خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آنگن واڑی خدمات، پوشن ابھیان اور نوعمر لڑکیوں کے لیے اسکیم کو جامع سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت شامل  کیا گیا


مشن پوشن 2.0 کے تحت غذائی قلت میں کمی لانے اور عوامی شراکت داری، آؤٹ، رویوں میں تبدیلی اور ایڈووکیسی کے ذریعے صحت، تندرستی اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔

غذائی تنوع اور مقامی طور پر پیدا کی جانے والی صحت بخش اشیاء کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے، آنگن واڑی مراکز پر پوشن واٹیکا تیار کی گئی ہیں

प्रविष्टि तिथि: 11 FEB 2026 3:07PM by PIB Delhi

تغذیے کی کمی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے، آنگن واڑی خدمات، پوشن ابھیان اور نوعمر لڑکیوں کے لیے اسکیم (14 سے 18 سال کی عمر، آرزومند اضلاع اور شمال مشرقی خطے میں) کو جامع سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ یہ مرکز کی سرپرستی میں چلنے والا ایک مشن ہے، جہاں مختلف سرگرمیوں کے نفاذ کی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں  پر عائد ہوتی ہے۔ یہ مشن ایک عالمگیر خود منتخب  جامع اسکیم ہے جو تمام اہل استفادہ کنندگان، یعنی 6 سال سے کم عمر کے بچوں، حاملہ خواتین، بچے کی پیدائش کے 6 ماہ بعد تک دودھ پلانے والی ماؤں اور ملک کی شمال مشرقی ریاستوں اور آرزومند اضلاع میں نوعمر لڑکیوں (14 سے 18 سال کی عمر) کے لیے کھلی ہے۔یہ مشن ملک بھر میں نافذ کیا جارہا ہے۔ اس مشن کے مقاصد درج ذیل ہیں:

 

  • ملک میں انسانی سرمائے کی ترقی میں حصہ ڈالنا،
  • تغذیے کی کمی کے چیلنج سے نمٹنا،
  • پائیدار صحت اور تندرستی کے لیے غذائیت سے متعلق آگاہی اور کھانے پینے کی اچھی عادات کو فروغ دینا۔

مشن پوشن 2.0 کے تحت غذائی قلت میں کمی لانے اور عوامی شراکت داری، آؤٹ ریچ، رویوں میں تبدیلی اور ایڈووکیسی جیسی سرگرمیوں کے ذریعے صحت، تندرستی اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔ اس میں دبلہ پن، پستہ قد، خون کی کمی اور کم وزن کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے زچگی کی غذائیت، شیر خوار اور چھوٹے بچوں کو دودھ پلانے کے اصولوں، شدید غذائی قلت (ایس اے ایم) اور معتدل غذائی قلت (ایم اے ایم) کے علاج اور آیوش طریقوں کے ذریعے تندرستی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

خوراک کی یقینی فراہمی کے قومی ایکٹ 2013 کے شیڈول-II میں درج غذائی اصولوں کے مطابق بچوں (6 ماہ سے 6 سال)، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کو ضمنی غذائیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان اصولوں میں جنوری 2023 میں ترمیم کی گئی ہے۔ پرانے اصول زیادہ تر کیلوریز تک محدود تھے؛ تاہم، ترمیم شدہ اصول غذائی تنوع کے اصولوں پر مبنی ضمنی غذائیت کی مقدار اور معیار دونوں کے لحاظ سے زیادہ جامع اور متوازن ہیں جو معیاری پروٹین، صحت بخش چکنائی اور مائیکرو نیوٹرینٹس (کیلشیم، زنک، آئرن، ڈائٹری فولیٹ، وٹامن اے، وٹامن بی-6 اور وٹامن بی-12) فراہم کرتے ہیں۔ خوراک کی یقینی فراہمی کے قومی ایکٹ، 2013 (این ایف ایس اے) کے مطابق شدید غذائی قلت کا شکار (ایس اے ایم) بچوں کو اضافی ضمنی غذائیت فراہم کی جاتی ہے۔

مزید براں، خواتین اور بچوں میں خون کی کمی  پر قابو پانے اور مائیکرو نیوٹرینٹس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آنگن واڑی مراکز (اے ڈبلیو سی) میں تغذیہ بخش چاول  فراہم کیے جا رہے ہیں۔ آنگن واڑی مراکز پر گرم پکا ہوا کھانا اور گھر لے جانے والے راشن کی تیاری میں ہفتے میں کم از کم ایک بار موٹے اناج کے استعمال پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔

وزارت نے 12 ستمبر 2022 کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے 'انٹیگریٹڈ نیوٹریشن سپورٹ پروگرام- سکشم آنگن واڑی اور پوشن (2.0) ضوابط 2022' جاری کیے ہیں، تاکہ ہر حاملہ خاتون، بچے کی پیدائش کے چھ ماہ بعد تک دودھ پلانے والی ماں اور چھ ماہ سے چھ سال تک کی عمر کے ہر بچے کے لیے خوراک کی یقینی فراہمی کے قومی ایکٹ 2013 کے تحت طے شدہ استحقاق کو منظم کیا جا سکے۔

 

