PIB Backgrounder
ہندوستان کے شماریاتی اور ڈیٹا نظام میں مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تبدیلی
प्रविष्टि तिथि:
20 MAR 2026 12:08PM by PIB Delhi
|
کلیدی نکات
- این آئی سی کوڈنگ، پرانے ریکارڈز تک رسائی، ذہین دستاویزی تلاش اور ویب سائٹ پر اے آئی سے چلنے والے چیٹ بوٹ جیسے اے آئی ٹولز متعارف کرائے گئے ہیں۔
- ای-سنکھیاکی میں ایم سی پی اور سیمینٹک سرچ کو شامل کیا گیا ہے تاکہ سرکاری شماریاتی ڈیٹا سیٹس تک آسان رسائی ممکن ہو سکے۔
- این ڈی اے پی بصری تجزیاتی ٹولز اور اے آئی پر مبنی سرچ صلاحیت کے ذریعہ مختلف شعبوں کے درمیان تجزیاتی نظام کو وسعت دے رہا ہے۔
- ڈیٹا انوویشن لیب جیسے ادارہ جاتی اقدامات عوامی ڈیٹا سے متعلق امور میں اے آئی تیاری کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
- بھارت-وی آئی ایس ٹی اے اے آر-‘وستار’، موسمیاتی پیش گوئی اور آدھار تصدیق مختلف شعبوں میں اے آئی کے وسیع استعمال کی مثالیں ہیں۔
- یونک آئڈنٹیٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے جدید اے آئی پر مبنی بایومیٹرک ڈی-ڈیپلیکیشن اور دستاویزات کی تصدیق کا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے۔
|
تعارف
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اکیسویں صدی کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجیز میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے، جو دنیا بھر میں معیشتوں، اداروں اور عوامی نظاموں کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کر رہی ہے۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے مطابق حکومتوں میں اے آئی کا استعمال عوامی خدمات کی فراہمی، فیصلہ سازی اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔
ہندوستان نے بھی اے آئی کو پیداواریت میں بہتری، جدت کو تیز کرنے اور ڈیٹا و ڈجیٹل ٹولز کے بہتر استعمال کے ذریعے حکمرانی کو مضبوط بنانے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہ تکنیکی تبدیلی ہندوستان کے عوامی ڈیٹا نظاموں میں تیزی سے نمایاں ہو رہی ہے، جہاں اے آئی، مشین لرننگ اور جدید ڈیٹا انالیٹکس کو درجہ بندی، رسائی اور فیصلہ سازی سے متعلق عمل میں شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ ایک زیادہ مؤثر اور جوابدہ ڈجیٹل نظام تشکیل دیا جا سکے۔
اے آئی سے مربوط شماریاتی رسائی اور عوامی ڈیٹا پلیٹ فارمز
ہندوستان کے سرکاری شماریاتی پلیٹ فارمز بتدریج اے آئی سے مربوط ڈیٹا رسائی کے نظاموں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو عوامی ڈیٹا سیٹس کے ساتھ صارفین کے تعامل کو بہتر بناتے ہیں۔ نیتی آیوگ اور وزارت شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کے حالیہ اقدامات ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں اے آئی پر مبنی انٹرفیس براہِ راست سوالات، قدرتی زبان میں تلاش اور سیاق و سباق پر مبنی معلومات تک رسائی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
ای-سنکھیاکی پلیٹ فارم کے ساتھ ایم سی پی انٹیگریشن
|
ای-سنکھیاکی: ہندوستان کا سرکاری شماریاتی ڈیٹا پلیٹ فارم
- ای-سنکھیاکی پورٹل کا آغاز- 2024 میں اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ ملک میں سرکاری شماریاتی معلومات کی آسان تر ترسیل کے لیے ایک جامع ڈیٹا مینجمنٹ اور شیئرنگ نظام قائم کیا جا سکے۔
- اب تک اس پلیٹ فارم پر 21 شماریاتی مصنوعات موجود ہیں، جن میں 136 ملین سے زائد ریکارڈز شامل ہیں تاکہ ڈیٹا کی بہتر تلاش اور مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
|
فروری-2026 میں نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس (این ایس او) نے ای-سنکھیاکی پورٹل، جو ہندوستان کا سرکاری شماریاتی پلیٹ فارم ہے پر ماڈل کانٹیکسٹ پروٹوکول (ایم سی پی) سرور کا بیٹا ورژن متعارف کرایا۔ یہ اقدام این ایس او کی اس وسیع کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد شہریوں، محققین اور کاروباری اداروں کے لیے سرکاری شماریاتی معلومات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ ایم سی پی کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ صارفین اپنے اے آئی پر مبنی ٹولز اور ایپلی کیشنز کے ذریعے شماریاتی ڈیٹا سیٹس سے براہِ راست تعامل کر سکیں۔
اس وقت یہ سرور ای-سنکھیاکی پر دستیاب 21 شماریاتی مصنوعات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین بڑے ڈیٹا فائلز ڈاؤن لوڈ کیے بغیر براہِ راست معلومات حاصل کر سکتے ہیں، سرکاری ڈیٹا سیٹس کو اپنے تجزیاتی سسٹمز سے جوڑ سکتے ہیں، شماریاتی رپورٹنگ کو خودکار بنا سکتے ہیں اور ایک متحدہ انٹرفیس کے ذریعے متعدد ڈیٹا سیٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے ڈیٹا حاصل کرنے میں صرف ہونے والا وقت کم ہوگا اور تجزیہ و فیصلہ سازی کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
اے آئی ایجنٹ کو سرکاری اعدادوشمار سے مربوط کرنے کے اقدامات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ https://datainnovation.mospi.gov.in/mospi-mcp#connect.
