کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اور امریکہ قدرتی شراکت دار کے طور پر کام کر رہے ہیں؛ دونوں ممالک میں ہم آہنگی اور بھروسہ موجود ہے: مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل


عالمی بحرانوں کے دوران بھارت پر بروقت اور اعلیٰ معیار کی پیداوار فراہم کرنے کے لیے بھروسہ کیا جا سکتا ہے: جناب گوئل

برآمدات کے فروغ کی مہم بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کو عالمی رسد کے نظام کا حصہ بننے کے لیے ضروری اور درست تصدیق نامے حاصل کرنے میں مدد دے گی: جناب گوئل

ہم ملک بھر میں صنعتوں کو وسعت دینے کے لیے علاقائی طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں؛ ہم نے ایک جامع ترقیاتی نمونہ تیار کیا ہے: جناب گوئل

بھارت کم از کم اگلے پچیس سالوں تک دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہے گا: جناب گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 MAY 2026 2:05PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج کہا کہ بھارت اور امریکہ قدرتی شراکت دار کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی جدت، اعلیٰ ترین دفاعی آلات، عددی معلومات کے مراکز (ڈیجیٹل ڈیٹا سینٹرز)، جدید ترین کمپیوٹر کاری (کوانٹم کمپیوٹنگ) اور طبی آلات سمیت تمام شعبوں میں ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ نئی دہلی میں امریکن چیمبر آف کامرس کے سالانہ توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری باہمی بھروسے اور مشترکہ معاشی مفادات سے مزید مضبوط ہوئی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں امریکی صنعتوں کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے وعدوں کا تخمینہ ساٹھ ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے، جس میں ایمیزون اور گوگل جیسی کمپنیوں کی طرف سے معلوماتی مراکز میں کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی کمپنیوں کو ایک قابلِ اعتماد ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور یہاں کام کی وسعت، ہنرمندی اور منڈی کے مواقع کا ایسا امتزاج موجود ہے جس کی دنیا بھر میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ امریکہ ایک قابلِ اعتماد ساتھی کی تلاش میں ہے اور بھارت نے اعلیٰ معیار کی پیداوار وقت پر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دانشورانہ ملکیت کے حقوق کا مسلسل احترام کر کے خود کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہنرمند افراد کا ایک وسیع ذخیرہ پیش کرتا ہے اور 1.4 ارب پرعزم بھارتیوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی مانگ، بڑھتی ہوئی آمدنی اور پھیلتے ہوئے متوسط طبقے کے ذریعے امریکی جدت طرازی کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کی معیشتیں کم از کم مقابلے کے ساتھ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، جو اس شراکت داری کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ہم آہنگی کو باہمی بھروسے کے ساتھ جوڑ دیا جائے، تو یہ ایک ایسا ناقابلِ شکست امتزاج بن جاتا ہے جو مستقبل کے لیے قابلِ اعتماد اور پائیدار رسد کے نظام کو تشکیل دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت 'بھویہ' منصوبے کے ذریعے صنعتی ترقی کے لیے علاقائی طریقہ کار بھی اپنا رہی ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں سو نئے صنعتی پارک قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمونہ صنعتی بنیادی ڈھانچے کو مزدوروں کی رہائش، تفریح اور سماجی سہولیات کے ساتھ جوڑتا ہے تاکہ ایک جامع صنعتی ماحول پیدا کیا جا سکے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچہ، نقل و حمل کے کم اخراجات اور آزاد تجارتی معاہدے مل کر سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار میں اضافے اور برآمداتی مسابقت کا ایک بہترین اور سود مند دائرہ تخلیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت کم از کم اگلے پچیس سالوں تک دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بنا رہے گا۔

عالمی رسد کے نظام کو مضبوط بنانے میں بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ حکومت نے ان صنعتوں کے لیے ٹیکنالوجی کی بہتری اور ہنرمندی کی ترقی میں مدد فراہم کرنے کی خاطر متعلقہ وزارت اور صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے کو شامل کر کے مربوط کوششیں شروع کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ برآمداتی فروغ کی مہم چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ تصدیق نامے حاصل کرنے میں مدد دے گی جو بین الاقوامی رسد کے نظام کا حصہ بننے کے لیے ضروری ہیں۔ جناب گوئل نے مزید کہا کہ برآمداتی معائنہ کونسل(ایکسپورٹ انسپکشن کونسل)، بھارتی معیارات کا بیورو(بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈ) اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی)جیسے ادارے مل کر پورے بھارت میں عالمی معیار کی جانچ اور معیار برقرار رکھنے کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران بھارت کی مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یوکرین کے تنازعے اور مغربی ایشیا کے بحران جیسے چیلنجوں کے باوجود بھارت کی اقتصادی ترقی کے تخمینے کو 6.4 فیصد سے بڑھا کر 6.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی صلاحیت، فیصلہ کن قیادت اور ایک قابلِ اعتماد اور پسندیدہ سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر دنیا کے ساتھ جڑنے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ عالمی رہنما تیزی سے بھارت کو ستائش اور امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، اور یہ اعتراف بھارتیوں کو ایک مضبوط قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ انہوں نے بھارت اور امریکہ کی شراکت داری کو اکیسویں صدی کی ایک ایسی فیصلہ کن شراکت داری قرار دیا جو امریکی جدت طرازی اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بھارتی مہارت اور ہنرمندی کے ملاپ سے آگے بڑھ رہی ہے۔

