صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ صحت کی جانب سے بھارت کے لیے صحت کھاتوں سے متعلق قومی اندازے 23-2022 کا اجراء


سرکاری صحت اخراجات (جی ایچ ای) میں 14-2013 اور 23-2022 کے درمیان 1.30 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 3.85 لاکھ کروڑ روپے تک تین گنا اضافہ

ملک کی جی ڈی پی میں سرکاری صحت اخراجات کا حصہ 14-2013 اور 23-2022 کے درمیان 1.15فیصد سے بڑھ کر 1.43فیصد ہو گیا

مجموعی صحت اخراجات (ٹی ایچ ای) میں سرکاری صحت اخراجات کا حصہ 14-2013 اور 23-2022 کے درمیان 28.6فیصد سے بڑھ کر 43.7فیصد ہو گیا

مجموعی صحت اخراجات میں عوام کی جیب سے ہونے والے براہِ راست اخراجات (او او پی ای) کا حصہ 64.2فیصد سے کم ہو کر 43.4فیصد رہ گیا

حفظان صحت پر سوشل سکیورٹی اخراجات (ایس اس ای) 6فیصد سے بڑھ کر 9.9فیصد ہو گئے

حکومت کی جانب سے ابتدائی طبی امداد پر کیے جانے والے اخراجات 14-2013 اور 23-2022 کے درمیان 0.5 لاکھ کروڑ روپے سے دو گنا سے زیادہ بڑھ کر 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے

دہائی کے رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کووڈ کے دوران سرکاری صحت اخراجات کو اضافی فروغ ملا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 3:18PM by PIB Delhi

مرکزی وزارتِ صحت نے بھارت کے لیے قومی صحت کھاتوں (این ایچ اے)کے تخمینے 23-2022 جاری کیے ہیں۔ این ایچ اے 23-2022 صحت کے اخراجات کے تخمینوں پر دسویں رپورٹ ہے، جسے نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس ٹیکنیکل سیکریٹریٹ (این ایچ اے ٹی ایس)، نیشنل ہیلتھ سسٹمز ریسورس سینٹر، صحت و خاندانی بہبود کی وزارت نے سسٹم آف ہیلتھ اکاؤنٹس (2011) فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا ہے۔ یہ رپورٹ 14-2013 سے حفظان صحت سے متعلق سرکاری اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جو صحت کے شعبے میں عوامی سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں سرکاری صحت اخراجات (جی ایچ ای) کا حصہ 14-2013 میں 1.15فیصد سے بڑھ کر 23-2022 میں 1.43فیصد ہو گیا ہے۔ بنیادی سال 23-2022 کے ساتھ نئی جی ڈی پی سیریز کے مطابق، جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر جی ایچ ای  1.48فیصد ہے۔ اسی طرح، عمومی سرکاری اخراجات میں جی ایچ ای کا حصہ اسی مدت کے دوران 3.78فیصد سے بڑھ کر 4.89فیصد ہو گیا ہے، جو عوامی اخراجات میں صحت کو دی جانے والی بڑھتی ہوئی ترجیح کو اجاگر کرتا ہے۔ فی کس  کے لحاظ سے، جی ایچ ای 14-2013 اور 23-2022 کے درمیان تقریباً 2.7 گنا بڑھ کر 1,042 روپے سے 2,786 روپے ہو گیا ہے۔

سرکاری صحت اخراجات (جی ایچ ای) میں اضافے کے دہائی کے رجحان  کے نتیجے میں مجموعی صحت اخراجات (ٹی ایچ ای) میں عوام کی جیب سے ہونے والے براہِ راست اخراجات (او او پی ای) کے حصے میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے۔ مرکزی حکومت کی کوششیں، خاص طور پر کووڈ وبا کے دوران، قابلِ ستائش تھیں۔ کووڈ وبا کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے، حکومت نے وبا کے انتظام کی خاطر صحت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 2021-22 میں جی ڈی پی کے 1.84فیصد تک پہنچا دیا، جس میں ای سی آر پی -I اور II اور بڑے پیمانے پر کووڈ ٹیکہ کاری  پروگرام شامل تھا، جو دنیا میں سب سے بڑا پروگرام تھا۔ یک وقتی اقدام کے طور پر حکومت کے ان اضافی اخراجات کے باعث، اس مدت کے دوران مجموعی صحت اخراجات (ٹی ایچ ای) کے فیصد کے طور پر عوام کی جیب سے ہونے والے اخراجات (او او پی ای) بھی کم ہو کر 39.4فیصد رہ گئے۔

مجموعی صحت اخراجات (ٹی ایچ ای) میں سرکاری صحت اخراجات (جی ایچ ای) کا حصہ تقریباً 15 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا ہے، جو 14-2013 میں 28.6فیصد تھا اور 23-2022 میں بڑھ کر 43.7فیصد ہو گیا۔ یہ تبدیلی ہیلتھ سسٹم میں پبلک فنانسنگ کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے اور یہ اشارہ دیتی ہے کہ پالیسی کوششیں درست سمت میں گامزن ہیں—تاکہ سب کے لیے ایک زیادہ کفایتی، منصفانہ اور قابلِ رسائی حفظان صحت کا نظام فراہم کیا جا سکے۔

کنبوں پر عوام کی جیب سے ہونے والے براہِ راست اخراجات (او او پی ای) کے بوجھ کو کم کرنا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل رہا ہے، جسے مختلف ہیلتھ اسکیموں اور یونیورسل ہیلتھ کوریج (یو ایچ سی) کے تئیں مسلسل عزم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ 14-2013 اور 23-2022 کے درمیان، مجموعی صحت اخراجات میں او او پی ای  کا حصہ تقریباً 21 فیصد پوائنٹس تک نمایاں طور پر کم ہوا، جو 64.2فیصد سے گھٹ کر 43.4فیصد رہ گیا۔

وقت کے ساتھ کیے گئے موازنے  سے صحت کی دیکھ بھال پر سوشل سکیورٹی اخراجات (ایس ایس ای) کی ترقی میں بھی ایک مثبت رجحان ظاہر ہوتا ہے، جو مالیاتی خطرات سے تحفظ اور صحت کی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ مجموعی صحت اخراجات (ٹی ایچ ای) میں ایس ایس ای کا حصہ—جس میں حکومت کی مالی امداد سے چلنے والا ہیلتھ انشورنس جیسے کہ اے بی پی ایم جے ، سرکاری ملازمین کے لیے طبی اخراجات کی واپسی  اور سوشل ہیلتھ انشورنس پروگرام شامل ہیں—14-2013 میں 6فیصد سے کافی حد تک بڑھ کر 23-2022 میں 9.9فیصد ہو گیا ہے۔ مجموعی صحت اخراجات میں پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس کا حصہ بھی 3.4فیصد سے بڑھ کر 9.2فیصد ہو گیا ہے، جو بیداری اور لوگوں کی قوتِ خرید میں بہتری کے باعث صحت کے حصول کے لیے بہتر رویے کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

آج جاری کیے گئے این ایچ اے تخمینہ 23-2022 کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے: https://nhsrcindia.org/national-health-accounts-records

پس منظر: نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس (این ایچ اے) کے تخمینے کی تیاری کو 2014 میں نیشنل ہیلتھ سسٹمز ریسورس سینٹر (این ایچ ایس آر سی) میں باضابطہ شکل دی گئی تھی اور این ایچ ایس آر سی کو نیشنل ہیلتھ اکاؤنٹس ٹیکنیکل سکریٹریٹ نامزد کیا گیا تھا۔

  • اب تک 9 این ایچ اے تخمینے (14-2013 سے 22-2021) تیار کیے جا چکے ہیں۔
  • استعمال کردہ طریقۂ کار: سسٹم آف ہیلتھ اکاؤنٹس، 2011 (ایس ایچ اے 2011)۔

این ایچ اے کے لیے ماہرین کے گروپ میں شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت(ایم او ایس پی آئی)، نیتی آیوگ، وزارتِ جل شکتی، تحقیقی ادارے- نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی (این آئی پی ایف پی)، نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر)، انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ (آئی ای جی) اور نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے ماہرین شامل ہیں۔

********

ش ح۔ ک ح۔خ م

U. No.7631


(ریلیز آئی ڈی: 2265986) وزیٹر کاؤنٹر : 10