بھاری صنعتوں کی وزارت
مرکزی وزیر جناب ایچ ڈی کمار سوامی نے الیکٹرک بسوں اور الیکٹرک ٹرکوں کے لیے مالیاتی طریقہ کار پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی
प्रविष्टि तिथि:
20 MAY 2026 8:13PM by PIB Delhi
بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی)، حکومت ہند نے 20 مئی 2026 کو نئی دہلی میں بھاری صنعتوں اور فولاد کے مرکزی وزیر جناب ایچ ڈی کمار سوامی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبے کے بینکوں کے سینیئر نمائندوں، جن میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)، پنجاب نیشنل بینک، کینرا بینک، سینٹرل بینک آف انڈیا، ایچ ڈی ایف سی اور سڈبی شامل تھے، کے علاوہ بس اور ٹرک آپریٹر اور تنظیموں جیسے آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی)، کوڈاڈارامو لاری ایسوسی ایشن، بس آپریٹر کنفیڈریشن آف انڈیا (بی او سی آئی)، کرناٹک بس آپریٹر ایسوسی ایشن (کے بی او اے) اور ساؤتھ انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، نیز بڑے نجی ٹرانسپورٹ آپریٹروں اور ٹریول کمپنیوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں نجی شعبے میں الیکٹرک بسوں اور الیکٹرک ٹرکوں کو اپنانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے درکار مالیاتی نظام پر غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے مقاصد میں ای-بس اور ای-ٹرک اپنانے میں مالیاتی چیلنجوں کو سمجھنا، ای-بسوں اور ای-ٹرکوں کی موجودہ مالی معاونت کی صورتحال کا جائزہ لینا، ان چیلنجوں کے حل کے لیے ممکنہ تجاویز پر غور کرنا اور مطلوبہ حکومتی معاونت کا تعین کرنا شامل تھا۔
یہ اجلاس وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی اُس اپیل کے مطابق ایک اہم قدم تھا جس میں انہوں نے عالمی غیر یقینی صورتحال اور مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے پر زور دیا تھا۔ یہ اقدام توانائی کے تحفظ، فوسل ایندھن پر انحصار میں کمی، تیل کی درآمدی لاگت کم کرنے اور سب کے لیے ایک پائیدار مستقبل کے حوالے سے بھارت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران نجی شعبے میں الیکٹرک بسوں اور الیکٹرک ٹرکوں کو اپنانے سے متعلق اہم مالیاتی چیلنجوں پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں کریڈٹ گارنٹی اور سودی سبسڈی جیسے مجوزہ معاونتی نظام شامل تھے۔ مالیاتی اداروں کے قرض فراہم کرنے کے خطرات کو کم کرنے کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیموں اور نجی خریداروں کے قرض کی لاگت کم کرنے کے لیے سودی سبسڈی کے نظام کو الیکٹرک تجارتی گاڑیوں کے تیز رفتار فروغ کے ممکنہ اقدامات کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔
بھارت میں عوامی نقل و حمل، خصوصاً بسیں، سفری نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جبکہ ٹرک ملکی مال برداری میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور اندرون ملک سامان کی ترسیل کا بڑا حصہ سنبھالتے ہیں۔ دوسری جانب تجارتی گاڑیوں کا شعبہ سڑکوں سے پیدا ہونے والے اخراج، ایندھن کے استعمال اور فضائی آلودگی کے ذرات میں بھی نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ اس تناظر میں بسوں اور ٹرکوں کو برقی نظام پر منتقل کرنا بھارت کے کاربن اخراج میں کمی کے اہداف کے حصول اور 2070 تک ”نیٹ زیرو“ کے قومی ہدف کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت ضروری قرار دیا گیا۔
یہ اقدام بھاری صنعتوں کی وزارت کے اُس فعال نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد تجارتی گاڑیوں کے شعبے میں برقی نقل و حرکت کی جانب منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ مختلف سرکاری محکموں، کثیر جہتی اداروں، مالیاتی تنظیموں اور صنعت سے وابستہ فریقین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر بھاری صنعتوں کی وزارت ایسے قابل عمل مالیاتی حل تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے میں موجود اہم رکاوٹوں کو دور کر سکیں۔ اس کے ذریعے بھارت کے توانائی کے تحفظ، اخراج میں کمی اور آتم نربھر بھارت و وکست بھارت @2047 کے وژن کے تحت مقامی جدید مینوفیکچرنگ کے وسیع تر اہداف کو بھی تقویت ملے گی۔
******
ش ح۔ ف ش ع
U: 7351
(रिलीज़ आईडी: 2263511)
आगंतुक पटल : 33