ای -سنکھیاکی ڈیٹاسیٹس کے لیے سیمنٹک تلاش
ای-سنکھیاکی پر ایک بیٹا ورژن سیمینٹک سرچ فیچر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کو قدرتی زبان (این ایل پی) کے ذریعے ڈیٹا سیٹس کو تلاش کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس سے ای-سنکھیاکی ڈیش بورڈ کی قابل استعمالی (یوذژیبلیٹی) بہتر ہوگی اور صارف کا تجربہ مزید مؤثر بنے گا۔
قدرتی زبان میں دئیے گئے سیاق و سباق کی بنیاد پر یہ نظام صارفین کو پورٹل کے اندر موجود سب سے موزوں پروڈکٹ پیج کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جس سے مطلوبہ شماریاتی معلومات تک رسائی مزید آسان ہو جاتی ہے۔
ای-سنکھیاکی ڈیٹا سیٹس کے لیے سیمینٹک سرچ تک رسائی یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے: https://esankhyiki.mospi.gov.in/.
شماریاتی معلومات تک رسائی کے لیے اے آئی چیٹ بوٹ
شماریات و پروگرام نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کی ویب سائٹ کو زیادہ انٹرایکٹیو اور صارف دوست بنانے کے لیے ایک اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹ متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ چیٹ بوٹ صارفین کو سادہ قدرتی زبان ( این ایل کیو) کے ذریعہ ڈیٹا سیٹس، رپورٹس اور شماریاتی اشاعتوں کو تلاش کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یہ نظام سیاق و سباق پر مبنی جوابات دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور گفتگو کے تسلسل (کنورسیشنل کنٹینیوٹی) کو برقرار رکھتا ہے تاکہ صارف کا تجربہ زیادہ ہموار ہو۔ سوالات کے جوابات دینے کے علاوہ یہ چیٹ بوٹ صارفین کو ویب سائٹ کے متعلقہ حصوں کی طرف ایمبیڈڈ لنکس کے ذریعے رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے، جس سے مطلوبہ شماریاتی معلومات تک رسائی تیز اور کم محنت طلب ہو جاتی ہے۔
شماریاتی معلومات کے لیے اے آئی چیٹ بوٹ تک رسائی یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے: https://www.mospi.gov.in.
نیشنل ڈیٹا اینڈ انالیٹکس پلیٹ فارم (این ڈی اے پی)
سن 2022 میں شروع کیا گیا این ڈی اے پی مختلف سرکاری اداروں کے ڈیٹاسیٹس کی میزبانی کرتا ہے، انہیں ایک مربوط شکل میں پیش کرتا ہے اور انالٹکس و ویژولائزیشن کے لیے ٹولز فراہم کرتا ہے۔ اس وقت این ڈی اے پی پر دستیاب ڈیٹا 52 وزارتوں اور 31 شعبوں میں درجہ بند ہے۔
این ڈی اے پی 2.0 کے تحت ایک اگلی نسل کا پلیٹ فارم تصور کیا جا رہا ہے، جس میں ایک جدید انالیٹیکل لیئر شامل ہوگی تاکہ ڈیٹا کی تلاش ، افادیت، بین الشعبہ جاتی تجزیہ ( کراس سیکٹرل انالیسس) اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد استعمال میں آسانی بڑھانا، صارفین کی شمولیت (یوژرز انگیجمنٹ) کو مضبوط کرنا اور ڈیٹا کی تلاش کو زیادہ مؤثر بنانا ہے تاکہ صارفین کو ایک زیادہ سہل اور سمجھنے میں آسان ڈیٹا ایکسپلوریشن تجربہ مل سکے۔
اس میں پہلے سے تیار شدہ بصیرتیں ، بصری خاکوں اور چارٹس کی صورت میں شعبہ جاتی انالیٹیکل ماڈیولز، مائیکرو لیول ڈیٹا کی ہم آہنگی ، بہتر یو ایکس/ یوآئی ڈیزائن اور اے آئی/مشین لرننگ پر مبنی سرچ انجن شامل ہیں جو صارف کے سوالات کے مطابق جوابات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ تمام اقدامات ہندوستان کے عوامی شماریاتی نظام میں‘صرف ڈیٹا کی دستیابی’ سے ‘ذہین ڈیٹا کے مؤثر استعمال’ کی طرف منتقلی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
شماریاتی درجہ بندی اور سروے آپریشنز میں اے آئی
شماریاتی درجہ بندی اور سروے آپریشنز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ درستگی میں اضافہ ہو، دستی محنت کم ہو، اور فیلڈ لیول پر فیصلہ سازی کو تیز کیا جا سکے۔ درجہ بندی کے ٹولز اور جدید سرچ سلوشنز کے ذریعہ سرکاری سروے کے عمل کو زیادہ مؤثر، یکساں (کنسسٹنٹ ) اور بڑھتی ہوئی پیچیدہ شماریاتی ڈیٹا کلیکشن کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔
صنعتی درجہ بندی کے لیے اے آئی ٹول
صنعتی درجہ بندی (انڈسٹریل کلاسی فکیشن) کے لیے اے آئی پر مبنی ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں جو کاروباری سرگرمیوں، اداروں اور معاشی یونٹس کو درست کوڈز اور کیٹیگریز میں خودکار طور پر درجہ بند کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف انسانی غلطی کم ہوتی ہے بلکہ ڈیٹا پراسیسنگ کی رفتار بھی بہتر ہوتی ہے اور بڑے پیمانے پر سروے ڈیٹا کو زیادہ معیاری انداز میں منظم کرنا ممکن ہوتا ہے۔
یہ اقدامات مجموعی طور پر ہندوستان کے شماریاتی نظام کو ایک زیادہ ڈیٹا ڈرِون اور ذہین (اینٹلیجنٹ) فریم ورک کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ایک اے آئی/مشین لرننگ پر مبنی درجہ بندی ٹول متعارف کرایا گیا ہے تاکہ سرکاری شماریات کی تیاری میں نیشنل انڈسٹریل کلاسی فکیشن (این آئی سی) کے استعمال کو آسان بنایا جا سکے۔ یہ ٹول نیچرل لینگویج پروسیسنگ (این ایل پی) کو استعمال کرتا ہے، جس کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز اپنے متن پر مبنی سوالات داخل کر سکتے ہیں اور نظام انہیں سب سے زیادہ موزوں تین این آئی سی کوڈز کی تجاویز فراہم کرتا ہے۔
یہ اقدام دستی درجہ بندی کے عمل کو کم کرتا ہے، شماریاتی عملےکی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے، اور ڈیٹا اکٹھا کرنے میں زیادہ درستگی کو یقینی بناتا ہے۔ اس طرح یہ نظام شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے لیے زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اے آئی سے چلنے والااین آئی سی کوڈ سیمینٹک سرچ ٹول یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے:
https://nicfinder.mospi.gov.in/
ایم او ایس پی آئی اسٹیٹس ڈوک اے اسسٹنٹ: دستاویزات کے لیے اے آئی- فعال ذہین تلاش کا حل
ایک اے آئی سے چلنے والا ذہین سرچ حل (اینٹلیجنٹ سرچ سولیوشن فار ڈاکیومنٹس) تیار کیا گیا ہے جو صارفین کو قدرتی زبان میں اپ لوڈ شدہ دستاویزات تلاش کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کو مختلف اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر فیلڈ انویسٹی گیٹرز، کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جو عموماً مینوولز، رپورٹس، اشاعتیں اور دیگر دستاویزات (زیادہ تر پی ڈی ایف یا تصویری شکل میں) استعمال کرتے ہیں۔
