شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اکثر پوچھے جانے والے سوالات(ایف اے کیوز)

انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن(آئی آئی پی) — نئی سیریز ( بیس ایئر 2022-23)

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 MAY 2026 8:49PM by PIB Delhi

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت(ایم او ایس پی آئی)  2011-12 سے 2022-23 تک آل انڈیا انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) کے  بیس ایئر پر نظر ثانی کر رہی ہے اور یکم جون 2026 کو نئی سیریز کو جاری کرنے کا آئی آئی پی سیریز کی تالیف کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں اسٹیک ہولڈرز ارادہ رکھتی ہے۔

خلاصہ

  • آل انڈیا انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) کے  بیس ایئر کو 2011-12 سے تبدیل کرکے 2022-23 کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل آل انڈیا آئی آئی پی کے  بیس ایئر میں نظرثانی کے لیے قائم تکنیکی مشاورتی کمیٹی (ٹی اے سی-آئی آئی پی) کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔
  • ٹی اے سی-آئی آئی پی کی رپورٹ 25 مئی 2026 کو جاری کی گئی، جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ آئی آئی پی کی تیاری کے دائرۂ کار، کوریج، نظریاتی، طریقہ کار اور عملی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، تاکہ اسے بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق بنایا جا سکے۔
  • نئی آئی آئی پی سیریز کے لیے اشیاء کی فہرست کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس میں 463 آئٹم گروپس شامل ہیں، اور ان میں 120 نئے آئٹم گروپس کا اضافہ کیا گیا ہے۔
  • موجودہ شعبہ جاتی کوریج کے علاوہ، نئی آئی آئی پی سیریز میں معمولی معدنیات، نایاب زمینی معدنیات، گیس سپلائی، پانی کی فراہمی، سیوریج اور فضلہ مینجمنٹ  جیسے شعبے بھی شامل کیے جائیں گے۔
  • نئی آئی آئی پی سیریز زیادہ تفصیلی سطح پر اشاریہ جاری کرے گی، جن میں قابلِ تجدید اور غیر قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار، گیس سپلائی، ایندھن سے متعلق معدنیات، دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات، پانی کی فراہمی، سیوریج اور فضلہ انتظام کے لیے الگ الگ اشاریے فراہم کیے جائیں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بیس ایئر 2022-23 کے ساتھ نئی آئی آئی پی سیریز سے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات ( ایف اے کیو ایس)

  • سوال: انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) کیا ہے؟

جواب: انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) ایک جامع اشاریہ ہے، جو کسی مخصوص مدت کے دوران اشیاء کے مجموعے کی پیداوار کے حجم میں ہونے والی تبدیلیوں کو بنیادی سال کے مقابلے میں ناپنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

  • سوال: ہندوستان  میں انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن کون مرتب اور جاری کرتا ہے؟

جواب: انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن (آئی آئی پی) کو نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس (این ایس او)، وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) مرتب اور جاری کرتی ہے۔

  • سوال:  بیس ایئر 2022-23 والی نئی آئی آئی پی سیریز جاری کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

جواب: آئی آئی پی ہر ماہ حوالہ جاتی مہینے کے 28 دن بعد جاری کیا جائے گا۔

  • سوال: ب بیس ایئرکیا ہوتا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

جواب: بیس ایئر وہ منتخب سال ہوتا ہے جسے حوالہ نقطہ (انڈیکس =   100) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ پیداوار کا موازنہ کیا جا سکے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ موجودہ اعداد و شمار کو بنیادی سال سے موازنہ کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے یا کمی۔ اس طرح  بیس ایئرایک معیاری حوالہ فراہم کرتا ہے۔

  • سوال: نئی آئی آئی پی سیریز کے لیے  بیس ایئر کے انتخاب کے معیار کیا ہیں؟

جواب:  بیس ایئر ایسا ہونا چاہیے جو نسبتاً مستحکم معاشی دور کی نمائندگی کرے اور جی ڈی پی اور ڈبلیو پی آئی جیسے دیگر بڑے معاشی اشاریوں کے بنیادی سال سے ہم آہنگ ہو۔ اسی مناسبت سے مالی سال 2022-23 کو  بیس ایئر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

  • سوال:  بیس ایئر میں نظرثانی کیوں کی جا رہی ہے؟

جواب: آئی آئی پی کے  بیس ایئرمیں نظرثانی معیشت میں ساختی تبدیلیوں، تکنیکی ترقی اور نئی صنعتوں و مصنوعات کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔  بیس ایئر  کی نظرثانی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اشاریہ موجودہ پیداواری رجحانات کی درست عکاسی کرے اور معاشی تجزیے و پالیسی سازی کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد اعداد و شمار فراہم کرے۔

  • سوال: آل انڈیا آئی آئی پی کے  بیس ایئر میں اب تک کتنی بار نظرثانی کی جا چکی ہے؟

جواب: یہ آل انڈیا آئی آئی پی کے بیس ایئر کی دسویں نظرثانی ہے۔ پہلا آئی آئی پی 1937 کو  بیس ایئر بنا کر تیار کیا گیا تھا، جس کے بعد بیس ایئر  کو بالترتیب 1946، 1951، 1956، 1960، 1970، 1980-81، 1993-94، 2004-05 اور 2011-12 میں تبدیل کیا گیا۔

  • سوال: نئی آئی آئی پی (2022-23) سیریز کا دائرۂ کار پرانی آئی آئی پی (2011-12) سیریز سے کس طرح مختلف ہے؟

جواب: نئی آئی آئی پی سیریز (2022-23) میں کان کنی، مینوفیکچرنگ اور بجلی کے موجودہ شعبے برقرار رکھے گئے ہیں۔ تاہم، اس میں گیس سپلائی اور پانی کی فراہمی، سیوریج و فضلہ انتظام کی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے صنعتی پیداوار کی زیادہ وسیع اور درست تصویر سامنے آئے گی۔ کان کنی کے شعبے میں نئی سیریز میں بڑی معدنیات کے ساتھ ساتھ معمولی معدنیات اور نایاب زمینی معدنیات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے اشاریہ مزید جامع بن گیا ہے۔

  • سوال: مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے آئٹم باسکٹ کے انتخاب کی بنیاد کیا ہے؟

جواب: مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے آئٹم باسکٹ کا انتخاب سالانہ صنعتی سروے (اے ایس آئی) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس میں ان اشیاء پر توجہ دی جاتی ہے جو صنعتی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔ نئی آئی آئی پی سیریز ( بیس ایئر 2022-23) کے لیے اے ایس آئی 2021-22 اور    2022-23 اے ایس آئی کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں، اور نمائندگی و مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے ایک منظم طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔

آئٹم باسکٹ کو صنعتی گروپ کی سطح (این آئی سی 3- ڈجٹ) پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ مناسب کوریج کو یقینی بنایا جا سکے۔

جہاں کوئی شے ایک سے زیادہ صنعتوں میں تیار کی جاتی ہے، وہاں اسے اس صنعت کے تحت رکھا جاتا ہے جہاں اس کی پیداوار سب سے زیادہ ہو۔

اے ایس آئی 2021-22 اوراے ایس آئی 2022-23 کے اعداد و شمار سے اشیاء کے دو الگ الگ مجموعے تیار کیے گئے ہیں، جن میں ہر صنعتی (این آئی سی 3-ڈجٹ سطح ) کی پیداوار میں 90 فیصد تک حصہ رکھنے والی اشیاء شامل کی گئی ہیں؛ ان دونوں مجموعوں میں مشترک اشیاء کو بنیادی باسکٹ(کو باسکٹ) بنایا گیا ہے۔

اگر کسی صنعتی گروپ کے لیے 2022-23 میں مشترک اشیاء مجموعی قدرِ پیداوار (Gross Value of Output - GVO) کے 80 فیصد سے کم کوریج فراہم کرتی ہیں، تو  2022-23 اے ایس آئی کے مجموعے سے مزید اشیاء شامل کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ کم از کم 80 فیصد کوریج حاصل ہو جائے۔

ابھرتی ہوئی مصنوعات کو شامل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے، ہر صنعتی گروپ میں پیداوار کے 2 فیصد سے زیادہ حصہ رکھنے والی اشیاء کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

یہ طریقۂ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آئٹم باسکٹ جامع، نمائندہ اور موجودہ صنعتی ڈھانچے کے مطابق ہو۔

  • سوال: مینوفیکچرنگ کے علاوہ دیگر شعبوں کے لیے آئٹم باسکٹ کی بنیاد کیا ہے؟

جواب: مینوفیکچرنگ کے علاوہ دیگر شعبوں کے لیے آئٹم باسکٹ کا انتخاب ہر شعبے کی سرگرمیوں کی نوعیت اور اہم قابلِ پیمائش پیداوار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے بھی مشاورت کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایم سی ڈی آر معدنیات کی شناخت انڈین بیورو آف مائنز کے مشورے سے کی گئی۔ مختلف شعبوں کے لیے منتخب اشیاء کی تفصیل درج ذیل ہے:

کان کنی و کھدائی:

اس میں 34 معدنیات شامل ہیں، جن میں ایندھن سے متعلق معدنیات، دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات شامل ہیں جو منرل کنزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ رولز(ایم سی ڈی آر) کے تحت منظم کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ 1 نایاب زمینی معدنی اور 9 معمولی معدنیات بھی شامل ہیں۔

بجلی:

اس میں قابلِ تجدید اور غیر قابلِ تجدید دونوں ذرائع سے پیدا ہونے والی مجموعی بجلی شامل ہے۔

گیس سپلائی:

اس میں پائپ لائنوں یا مرکزی لائنوں کے ذریعے فراہم یا تقسیم کی جانے والی گیس کے حجم کو پیمائش کی بنیاد بنایا گیا ہے۔

پانی کی فراہمی، سیوریج اور فضلہ انتظام:

اس میں نل کے کنکشن کے ذریعے پانی کی فراہمی، سیوریج/سیپٹیج کنکشنز کے ذریعے نکاسی آب (جو 500 اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن – اے ایم آر یو ٹی شہروں میں رپورٹ کی جاتی ہے) اور جمع و پراسیس کیے گئے فضلے کی مقدار کو شامل کیا جاتا ہے۔

سوال: اشیاء کی “ این ای سی.” اقسام سے کیا مراد ہے؟

جواب:  ‘‘این ای سی” سے مراد‘ ناٹ ایلس وہیئر کلاسیفائیڈ’ یعنی وہ مصنوعات ہیں جو نیشنل پروڈکٹ کلاسیفکیشن فار مینوفیکچرنگ سیکٹر(این پی سی ایم ایس) 2011 کے تحت کسی اور مخصوص زمرے میں شامل نہیں ہوتیں۔ ان زمروں میں عموماً متفرق یا غیر مخصوص مصنوعات شامل ہوتی ہیں۔

سالانہ صنعتی سروے(اے ایس آئی) ، آئی آئی پی کے مینوفیکچرنگ شعبے کے آئٹم باسکٹ کے انتخاب کی بنیاد ہے۔اے ایس آئی میں آئٹم وار پیداوار جمع کرنے کے لیے این پی سی ایم ایس 2011 استعمال کیا جاتا ہے، جس میں متفرق یا غیر مخصوص مصنوعات کی رپورٹنگ کے لیےاین ای سی زمرہ موجود ہے۔

  • سوال: نئی سیریز میں این ای سی اشیاء کے ساتھ برتاؤ پرانی سیریز کے مقابلے میں کس طرح مختلف ہے؟

جواب: جیسا کہ ذکر کیا گیا، چونکہ این ای سی اشیاء کسی مخصوص مصنوعات کی نمائندگی نہیں کرتیں، اس لیے 2011-12 سیریز میں انہیں آئٹم باسکٹ کے انتخابی فریم سے خارج کر دیا گیا تھا۔ بعد میں ان اشیاء کی پیداوار کو اسی صنعتی گروپ کی دیگر اشیاء میں تناسب کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ تاہم، ان کی الگ حیثیت ختم ہونے سے مینوفیکچرنگ کے بعض مخصوص یا اختراعی شعبے جزوی طور پر کم نمائندگی کا شکار ہو سکتے تھے۔ اسی طرح پیداوار کی دوبارہ تقسیم بعض ایسی اشیاء کے وزن کو بڑھا دیتی تھی جن کا وزن بصورتِ دیگر کم ہونا چاہیے تھا۔

نئی سیریز میں این ای سی اشیاء کو آل انڈیا آئی آئی پی ( بیس ایئر 2022-23) کے آئٹم باسکٹ کے انتخاب میں برقرار رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے جب کوئی این ای سی آئٹم منتخب کیا گیا تو متعلقہ کارخانوں کا فیلڈ افسران نے دوبارہ جائزہ لیا تاکہ این ای سی زمروں کے تحت آنے والی مخصوص مصنوعات کی شناخت کی جا سکے اور انہیں مناسب طور پر آئٹم باسکٹ میں شامل کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر ان اشیاء کی شمولیت آئی آئی پی کو مضبوط بناتی ہے کیونکہ اس سے ابھرتی ہوئی، متنوع اور پہلے کم نمائندگی رکھنے والی مصنوعات کو بھی پیمائشی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

  • سوال: اشیاء کے انتخاب کے بعد آئٹم گروپس کیسے تشکیل دیے گئے؟

جواب: آئٹم گروپس کو صنعتی گروپ کے اندر مماثلت رکھنے والی مصنوعات کو یکجا کرکے تشکیل دیا گیا تاکہ ماہانہ اعداد و شمار کی رپورٹنگ میں یکسانیت، تقابل اور عملی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سوال: کیا نئی آئی آئی پی سیریز قابلِ تجدید توانائی سے بجلی پیداوار کے لیے الگ اشاریہ جاری کرتی ہے؟

جواب: جی ہاں، نئی آئی آئی پی سیریز میں قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو الگ سے شناخت کیا گیا ہے۔

  • سوال: آئی آئی پی میں “وزن” (ویٹ) سے کیا مراد ہے؟

جواب: وزن سے مراد مختلف شعبوں، صنعتی گروپس یا اشیاء کی مجموعی صنعتی پیداوار میں نسبتی اہمیت ہے، جو مجموعی قدرِ افزوده(جی وی اے) یا مجموعی قدرِ پیداوار(جی وی او) میں ان کے حصے کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔

  • سوال: نئی آئی آئی پی سیریز میں شعبہ جاتی سطح پر وزن کس طرح طے کیے جاتے ہیں؟

جواب: آئی آئی پی میں شعبہ جاتی سطح کے وزن مالی سال 2022-23 میں موجودہ قیمتوں پر ہر شعبے کے مجموعی قدرِ افزوده(جی وی اے) میں حصے کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں، جیسا کہ قومی حسابات کے اعداد و شمار(این اے ایس) میں بنیادی سال 2022-23 کے تحت درج ہے۔

  • سوال: مینوفیکچرنگ شعبے میں NIC 2/3/4-digit سطح پر وزن کس طرح تقسیم کیے جاتے ہیں؟

جواب: مینوفیکچرنگ شعبے کے مجموعی وزن کو NIC 2-digit صنعتی گروپس میں   2022-23 اے ایس آئی میں ان کے متعلقہ جی وی اے کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ پھر NIC 2-digit سطح کے وزن کو NIC 3-digit سطح پر   2022-23 اے ایس آئی کے متعلقہ جی وی اے کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد NIC 3-digit سطح کے وزن NIC 4-digit زمروں میں 2022-23 میں اے ایس آئی ان کے جی وی اے کے حصے کے مطابق تقسیم کیے جاتے ہیں۔

  • سوال: مینوفیکچرنگ شعبے میں آئٹم سطح پر وزن کس طرح تقسیم کیے جاتے ہیں؟

جواب: 4-digit صنعتی گروپس کے وزن کو منتخب اشیاء میں ان کے متعلقہ 4-digit صنعتی گروپ میں مجموعی قدرِ پیداوار(جی وی او) میں شراکت کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے، جیسا کہ 2022-23  اے ایس آئی میں درج ہے۔

  • سوال: نئی آئی آئی پی سیریز 2022-23 میں آئٹم باسکٹ میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟

جواب: ذیل میں نئی آئی آئی پی سیریز کے آئٹم باسکٹ کا پرانی سیریز کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے:

 

Item Basket

Item group in IIP 2011-12 series

Item groups in IIP 2022-23 series

Mining and Quarrying

1 (29)

3 (44)

Manufacturing

405

455

Electricity & Gas supply

1

3

Water supply, Sewerage & Waste Management

--

2

Number of total item groups

407

463

 

  • سوال: نئی سیریز میں پرانی سیریز کے مقابلے میں کتنے نئے آئٹم گروپس شامل کیے گئے ہیں؟

جواب: نئی آئی آئی پی سیریز میں مجموعی طور پر 120 نئے آئٹم گروپس شامل کیے گئے ہیں۔ چند مثالیں یہ ہیں: میگنیٹک اسٹرائپ والے کارڈز (مثلاً ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ)، سی سی ٹی وی کیمرہ، نان وون ٹیکسٹائل مصنوعات، ہوائی جہاز اور خلائی جہاز کے پرزے، اسٹنٹس، ویکسین (ویٹرنری کے علاوہ)۔

  • سوال: نئی سیریز میں پرانی سیریز کے مقابلے میں کتنے آئٹم گروپس ختم کیے گئے ہیں؟

جواب: نئی آئی آئی پی سیریز میں مجموعی طور پر 64 آئٹم گروپس حذف کیے گئے ہیں۔ چند مثالیں یہ ہیں: مٹی کا تیل(کیروسین)، فلوروسینٹ ٹیوبز اور سی ایف ایل، سائیکل/ٹرائی سائیکل/رکشہ ٹائروں کی ٹیوبز، ہلکی موٹر گاڑیوں(ایل ایم وی) کے ٹائروں کی ٹیوبز، پرنٹنگ مشینری، سلائی مشینیں۔

  • سوال: آئٹم گروپس میں اضافہ کرنے کی کیا اہمیت ہے؟

جواب: آئٹم باسکٹ میں توسیع سے نمائندگی بہتر ہوتی ہے، صنعتی پیداوار کی تنوع  کو شامل کیا جاتا ہے، اور ابھرتی ہوئی صنعتی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کی بہتر عکاسی ہوتی ہے۔

  • سوال: کیا نئی آئی آئی پی سیریز کے آغاز پر لنکنگ فیکٹر جاری کیا جائے گا؟

جواب: جی ہاں۔ جب بنیادی سال 2022-23 کے ساتھ نئی آئی آئی پی سیریز جاری کی جائے گی تو پرانی اور نئی سیریز کو جوڑنے کے لیے شعبہ جاتی سطح پر ایک لنکنگ فیکٹر جاری کیا جائے گا۔

لنکنگ فیکٹر کو جیومیٹرک مین(جیو میٹرک مین-جی ایم) طریقہ کے ذریعے اس طرح حساب کیا جاتا ہے:

لنکنگ فیکٹر = نئے  بیس ایئر میں پرانی سیریز کا جی ایم ÷ نئے بنیادی سال میں نئی سیریز کا جی ایم

  • سوال: نئی آئی آئی پی سیریز میں استعمال کی مختلف کیٹیگریز کون سی ہیں؟**

جواب: 2011-12 سیریز کی چھ (6) استعمال پر مبنی کیٹیگریز نئی آئی آئی پی سیریز میں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ اگرچہ کیٹیگریز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم انفرادی اشیاء کی درجہ بندی کو تفصیل سے دوبارہ جانچا اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ یہ چھ کیٹیگریز درج ذیل ہیں:

1. بنیادی اشیاء:

ایسی اشیاء جو براہِ راست قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں اور آگے مینوفیکچرنگ اور بجلی پیدا کرنے کے عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔ مثال: معدنیات اور دھاتیں ، ایندھن (ڈیزل، اے ٹی ایف، پیٹرول، ایل پی جی وغیرہ) اور بجلی۔ یہ کیٹیگری سپلائی چین کے بنیادی حصے کو ظاہر کرتی ہے۔

2. سرمایہ جاتی اشیاء(کیپٹل گڈز):

یہ تیار شدہ اشیاء ہوتی ہیں جو دیگر اشیاء یا خدمات کی پیداوار میں استعمال ہوتی ہیں لیکن خود بطور ان پٹ شامل نہیں ہوتیں۔ عام طور پر یہ طویل مدتی اثاثے ہوتے ہیں جیسے پلانٹ اور مشینری۔ مثال: بوائلرز، ایئر و گیس کمپریسرز، ٹریکٹرز، ٹرانسفارمرز، کمرشل گاڑیاں اور مختلف مشینری (جیسے ٹیکسٹائل مشینری)۔ یہ سرمایہ کاری(کیپیکس) کے رجحانات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

3. درمیانی اشیاء(انٹر میڈیٹ گڈز):

ایسی اشیاء جو مکمل مصنوعات نہیں ہوتیں اور مزید پیداوار میں بطور ان پٹ استعمال ہوتی ہیں۔ مثال: کپاس کا دھاگہ، پلائی ووڈ، اسٹیل ٹیوبز/پائپس، فاسٹنرز، آٹو پارٹس وغیرہ۔ یہ سپلائی چین کا بنیادی حصہ ہیں۔

4. انفراسٹرکچر/تعمیراتی اشیاء(انفرا اسٹرکچر/ کنسٹرکشن گڈز):

ایسی تیار شدہ اشیاء جو بنیادی طور پر تعمیرات یا انفراسٹرکچر کے شعبے میں استعمال ہوتی ہیں۔ مثال: پینٹس، سیمنٹ، کیبلز، اینٹیں اور ٹائلز، ریلوے میٹریل وغیرہ۔

5. صارفین کی اشیاء:

ایسی اشیاء جو براہِ راست صارفین استعمال کرتے ہیں اور جن کی عمر عام طور پر ایک سال سے زیادہ ہوتی ہے۔ مثال: پریشر کُکر، ایئر کنڈیشنر، ٹائرز، موبائل اور ٹیلیفون آلات، ٹی وی، مسافر گاڑیاں، دو پہیہ گاڑیاں اور سونے کے زیورات۔

6. صارفین کی غیر پائیدار اشیاء:

ایسی اشیاء جو فوری استعمال کے لیے ہوتی ہیں اور طویل عرصے تک محفوظ نہیں کی جا سکتیں۔ مثال: خوردنی تیل، دودھ، آٹا، چاول، بسکٹ، چینی، چائے، کافی، ادویات وغیرہ۔

یہ اشیاء معیشت میں مسلسل اور بڑے پیمانے پر صارفین کے اخراجات کو ظاہر کرتی ہیں۔

  • سوال: ڈیٹا جمع کرنے کے لیے کس قسم کے متغیر  استعمال ہوں گے؟**

جواب:  گزشتہ 2011-12 سیریز کی طرح ایک ہائبرڈ طریقہ اپنایا جائے گا۔ یکساں نوعیت کی اشیاء کے لیے مقدار(والیوم) کی پیمائش کی جائے گی، جبکہ غیر یکساں یا مختلف معیار والی اشیاء کے لیے قدر(ویلیو) پر مبنی پیمائش استعمال ہوگی۔ جن اشیاء کی پیداوار ایک ماہ سے زیادہ ہو، ان کے لیے‘ ورک ان پروگریس’ کو ویلیو کی صورت میں شامل کیا جائے گا۔

  • سوال: کیا نئی سیریز میں فیکٹریوں کی تبدیلی  کی گنجائش موجود ہے؟

جواب: جی ہاں۔ غیر جواب دہی یا بند فیکٹریوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نئی آئی آئی پی سیریز میں فیکٹریوں کی تبدیلی  کی گنجائش موجود ہے۔

  • سوال: نئی سیریز میں آئی آئی پی کی تیاری کے لیے کون سا فارمولہ استعمال کیا جائے گا؟

