سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ 6 جون کو بھدروہ میں چوتھے لیوینڈر فیسٹول کا افتتاح کریں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAY 2026 5:10PM by PIB Delhi
جموں کا سی ایس آئی آر- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو میڈیسن (آئی آئی ایم) جموں و کشمیر میں پرپل ریوولیوشن اور لیوینڈر پر مبنی دیہی انٹرپرینیورشپ کی مسلسل کامیابی کا جشن منانے کے لیے، گورنمنٹ ڈگری کالج، بھدروہ، ڈوڈا میں ’’لیوینڈر گوز گلوبل‘‘ کے موضوع کے تحت 6 اور 7 جون کو چوتھے لیوینڈر فیسٹول کا انعقاد کرنے جا رہا ہے۔
سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم، جموں میں ایکافتتاحی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر احمد نے اعلان کیا کہ چوتھے لیوینڈر فیسٹول کا افتتاح بحیثیت مہمانِ خصوصی ڈاکٹر جتیندر سنگھ کریں گے، جو سائنس اور ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، وزیرِ مملکت پی ایم او، محکمہ ٔجوہری توانائی اور محکمۂ خلاء، وزیرِ مملکت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن اور سی ایس آئی آر کے نائب صدر ہیں۔
ڈاکٹر احمد نے کہا کہ مرکزی وزارت برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک فلیگ شپ پروگرام سی ایس آئی آر- اروما مشن کے تحت، مرکزی وزیر اور سی ایس آئی آر کے نائب صدر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی سرپرستی اور حکومتِ ہند کی ڈی ایس آئی آر کی سکریٹری و سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این کلائسیلوی کی رہنمائی میں، سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم نے جموں و کشمیر میں اروما مشن نافذ کیا ہے۔ اس مشن نے دور دراز علاقوں کے 5,000 سے زیادہ کسانوں اور نوجوان کاروباریوں کو شامل کر کے لیوینڈر کی کاشت کے ذریعے دیہی برادریوں کو بااختیار بنایا ہے، جس کے تحت انہیں مفت معیاری پودے ، کاشتکاری میں مدد، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس مشن کے مکمل ہونے والے تین مراحل کے دوران، جموں و کشمیر بھر میں لیوینڈر کی پیداوار کی مقامی سطح پر پروسیسنگ میں مدد کے لیے 50 سے زیادہ فکسڈ اور موبائل ڈسٹلیشن یونٹس قائم کیے گئے۔
ڈاکٹر احمد نے کہا کہ لیوینڈر فیسٹیول ایک ایسے قومی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے جو دور دراز کے ہمالیائی خطوں، بالخصوص بھدروہ میں سی ایس آئی آر- اروما مشن کے ذریعے آنے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ پرپل ریوولیوشن کے اقدام کے تحت لیوینڈر کی کاشت کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امسال اس فیسٹیول میں ملک بھر سے سائنسدانوں، اسٹارٹ اپس، اروما انڈسٹریز، صنعت کاروں، پالیسی سازوں، زرعی کاروبار سے وابستہ فریقوں ، طلبہ، ترقی پسند کسانوں اور خوشبو و فلاح و بہبود سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندوں کی پرجوش شرکت دیکھنے کو ملے گی۔
ڈائریکٹر موصوف نے بتایا کہ اس تقریب میں اسٹارٹ اپ نمائشیں، لائیو مظاہرے، خریدار اور فروخت کنندگان کے درمیان باہمی گفتگو ، تکنیکی سیشن، کسانوں اور صنعت کے درمیان نیٹ ورکنگ اور مقامی کاروباریوں اور اسٹارٹ اپس کی جانب سے تیار کردہ ویلیو ایڈڈ لیوینڈر اور خوشبودار مصنوعات کی نمائشیں شامل ہوں گی۔
اروما سیکٹر کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر احمد نے کہا کہ سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم نے سائنسی اقدامات، مفت معیاری پودوں کی فراہمی، کشید کرنے کی ٹیکنالوجیز ، تربیت اور انٹرپرینیورشپ سپورٹ کے ذریعے جموں و کشمیر، اتراکھنڈ، شمال مشرقی ریاستوں اور ہماچل پردیش میں لیوینڈر کی کاشت کو وسعت دینے میں ایک اہم اور بانی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیوینڈر کی کاشت سے ہزاروں کسانوں اور نوجوان کاروباریوں کو فائدہ پہنچا ہے، ساتھ ہی اس مشن کے تحت خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری ادارے اور اسٹارٹ اپس بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
ڈاکٹر احمد نے مزید کہا کہ آئندہ منعقد ہونے والا یہ فیسٹول، خطے میں اروما ایکو سسٹم اور مارکیٹ کے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے منعقد کی جانے والی ابتدائی سرگرمیوں کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔
انہوں نے سی ایس آئی آر انوویشن کمپلیکس، ممبئی میں حال ہی میں منعقدہ اروما بائر-سیلر میٹ کا حوالہ دیا، جہاں معروف اروما اور پرفیومری کمپنیوں نے جموں و کشمیر کے لیوینڈر کسانوں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کاروں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی۔
اس سے قبل، ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، جے اینڈ کے میڈیسنل پلانٹس بورڈ اور سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم کے زیرِ اہتمام بھدروہ میں مشترکہ طور پر منعقدہ ایک اور بائر-سیلر میٹ میں براہ راست کسان-صنعت شراکت داری اور کانٹریکٹ فارمنگ کے اقدامات کے ذریعے دواؤں اور خوشبودار پودوں کے شعبے کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان باہمی ملاقاتوں نے کسانوں کو صنعتوں، اسٹارٹ اپس اور قومی منڈیوں سے جوڑ کر جموں و کشمیر میں ایک مضبوط اروما پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھی ہے۔
ڈاکٹر احمد نے کہا کہ لیوینڈر فیسٹول 2026 کا مقصد خوشبودار پودوں کی کاشت کے شعبے میں زرعی بنیاد پر انٹرپرینیورشپ، پائیدار ذریعہ ٔمعاش اور اختراع کو مزید فروغ دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس فیسٹول کے دوران متعدد اسٹارٹ اپس، کسان پیداکار تنظیمیں (ایف پی او)، سیلف ہیلپ گروپس اور تحقیقاتی ادارے اسینشل ، ہربل ویلنس، باغبانی، کاسمیٹکس، نامیاتی مصنوعات اور اروما ٹیکنالوجیز سے متعلق مصنوعات کی نمائش کریں گے۔
اس تقریب میں لیوینڈر کی کاشت، فصل کی کٹائی کے بعد کے انتظام ، اسینشل آئل نکالنے، برانڈنگ، مارکیٹنگ اور برآمدات کے مواقع پر تکنیکی بات چیت بھی شامل ہوگی۔
عوام کو بڑی تعداد میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے، ڈاکٹر احمد نے کہا کہ یہ فیسٹول نہ صرف لیوینڈر کی کاشت کا جشن ہے بلکہ سائنسی بنیادوں پر مبنی زراعت اور انٹرپرینیورشپ کے ذریعے ہمالیائی خطے کی دیہی معیشت کو تبدیل کرنے کی ایک تحریک ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور ملک بھر کے کسانوں، طلبہ، اسٹارٹ اپس، محققین، صنعت کے نمائندوں، میڈیا پرسنز اور سول سوسائٹی کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ اس فیسٹیول میں شرکت کریں اور بھدروہ میں پرپل ریوولیوشن کی کامیابی کی داستان کا خود مشاہدہ کریں۔
انہوں نے قومی اور علاقائی میڈیا تنظیموں، صحافیوں، ڈیجیٹل کنٹینٹ کریٹرز اور دستاویزی فلم سازوں کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا کہ وہ اس فیسٹیول کی وسیع پیمانے پر کوریج کریں اور لیوینڈر کی کاشت اور اروما پر مبنی انٹرپرینیورشپ کے ذریعے ہمالیائی دیہی معیشت میں آنے والی تبدیلی کو نمایاں کریں۔
اس افتتاحی تقریب کے دوران ’’لیوینڈر فیسٹیول 2026‘‘ کے ویب پورٹل کا افتتاح کیا گیا اور لیوینڈر فیسٹول کا بروشر بھی جاری کیا گیا۔
اس فیسٹول کا انعقاد ڈی جی سی ایس آئی آر اور سکریٹری حکومتِ ہند ڈاکٹر این کلائسیلوی کی سرپرستی اور سی ایس آئی آر- آئی آئی آئی ایم، جموں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر احمد کی مجموعی نگرانی میں کیا جا رہا ہے، جنہیں ان کے شعبوں کے صدور اور سائنسدانوں کی ٹیم کی مدد حاصل ہے، جن میں انجینئر عبد الرحیم، ڈاکٹر آشا چوبے، ڈاکٹر دھیرج ویاس، ڈاکٹر ششانک سنگھ، ڈاکٹر سمت گاندھی، ڈاکٹر نوید قاضی، ڈاکٹر سفلا گپتا، ڈاکٹر سوربھ سرن، کوشل کمار، ڈاکٹر راج کشور، ظہور وانی، راجیش گپتا اور اشوک کمار شامل ہیں۔



*****
ش ح۔ ک ح
U. No. 7723
(ریلیز آئی ڈی: 2266734)
وزیٹر کاؤنٹر : 9