اس ٹول میں وزارت کی جانب سے اپریل 2025 کے بعد شائع ہونے والی تمام تازہ دستاویزات، بشمول مختلف سرویز کے انسٹرکشن مینوولز، کا ایک جامع نالج بیس شامل ہے۔ اس کے ذریعے صارفین مطلوبہ معلومات کو زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ تلاش کر سکتے ہیں۔
یہ چیٹ بوٹ ایم او ایس پی آئی ویب سائٹ کے اے آئی پائیلٹس آف آفرنگ سیکشن کے تحت دستیاب ہے اور اس تک رسائی ویب پورٹل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اے آئی پر مبنی لیگیسی ڈیٹا ایکسٹریکشن اور پروسیسنگ ٹول
ہندوستان کے نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس ( این ایس او) کا پرانا ڈیٹا مختلف فارمیٹس میں محفوظ ہے، جن میں پی ڈی ایف فائلز،سی ایس وی ، ایکسل فائلز (مرجڈ سیلز اور ہندی متن کے ساتھ) اور تصاویر شامل ہیں۔ اس ڈیٹا کو نکالنے کے لیے تفصیلی کوڈنگ درکار ہوتی ہے۔ مناسب کوڈنگ مہارت یا وسائل نہ ہونے کی صورت میں اس ڈیٹا کا مؤثر استعمال مشکل ہو جاتا ہے، جس سے تجزیہ اور فیصلہ سازی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے ایک اے آئی پر مبنی ٹول تیار کیا گیا ہے جو مختلف دستاویزات سے ڈیٹا نکال کر اسے ڈیٹا بیس میں محفوظ کرتا ہے تاکہ بعد میں تجزیہ اور پروسیسنگ آسان ہو سکے۔
یہ ٹول ایم او ایس پی آئی ویب سائٹ کے اے آئی پائیلٹس آفرنگ سیکشن کے تحت دستیاب ہے، اور اس تک براہِ راست رسائی اس لنک کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے:
[https://legacydata.ai.mospi.gov.in)/[https://legacydata.ai.mospi.gov.in/)
عوامی ڈیٹا کے مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال کی مثالیں
ہندوستان میں اب اے آئی کو اہم عوامی خدمات کے شعبوں میں تیزی سے اپنایا جا رہا ہے، جہاں قابلِ اعتماد، محفوظ اور ریئل ٹائم فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اقدامات اس وسیع تر تبدیلی کی مثال ہیں جس میں عوامی ڈیٹا، ڈجیٹل انفراسٹرکچر اور پالیسی فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے عوامی فلاح کے شعبوں میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
صحت کے نظام میں قابلِ اعتماد اے آئی
صحت کے لیے اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم برائے اے آئی کا بینچ مارکنگ نظام (بی او ڈی ایچ): بی او ڈی ایچ کو فروری 2026 میں اس مقصد کے تحت شروع کیا گیا کہ متنوع اور گمنام حقیقی دنیا کے صحت کے ڈیٹاسیٹس کے ذریعہ اے آئی ماڈلز کا منظم انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔ یہ پلیٹ فارم بڑے پیمانے پر تعیناتی سے پہلے اے آئی سسٹمز کی کارکردگی، مضبوطی، جانبداری اور عمومی قابلِ اطلاقی کا جائزہ لیتا ہے، تاکہ ایسے بینچ مارکنگ معیار قائم کیے جا سکیں جو قومی عوامی صحت کی ترجیحات کے مطابق قابلِ اعتماد اور طبی طور پر موزوں نتائج کو بہتر بنائیں۔یہ نظام اس ‘اے آئی کوالٹی ٹیسٹنگ ٹرائلیما’ کو اسٹریٹجک انداز میں حل کرتا ہے — جو روایتی طور پر قابلِ اعتمادیت ، شفافیت اور کوریج کے درمیان ایک سمجھوتے کی کیفیت ہوتی ہے۔
یہ پلیٹ فارم آیوشمان بھارت ڈجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے فریم ورک پر قائم کیا گیا ہے۔بی او ڈی ایچ ملک بھر کے ڈجیٹل صحت کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے محفوظ ماڈل ٹیسٹنگ اور توثیق کو ممکن بناتا ہے، جبکہ پرائیویسی کے تحفظات کو بھی برقرار رکھتا ہے۔
یہ ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں ڈیولپرز مختلف ڈیٹاسیٹس پر اے آئی سسٹمز کو ٹرین اور جانچ سکتے ہیں اور ریگولیٹرز مضبوط شماریاتی اعتماد کے ساتھ منظم تھرڈ پارٹی اسیسمنٹ انجام دے سکتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد صحت کے اے آئی ماڈلز کے لیے ایک قابلِ اعتماد بینچ مارکنگ نظام تیار کرنا ہے اور مختلف صحت کے نظاموں میں ان کی یکسانیت اور مستقل مزاجی کو بہتر بنانا ہے۔
|
اے بی ڈی ایم : ہندوستان میں ڈجیٹل صحت کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینا
آیوشمان بھارت ڈجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کا مقصد ہندوستان میں صحت کے نظام کی معاونت کے لیے ضروری بنیادی ڈجیٹل انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔ یہ مشن صحت کے شعبے سے وابستہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ڈجیٹل ہائی ویز کے ذریعے آپس میں جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ پورے ہیلتھ کیئر ایکوسسٹم میں معلومات اور خدمات کا مؤثر، مربوط اور محفوظ تبادلہ ممکن بنایا جا سکے۔
|
ہندوستان میں صحت کے شعبے کے لیے مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی (ایس اے ایچ آئی)
بی او ڈی ایچ کے ساتھ ہی شروع کی گئی-اسٹریٹجی فار آرٹی فیشیل اینٹلی جنس این ہیلتھ کیئر فار انڈیا- ایس اے ایچ آئی کو ایک جامع فریم ورک کے طور پر تصور کیا گیا ہے جس کا مقصد صحت کے شعبے میں محفوظ، مربوط اور قابلِ اعتماد اے آئی حلوں کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا ہدف مختلف اداروں، ٹیکنالوجی ڈیولپرز، محققین اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے تاکہ اے آئی حلوں کا بڑے پیمانے پر نفاذ سے پہلے حفاظت، مؤثریت اور اخلاقی تقاضوں کے سخت معیارات کے مطابق جائزہ لیا جا سکے۔
یہ حکمت عملی ایک گورننس اور نالج شیئرنگ پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرے گی، جو صحت کے اے آئی نظام میں بہترین طریقوں کو فروغ دے گی۔ اس میں مریضوں کے ڈیٹا کے تحفظ، الگورتھمز کے ذمہ دارانہ استعمال اور پورے صحت کے نظام میں جوابدہی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
موسمیاتی ڈیٹا اور اے آئی پر مبنی پیش گوئی
ہندوستان کا محکمہ موسمیات (انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ-آئی ایم ڈی) اور وزارتِ ارضی سائنسز کے تحت دیگر ادارے موسمی اور ماحولیاتی پیش گوئی کے لیے تیزی سے اے آئی ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں سائیکلون کی شدت کے اندازے کے لیے‘ایڈوانس ڈوورک تکنیک’اور اے آئی و مشین لرننگ پر مبنی ماڈلز شامل ہیں جو ڈائنامیکل فورکاسٹنگ کے ساتھ مل کر ہائبرڈ نظام کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اے آئی پر مبنی تحقیق مختلف موسمیاتی شعبوں میں بھی استعمال ہو رہی ہے، جن میں مختصر مدت کی عالمی پیش گوئیاں، بارش کی تفصیلی تقسیم، جنگلاتی آگ کی جگہ کی پیش گوئی، دھند کی پیش گوئی، آسمانی بجلی اور طوفان کے الرٹس، اور ڈیپ لرننگ کے ذریعے بارش کی بہتر پیمائش شامل ہیں۔
زراعت میں اے آئی پر مبنی فیصلہ سازی
بھارت-وی آئی ایس ٹی اے اے آر’وستار’
یہ ایک کثیر لسانی اے آئی پر مبنی نظام ہے جسے یونین بجٹ 2026-27 میں تجویز کیا گیا ہے۔ یہ نظام‘ ایگری اسٹیک’ پورٹلز اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کی مشاورتی خدمات کو یکجا کرے گا۔ اس کا مقصد کسانوں کو مخصوص رہنمائی فراہم کر کے پیداوار میں اضافہ، بہتر فیصلہ سازی اور خطرات میں کمی لانا ہے۔
کسان ای-مترا ( کے ای –ایم)
یہ پلیٹ فارم 2023 میں شروع کیا گیا تھا اور صوتی (ووائس) اے آئی سپورٹ فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے کسان 11 علاقائی زبانوں میں سرکاری اسکیموں سے متعلق سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ دسمبر 2025 تک یہ نظام 93 لاکھ سے زائد سوالات کے جوابات دے چکا تھا۔
نیشنل پیسٹ سرویلانس سسٹم ( این پی ایس ایس)
یہ نظام فصلوں میں کیڑوں اور بیماریوں کی شناخت کے لیے اے آئی اور مشین لرننگ استعمال کرتا ہے، جس میں تصویر پر مبنی تجزیہ شامل ہے۔ یہ 66 فصلوں اور 432 کیڑوں کی اقسام کے لیے 10,000 سے زائد ایکسٹینشن ورکرز کو معاونت فراہم کرتا ہے (دسمبر 2025 تک)۔
یہ تمام اقدامات مل کر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان میں بڑھتا ہوا ادارہ جاتی زور ڈیٹا پر مبنی ٹولز کے استعمال کے ذریعے قابلِ اعتماد نظام، بہتر سروس ڈیلیوری اور زیادہ باخبر عوامی فیصلہ سازی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔
اے آئی انضمام کو سپورٹ کرنے والا ادارہ جاتی ڈھانچہ