علاوہ ازیں، وزارت برائے ترقیِ خواتین و اطفال اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے مشترکہ طور پر بچوں میں غذائی قلت کے انتظام کا پروٹوکول جاری کیا ہے، تاکہ کمیونٹی کی سطح پر غذائی قلت کے شکار بچوں کی دیکھ بھال کی جا سکے اور اس سے وابستہ بیماریوں اور اموات کی شرح کو کم کیا جا سکے۔ کمیونٹی پر مبنی اس نقطہ ٔنظر میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی بروقت شناخت اور اسکریننگ اور طبی پیچیدگیوں کے بغیر بچوں کے لیے گھر پر مقامی غذائیت سے بھرپور کھانے اور طبی امداد کے ذریعے انتظام شامل ہے۔ اس پروٹوکول میں 6 ماہ سے 6 سال کی عمر کے ان بچوں کی طبی پیچیدگیوں کے لیے اسکریننگ کا عمل شامل ہے جو شدید غذائی قلت (ایس اے ایم) یا شدید کم وزن (ایس یو ڈبلیو) کا شکار ہیں۔ اسکریننگ کے بعد، طبی پیچیدگیوں کی صورت میں بچوں کو مزید دیکھ بھال کے لیے نیوٹریشن ری ہیبی لیٹیشن سینٹرز (این آر سی) یا ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے۔

پھلوں، سبزیوں اور ادویاتی پودوں تک آسان اور سستی رسائی فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں پوشن واٹیکا یا نیوٹری گارڈنز قائم کیے جا رہے ہیں۔ غذائی تنوع اور مقامی طور پر پیدا ہونے والی صحت بخش اشیاء کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے آنگن واڑی مراکز پر پوشن واٹیکا تیار کی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں انجام دی جانے والی بڑی سرگرمیوں میں سے ایک عوامی متحرک سازی اور آگاہی ہے، تاکہ لوگوں کو غذائی پہلوؤں کے بارے میں تعلیم دی جا سکے، کیونکہ غذائیت کی اچھی عادات کو اپنانے کے لیے طرزِ عمل میں تبدیلی کی مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بالترتیب ستمبر اور مارچ-اپریل کے مہینوں میں منائے جانے والے پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑا کے دوران جن آندولن کے تحت باقاعدگی سے آگاہی کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ کمیونٹی پر مبنی تقریبات (سی بی ای) غذائی عادات کو تبدیل کرنے میں ایک اہم حکمتِ عملی ثابت ہوئی ہیں اور تمام آنگن واڑی ورکرز کے لیے ہر ماہ ایسی دو تقریبات کا انعقاد لازمی ہے۔

پوشن ٹریکر ایپلی کیشن کو گورننس کے ایک اہم ٹول کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ پوشن ٹریکر طے شدہ اشاریوں پر تمام آنگن واڑی مراکز (اے دبلیو سی)، آنگن واڑی ورکرز (اے ڈبلیو ایس) اور استفادہ کنندگان کی نگرانی اور ٹریکنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ پوشن ٹریکر کے تحت ٹیکنالوجی کا استعمال بچوں میں پستہ قد،، دبلے پن  اور کم وزن کے پھیلاؤ کی متحرک شناخت کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس نے آنگن واڑی خدمات کے لیے تقریباً ریئل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سہولت فراہم کی ہے، جیسے کہ آنگن واڑی مراکز کا کھلنا، بچوں کی روزانہ کی حاضری، ای سی سی ای سرگرمیاں، بچوں کی نشوونما کی نگرانی، گرم پکے ہوئے کھانے (ایچ سی ایم)/گھر لے جانے والے راشن (ٹی ایچ آر- نہ کہ خام راشن) کی فراہمی اور نشوونما کی پیمائش وغیرہ۔ ملک میں آنگن واڑی مراکز میں آنے والے اور گھر پر آنگن واڑی خدمات حاصل کرنے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں کم وزن، پستہ قد اور دبلے پن کے غذائی قلت کے اشاریوں کا پوشن ٹریکر ایپلی کیشن ڈیٹا اور ساتھ ہی پچھلے 3 سالوں کے دوران نوعمر لڑکیوں (آرزومند اضلاع اور شمال مشرقی ریاستوں) کا ڈیٹا بھی https://www.poshantracker.in/statistics پر دستیاب ہے۔ یہ ڈیٹا تمام تینوں اشاریوں پر مستقل بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔

 

سال 2021 میں، عالمی بینک کی جانب سے 11 ترجیحی ریاستوں میں پوشن ابھیان پر ایک سروے کیا گیا تھا۔ اس سروے کا مقصد غذائی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے پروگرام کا جائزہ لینا تھا، کہ آیا استفادہ کنندگان کے غذائی علم میں بہتری آئی ہے اور کیا انہوں نے زیادہ مناسب غذائی اور دودھ پلانے کے طریقے اپنائے ہیں۔ سروے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ پوشن ابھیان کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات – جیسے متعلقہ پیغامات کی وصولی، آنگن واڑی ورکر کی طرف سے گھروں کے دورے اور کمیونٹی پر مبنی تقریبات میں شرکت – غذائی رویوں میں بہتری سے وابستہ تھیں۔ سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ پروگرام کے غذائی پیغامات 80 فیصد سے زیادہ خواتین تک پہنچے اور 81 فیصد خواتین نے پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے  پر عمل کیا۔

علاوہ ازیں، نیتی آیوگ  کی جانب سے 2020 کے ساتھ ساتھ 2025 میں بھی پوشن ابھیان کی تھرڈ پارٹی تشخیص اور اثرات کے جائزے کیے گئے۔ انہوں نے ملک میں تغذیے کی کمی سے نمٹنے کے لیے اس کی افادیت کو اطمینان بخش پایا ہے۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیرِ مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے فراہم کیں۔

*****

ش ح۔ ک ح ۔ م ا

U. No-7815


(रिलीज़ आईडी: 2267514) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी