راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 407 ویں رپورٹ کے تعلق سے پریس ریلیز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 6:48PM by PIB Delhi

راجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ جناب بھوبنیشور کلیتا راجیہ سبھا کی صدارت میں، سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کی گرانٹ مطالبات (27-2026) کے حوالے سے اپنی 407 ویں رپورٹ 25 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی/ایوان کی میز پر رکھی۔ کمیٹی نے 24 مارچ 2026 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں مسودہ رپورٹ پر غور کیا اور اسے منظور کیا۔ اس رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے کی گئی سفارشات اور مشاہدات منسلک ہیں۔

  1. یہ مکمل رپورٹ https://sansad.in/rs پر بھی دستیاب ہے۔

حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کی گرانٹ  کےمطالبات(27-2026) پر 407 ویں رپورٹ

سفارشات/مشاہدات — ایک نظر میں

تقابلی بجٹ تجزیہ

کمیٹی بجٹ مختص کرنے اور اس کے استعمال میں اتار چڑھاؤ والے رجحانات کا نوٹس لیتی ہے۔ مالی سال 25-2024 میں محکمے کو بی ای مرحلے میں 2,275.70 کروڑ روپےمختص کیے گئے تھے، جسے آر ای مرحلے میں بڑھا کر 2,460.13 کروڑروپے کر دیا گیا۔ اس اضافے کے باوجود اصل خرچ صرف 1,998.00 کروڑ روپےرہا، جو نظرثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد کی نمایاں کم استعمالی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مالی سال 26-2025کے لیے 3,446.64 کروڑ روپےکے ابتدائی بی ای کو نظرثانی کے مرحلے میں 17.8 فیصد کم کر کے 2,830.45 کروڑروپے کر دیا گیا۔ محکمے نے 9 فروری 2026 تک اس کم شدہ نظرثانی شدہ تخمینے (2,723.68 کروڑروپے) کا 96.23 فیصد استعمال کیا، جو آخرکار اسے مختص فنڈز کو خرچ کرنے کی بہتر صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ کو ابتدائی اخراجات (بی ای) کے مرحلے ہی میں تاریخی اخراجات کے رجحانات، منصوبوں کی پیش رفت اور جذب کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر اپنی مالی ضروریات کا حقیقت پسندانہ اندازہ لگانا چاہیے۔ اس کے علاوہ مالی سال 26-2025 میں بہتر استعمال کو یقینی بنانے والے ادارہ جاتی نظام کو دستاویزی شکل دے کر ادارہ جاتی بنایا جانا چاہیے تاکہ مسلسل کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ محکمہ کو وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر نظرثانی (آر ای) مرحلے میں بھاری کٹوتیوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ایسی کٹوتیاں زیادہ استعمالی کارکردگی کے باوجود پروگرام کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

 (پیرا 2.4)

کمیٹی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مالی سال 26-2025 کے دوران محکمے نے مجموعی فنڈز کے استعمال کی شرح قابلِ تعریف سطح پر حاصل کی ہے، جو نظرثانی شدہ تخمینے کے 96.23 فیصد کے برابر ہے۔ مرکزی شعبے کی اہم اسکیم ’بایو-رائیڈ‘ کے تحت بھی کارکردگی شاندار رہی ہے، جس میں محکمے نے 1,717 کروڑ روپےکے نظرثانی شدہ تخمینے کا 94.88 فیصد (1,629.11 کروڑ روپے) استعمال کیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مالی نظم و نسق میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ کمیٹی مالی سال26-2025 میں محکمے کی طرف سے فنڈز کے استعمال میں ہونے والی اہم بہتری، خاص طور پر ’بایو-رائیڈ‘ اسکیم کے تحت، کی ستائش کرتی ہے۔ یہ بہتر کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اصلاحی اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ دو سالوں میں مجموعی بجٹ میں ہونے والے بڑے اضافے اور پروگراموں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، کمیٹی سختی سے سفارش کرتی ہے کہ محکمہ اس رفتار کو برقرار رکھے۔ اسے اپنی سخت نگرانی اور فعال انتظام کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ 27-2026 کے بجٹ تخمینوں (بی ای) میں مختص فنڈز کا اسی مؤثر انداز میں استعمال ہو، تاکہ اس کے پروگراموں کا زیادہ سے زیادہ اثر حاصل ہو اور مطلوبہ نتائج بروقت حاصل کیے جا سکیں۔

(پیرا 2.10)

کمیٹی نشاندہی کرتی ہے کہ محکمے کی مجموعی بی ای مختص رقم مالی برس23-2022 میں2,581 کروڑروپے سے بڑھ کر 24-2023 میں 2,683.86 کروڑروپے ہو گئی، اس کے بعد25-2024 میں معمولی کمی کے ساتھ 2,275.70 کروڑ تک آ گئی اور پھر26-2025 میں نمایاں طور پر بڑھ کر 3,446.64 کروڑ روپےہو گئی۔ مالی سال 27-2026 میں یہ مختص رقم تقریباً اسی سطح پر یعنی3,446 کروڑروپے پر برقرار رہی۔اسی طرح کا رجحان مرکزی شعبہ جاتی اسکیم’بایو-رائیڈ‘ کے لیے مختص رقم میں بھی دیکھا گیا، جہاں گزشتہ برسوں میں نسبتاً استحکام کے بعد26-2025 میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس، خود مختار اداروں کے لیے مختص رقم 23-2022 سے 26-2025 کے دوران مسلسل اضافہ درج کرتی ہوئی نظر آئی۔چونکہ اہم ’بایو-رائیڈ‘ اسکیم کو، جو محکمے کے بجٹ کا دو تہائی سے زیادہ حصہ تشکیل دیتی ہے، نمایاں اور بڑھتی ہوئی مختص رقم حاصل ہو رہی ہے، کمیٹی مؤثر اور سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ محکمے کو اپنی بہتر کارکردگی کے استعمال کی بنیاد پر مزید مضبوط اور باقاعدہ، سنگ میل پر مبنی مانیٹرنگ نظام کو فروغ دینا چاہیے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ عوامی سرمایہ کاری حقیقی اور اعلیٰ معیار کی تحقیقی نتائج میں تبدیل ہو اور بجٹ تخمینوں اور نظرثانی شدہ تخمینوں کے درمیان ماضی کی منصوبہ بندی کی مشکلات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

(پیرا 2.13)

بایو-رائیڈ: پروگرام کا نفاذ اور اہم کامیابیاں

بایو-رائیڈ اسکیم کے بجٹ رجحانات ابتدائی مختص رقم اور حتمی اخراجات کے درمیان مسلسل غیر مستحکم (اتار چڑھاؤ والے) پیٹرن کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے ساتھ حالیہ عرصے میں ایک نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے جو برقرار ہے۔ اس مرکزی شعبہ جاتی اسکیم کی مؤثریت اور پیش بینی کو بہتر بنانے کے لیے، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ اپنے بجٹ تخمینوں کی درستگی کو بہتر بنانے کو ترجیح دے تاکہ نظرثانی شدہ تخمینے(آر ای) کے مرحلے پر دیکھی جانے والی تیز کمیوں کو کم کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اضافہ کیے گئے2300 کروڑ روپےکی مختص رقم محض عددی نہ رہے، بلکہ حقیقی اخراجات میں تبدیل ہو۔ اس کے علاوہ چونکہ محکمے نے کم شدہ نظرثانی شدہ تخمینے کا 94 فیصد استعمال کرنے کی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس لیے وہ اس اضافہ کی گئی مختص رقم کو جذب کرنے اور مؤثر طور پر استعمال کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کے لیے کثیر سالہ مالی منصوبہ بندی اور ایک مضبوط عملدرآمدی ڈھانچے کی ضرورت ہے، جو اس اسکیم کو مستقبل میں بجٹ میں ہونے والی چکری کٹوتیوں سے محفوظ رکھ سکے۔

