شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے ”اروناچل کیوی: اروناچل پردیش کی منفرد شناخت“ مشن کا آغاز کیا


وزیر اعظم نریندر مودی کے وکست شمال مشرق وژن کے تحت اروناچل پردیش کی نامیاتی کیوی عالمی سطح پر ابھرنے کے لیے تیار ہے

مرکزی وزیر سندھیا نے بھارت کے ممتاز نامیاتی کیوی مرکز کے طور پر ابھرنے کے لیے اروناچل پردیش کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی

प्रविष्टि तिथि: 20 MAY 2026 7:25PM by PIB Delhi

شمال مشرقی خطے کی ترقی اور مواصلات کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے آج ”اروناچل کیوی: اروناچل پردیش کی منفرد شناخت“ مشن کا آغاز کیا، جو ریاست اروناچل پردیش کے لیے کلسٹر پر مبنی کیوی کاشت اور ویلیو چین ترقیاتی مشن ہے۔ اس افتتاحی تقریب کے موقع پر اروناچل پردیش حکومت کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو، اروناچل پردیش کے چیف سیکریٹری جناب منیش کمار گپتا اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کے سکریٹری جناب سنجے جاجو موجود تھے۔

 

 

تقریباً 167 کروڑ روپے کے مالیاتی بجٹ کے ساتھ ”اروناچل کیوی: اروناچل پردیش کی منفرد شناخت“ مشن کو حکومت کے جامع اور اشتراکی نقطۂ نظر کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس مشن کی قیادت شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کر رہی ہے، جبکہ اسے زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت، وزارت دیہی ترقی، ڈبہ بند صنعتوں کی وزارت کی مختلف اسکیموں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نابارڈ، آئی سی اے آر-سی آئی ٹی ایچ، اے پی ای ڈی اے، نیرا میک اور پرعزم نجی سرمایہ کار بھی اس میں شریک ہیں۔ اس مشن کی تشکیل ویلیو چین سے وابستہ تمام فریقین کے نقطۂ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، تاکہ اقدامات زمینی حقائق اور اروناچل کی کیوی کاشت کرنے والی برادریوں کی امیدوں کے مطابق ہوں۔

اس مشن میں کلسٹر پر مبنی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، جس کے تحت زیرو ویلی (لوئر سبن سری)، دیرانگ اور کالا کتانگ (ویسٹ کامینگ)، شی یومی اور دیبانگ ویلی میں چھ مربوط کلسٹر سطح کے پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ ہب قائم کیے گئے ہیں۔ مشن کے تحت 30 سے زائد اسٹریٹجک اقدامات کیوی ویلیو چین میں موجود اہم خلا کو دور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان میں قیمت کے حصول میں فرق کو کم کرنا، اروناچل کی معطل شدہ این پی او پی نامیاتی سرٹیفکیشن کی بحالی، کولڈ چین اور پوسٹ ہارویسٹ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے 7 سے 10 دن کی مجبوری میں فروخت کی صورتحال کا خاتمہ اور ہزاروں کسان خاندانوں کو شجرکاری کی ترقی، پوسٹ ہارویسٹ پروسیسنگ، برانڈنگ، ٹریس ایبلٹی، برآمدات اور تجرباتی زرعی سیاحت پر مشتمل ایک متحدہ نظام سے جوڑنا شامل ہے۔

 

 

شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کسانوں کو ”کھیت سے کھانے کی میز تک“ زرعی ویلیو چین کا حقیقی شراکت دار بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس اقدام کی اشتراکی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے کہا:

”شمال مشرقی خطے کی تمام 8 ریاستوں کے ساتھ قائم اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس، اور ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور حکومتوں کے تعاون سے ہم نے ہر ریاست کی ایک منفرد مصنوعات کی نشاندہی کی ہے، جس کی اپنی الگ پہچان اور خصوصیت ہے۔ مثال کے طور پر میزورم کا ادرک، ناگالینڈ کی کافی، سکم کی نامیاتی کھیتی، منی پور کا پولو ورثہ، آسام کا موگا ریشم اور میگھالیہ کی لاکاڈونگ ہلدی۔ آج اروناچل پردیش میں پروجیکٹ کیوی کے آغاز کے ساتھ ہم شمال مشرق کی صلاحیتوں پر مبنی عالمی معیار کی ویلیو چین کی تعمیر کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھا رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”میں  شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت، حکومت اروناچل پردیش اور تمام شراکت دار اداروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے حقیقی معنوں میں حکومت ہند اور پورے بھارت کے اشتراکی ماڈل کے تحت مل کر کام کیا۔ یہ محض ایک سرکاری اسکیم یا وزارت کی قیادت میں چلنے والا منصوبہ نہیں، بلکہ اپنی نوعیت کا پہلا اشتراکی ماڈل ہے، جس میں مرکزی و ریاستی حکومتیں، نابارڈ، خوراک اور ڈبہ بند صنعتوں کی وزارت، آئی سی اے آر، اے پی ای ڈی اے اور نجی شعبے شامل ہیں تاکہ کسان سے بازار تک پوری کیوی ویلیو چین کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ہر مرحلے پر ایسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو مصنوعات کی شیلف لائف بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن، اعلیٰ درجے کی منڈیوں تک رسائی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کو یقینی بنائیں گے۔“

وزیر نے کہا کہ ”اروناچل کیوی: اروناچل پردیش کی منفرد شناخت“ مشن کو مکمل ویلیو چین ترقیاتی اقدام کے طور پر تیار کیا گیا ہے تاکہ اروناچل پردیش کو مجبوری میں فروخت کرنے والے کیوی پیدا کرنے والے خطے سے نکال کر ایک ممتاز، قابلِ سراغ، واحد ماخذ پر مبنی نامیاتی کیوی معیشت میں تبدیل کیا جا سکے، جس کی ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مضبوط موجودگی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی مجموعی کیوی پیداوار میں 50 فیصد سے زائد حصہ اور سالانہ 7,050 میٹرک ٹن سے زیادہ پیداوار دینے کے باوجود کسانوں کو گریڈ سی کیوی کے لیے صرف 20 سے 40 روپے فی کلو اور گریڈ اے کے لیے تقریباً 120 روپے فی کلو ملتے ہیں، جبکہ درآمد شدہ کیوی بھارتی اور عالمی منڈیوں میں کہیں زیادہ قیمت حاصل کرتی ہے۔ ایف پی او کو مضبوط بنانے اور درمیانی افراد پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ مشن چار اسٹریٹجک ستونوں — اشتراک، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور مارکیٹ انضمام — پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مشن کے اہم اہداف میں مصنوعات کی شیلف لائف میں اضافہ، مجبوری میں فروخت کو کم کرنا، 2,000 میٹرک ٹن کولڈ چین صلاحیت پیدا کرنا، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن سہولیات کو بہتر بنانا، کیوی اسٹارٹ اپ کو فروغ دینا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، اور مالی سال 2028 تک ”اروناچل آرگینک کیوی“ کو بین الاقوامی برآمدی منڈیوں میں نمایاں مقام دلانا شامل ہے۔

 

 

وزیر موصوف نے مزید کہا کہ یہ اقدام ”برانڈ نارتھ ایسٹ“ کے تصور کو فروغ دیتا ہے، جس کے تحت ”اروناچل آرگینک کیوی“ کو میڈیا مہمات، بین الاقوامی تجارتی میلوں میں شرکت، اور پائلٹ کلسٹر میں تجرباتی کیوی باغاتی سیاحت کے ذریعے فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن اروناچل پردیش کی قدرتی نومبر تا جنوری کی فصل کے موسم سے حکمت عملی کے تحت فائدہ اٹھاتا ہے، جو عین نیوزی لینڈ کے آف سیزن کے دوران آتا ہے۔ اس طرح ”اروناچل آرگینک کیوی“ کو جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپی منڈیوں میں ایک منفرد تجارتی موقع حاصل ہوگا۔ مشن کے تحت زیرو ویلی اور دیرانگ میں فارم اسٹے اور ”فارم ٹو فورک“ سیاحتی تجربات کو بھی فروغ دیا جائے گا، تاکہ اروناچل پردیش کو نامیاتی باغبانی سیاحت کے ایک منفرد مرکز کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔

وزیر نے کہا کہ اس اقدام کی حقیقی کامیابی اُس وقت ظاہر ہوگی جب ”اروناچل آرگینک کیوی“ ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ممتاز شیلف اسپیس حاصل کرے گی، جہاں کیو آر کوڈ سے لیس پیکنگ کے ذریعے ہر پیداوار کو انفرادی کسان سے جوڑا جا سکے گا، اور ریاست بھر کے کیوی کاشتکاروں کے لیے آمدنی میں چار سے چھ گنا اضافہ یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے اس مشن کو ”برانڈ نارتھ ایسٹ“ کے وسیع تر وژن کا حصہ قرار دیا، جس کے تحت ہر ریاست کی ایک منفرد شناخت (یو ایس پی) متعین کی گئی ہے، جیسے سکم کی نامیاتی ریاست، میزورم کا ادرک، تریپورہ کا کوئین انناس، ناگالینڈ کی کافی، میگھالیہ کی لاکاڈونگ ہلدی، اور اب اروناچل پردیش کی نامیاتی کیوی۔ انہوں نے کسانوں اور دیگر شراکت داروں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اروناچل پردیش کے لیے عالمی معیار کا خصوصی نامیاتی کیوی نظام تیار کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

 

 

اروناچل پردیش کے معزز وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو نے ”اروناچل کیوی: اروناچل پردیش کی منفرد شناخت“ مشن کو تصور دینے اور اس کی قیادت کرنے پر شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کا گہرا شکریہ ادا کیا اور اسے ریاست کی زرعی و اقتصادی ترقی کے سفر کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش بھارت کی سب سے بڑی کیوی پیدا کرنے والی ریاست ہے اور یہ ملک کی پہلی ریاست بھی ہے جسے ایم او وی سی ڈی-این ای آر (2020) کے تحت نامیاتی کیوی سرٹیفکیشن حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن اب اس کامیابی کو کسانوں کی خوشحالی، ویلیو ایڈیشن اور عالمی منڈی سے انضمام کے ایک منظم راستے میں تبدیل کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیوی ایک انقلابی نقد آور فصل کے طور پر ابھری ہے، جو بلند پہاڑی علاقوں میں جھوم کاشتکاری کا ایک پائیدار متبادل فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی حکومت اس مشن کو مقررہ مدت میں عملی جامہ پہنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اسے ریاست کے اپنے ”اروناچل پردیش کیوی مشن 2025–35“ کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

وزارت کے سیکریٹری جناب سنجے جاجو نے اپنے ابتدائی خطاب میں مشن کے نفاذی ڈھانچے کی وضاحت کی اور اروناچل پردیش کے بلند پہاڑی، نامیاتی زرعی و موسمی حالات کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا، جو اعلیٰ معیار کی ہیورڈ اور ایلیسن اقسام کی کیوی پیدا کرنے کے لیے موزوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوی کی کاشت ریاست کے 13 اضلاع میں 3,582 ہیکٹر سے زائد رقبے پر پھیل چکی ہے اور اس سے 1,500 سے زائد کسان وابستہ ہیں، تاہم اب پیداوار، معیار، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کلسٹر پر مبنی اور اشتراکی ماڈل کے ذریعے چھوٹے کسان مشترکہ کولڈ چین انفراسٹرکچر، تکنیکی معاونت، برانڈنگ اقدامات اور براہِ راست مارکیٹ روابط سے اجتماعی طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے، جن کی بنیاد واضح اور وقت کے پابند اہداف پر ہوگی۔

اروناچل پردیش حکومت کے محکمہ باغبانی کی سیکریٹری محترمہ کوج رِنیا نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر، حکومت ہند، وزارت کی شراکت دار وزارتوں، اداروں، کسانوں، ایف پی او، کاروباری شخصیات اور تمام متعلقہ فریقین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ”اروناچل کیوی: اروناچل پردیش کی منفرد شناخت“ مشن کی تشکیل میں مسلسل تعاون اور اشتراک کیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشن کو مؤثر اور بروقت انداز میں نافذ کر کے اروناچل پردیش میں کیوی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا اور کسانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے گا۔

 

 

توقع ہے کہ یہ اقدام پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لائے گا، کھیت کی سطح پر کسانوں کی آمدنی اور منافع میں اضافہ کرے گا، اور پورے اروناچل پردیش میں کیوی معیشت میں دیہی نوجوانوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ اس افتتاحی تقریب کو زیرو ویلی اور دیرانگ کے کیوی کاشتکاروں نے بھرپور خیرمقدم کیا۔ تقریب میں شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت اور حکومت اروناچل پردیش کے افسران کے علاوہ کسانوں، ایف پی او، کاروباری شخصیات اور صنعت سے وابستہ دیگر فریقین نے بھی شرکت کی۔

************

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 7341


(रिलीज़ आईडी: 2263459) आगंतुक पटल : 47
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Manipuri , Assamese , Tamil