراد اس کا “سافٹ ویئر” ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے لیے صحت کے شعبے میں ایک ترجیحی ریاست ہے اور وہاں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
مرکزی وزیر صحت نے بھارت کے طبی تعلیم کے نظام میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والی غیر معمولی توسیع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمس اداروں کی تعداد بڑھ کر 23 ہو گئی ہے، میڈیکل کالجوں کی تعداد 387 سے بڑھ کر 820 سے زائد ہو چکی ہے، انڈرگریجویٹ میڈیکل نشستیں تقریباً 59,000 سے بڑھ کر 1.28 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہیں، جبکہ پوسٹ گریجویٹ نشستیں 31,000 سے بڑھ کر 86,000 سے زائد ہو چکی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت آئندہ پانچ برس میں مزید 75,000 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستیں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جن میں سے تقریباً 23,000 نشستیں گزشتہ دو سال کے دوران پہلے ہی قائم کی جا چکی ہیں۔

جناب نڈا نے بھارت کی عوامی صحت کے شعبے میں اہم کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں 2014 میں ملک کو پولیو سے پاک قرار دیا جانا اور 2015 میں زچگی اور نوزائیدہ بچوں میں ٹیٹنس کا خاتمہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریکوما اب ملک میں صحتِ عامہ کا مسئلہ نہیں رہا، جبکہ کالا آزار، جذام اور لیمفیٹک فلیریاسس کے خاتمے کے لیے بھی نمایاں پیش رفت کی گئی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ ایمس کی اقدار اور وراثت کو برقرار رکھیں، اور بھارت کے اس ممتاز طبی ادارے کے سفیر کے طور پر پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری نبھائیں۔انہوں نے ترغیب دی کہ وہ مصنوعی ذہانت، پریسیژن میڈیسن اور ٹیلی میڈیسن جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنائیں، لیکن ساتھ ہی یہ یقینی بنائیں کہ مریضوں کی دیکھ بھال میں ہمدردی، احساس اور انسانی ربط ہمیشہ مرکزی حیثیت میں رہے۔
اس موقع پر پروفیسر (ڈاکٹر) نیرجا بھٹلا، صدر ایمس بھٹنڈانے مرکزی وزیر صحت کا خیرمقدم کیا اور ادارے کے لیے ان کی مسلسل رہنمائی اور تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں حکومت نے صحت کی سہولیات کو زیادہ جامع، قابلِ رسائی اور سستا بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کئے ہیں اور ملک بھر میں ایمس کے نیٹ ورک کی توسیع معیاری صحت کی سہولیات سب کے لیے فراہم کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔

پروفیسر بھٹلا نے ایمس بھٹنڈاکی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مریضوں کی دیکھ بھال، طبی تعلیم، تحقیق اور کمیونٹی آؤٹ ریچ کے ذریعے خطے میں صحت کے شعبے کی تبدیلی کا ایک اہم محرک بن کر ابھرا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایمس بھٹنڈااپنے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پرعزم ہے اور ایسے صحت کے پیشہ ور افراد تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو طبی مہارت کے ساتھ ساتھ ہمدردی، اخلاقیات اور خدمت کے جذبے کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔
اپنے دورے کے دوران مرکزی وزیر صحت نے جدید ترین پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی–کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی (پی ای ٹی-سی ٹی) سہولت اور ایک دوسرے ہائی انرجی لینیئر ایکسلریٹر (ایچ ای ایل اے) یونٹ کا افتتاح کیا، جس سے ایمس بھٹنڈاکی کینسر کی تشخیص اور علاج کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔یہ جدید سہولیات کینسر کی بروقت تشخیص، درست تشخیص اور پریسیژن بیسڈ علاج کو ممکن بنائیں گی، جس سے پنجاب اور اس کے پڑوسی ریاستوں کے مریض مستفید ہوں گے۔
مزید برآں، ادارے میں خصوصی صحت خدمات کو مضبوط بناتے ہوئے جناب نڈا نے ایک مخصوص برنز انٹینسیو کیئر یونٹ کا افتتاح کیا، جو جدید سہولیات سے لیس ہے اور شدید جھلسنے والے مریضوں کو جامع اور انتہائی نگہداشت فراہم کرے گا۔انہوں نے چائلڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ارلی انٹرونشن سینٹر (سی ڈی ای آئی سی)کو بھی عوام کے لیے وقف کیا۔ یہ خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہے، جو بچوں میں نشوونما سے متعلق مسائل اور معذوریوں کی بروقت شناخت، تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے بچوں کی صحت کے نتائج بہتر ہوں گے۔

صحت کے نظام میں ہمہ جہت فلاح و بہبود کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے ایمس بھٹنڈامیں جمنازیم اور ویلنِس سینٹر کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد طلبہ، فیکلٹی اور عملے میں جسمانی فٹنس، ذہنی صحت اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔
اس پروگرام میں صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب وجے نہیرا، ایمس بھٹنڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر (ڈاکٹر) رتن گپتا، پروفیسر راجیو آہوجا (ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی روپڑ)، ڈاکٹر یوگندر ملک اور پروفیسر کملیش اپادھیائے، فارغ التحصیل طلبہ، فیکلٹی اراکین، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور والدین بھی موجود تھے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ خ م
U.NO.7863
(रिलीज़ आईडी: 2267975)
आगंतुक पटल : 17