زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میں خریف مہم 2026 کی حکمتِ عملی پر ریاستوں کی میٹنگ


قواعد کسانوں کے لیے سہولت کا ذریعہ ہونے چاہئیں، بوجھ نہیں: شیوراج سنگھ چوہان - غیر ضروری پیچیدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ

کسان قواعد کے تابع ہونے کے لیے نہیں ہیں؛ قواعد کو کسانوں کی خدمت کرنی چاہیے: شیوراج سنگھ چوہان

شیوراج سنگھ چوہان کا زرعی شعبے میں آسان اور کسان دوست حکمرانی پر زور

شیوراج سنگھ چوہان نے خریف 2026 کے لیے واضح زرعی روڈ میپ پیش کیا

کسانوں کے مفاد میں تیز تر فیصلوں اور مؤثر زمینی عمل درآمد کا وقت آ چکا ہے: شیوراج سنگھ چوہان

ٹیم انڈیا بھارت کی زرعی ترقی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی: شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAY 2026 3:53PM by PIB Delhi

پوسہ، نئی دہلی میں منعقدہ نیشنل ایگریکلچر کانفرنس – خریف مہم 2026 کے دوسرے روز، مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان بہبود اور دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ریاستی وزرائے زراعت، اعلیٰ حکام، سائنس دانوں اور ترقی پسند کسانوں کے ساتھ بھارتی زراعت کی ہمہ جہت ترقی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ زرعی ترقی کو تیز تر بنانے کے لیے اب پالیسی، جدت اور عزم پر مبنی وقت کی پابندی کے ساتھ نتائج دینے والی اور کسان مرکوز کارروائی ناگزیر ہے۔ ریاستی وزرائے زراعت کی بھرپور شرکت نے اس کانفرنس کو زرعی ترقی کے لیے ایک مضبوط “ٹیم انڈیا” پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔

یہ کانفرنس، جو حکومتِ ہند کی وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، کے دوسرے روز ملک بھر سے زرعی وزراء، سینئر زرعی افسران، سائنس دانوں اور ترقی پسند کسانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود جناب شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں ہونے والی اس کانفرنس میں مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت و کسان بہبود جناب رام ناتھ ٹھاکر اور جناب بھاگیرتھ چودھری بھی موجود تھے۔

معززین میں اوڈیشہ کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر زراعت جناب کنک وردھن سنگھ دیو، اتر پردیش کے وزیر زراعت جناب سوریہ پرتاپ شاہی، بہار کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا، راجستھان کے وزیر زراعت جناب کیروڑی لال مینا، مہاراشٹرا کے وزیر جناب جے پرکاش جے کمار راول، مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت جناب ایدل سنگھ کانسنا، چھتیس گڑھ کے وزیر زراعت جناب رام وچار نیتم، گجرات کے وزیر زراعت جناب جیتو بھائی سوجی بھائی واگھانی، تمل ناڈو کے وزیر زراعت جناب آر۔ ونود، ہریانہ کے وزیر زراعت جناب شریام سنگھ رانا، اروناچل پردیش کے وزیر زراعت جناب گیبریل ڈی۔ وانگسو، میگھالیہ کے وزیر زراعت جناب ایمپیرین لنگڈوہ، میزورم کے وزیر زراعت جناب پی۔ سی۔ ون لالروآتا، تریپورہ کے وزیر زراعت جناب رتن لال ناتھ، سکم کے وزیر زراعت جناب پورن کمار گرونگ، مغربی بنگال کے وزیر جناب اشوک کرتانیا، اور آسام کے پنچایتی راج و دیہی ترقی کے وزیر جناب اتل بورا شامل تھے۔اس کے علاوہ مرکزی وزارتِ زراعت کے سیکرٹری جناب اتیش چندرا، آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم۔ ایل۔ جٹ، اور مختلف ریاستوں کے سینئر حکام نے بھی اس تفصیلی غور و خوض میں شرکت کی۔

جناب چوہان نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس کانفرنس کو “بھارت کی زرعی ٹیم” کی ایک تاریخی میٹنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس ہال “منی انڈیا” کی روح کی عکاسی کر رہا تھا، جو قومی مفاد، کسانوں کی فلاح اور زرعی ترقی کے لیے مشترکہ عزم کے ساتھ متحد ہے۔ قیادت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وزراء ذاتی طور پر اقدامات کی قیادت کرتے ہیں تو رفتار، سنجیدگی اور ٹھوس نتائج میں اضافہ ہوتا ہے۔