ہندوستان کا ڈیٹا ایکوسسٹم اب ایسے ادارہ جاتی پلیٹ فارمز کے ذریعے مضبوط ہو رہا ہے جو عوامی نظاموں میں جدت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور صلاحیت سازی کو فروغ دیتے ہیں۔ حالیہ اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مخصوص ڈیٹا انفراسٹرکچر، مشترکہ تحقیقی فریم ورکس اور ڈجیٹل پبلک پلیٹ فارمز کے ذریعے مصنوعی ذہانت(اے آئی) کو سرکاری شماریاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شراکت داریوں اور تربیتی پروگراموں پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ نئے ٹولز نہ صرف کارکردگی بہتر بنائیں بلکہ رسائی کو وسعت دیں اور مختلف شعبوں میں قابلِ اعتماد فیصلہ سازی کو سہارا دیں۔
ڈیٹا انوویشن لیب: ہندوستان کا شماریاتی‘سینڈ باکس’
ڈیٹا انفارمیٹکس اینڈ انوویشن ڈویژن (ڈی آئی آئی ی) کے تحت ڈیٹا انوویشن لیب (ڈی آئی ایل) کا قیام ہندوستان کے قومی شماریاتی نظام کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ایک اسٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جو جدت کو فروغ دیتا ہے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں مدد فراہم کرتا ہے، اور سرکاری شماریات کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بناتا ہے۔
ڈیٹا پر مبنی نظاموں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر، ڈیٹا انوویشن لیب جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت ( اے آئی)، بگ ڈیٹا انالیٹکس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے شماریاتی عمل کی کارکردگی، درستگی اور رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے۔ اس کا مقصد ایک زیادہ مضبوط اور شفاف شماریاتی نظام تشکیل دینا ہے جو شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ڈیٹا سینٹرک گورننس کو سپورٹ کرے۔
یہ اقدام تین بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے: ریسرچ نیٹ ورک، انوویشن اور اسٹوڈنٹ آؤٹ ریچ۔ یہ تینوں مل کر ملک کے ڈیٹا ایکوسسٹم کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں اور یہ سب کچھ ڈی آئی لیب پورٹل کے ذریعے ہوتا ہے جو ایک باہمی تعاون پر مبنی ڈجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر تحقیق، تجربات اور شمولیت کو ممکن بناتا ہے۔
جنوری - 2026 تک وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او اسی پی آئی) نے مختلف اداروں کے ساتھ 17 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو ایس) پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا انوویشن لیب کے تحت 12 نئے اے آئی یوز کیسز پر مشتمل ایک ریپوزیٹری بھی تیار کی گئی ہے، جن میں سے دو یوز کیسز کو عملی طور پر نافذکیا جا چکا ہے۔
تعاون پر مبنی ایکوسسٹم اور شراکت داریاں
سرکاری شماریات میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر انضمام کی کامیابی مختلف سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان مضبوط تعاون پر منحصر ہے۔ ڈیٹا انوویشن لیب ( ڈی آئی لیب) مختلف شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، جن میں نیتی آیوگ) اور متعدد تعلیمی و تحقیقی ادارے شامل ہیں۔
یہ باہمی تعاون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہندوستان کا شماریاتی جدید کاری کا عمل وسیع تر علمی اشتراک سے فائدہ اٹھاتا رہے اور اہم اداروں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہو۔
|
اے آئی پر مبنی شماریاتی نظام کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی
قومی فلسفہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس’ کے مطابق صلاحیت سازی کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھا کر ٹیکنالوجی پر مبنی نظاموں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس میں بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ ( ایم ایل) جیسے جدید ٹولز کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری شماریات کی درستگی، بروقت دستیابی اور عالمی معیار کے مطابق تقابل کو بہتر بنایا جا سکے۔
ریاستی شماریاتی نظاموں کے ساتھ شمولیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں اور خصوصی تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی وسیع کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات مشن کرم یوگی کے تحت اس عزم کی توثیق کرتے ہیں کہ ایک مستقبل کے لیے تیار شماریاتی افرادی قوت تشکیل دی جائے۔
جیسے جیسے ایجنٹک اے آئی کا رجحان بڑھ رہا ہے — جہاں اے آئی سسٹمز زیادہ خودمختار طور پر کام کرنے لگتے ہیں — اسی کے مطابق نیشنل اسٹیٹسٹیکل سسٹم ٹریننگ اکیڈمی ( این ایس ایس ٹی اے) میں تربیت کے دائرے کو بھی مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
اس عمل میں انسانی کردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ خام ڈیٹا کو سیاق و سباق فراہم کیا جا سکے اور اے آئی سسٹمز میں موجود ممکنہ تعصبات (بیاسز) کی نشاندہی اور تدارک کیا جا سکے۔ اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ مسلسل صلاحیت سازی ناگزیر ہے تاکہ شماریاتی افسران اعلیٰ معیار کا، درست اور غیر جانبدار ڈیٹا تیار کرنے کے قابل رہیں، جو مؤثر حکمرانی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
|
بھارت جین: ہندوستان کی کثیر لسانی اے آئی بنیاد کی تعمیر
جون 2025 میں شروع کیا گیا بھارت جین ہندوستان کا پہلا سرکاری طور پر فنڈ کیا گیا، خودمختار، کثیر لسانی اور کثیر الجہتی بڑا لینگویج ماڈل ( ایل ایل ایم) ہے۔یہ ماڈل نیشنل مشن آن انٹر ڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اسے انڈیا اے آئی مشن کے ذریعے مزید ترقی دی گئی ہے۔ یہ نظام ہندوستان کی 22 زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے اور متن ( ٹیکسٹ)، آواز (اسپیچ) اور دستاویزات/تصویری مواد (ڈاکیومنٹ ورژن) کی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔
ہندوستان مرکوز ڈیٹا سیٹس پر مبنی یہ ماڈل تعلیمی اداروں کے ایک کنسورشیم کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسا مقامی طور پر تیار کردہ اے آئی اسٹیک قائم کرنا ہے جو عوامی خدمات اور ترقیاتی استعمالات کے لیے مؤثر ثابت ہو: https://bharatgen.com/
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعہ آدھار کو آگے بڑھانا
ایک ارب سے زیادہ ہندوستانیوں کی شناخت کو محفوظ کرنے والی غیر مرئی شیلڈ: ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) نے ہندوستان کے ابھرتے ہوئے ڈجیٹل سکیورٹی فن تعمیر کے حصے کے طور پر فروری 2026 میں جدید ترین اے آئی پر مبنی بایو میٹرک ڈیڈپلیکیشن اور دستاویز کی تصدیق کا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے۔ نیا پلیٹ فارم فنگر پرنٹ، چہرے اور ایرس کے طریقوں میں بایو میٹرک میچنگ کو مضبوط بنا کر اندراج کو بہتر بنانے اور درستگی کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جدید ترین اے آئی انفرنس ٹیکنالوجیز کے ساتھ یو آئی ڈی اے آئی نے پہلے ہی کئی ریاستوں کے لیے بہتر ڈیڈپلیکیشن رول آؤٹ مکمل کر لیا ہے اور آنے والے مہینوں میں ملک بھر میں اس مشق کو مکمل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
آدھار ویژن 2032: تیزی سے ترقی پذیر تکنیکی اور ریگولیٹری ماحول کو تسلیم کرتے ہوئے یو آئی ڈی اے آئی نے آدھار ویژن 2032 فریم ورک کے تحت آدھار کی مستقبل کی ترقی کی رہنمائی کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک اور تکنیکی جائزہ شروع کیا ہے۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت، بلاک چین، کوانٹم کمپیوٹنگ، ایڈوانس انکرپشن اور اگلی نسل کے ڈیٹا سکیورٹی سسٹمز کو مربوط کرنا ہے تاکہ آدھار کی لچک کو مضبوط کیا جاسکے، اسکیل ایبلٹی کو بہتر بنایا جاسکے اور مستقبل کی ڈجیٹل ضروریات کے لیے محفوظ موافقت کو یقینی بنایا جاسکے۔
|
اے آئی پر مبنی آدھار توثیق کا حل
یو آئی ڈی اے آئی کے ذریعہ تیار کردہ اے آئی اور مشین لرننگ پر مبنی‘آدھار فیس آتھنٹکیشن’ سلوشن کو تیزی سے اپنایا گیا ہے۔ اس کا استعمال فی الحال متعدد سرکاری خدمات میں کیا جا رہا ہے تاکہ ہدف شدہ مستفیدین کو فوائد کی آسانی سے ترسیل کو ممکن بنایا جا سکے۔
پی ایم آواس (اربن)، پی ایم ای ڈرائیو، پی ایم-جے اے وائی، پی ایم اجولا، پی ایم کسان، پی ایم انٹرنشپ سمیت کئی فلیگ شپ اسکیموں نے اس نظام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے مربوط کیا ہے۔
|
یہ تمام اقدامات مل کر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اے آئی سے چلنے والے ڈیٹا سسٹمز کے لیے طویل مدتی ادارہ جاتی صلاحیت (آئی سی) کو مضبوط بنانے کی ایک وسیع کوشش جاری ہے۔ یہ کوشش جدت (انوویشن)، شراکت داریوں ( پارٹنر شپس) اور انسانی صلاحیت (ہیومن کیپا بلیٹی) کو یکجا کر کے قابلِ اعتماد ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔
خلاصہ
ہندوستان کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کو بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے عوامی ڈجیٹل صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی سے آگے بڑھ کر اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال اس وسیع تر قومی کوشش کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ڈیٹا کو زیادہ بامعنی، قابلِ رسائی اور شہریوں کی روزمرہ ضروریات کے مطابق بنانا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد ڈیٹا کے معیار کو بہتر بنانا اور اسے ایسے طریقے سے استعمال کرنا ہے جو مؤثر حکمرانی اور شعبہ جاتی فیصلہ سازی میں مدد دے سکے۔
ہندوستان میں تیار ہونے والے کئی حل ملک کے منفرد سیاق و سباق کے مطابق ہیں جن میں لسانی تنوع اور مختلف سماجی و اقتصادی حالات شامل ہیں۔ اس میں اس بات پر واضح زور دیا گیا ہے کہ تکنیکی ترقی کے فوائد سب کے لیے مساوی طور پر قابلِ رسائی ہوں۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ہندوستان کے عوامی ڈیٹا ایکوسسٹم میں ایک بنیادی معاون پرت (انیبلنگ لیئر) کے طور پر ابھر رہی ہے، جو معلومات کی درجہ بندی، رسائی، تشریح اور استعمال کے طریقوں کو بہتر بنا رہی ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224472®=3&lang=2
https://datainnovation.mospi.gov.in/ai-pilots
https://nicfinder.mospi.gov.in/
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=2119641®=3&lang=2
https://datainnovation.mospi.gov.in/mospi-ai-use-cases#
https://www.mospi.gov.in/sites/default/files/announcements/Revised_DI_Lab_Guidelines_0_0.pdf
https://datainnovation.mospi.gov.in/aboutus
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2208162®=3&lang=2
https://datainnovation.mospi.gov.in/governing-council
https://datainnovation.mospi.gov.in/selection-committee
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227794®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2076859®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2208162®=3&lang=2
وزارت مالیات
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221432®=3&lang=2
وزارت صحت اور خاندانی بہبود
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2229226®=3&lang=1
https://abdm.gov.in/abdm
وزارت ارضیات و سائنس
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2158416®=3&lang=2
وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2026/feb/doc2026214789901.pdf
وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2184639®=3&lang=2
https://uidai.gov.in/images/FaceAuthTransation.pdf
https://uidai.gov.in/images/The_Invisible_Shield_Press_release.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=157528®=3&lang=2
نیتی آیوگ
https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-02/Annual%20Report%202024-25%20English_FINAL_LOW%20RES_0.pdf
دیگر گھریلو ادارے
https://www.iitk.ac.in/bodh-at-india-ai-impact-summit-2026
عالمی ادارے
https://www.oecd.org/en/publications/2025/06/governing-with-artificial-intelligence_398fa287/full-report/how-artificial-intelligence-is-accelerating-the-digital-government-journey_d9552dc7.html
Click Here to See PDF
********
ش ح- ظ الف- م ع
UR- 7490
(रिलीज़ आईडी: 2264926)
आगंतुक पटल : 22