(پیرا3.6)

کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ نئی ضم شدہ بایو-رائیڈ اسکیم کے لیے ایک مضبوط، حقیقی وقت (ریئل ٹائم) نگرانی اور جانچ کا فریم ورک قائم کرے۔ چونکہ دو بڑی اسکیموں کا انضمام کیا گیا ہے اور اس میں ایک اہم نیا جزو بھی شامل کیا گیا ہے، اس لیے نہ صرف مالی اخراجات بلکہ قابلِ مشاہدہ سائنسی اور صنعتی نتائج کو بھی ٹریک کرنا انتہائی ضروری ہے۔یہ فریم ورک ہر ایک تین اجزاء — تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی)، صنعتی و کاروباری ترقی(آئی ای ڈی) اور بایو مینوفیکچرنگ و بایو فاؤنڈری — کے لیے مخصوص اور وقت سے منسلک اہداف مقرر کرے۔ آر اینڈ ڈی جزو کے تحت کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ صرف دی جانے والی فیلوشپس کی تعداد ہی نہیں بلکہ داخل کیے گئے پیٹنٹس اور لائسنس شدہ ٹیکنالوجیز کی تعداد کو بھی ٹریک کیا جائے۔ آئی ای ڈی جزو کے لیے توجہ انکیوبیٹ شدہ اسٹارٹ اپس کی بقا اور ترقی کی شرح پر ہونی چاہیے، خاص طور پر ابتدائی مالی معاونت کے مراحل کے بعد۔نئے بایو فاؤنڈری جزو کے تحت، توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کتنے صنعتی شراکت دار قومی پلیٹ فارمز کو استعمال کر رہے ہیں اور بایو-مینوفیکچرنگ عمل کو کس حد تک کامیابی سے اسکیل کیا جا رہا ہے۔یہ تمام اعدادوشمار عوامی طور پر دستیاب ہونا چاہیے تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

(پیرا3.17)

بایو-نیسٹ انکیوبیٹرز سے  جاری ہونے والے اسٹارٹ اپس کے لیے، جنہیں بی آئی آر اے سی کی جانب سے معاونت حاصل ہے، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایک مخصوص مینٹرشپ اور صنعت سے منسلک کرنے کا پروگرام قائم کیا جائے۔ اگرچہ ابتدائی مالی معاونت اور گرانٹس نہایت اہم ہیں، لیکن بہت سے امید افزا منصوبے تصور سے عملی پیمانے پر پیداوار اور مارکیٹ میں داخلے کے مرحلے کے دوران ناکام ہو جاتے ہیں۔کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ بی آئی آر اے سی، کامیاب بایو-فارما اور بایو-انڈسٹریل کمپنیوں کے اشتراک سے، ایک ’وینچر ڈیولپمنٹ پروگرام‘ قائم کرے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب اسٹارٹ اپس کو تجربہ کار صنعتی مینٹورز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، جو انہیں ریگولیٹری منظوری، کوالٹی کنٹرول، سپلائی چین مینجمنٹ اور مارکیٹ تک رسائی کی حکمت عملیوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں گے۔اس سے اسٹارٹ اپس کی بڑی فالو آن فنڈنگ حاصل کرنے اور بالآخر اپنی مصنوعات لانچ کرنے کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں اختراعی خیالات معاشی اثاثوں میں تبدیل ہو سکیں گے۔

(پیرا 3.18)