بھارت میں صنعتی پیداوار کی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ملک اب دنیا بھر سے پرزے منگوا کر انہیں صرف مقامی سطح پر جوڑنے کے پرانے طریقے سے تیزی سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور ڈیزائن، جدت طرازی اور دانشورانہ ملکیت کی تخلیق کے مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ایجادات ترقی یافتہ ممالک میں اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہوتی ہیں، وہ بھارت میں اس لاگت کے ایک تہائی یا پانچویں حصے میں تیار کی جا سکتی ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ عالمی کمپنیاں اب اپنے ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے بجائے، بھارت کو عالمی سطح پر کام کرنے کے مراکز قائم کرنے کے لیے ایک پسندیدہ ملک کے طور پر تسلیم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان میں کرونا کی وبا کے بعد مزید تیزی آئی ہے، جس نے دور بیٹھ کر کام کرنے اور بھارت جیسے قابلِ اعتماد شراکت داروں کو کام سونپنے کی افادیت کو ثابت کیا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کے نوجوانوں میں تحقیق، ترقی اور جدت طرازی کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے مضبوط عددی (ڈیجیٹل) ڈھانچے کی وجہ سے، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس کا شعور نہ صرف بڑے شہروں بلکہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور اب دیہاتوں تک بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

بھارت کی اس تبدیلی کے پیچھے طویل مدتی وژن کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں شروع کیے گئے اہم منصوبوں کا ذکر کیا، جن میں ‘اسٹارٹ اپ انڈیا’، ‘میک ان انڈیا’ اور ‘ڈیجیٹل انڈیا’ شامل ہیں۔ انہوں نے مالیاتی شمولیت، خواتین کو بااختیار بنانے اور بجلی کا ایک متحدہ قومی نیٹ ورک قائم کرنے سے متعلق اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بے مثال ترقی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دُور اندیشانہ پالیسی فیصلوں اور بڑے اہداف کی بدولت شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت بارہ سال سے بھی کم عرصے میں دو گیگا واٹ سے بڑھ کر ڈیڑھ سو گیگا واٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت آج عالمی سطح پر مسابقتی نرخوں پر چوبیس گھنٹے صاف توانائی سمیت اعلیٰ معیار کا بجلی کا بنیادی ڈھانچہ پیش کرتا ہے، جو ملک کو معلومات کے مراکز (ڈیٹا سینٹرز) اور جدید صنعتی پیداوار کے لیے ایک پرکشش مقام بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سنہ 2047 تک ٹیکسوں میں چھوٹ کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی کے ماہرین، ایک معتبر عددی نظام اور ایک وسیع مقامی منڈی فراہم کرے گا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ تمام عوامل بھارت کو ایک ایسا ماحول تیار کرنے کے قابل بنا رہے ہیں جو یہاں کے نوجوانوں کے لیے بھاری تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیزائن، ترقی اور صنعتی پیداوار میں مددگار ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا عزم پرانے ‘‘بھارت میں پرزے جوڑنے’’ کے نمونے سے آگے بڑھ کر سنہ 2047 تک ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بننا ہے۔

بھارت کے عددی (ڈیجیٹل) بنیادی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ملک نے دور دراز علاقوں سمیت ملک کے طول و عرض میں تیز ترین پانچویں نسل کے نیٹ ورک (5 جی) کی فراہمی کا سنگِ میل عبور کرلیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سب سے سستی معلوماتی قیمتیں (ڈیٹا کاسٹ) بھی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ابھی سے عددی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کے اگلے مرحلے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت میں اس وقت 2,117 عالمی صلاحیتوں کے حامل مراکز کام کر رہے ہیں جن میں تقریباً 23.5 لاکھ لوگوں کو براہِ راست روزگار ملا ہوا ہے اور یہ مراکز تقریباً 98 ارب ڈالر کی آمدنی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھارت کی مسلسل معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے جب دنیا کے کئی ممالک سست معاشی شرحِ نمو کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت نے نمایاں ترقی حاصل کی ہے لیکن وہ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور جدت طرازی کے شعبوں میں امریکہ کے ساتھ مزید گہرے روابط اور مسلسل بہتری کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والی دہائیاں دونوں ممالک کے درمیان مزید مضبوط معاشی ہم آہنگی کی گواہ بنیں گی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت بہترین عالمی ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین جانچ کی سہولیات قائم کرنے میں صنعتوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے صنعتی شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ بھارت کے جانچ کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مزید وسعت دینے کے لیے حکومت کی رہنمائی کریں۔

