سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال:تحقیق اور ترقی کے نتائج
प्रविष्टि तिथि:
05 FEB 2026 3:25PM by PIB Delhi
عوامی تحقیق و ترقی کے اخراجات کے نتائج کا وقتاً فوقتاً مختلف نظاموں کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے۔ پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کی جانب سے حال ہی میں “اختراعی ترقی کے اشاریوں کا جائزہ” کے عنوان سے اسی نوعیت کا ایک مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس میں ملک بھر میں پھیلی ہوئی 233 عوامی مالی اعانت سے چلنے والی تحقیق و ترقی کی لیبارٹریوں/اداروں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 22-2021 اور 2023-2022 کے دوران 233 عوامی مالی اعانت سے چلنے والے تحقیق و ترقی کے اداروں نے مجموعی طور پر 1,622 پیٹنٹ فائل کیے۔ جبکہ 232 اداروں کو 1,356 پیٹنٹ دیے گئے۔ اس کے علاوہ دو سال کی مدت میں 1,839 ٹیکنالوجیز کی منتقلی ہوئی، 1,014 نئی مصنوعات تیار کی گئیں اور 1,746 نئی خدمات شروع کی گئیں۔ اسی طرح تمام مرکزی سیکٹر کی اسکیموں/پروگراموں کے نتائج کا جائزہ نیتی آیوگ کے ذریعے مربوط آؤٹ پٹ-آؤٹ کم مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ16ویں مالیاتی کمیشن کی مدت یعنی 27-2026 سے 2031-2030 کے دوران مختلف مرکزی سیکٹر کی اسکیموں/پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے ان کا تھرڈ پارٹی جائزہ لیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے کمرشلائزیشن، صنعتی تعاون اور نجی شعبے کی تحقیق و ترقی میں شراکت کو فروغ دینے کی حکمت عملی کے تحت حکومت نے پروگراموں/اسکیموں، مشنز اور پالیسی پیش رفت کے ذریعے کئی نئی اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدامات درج ذیل ہیں:
- سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کو اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک سمت فراہم کرنے کے لیے اے این آر ایف ایکٹ 2023 کے ذریعے قومی تحقیقی فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کے لیے مرکزی حکومت نے 14,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔
- نجی شعبے میں تحقیق کو فروغ دینے کے لیے چھ سال کی مدت میں 1 لاکھ کروڑ روپے کے مالیاتی فنڈ کے ساتھ تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔
- بھارت کو کوانٹم ٹیکنالوجی اور اس کے اطلاق میں صفِ اول کے ممالک میں شامل کرنے کے لیے قومی کوانٹم مشن (بجٹ مختص: 6,003.65 کروڑ روپے) اور بین الشعبہ جاتی سائبر فزیکل سسٹمز پر قومی مشن (بجٹ مختص: 3,660 کروڑ روپے) جیسے قومی مشنز شروع کیے گئے ہیں۔
- مختلف شعبہ جاتی سائبر فزیکل سسٹمز پر قومی مشن اور قومی کوانٹم مشن کے تحت پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ٹیکنالوجی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ باہمی تعاون پر مبنی تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
- تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں جدت کو فروغ دینے کے لیے نیشنل انوویشن ڈیولپمنٹ اینڈ اینہانسمنٹ (نیدھی)، بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) پروگرام، ڈیفنس انوویشن (آئی ڈیکس) اور ٹی آئی ڈی ای 2.0 (ٹیکنالوجی انکیوبیشن اینڈ ڈیولپمنٹ آف انٹرپرینیورز) پروگرامز نافذ کیے جا رہے ہیں۔
- لیبارٹری تحقیق کے نتائج کو عملی اور تجارتی شکل دینے کے لیے فاسٹ ٹریک ٹرانسلیشن (ایف ٹی ٹی )اور فاسٹ ٹریک کمرشیلائزیشن(ایف ٹی سی) پروگرامز نافذ کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس (ٹی ٹی او ز)، انکیوبیشن مراکز، پی پی پی اور لائسنسنگ ماڈلز کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
- اس کے علاوہ جیو اسپیشل پالیسی 2022، اسپیس پالیسی 2023 اور بائیو ای3 (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایوٹیکنالوجی) پالیسی 2024 جیسی معاون پالیسیوں کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔
ان تمام اقدامات کا مقصد ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال کو فروغ دینا، صنعتوں کے ساتھ شراکت داری کو تقویت دینا اور قومی تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت کو وسعت دینا ہے۔
***
ش ح۔ع و۔ش ا
UN-7413
(रिलीज़ आईडी: 2264004)
आगंतुक पटल : 10