تیز رفتار اور سستی صحت کی دیکھ بھال کے آلات، جیسے انٹرا اوکولر لینسز اور دل میں لگائے جانے والے اسٹینٹس کے ڈیولپمنٹ کو فروغ دینے کے لیے کمیٹی ایک مرکوز، مشن موڈ پروگرام قائم کرنے کی سفارش کرتی ہے۔ انفرادی منصوبوں کی حمایت کے بجائے، یہ پروگرام کلینشینز، انجینئرز اور کاروباری افراد کو ایک ساتھ لا کر صحت کے نظام کی جانب سے نشاندہی کی گئی مخصوص اور اہم ترجیحات کو حل کرنے پر مرکوز ہونا چاہیے۔کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ یہ مشن موڈ پروگرام واضح اور مکمل مرحلہ وار اہداف کے ساتھ تشکیل دیا جائے: یعنی پروٹوٹائپ کی تیاری، کلینیکل توثیق، ریگولیٹری منظوری اور آخر میں بڑے پیمانے پر پیداوار۔فنڈنگ کو ان مراحل کی تکمیل سے منسلک قسطوں (tranches) میں جاری کیا جانا چاہیے اور بایو-آر آئی سی کے اندر ایک وقف شدہ یونٹ مقرر کیا جانا چاہیے جو ابتدائی مرحلے ہی سے ان منصوبوں کو سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کے ساتھ منظوری کے عمل میں مدد فراہم کرے، تاکہ مارکیٹ میں آنے کا وقت کم کیا جا سکے۔

(پیرا 3.19)

خود مختار ادارے

کمیٹی کا ماننا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بجٹ مختص میں مسلسل اضافہ اور اس کے ساتھ ساتھ محکمے کی اپنی فنڈز کا 99 فیصد سے زیادہ استعمال کرنے کی غیر معمولی صلاحیت، خود مختار اداروں کے لیے ایک منظم اور قابلِ پیش گوئی مالیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔ مؤثر اخراجات کا یہ مضبوط ریکارڈ مالی سال 27-2026کے لیے1002.13 کروڑ روپےکی معمولی اضافے کو جواز فراہم کرتا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ اس استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اداروں کے ساتھ کثیر سالہ مالیاتی وابستگیوں کو فروغ دے۔ زیادہ مالی یقین دہانی فراہم کر کے محکمہ انہیں طویل المدتی تحقیقی منصوبوں کی منصوبہ بندی کے قابل بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مسلسل کارکردگی دیگر اسکیموں کے لیے ایک معیار (بینچ مارک) کا کردار ادا کرتی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مستحکم اور بتدریج اضافہ، جب اعلیٰ استعمال کی شرح کے ساتھ ہو، تو زیادہ مؤثر نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

(پیرا 4.3)

کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ کو تمام 13 آئی بی آر آئی سی اداروں اور آئی سی جی ای بی میں ایک مربوط تعلیمی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے ’قومی اہمیت کے ادارے‘ کے طور پر ریجنل بایوٹیکنالوجی سینٹر کی منفرد حیثیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ ایک مرکزی پورٹل تیار کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پی ایچ ڈی اور انٹیگریٹڈ ایم ایس-پی ایچ ڈی داخلوں کے لیے درخواست دی جا سکے، تاکہ طلبہ ایک ہی عمل کے ذریعے متعدد اداروں میں درخواست دے سکیں جبکہ وہ اپنی ڈگری ریجنل بایوٹیکنالوجی سینٹر سے حاصل کریں۔ اس کے علاوہ  اداروں کے درمیان کریڈٹ شیئرنگ اور مشترکہ کورسز کو لازمی بنانے سے بین شعبہ جاتی مہارت کو فروغ ملے گا، جیسے کہ بی آر آئی سی-این آئی پی جی آر کے طالب علم کو بی آر آئی سی-این آئی بی ایم جی میں بایو انفارمیٹکس کورس یا ریجنل بایوٹیکنالوجی سینٹر میں اسٹرکچرل بایولوجی کورس کرنے کا موقع مل سکے۔

