محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 پی ڈی یو این اے ایس ایس اور جی این ایل یو نے ’’مزدور قوانین اور سماجی تحفظ کی تعمیل (ای پی ایف او محور)‘‘ پر ایگزیکٹو ترقیاتی پروگرام کا آغاز کیا


یہ نمایاں اقدام ہندوستان کے بدلتے ہوئے مزدور نظم و نسق اور سماجی تحفظ کے نظام کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پیشہ ور افراد تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAY 2026 5:09PM by PIB Delhi

 ہندوستان میں مزدور نظم و نسق، سماجی تحفظ کی انتظامیہ اور ضابطہ جاتی تعمیل کے شعبوں میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنڈت دین دیال اپادھیائے نیشنل اکیڈمی آف سوشل سکیورٹی (پی ڈی یو این اے ایس ایس)، ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے گجرات نیشنل لا یونیورسٹی (جی این ایل یو)، گاندھی نگر کے اشتراک سے ’’مزدور قوانین اور سماجی تحفظ کی تعمیل (ای پی ایف او محور)‘‘ کے عنوان سے ایگزیکٹو ڈیولپمنٹ پروگرام کے پہلے بیچ کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں 29 مئی 2026 کو ایک آن لائن افتتاحی اجلاس منعقد کیا گیا۔

یہ پروگرام پیشہ ورانہ قانونی تعلیم اور صنعت پر مبنی صلاحیت سازی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، ایسے وقت میں جب ہندوستان میں مزدور اور سماجی تحفظ کا نظام نمایاں تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

عملی نوعیت کے اس ایگزیکٹو تعلیمی پروگرام کا مقصد قانونی فہم، ضابطہ جاتی تعمیل اور زمینی سطح پر عمل درآمد کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہے، تاکہ پیشہ ور افراد کو لیبر کوڈز کے نفاذ کے بعد ابھرنے والے پیچیدہ تعمیلی ماحول سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

افتتاحی اجلاس میں جناب رمیش کرشن مورتی، سنٹرل پروویڈنٹ فنڈ کمشنر (سی پی ایف سی)، ای پی ایف او نے شرکت کی۔ اس موقع پر جناب کمار روہت، ڈائریکٹر پی ڈی یو این اے ایس ایس، پروفیسر (ڈاکٹر) ایس شانتھاکمار، ڈائریکٹر جی این ایل یو، ڈاکٹر نتن ملک، رجسٹرار جی این ایل یو، ای پی ایف او کے سینئر افسران، اساتذہ، صنعتی شعبے کے نمائندے اور ملک بھر سے شریک افراد بھی موجود تھے۔

اس پروگرام کو آجرین، انسانی وسائل (ایچ آر) کے ماہرین، مزدور قوانین کے ماہرین، تعمیلی افسران، ماہرینِ تعلیم اور کارپوریٹ شعبے کے رہنماؤں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر 60 شرکاء کے اندراج کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم پہلے بیچ میں 66 شرکاء نے داخلہ لیا، جس کے باعث پروگرام آغاز سے قبل ہی اپنی گنجائش سے تجاوز کر گیا۔ بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر دوسرے بیچ کے آغاز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب رمیش کرشن مورتی نے کہا کہ ہندوستان اس وقت مزدور نظم و نسق اور سماجی تحفظ کی انتظامیہ میں ایک انقلابی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر کوڈز، بالخصوص سوشل سکیورٹی کوڈ 2020 اور تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن نے ایسے پیشہ ور افراد کی ضرورت بڑھا دی ہے جو قانونی فہم کو عملی نفاذ کی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑ سکیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے دور میں تعمیل محض قانونی ذمہ داری تک محدود نہیں رہی، بلکہ ذمہ دارانہ حکمرانی، اخلاقی روزگار کے طریقوں، ادارہ جاتی ساکھ اور پائیدار تنظیمی ترقی کی بنیاد بن چکی ہے۔ ان کے مطابق مضبوط تعمیلی نظام اپنانے والے ادارے نہ صرف کارکنوں کی فلاح و سماجی تحفظ کو فروغ دیتے ہیں بلکہ اعتماد، شفافیت، پیداواریت اور صنعتی ہم آہنگی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

ای پی ایف او میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آدھار سے منسلک خدمات، یونیورسل اکاؤنٹ نمبر (یو اے این)، ڈیجیٹل تعمیلی پلیٹ فارمز، آن لائن خدمات کی فراہمی اور ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامی اصلاحات جیسے اقدامات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر تعمیل سے متعلق نئے چیلنجز اور مواقع سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

اس موقع پر جناب کمار روہت، ڈائریکٹر پی ڈی یو این اے ایس ایس نے کہا کہ یہ پروگرام نیشنل اکیڈمی آف سوشل سکیورٹی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے اور پی ڈی یو این اے ایس ایس اور جی این ایل یو کے درمیان طویل المدتی تعاون کے مشترکہ وژن کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا تصور اس احساس سے پیدا ہوا کہ ہندوستان کے بدلتے ہوئے مزدور اور سماجی تحفظ کے نظام کو ایک ایسے منظم پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو قانونی معلومات اور عملی نفاذ کے درمیان موجود دیرینہ خلا کو پُر کر سکے۔ ان کے مطابق افرادی قوت کے بدلتے ہوئے ڈھانچے، ڈیجیٹل حکمرانی کے نظام اور شفافیت و جوابدہی سے متعلق بڑھتی ہوئی توقعات ایسے ماہرین کی متقاضی ہیں جو ضابطہ جاتی تقاضوں کو مؤثر انتظامی نظام اور عملی طریقہ کار میں تبدیل کر سکیں۔

مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب روہت نے کہا کہ روزگار کے مواقع اور پیشہ ورانہ اہمیت اب موافقت پذیری، عملی مہارت اور ضابطہ جاتی و تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی صلاحیت پر منحصر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزدور قوانین کی تعمیل کو صرف قانونی ذمہ داری کے طور پر نہیں بلکہ وقار، انصاف، کارکنوں کی فلاح اور ادارہ جاتی اعتماد کے فروغ کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔

اس اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پی ڈی یو این اے ایس ایس کی عملی مہارت اور جی این ایل یو کی علمی برتری کا منفرد امتزاج ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ اقدام وکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہونے والے ایسے تعمیلی ماہرین کی نئی نسل تیار کرے گا جو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگی۔

اپنے خطاب میں پروفیسر (ڈاکٹر) ایس شانتھاکمار، ڈائریکٹر جی این ایل یو نے اس پروگرام کو تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان بامعنی تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مزدور نظم و نسق ایسے پیشہ ور افراد کا تقاضا کرتا ہے جو قانونی علم کو عملی فہم اور نفاذ کی صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام جی این ایل یو کے اس عزم سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت ایسی پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے جو علمی اعتبار سے مضبوط، سماجی طور پر بامعنی اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے مطابق مزدور قوانین اور سماجی تحفظ کے نظام کو صرف ضابطہ جاتی تقاضوں کے طور پر نہیں بلکہ ملازمین کی فلاح، بہتر حکمرانی، ادارہ جاتی مضبوطی اور پائیدار ترقی کے مؤثر ذرائع کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر نتن ملک، رجسٹرار جی این ایل یو نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پیشہ ور افراد کی جانب سے بھرپور دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے ایگزیکٹو تعلیمی پروگراموں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے جو علمی معیار اور عملی افادیت کو یکجا کرتے ہیں۔

اس پروگرام کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا عملی اور پیشہ ورانہ تقاضوں پر مبنی ڈیزائن ہے۔ پی ڈی یو این اے ایس ایس کی اسٹینڈنگ کمیٹی اور اکیڈمک کمیٹی نے مشترکہ طور پر نصاب تیار کیا ہے، جس کی تشکیل میں جناب امت وششٹ، ایڈیشنل سی پی ایف سی، کے ساتھ جناب رضوان الدین، جناب اتم پرکاش، جناب وجے کمار، جناب پرشانت شرما، جناب سنجے کمار رائے، جناب انکور پی گپتا، جناب ہریش یادو اور جناب رام آنند نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ تمام افسران ریجنل پروویڈنٹ فنڈ کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

نصاب میں عملی تجربے، ضابطہ جاتی بصیرت، انتظامی فہم اور علمی معیار کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ شرکاء نہ صرف قوانین کو سمجھ سکیں بلکہ ان کے مؤثر عملی نفاذ سے بھی واقف ہو سکیں۔

تین ماہ پر مشتمل یہ پروگرام آن لائن منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ہر جمعہ اور ہفتہ شام 6 بجے سے 9 بجے تک کلاسیں ہوں گی، تاکہ ملک بھر کے ملازمت پیشہ افراد بھی اس میں شرکت کر سکیں۔ آن لائن مرحلے کے بعد گاندھی نگر میں جی این ایل یو کیمپس میں چار روزہ رابطہ پروگرام منعقد کیا جائے گا، جس میں ورکشاپس، تعمیل سے متعلق عملی مشقیں، کیس اسٹڈیز، ماہرین سے تبادلۂ خیال اور اعلیٰ سطحی مباحث شامل ہوں گے۔

افتتاحی اجلاس کی نظامت مشترکہ طور پر ڈاکٹر ہاردک پاریکھ، اسسٹنٹ پروفیسر جی این ایل یو، اور جناب منورنجن کمار، ریجنل پروویڈنٹ فنڈ کمشنر نے انجام دی۔

علمی مہارت، عملی تجربے اور صنعتی تقاضوں کے منفرد امتزاج کے باعث ’’مزدور قوانین اور سماجی تحفظ کی تعمیل (ای پی ایف او محور)‘‘ پر مبنی یہ ایگزیکٹو ڈیولپمنٹ پروگرام ایگزیکٹو تعلیم کے میدان میں ایک مثالی اقدام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے اس پروگرام کا مقصد تعمیل کے ماہرین کی ایسی نئی نسل تیار کرنا ہے جو مزدور نظم و نسق اور سماجی تحفظ کے بدلتے ہوئے منظرنامے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ہندوستان کے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کر سکے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  7765)


(ریلیز آئی ڈی: 2267095) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English , Gujarati