قانون اور انصاف کی وزارت
مرشیل کورٹ ایکٹ، 2015 کے تحت ادارہ جاتی کارروائی سے قبل ثالثی کے ذریعے نمٹائے گئے تجارتی تنازعات
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 8:30PM by PIB Delhi
کمرشیل کورٹ ایکٹ، 2015 میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ دفعہ 12اے کے تحت پری انسٹی ٹیوشن میڈی ایشن اینڈ سیٹلمنٹ یعنی ادارہ جاتی کارروائی سے قبل ثالثی(پی آئی ایم ایس) کے نظام کی فراہمی کے لیے سال 2018 میں ترمیم کی گئی۔ اس نظام کے تحت، جہاں مقررہ مالیت کا کوئی تجارتی تنازعہ فوری عبوری حل کا متقاضی نہ ہو، وہاں فریقین کے لیے عدالت سے رجوع کرنے سے قبل پی آئی ایم ایس کی لازمی کارروائی مکمل کرنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد فریقین کو ثالثی کے ذریعے تجارتی تنازعات کے حل کا موقع فراہم کرنا ہے۔
سال 2018 کی ترمیم کے بعد کمرشیل کورٹ ایکٹ، 2015 کے تحت ادارہ جاتی کارروائی سے قبل ثالثی کے ذریعے نمٹائے گئے تجارتی تنازعات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
مدت
|
ثالثی کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد۔
|
ایسی درخواستوں کی تعداد جن میں ثالثی کا عمل شروع نہ ہو سکا۔
|
ایسی درخواستوں کی تعداد جن میں فریقین تصفیے تک پہنچ گئے۔
|
|
جولائی 2018 تا مارچ 2019
|
3680
|
1660
|
25
|
|
2019-20
|
18080
|
14470
|
167
|
|
2020-21
|
18364
|
14014
|
186
|
|
2021-22
|
32335
|
28441
|
368
|
|
2022-23
|
46412
|
41898
|
1449
|
|
2023-24
|
51019
|
47185
|
1139
|
|
2024-25
|
59568
|
52730
|
877
|
|
2025-26(upto Sep 25)
|
47218
|
30353
|
643
|
نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (این ایل ایس اے) کے تحت نومبر 2025 تک ملک بھرکی مختلف ریاستوں میں تقریباً 22,398 ثالث (میڈی ایٹرز) خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ثالثی ایکٹ 2023 کی دفعہ 42 کے ساتھ پڑھی جانے والی دفعہ 3(آئی) کے مطابق، ثالثی ادارہ ایسی تنظیم یا ادارہ ہے ،جو دیگر امور کے ساتھ ساتھ ثالثوں کو تربیت فراہم کرتا ہے، ان کی مسلسل تعلیم کا انتظام کرتا ہے اور ان کی سند (سرٹیفکیشن) جاری کرتا ہے۔
کمرشل کورٹس (پری انسٹی ٹیوشن میڈی ایشن اینڈ سیٹلمنٹ) رولز، 2018، کمرشل کورٹس ایکٹ 2015 کی دفعہ 12اےکے تحت مقدمہ دائر کرنے سے قبل ثالثی (پری لِٹیگیشن) کے طریقۂ کار اور ضوابط کا تعین کرتے ہیں۔اس کے علاوہ کمرشل کورٹس (پری انسٹی ٹیوشن میڈی ایشن اینڈ سیٹلمنٹ) رولز، 2018 کے ضابطہ 3 کے مطابق ادارہ جاتی کارروائی سے قبل ثالثی کے لیے درخواست موصول ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر ثالثی کا عمل مکمل کرنا لازم ہے، البتہ درخواست گزار اور دوسرے فریق کی باہمی رضامندی سے اس مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے قانونی و انتظامی فریم ورک موجود ہے ،تاکہ ایکٹ کی دفعہ 12اےکے تحت قبل از ادارہ ثالثی و تصفی(پی آئی ایم ایس)کے نظام کو مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں قانون و انصاف کے وزیرمملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے فراہم کیں۔
********
UR-7792
(ش ح۔ م ع ن ۔ ن ع)
(रिलीज़ आईडी: 2267363)
आगंतुक पटल : 4