یہ نیٹ ورک ایک مشترکہ ’آئی بی آر آئی سی-آر سی بی بایو مینوفیکچرنگ اور ٹرانسلیشنل ریسرچ میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ‘ بھی شروع کر سکتا ہے، جو بڑھتی ہوئی بایوٹیک انڈسٹری کے لیے ایک مضبوط ہنر مند افرادی قوت تیار کرے گا، جس میں آئی بی آر آئی سی، آئی سی جی ای بی اور ریجنل بایوٹیکنالوجی سینٹر کی فیکلٹی اور انڈسٹری روابط کو یکجا کیا جائے گا۔

(پیرا 4.13)

آئی بی آر آئی سی لیبارٹریز میں کی جانے والی اہم سائنسی دریافتیں حقیقی معنوں میں عام لوگوں اور مارکیٹ تک پہنچ سکیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ لیبارٹری سے کلینک تک واضح اور مناسب طور پر مالی معاونت یافتہ راستے تشکیل دے۔ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں ایم پکس ویکسین، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف امیونولوجی میں ملیریا ویکسین جیسے سب سے امید افزا منصوبوں کے لیے اور مثال کے طور پر انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیم سیل سائنس اینڈ ری جنریٹو میڈیسن کے ذریعے تیار کردہ ہیموفیلیا اے کے لیے جین تھراپی کے معاملے میں، محکمہ کو خصوصی ٹیمیں تشکیل دینی چاہییں، جن میں دریافت کرنے والا ادارہ، بی آر آئی سی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی اور بی آر آئی سی-این آئی اے بی (یا خود ٹی ایچ ایس ٹی آئی) کے کمرشلائزیشن ماہرین شامل ہوں جو لیبارٹری دریافتوں کو حقیقی علاج میں تبدیل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ بی آر آئی سی-سینٹر فار ڈی این اے فنگرپرنٹنگ اینڈ ڈائیگنوسٹکس کی ڈی این اے فنگرپرنٹنگ اور تشخیصی مہارت کو بی آر آئی سی-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بایوٹیکنالوجی کی عملی آلات (جیسے کوانٹم ملک ٹیسٹر) بنانے کی صلاحیت کے ساتھ ملا کر ایک مشترکہ ’ڈائیگنوسٹکس فاؤنڈری‘ قائم کی جانی چاہیے، جس میں بی آر آئی سی-راجیو گاندھی سینٹر فار بایوٹیکنالوجی کو بھی شامل کیا جائے، جو ریگولیٹرز کے ذریعے تشخیصی کٹس کی تصدیق اور منظوری کا تجربہ رکھتا ہے۔یہ فاؤنڈری نئے تشخیصی آلات کی تیاری اور لانچ کو تیز کرنے میں مدد دے گی۔ آخر میں، ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں مجوزہ میڈیکل ریسرچ سینٹر اور ٹرانسلیشنل ریسرچ سہولت کو پورے آئی بی آر آئی سی نیٹ ورک کے لیے انسانی کلینیکل ٹرائلز کے اہم مرکز کے طور پر کام کرنا چاہیے، جس میں مقامی دریافتوں کو ترجیح دی جائے جو پہلے انسانی تجربات کے لیے تیار ہوں۔

(پیرا 4.14)

کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ محکمہ بڑے، مشن پر مبنی منصوبے شروع کرے جو مختلف تحقیقی اداروں کی صلاحیتوں کو یکجا کر کے اُن اہم قومی مسائل کو حل کریں ،جنہیں کوئی ایک ادارہ اکیلا حل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے شمال مشرقی خطے پر مرکوز ایک منصوبہ بی آر آئی سی-آئی بی ایس ڈی (جو مقامی پودوں اور روایتی طب کے بارے میں گہرا علم رکھتا ہے) کو بی آر آئی سی-این آئی پی جی آر اور بی آر آئی سی-این اے بی آئی (جو پودوں کے جین کو سمجھنے اور فصلوں کی بہتری میں مہارت رکھتے ہیں) سے جوڑ سکتا ہے۔ یہ ادارے مل کر مقامی پودوں سے صحت سے متعلق مصنوعات تیار کر سکتے ہیں اور ایسی فصلیں اگا سکتے ہیں جو بدلتے ہوئے موسمی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ بی آر آئی سی-این آئی آئی بھی اس منصوبے میں شامل ہو کر یہ مطالعہ کر سکتا ہے کہ یہ روایتی علاج انسانی مدافعتی نظام پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ایک اور اہم منصوبہ انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحول کے درمیان تعلق پر مرکوز ہو سکتا ہے، جسے’ون ہیلتھ‘نقطۂ نظر کہا جاتا ہے۔ اس میں بی آر آئی سی-این آئی اے بی کا جانوروں کی بیماریوں پر کام، جو انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، بی آر آئی سی-این آئی بی ایم جی کی انسانی جین کے مطالعے میں مہارت، بی آر آئی سی-این آئی آئی اور بی آر آئی سی-آئی ایل ایس کی متعدی بیماریوں پر تحقیق اور بی آر آئی سی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی کی ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ یہ ادارے مل کر نپاہ وائرس جیسے نئے بیماری کے خطرات کی نگرانی اور بڑے پیمانے پر پھیلنے سے پہلے فوری ردعمل کے لیے ایک نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

(پیرا 4.15)

قومی جینومکس ڈیٹا گرڈ

اگرچہ بلا رکاوٹ رسائی کا ماڈل قابلِ تعریف ہے، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ڈی بی ٹی کے جینومک ڈیٹابیس اور وزارت صحت و خاندانی بہبود اور آئی سی ایم آر کے پالیسی سازوں کے درمیان علم کی منتقلی کے لیے ایک باضابطہ اور فعال نظام قائم کیا جائے۔ ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جانا چاہیے جو وقتاً فوقتاً اُن نتائج کا جائزہ لے جو قومی صحت مشنز، ضروری ادویات کی فہرستوں اور بیماریوں کے کنٹرول کی حکمت عملیوں کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں، اور مخصوص تجزیات شروع کرے۔

(پیرا 5.7)

کمیٹی مجوزہ قومی جینومکس ڈیٹا گرڈ کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ ملک کے وسیع تنوع کو دیکھتے ہوئے، 10 لاکھ جینوم کا ہدف ضروری ہے اور اسے بغیر کسی تاخیر کے پورا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ جینوم انڈیا منصوبے کے ذریعے پیدا ہونے والی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے این جی ڈی جی کے پہلے مرحلے کے لیے ضروری منظوری اور فنڈنگ کو جلد از جلد یقینی بنانے کے لیے فوری اقدام کرے۔تاہم، کمیٹی نوٹ کرتی ہے کہ محکمے کو صرف 20 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، وہ بھی ٹرانسلیشنل ریسرچ منصوبوں کے لیے ہیں۔ اس طرح، قومی جینومکس ڈیٹا گرڈ کے لیے مالی سال 2026-27 میں کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مجوزہ قومی جینومکس ڈیٹا گرڈ کو اعلیٰ ترین ترجیح دی جائے اور مالی سال 27-2026میں ہی مناسب مالی اعانت کے ساتھ اسے ایک قومی مشن کے طور پر شروع کیا جائے۔

(پیرا 5.8)

لاکھوں نئے اور انتہائی نایاب اقسام کی دریافت ایک منفرد اور وقت کے لحاظ سے حساس موقع فراہم کرتی ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ نایاب جینیاتی بیماریوں پر مرکوز این جی ڈی جی کے تحت ایک وقف شدہ مشن موڈ ذیلی پروگرام شروع کیا جائے۔ اس مشن کا خاص مقصد ان برادریوں میں موجود مشترکہ جینیاتی تبدیلیوں (فاؤنڈر میوٹیشنز) کی شناخت، کم لاگت کی کریئر اسکریننگ کٹس کی تیاری اور توثیق اور جینیاتی معلومات کو علاج کی حکمت عملیوں میں تبدیل کرنے کے لیے واضح راستہ تیار کرنا ہونا چاہیے۔