جناب چوہان نے کہا کہ بھارت نے غذائی اجناس کی پیداوار میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ تیسرے ایڈوانس تخمینوں کے مطابق ملک کی مجموعی غذائی اجناس کی پیداوار تقریباً 376.563 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو اب تک کی سب سے زیادہ پیداوارہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت، کسانوں کی محنت، سائنسی تحقیق اور ریاستوں کے فعال تعاون کو دیا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ بھارت چاول کی پیداوار میں دنیا کا قائد بن چکا ہے، جبکہ گندم، مکئی، دالوں اور تیل والی اجناس کی پیداوار میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں کے باوجود ملک رفتار کم نہیں کر سکتا۔ بھارت کو غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے، زراعت کو زیادہ منافع بخش بنانے اور غذائی و تغذیائی تحفظ کو یکساں اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت محض پیداوار کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کی زندگی کی شہ رگ ہے، اس لیے زرعی شعبے سے وابستہ ہر فرد کو مشن موڈ میں کام کرنا ہوگا۔

کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ دالوں کی مشن،  تلہن کےمشن، کپاس مشن اور دیگر اہم زرعی مہمات کے نفاذ کا خود جائزہ لیں۔ انہوں نے سائنس دانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کسانوں کی ضروریات کے مطابق تیز رفتار، عملی اور طلب پر مبنی تحقیق کریں۔ خاص طور پر تور، سویا بین اور تلہن کے لیے مختصر دورانیے اور زیادہ موزوں اقسام تیار کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔

بیجوں کی دستیابی کے مسئلے پر جناب چوہان نے سخت اور سنجیدہ مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معیاری بیج زرعی پیداوار کی پہلی اور سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ ملک میں بیجوں کی وافر دستیابی کے باوجود کسانوں کو بروقت بیج نہ ملنا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی کہ بریڈر بیج اور دیگر ضروری بیج بروقت حاصل کریں، تقسیم کے نظام کو مضبوط بنائیں اور خریف سیزن کے دوران کسانوں تک بیج کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ ناقص معیار کے بیج کسی بھی صورت میں مارکیٹ میں داخل نہ ہوں اور اس کے لیے سخت نگرانی اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر بیج ریزرو کا نظام قائم کیا گیا ہے،  تاکہ ضرورت پڑنے پر متاثرہ علاقوں کو فوری بیج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے ریاستوں پر یہ بھی زور دیا کہ وہ کم بارش یا دیگر مشکل حالات کے لیے ضلعی سطح پر مکمل تیاری رکھیں۔

جناب چوہان نے کھاد، مٹی صحت کارڈ اور کسان شناختی کارڈ (فارمر آئی ڈی) پر خصوصی زور دیا۔  انہوں نے کہا کہ مٹی صحت کارڈ محض دستاویزات نہ رہیں،  بلکہ انہیں عملی طور پر کھیت کی سطح پر استعمال کیا جائے،  تاکہ کسان غذائی اجزاء  کی کمی اور مناسب کھاد کے استعمال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ متوازن کھاد کے استعمال کو “کھیت بچاؤ مہم” کے ذریعے فروغ دیں۔ اس مہم کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے صرف محکمہ کے پروگرام تک محدود نہ رکھا جائے،  بلکہ ایک عوامی تحریک بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ “کھیت بچاؤ مہم” کے تحت یکم جون سے 30 جون تک عوامی نمائندے، سائنس دان، افسران اور کسان مشترکہ طور پر فیلڈ سطح پر آگاہی سرگرمیاں انجام دیں گے۔ دیہی سطح کے پروگراموں کے ذریعے کسانوں کو مٹی کی صحت، متوازن کھاد کے استعمال، معیاری بیج، درست کیڑے مار ادویات، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کے فوائد، حکومتی اسکیموں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

فارمر آئی ڈی کو ایک شفاف، ہدفی اور مؤثر مستقبل کے زرعی خدماتی نظام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے جناب چوہان نے کھاد کی تقسیم میں شفافیت، بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام اور اصل مستحق کسانوں تک منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومتِ ہند کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کھاد کا استعمال صرف زرعی مقاصد کے لیے ہو اور اس کا کسی بھی صورت غلط استعمال نہ ہو۔

زرعی قرض اور کسان کریڈٹ کارڈز کے حوالے سے مرکزی وزیر نے کہا کہ بروقت سرمایہ تک رسائی منافع بخش کاشتکاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ کچھ ریاستوں نے زرعی قرض کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، لیکن مشرقی اور شمال مشرقی بھارت کے کئی علاقے اب بھی پیچھے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستوں کے اشتراک سے زرعی قرض تک رسائی کو وسعت دینے کے لیے جلد ہی بینکوں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ زیر التواء کسان کریڈٹ کارڈ کیسز کا جائزہ لیں اور کسانوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق قرض کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔

زرعی مشینوں  کے حوالے سے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زور دیا کہ صرف مشینوں کی تقسیم کافی نہیں ہے،  بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ درست مشین صحیح کسان تک پہنچے اور اس کا مؤثر استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کسٹم ہائرنگ سینٹرز کی افادیت کے جائزے کی ضرورت پر زور دیا اور ریاستوں سے کہا کہ وہ مقامی ضروریات کے مطابق مشینوں کی دستیابی یقینی بنائیں۔ انہوں نے شفاف انتخابی نظام، آن لائن درخواستوں اور عوامی تقسیم کے نظام کو اچھی حکمرانی کے اہم اصول قرار دیا۔

باغبانی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اب مقصد صرف پیداوار میں اضافہ نہیں،  بلکہ برآمد کے معیار کی پیداوار کو یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ طریقۂ کار کی وجہ سے کئی اسکیموں کے فوائد وقت پر کسانوں تک نہیں پہنچ پاتے، اس لیے انہیں عملی طور پر  سہل بنانا  ضروری ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے جعلی بیج، ناقص کیڑے مار ادویات اور خراب زرعی مداخلت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ کسانوں کو جعلی اور کم معیار کی اشیاء فروخت کرنا صرف معاشی جرم نہیں،  بلکہ قومی نقصان ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ معائنہ مہمات میں تیزی لائیں، نمونہ گیری میں اضافہ کریں، تسلیم شدہ لیبارٹریاں قائم کریں اور مجرموں کے خلاف حتمی سزا تک سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ کیڑے مار ادویات کے ضابطے کے لیے ایک زیادہ مضبوط اور مؤثر قانونی فریم ورک لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

فصل بیمہ اسکیم کے حوالے سے جناب چوہان نے زور دیا کہ کسانوں کو بروقت ریلیف دینا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان جوابدہی کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پریمیم وصول کرنے کے بعد متعلقہ اداروں کو بروقت رقم کی منتقلی، فصل کے نقصان کا درست اور فوری تخمینہ اور اہل کسانوں کو تیز رفتار ادائیگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاوضے کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر کی صورت میں سخت جوابدہی طے کی جائے گی۔

دالوں اور تلہن  کی خریداری کے حوالے سے مرکزی وزیر نے کہا کہ جب تک کسانوں کو منافع بخش قیمتیں نہیں ملیں گی، وہ ان فصلوں کی کاشت کے لیے حوصلہ افزائی محسوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے پی ایم آشا  (پی ایم- اے اےایس ایچ اے) جیسی اسکیموں کے بہتر نفاذ، بروقت خریداری اور ریاستوں کی فعال شرکت پر زور دیا۔ ان کے مطابق قیمت حمایت اور خریداری کا نظام دالوں اور تلہن  میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

جناب چوہان نے ایف پی اوز، کرشی وگیان کیندروں اور زرعی یونیورسٹیوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کرشی وگیان کیندر تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کو براہِ راست زمینی سطح تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے ریاستوں، زرعی یونیورسٹیوں، سائنس دانوں، ترقی پسند کسانوں اور زرعی طلبہ کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ انہوں نے ایف پی اوز کو کسانوں کی منڈی میں قوتِ خرید اور مضبوطی بڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہر ریاست کو اب اپنی زرعی حکمتِ عملی،  علاقائی موسمیاتی حالات، دستیاب وسائل اور مقامی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مرکزی حکومت، سائنسی ادارے اور وزارت کی پوری ٹیم اس سمت میں ریاستوں کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز،  کسانوں کے مفاد میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ قواعد اور طریقۂ کار کسانوں کی سہولت کے لیے ہیں، کسان قواعد کے لیے نہیں ہیں۔ اس لیے جہاں بھی غیر ضروری پیچیدگیاں موجود ہیں،  انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ریاستوں سے کھل کر تجاویز دینے کی اپیل کی اور کہا کہ حکمرانی کے اثرات صرف فائلوں میں نہیں،  بلکہ عوام کی زندگیوں میں نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے مسلسل اصلاحات پر زور دیا ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی، ریاستوں کے تعاون، سائنس دانوں کی کاوشوں اور کسانوں کی محنت سے بھارت زراعت کے شعبے میں نئی بلندیوں کو حاصل کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے گا بلکہ اناج، پھل، سبزیاں، دالیں، تلہن اور دیگر زرعی پیداوار میں دنیا کے لیے ایک مضبوط مثال بن کر ابھرے گا۔

........................

) ش ح –ش ت-ق ر)

U.No. 7716

 


(ریلیز آئی ڈی: 2266693) وزیٹر کاؤنٹر : 8