جواب: نئی سیریز میں انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن(آئی آئی پی) کی تیاری کے لیےلاسپائریس فکسڈ بیسڈ(ایل ایف بی) انڈیکس فارمولہ استعمال کیا جائے گا۔

 

Where,

Wi = Weight assigned to item i in the base year

Ri = Production relative of item i, calculated as

Pi,t = Production of item i in the current period (t)

Pi,0= Production of item i in the base period

  • سوال: NIC 2-digit سطح پر انڈیکس کی اشاعت کے لیے کون سی این آئی سی درجہ بندی استعمال کی جائے گی؟

جواب: نئی آئی آئی پی سیریز میں انڈیکس کی اشاعت کے لیے این آئی سی کی تازہ ترین ورژن یعنی 2025 این آئی سی استعمال کیا جائے گا۔

  • سوال: ویلیو رپورٹڈ آئٹمز کے لیے کون سا قیمت ڈفلیٹر (پرائس ڈفلیٹر) استعمال کیا جاتا ہے، اور عارضی طور پر کیا استعمال ہوگا؟

جواب: فی الحال ویلیو بیسڈ اشیاء کے لیے‘ہول سیل پرائس انڈیکس(ڈبلیو پی آئی) بطور ڈفلیٹر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بعد میں جب‘آؤٹ پٹ پروڈیوسر پرائس انڈیکس(آؤٹ پٹ پی پی آئی) جاری ہو جائے گا، تو اس کی استحکام کا جائزہ لینے کے بعد اسے استعمال کیا جائے گا۔

  • سوال: نئی آئی آئی پی میں فیکٹریوں کی غیر موجودگی یا عارضی غیر جواب دہی کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے؟

جواب: اگر کوئی فیکٹری 6 ماہ سے کم عرصے کے لیے غیر جواب دہ ہو، تو ٹی اے سی –آئی آئی پی کی سفارش کردہ ‘امپیوٹیشن میتھالوجی’استعمال کی جاتی ہے۔

  • سوال: آل انڈیا آئی آئی پی کی بنیادی سال کی نظرثانی کے لیے تشکیل دی گئی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی(ٹی اے سی) کا بنیادی کردار کیا ہے؟

جواب: ٹی اے سی-آئی آئی پی کا بنیادی کام موجودہ آئی آئی پی فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لینا اور بنیادی سال کی نظرثانی کے لیے ضروری طریقہ کار اور ساختی تبدیلیوں کی سفارش کرنا ہے۔

  • سوال: کیا چین-لنکڈ انڈیکس کی طریق کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے؟

جواب: چین-لنکڈ انڈیکس کی تیاری کا طریقہ ٹی اے سی-آئی آئی پی نے جانچا اور سفارش کیا ہے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ یہ انڈیکس پہلے اندرونی طور پر جاری کیے جائیں اور صرف اس وقت پائلٹ کے طور پر شائع کیے جائیں جب ان کا استحکام اور مضبوطی ثابت ہو جائے۔

  • سوال: کیا نئی سیریز کے ساتھ سیزنل ایڈجسٹڈ  آئی آئی پی جاری کیا جائے گا؟

جواب: سیزنل ایڈجسٹمنٹ کے لیے کافی طویل اور مستحکم ڈیٹا سیریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئی آئی آئی پی سیریز میں یہ کام اس وقت شروع کیا جائے گا جب کافی سالوں کا ڈیٹا دستیاب ہو جائے گا۔

  • سوال: آئی آئی پی ڈیٹا کہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جواب: آئی آئی پی ڈیٹا وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ(ایم او ایس پی آئی) کی سرکاری پریس ریلیز اور اشاعتوں کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے۔ اسے ‘ ای -سنکھیاکی پورٹل’پر اس لنک سے حاصل کیا جا سکتا ہے:

[https://esankhyiki.mospi.gov.in](https://esankhyiki.mospi.gov.in)

********

 

 

ش ح- ظ الف-  م ش

UR- 7597

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2265753) وزیٹر کاؤنٹر : 12