 

ممبئی کے ‘سیپز’ (ایس ای ای پی زیڈ) میں قائم بڑی مشترکہ سہولیاتی مرکز کی مثال دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یہ مرکز عوامی اور نجی شراکت داری کے تحت قائم کیا گیا تھا، جہاں زیورات کے ڈیزائن، بناوٹ، نمونہ سازی اور جانچ کی عالمی معیار کی سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ، جس کا آغاز میں صرف 30,000 مربع فٹ پر منصوبہ بنایا گیا تھا، بعد میں بڑھا کر 100,000 مربع فٹ کر دیا گیا اور صنعت کی بھرپور شمولیت کی وجہ سے اپنے پہلے ہی سال میں یہ مرکز اضافی منافع کمانے کے قابل ہو گیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ بجٹ کے اعلانات، سیمی کنڈکٹر مہم کا دوسرا مرحلہ (سیمی کون مشن  2) اور اہم معدنیات کو قابلِ استعمال بنانے کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے اقدامات، صنعت اور جدید مینوفیکچرنگ کی مدد کے لیے حکومت کے پختہ عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے ساتھ ساتھ بڑی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ مستقبل کی ترقی کے لیے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

حکومت کو عوامی آواز سننے اور حالات کے مطابق ڈھلنے والی انتظامیہ قرار دیتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ حکومت کے اندر کوئی داخلی دوری یا رکاوٹ نہیں ہے اور تمام وزارتیں ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں اور صنعتوں کی بدلتی ہوئی ضروریات کی بنیاد پر حکومت نئی حکمتِ عملیوں اور پالیسیوں میں تبدیلیوں کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔

جناب گوئل نے بڑی کمپنیوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ ادائیگیوں کے چکر کو تیز کر کے بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی مدد کریں۔ چھوٹی صنعتوں کے فراہم کنندگان کے لیے موجودہ 45 دنوں کی ادائیگی کی شرط کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے مشورہ دیا کہ کمپنیاں سامان کی منظوری کے بعد سات دنوں کے اندر ہی ادائیگیاں کرنے پر غور کر سکتی ہیں، تاکہ ان چھوٹی صنعتوں کے پاس نقد رقم کی آمد بہتر ہو سکے، رسد کا نظام مضبوط ہو اور ٹیکنالوجی و معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔

بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ نوکریوں، آمدنی، صنعتی ترقی اور ٹیکس کی وصولی پر اپنے کثیر جہتی اثرات کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ بھارت کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی سے لے کر عددی (ڈیجیٹل) خدمات تک کے تمام شعبے بنیادی ڈھانچے کی اس تیز رفتار توسیع سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے ‘پی ایم گتی شکتی’ کو ایک انقلابی اقدام کے طور پر اجاگر کیا، جسے وزارتِ تجارت و صنعت نے ملک بھر میں زیادہ اسمارٹ اور زیادہ کارآمد بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے لیے تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کو بہتر بنانے کے لیے جغرافیائی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ڈیٹا کی تقریباً 1800 تہوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی، انتہائی کارآمد راستوں کی نشاندہی کر کے، تاخیر کو کم کر کے، زمین کے حصول کو بہتر بنا کر اور آخری حد تک رابطے کو مضبوط بنا کر شاہراہوں، ریلوے لائنوں، بندرگاہوں اور سامان کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتر منصوبہ بندی کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کو کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔

جے این پی ٹی جیسی بڑی بندرگاہوں کے آس پاس ماضی میں سامان کی نقل و حمل میں آنے والی رکاوٹوں کو یاد کرتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی نے مربوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی فیصلہ سازی کو ممکن بنا کر بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

مستقبل کے ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت 2047) کے وژن کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ حکومت کامیاب کاروباری اداروں کی طرح واضح طور پر طے شدہ اہداف اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقصد 2047 تک تقریباً 1.6 ارب کی آبادی کے ساتھ ایک ترقی یافتہ ملک بننا ہے، جہاں متوقع فی کس آمدنی 20,000 ڈالر ہوگی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ مالیاتی شمولیت، رہائش، پانی تک رسائی، زندگی کی آسانی اور کاروبار کرنے کی آسانی سے متعلق حکومتی اقدامات پر مکمل درستگی اور قابلِ پیمائش اہداف کے ساتھ عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیتی ہے اور اصلاحی منصوبہ بندی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے خامیوں کو دور کرتی ہے۔

جناب گوئل نے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ موجودہ وقت سے آگے دیکھیں اور بھارت اور اس کے عوام کی صلاحیت، ہنرمندی، امنگوں اور مستعدی کو پہچانیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھارت کی ترقی کی کہانی پر بھروسہ کرتے ہیں، وہ ملک کی طویل مدتی اقتصادی تبدیلی سے مسلسل فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

****

ش ح۔م م ۔ ف ر

U-7376                              


(ریلیز آئی ڈی: 2263780) وزیٹر کاؤنٹر : 12