(پیرا 5.9)

جیسے جیسے مالی معاونت یافتہ ٹرانسلیشنل ریسرچ منصوبے نتائج دینا شروع کرتے ہیں، ان پر عملدرآمدی سائنس پر بھی متوازی توجہ دی جانی چاہیے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ڈی بی ٹی، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود اور آئی سی ایم آر کے اشتراک سے ایسی پائلٹ پروجیکٹس تیار کرے جو عوامی صحت کے نظام میں توثیق شدہ جینیاتی نتائج (مثلاً اسکریننگ پروٹوکول) کے انضمام کو آزمائیں اور اس عمل میں عملی، اخلاقی اور لاجسٹک چیلنجز کا مطالعہ کریں۔

(پیرا 5.10)

کمیٹی نے مزید مشاہدہ کیا کہ جینومک ڈیٹا نہ صرف صحت کی دیکھ بھال کو آگے بڑھانے کے لیے بلکہ ہندوستان کی قدیم تاریخ اور ثقافتی ارتقاء کے بارے میں دیرینہ سوالات کو حل کرنے کے لیے بھی اہم صلاحیت رکھتا ہے ۔  اس کی روشنی میں کمیٹی تجویز کرتی ہے کہ محکمہ کو اس شعبے میں بین الضابطہ تحقیق کو آسان بنانے کے لیے اینتھروپولوجیکل سروے آف انڈیا ، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا  اور ملک بھر کی سرکردہ یونیورسٹیوں جیسے اہم اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے فعال اقدامات کرنے چاہئیں ۔

 انسانی وسائل کے چیلنجز

کمیٹی نشاندہی کرتی ہے کہ محکمے میں 54 سائنسی عملے کی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں 13 عہدے (24 فیصد) خالی ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ڈی بی ٹی کو سائنسی عملے کے تمام درجات کے لیےتقرری کے پورے عمل کو تیز کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اندرونی سائنسی صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے یہ عمل ایک مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔

(پیرا 6.9)

محکمے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 15 خود مختار اداروں میں اوسط خالی آسامیوں کی شرح 31 فیصد ہے، جس میں این اے بی آئی، سی آئی اے بی اور این آئی آئی جیسے بعض اداروں میں یہ شرح زیادہ ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ مجموعی بھرتی کے عمل کو تیز کرے اور سب سے زیادہ متاثرہ اداروں کے لیے ایک خصوصی، وقت سے منسلک بھرتی مہم شروع کرے۔

(پیرا 6.10)

کمیٹی یہ بھی نشاندہی کرتی ہے کہ 13 بی آر آئی سی اداروں میں سائنسی عہدوں کے لیے  تقرری کے ضابطے میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ ان قواعد کو ترجیح دیتے ہوئے جلد از جلد حتمی شکل دے۔ کمیٹی کا یہ بھی ماننا ہے کہ معاہداتی (کنٹریکٹ یافتہ) ملازمین پر حد سے زیادہ انحصار ملازمت میں عدم تحفظ پیدا کرتا ہے اور منصوبوں سے تجربہ کار عملے کے انخلاء کا باعث بن سکتا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ محکمہ واضح رہنما اصول وضع کرے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کنٹریکٹ ملازمین کو صرف حقیقی، وقت سے محدود منصوبوں کے لیے ہی تعینات کیا جائے اور بنیادی تحقیقی سرگرمیوں کا انتظام مستقل عملے کے ذریعے کیا جائے۔

(پیرا6.11)

***

 

ش ح۔ م ع ن۔ ج ا

Uno-7403


(ریلیز آئی ڈی: 2263981) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी