وزارت دفاع
وزیر دفاع کی سیول میں جمہوریۂ کوریا کے وزیر دفاع کے ساتھ دوطرفہ بات چیت
دونوں وزراء نے مضبوط دفاعی تعلقات اور قوانین پر مبنی بھارت-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا
بھارت اور جنوبی کوریا نے دفاعی سائبر، ٹریننگ اور اقوام متحدہ کے قیام امن مشن کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے
وزیر دفاع نے کوریا پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر جدید ٹیکنالوجیز کو مشترکہ طور پر ترتیب دے اور تیار کرے
’’تکنیکی طور پر باصلاحیت ممالک کے درمیان قابل اعتماد شراکت داریاں انتہائی اسٹریٹجک اہمیت حاصل کی؛ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بھارت اور جمہوریۂ کوریا مل کر کام کرنے کے لیے منفرد پوزیشن پر ہیں‘‘
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAY 2026 5:16PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ اور جمہوریۂ کوریا کے وزیر دفاع جناب آن گیو-بیک نے 20 مئی 2026 کو سیول میں جامع دوطرفہ بات چیت کی۔ دونوں وزراء نے دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور صنعت، پیداوار، بحری سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، فوجی تبادلوں، لاجسٹکس اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔


دونوں فریقوں نے بھارت کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘ اور جمہوریۂ کوریا کے علاقائی اسٹریٹجک وژن کے درمیان بڑھتے ہوئے ہم آہنگی کا اعتراف کیا اور ایک آزاد، کھلے، جامع اور قوانین پر مبنی بھارت-بحرالکاہل خطے کو برقرار رکھنے کے مشترکہ مقاصد کے عین مطابق دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دفاعی تعاون کے اہم شعبوں میں مفاہمت کی عرضداشتوں پر دستخط کیے گئے، جو دوطرفہ شراکت داری کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ دفاعی سائبر کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے، بھارت کے نیشنل ڈیفنس کالج اور کوریا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے درمیان تربیت اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں تعاون کے سلسلے میں معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا، جو اس شراکت داری کو مزید مضبوط اور کثیر جہتی بناتے ہیں۔

وزیر دفاع نے جمہوریۂ کوریا کے ڈیفنس ایکوزیشن پروگرام ایڈمنسٹریشن کے وزیر جناب لی ینگ-چول سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ برآمدات کے مواقع پیدا کرنے کے لیے باہمی کوششوں سے استفادہ کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے اختراعی نظام کو ہم آہنگ کرنے کے لیے انڈیا-کوریا ڈیفنس انوویشن ایکسیلیریٹر ایکو سسٹم (کے آئی این ڈی-ایکس) کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے روڈ میپ پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بعد ازاں، جناب راج ناتھ سنگھ نےانڈیا- جمہوریۂ کوریا کے ڈیفنس انڈسٹری بزنس راؤنڈ ٹیبل کی صدارت کی، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سرکاری حکام اور دفاعی صنعت کے معروف نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ملاقات نے دفاعی مینوفیکچرنگ، مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور سپلائی چین کی شراکت داری میں نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔
کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی صنعتی نظام اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے زیر قیادت حکومت کے ان اقدامات کے تحت دستیاب مواقع پر روشنی ڈالی جن کا مقصد مقامی دفاعی مینوفیکچرنگ اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کوریائی دفاعی کمپنیوں کو بھارتی صنعت کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے اور طویل مدتی باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری میں اپنا تعاون دینے کے لئے مدعو کیا۔ انہوں نے آتم نربھر بھارت مہم میں مشترکہ طور پر کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے کوریائی اور بھارتی کمپنیوں کے جوش و جذبے کی تعریف کی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’تجارتی شعبے میں بھارت-کوریا صنعتی تعاون کی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی قابل اعتماد شراکت داری کی بے پناہ صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس کامیاب ماڈل کو دفاعی شعبے تک وسعت دی جائے، جہاں ٹیکنالوجی، اختراع، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور اسٹریٹجک اعتماد ایک دوسرے کے ساتھ تیزی سے جڑ رہے ہیں۔ کوریا کی شاندار تکنیکی مہارت، بھارت کی وسعت، ٹیلنٹ، مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم اور اختراعی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ہمارے دونوں ممالک مل کر مستقبل کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز اور دفاعی نظام مشترکہ طور پر ترتیب دے سکتے ہیں اور تیار کر سکتے ہیں۔ تکنیکی طور پر باصلاحیت ممالک کے درمیان قابل اعتماد شراکت داریاں انتہائی اسٹریٹجک اہمیت حاصل کر لیتی ہیں۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بھارت اور جمہوریہ کوریا مل کر کام کرنے کے لیے منفرد پوزیشن پر ہیں۔‘‘
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی مینوفیکچرنگ اب صرف روایتی پلیٹ فارمز اور ساز و سامان تک محدود نہیں رہی، کیونکہ جدید دفاعی نظام ایڈوانسڈ الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت، آٹونومس سسٹمز، سائبر ٹیکنالوجیز، سینسرز، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجیز، جدید ترین مواد اور خلائی صلاحیتوں سے لیس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاع کا مستقبل تیزی سے اختراع کرنے اور متعدد شعبوں میں ٹیکنالوجیز کو یکجا کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں بھارت اور جمہوریۂ کوریا کے پاس تعاون کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے پاس ایک متحرک اختراعی نظام موجود ہے جس میں اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز، نجی صنعتیں، تعلیمی ادارے، تحقیقی ادارے اور عوامی شعبے کے ادارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’نوجوان بھارتی کاروباری ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبوں جیسے کہ بغیر پائلٹ کے نظام ، اے آئی سے لیس پلیٹ فارمز، سائبر سکیورٹی، جدید مواصلات اور دفاعی سافٹ ویئر سسٹمز میں تیزی سے اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ بھارت-کوریا دفاعی تعاون کا مستقبل اختراع پر مبنی شراکت داری میں پنہاں ہے۔‘‘
اس پروگرام کے دوران، بھارت کی ایل اینڈ ٹی اور ہنوا کمپنی لمیٹڈ کے درمیان دو معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے، جو بھارت-کوریا دفاعی اختراع اور ٹیکنالوجی کی شراکت داری کے لیے ایک روشن مستقبل کا اشارہ ہیں۔ امید ہے کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک اور صلاحیت سازی کو آگے بڑھائیں گے۔
جمہوریۂ کوریا میں مقیم بھارتی برادری سے گفتگو کرتے ہوئے، وزیر دفاع نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بے مثال ترقی کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے مقام کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’12-13 سال پہلے، بھارت کو ایک کمزور ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن آج، گزشتہ دہائی میں ملک کے اندر آنے والی تبدیلیوں کی بدولت، دنیا ہماری بات کو غور سے سنتی ہے۔ ہم اب ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں جو دنیا کو مسائل کے حل پیش کرتی ہے۔ اندرونی ہو یا بیرونی سلامتی، ہماری پالیسی میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، یہ اب پُرعزم، نڈر، مستقل مزاج اور فیصلہ کن بن چکی ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو ایک مضبوط، پُراعتماد اور باصلاحیت ملک کے طور پر بھارت میں آنے والی تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ آپریشن اس بات کا ثبوت تھا کہ بھارت کسی بھی شکل میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر، ہم ’پہلے استعمال نہ کرنے‘ کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں۔ تاہم، بعض اوقات لوگ ہمارے صبر و تحمل اور امن کے تئیں عزم کو کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اگرچہ بھارت اپنی ’نو فرسٹ یوز‘ پالیسی پر قائم ہے، لیکن وہ جوہری بلیک میلنگ کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ یہ نیا بھارت ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے دفاعی مینوفیکچرنگ میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور بتایا کہ مالیاتی سال 26-2025 میں تقریباً 1.54 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی ریکارڈ دفاعی پیداوار اور قریباً 40,000 کروڑ روپے مالیت کی دفاعی برآمدات، مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی برآمدات اگلے 1 سے 2 برسوں میں 50,000 کروڑ روپے تک پہنچنے کی امید ہے، جبکہ دفاعی پیداوار اگلے چند مہینوں میں بڑھ کر 1.75 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

وزیر دفاع نے دو ملکوں کےاپنے دورے کے آخری مرحلے میں جمہوریۂ کوریا کے سفر کا آغاز سیول میں واقع کورین وار سیمیٹری میں گلہائے عقیدت نذر کرکے ان بہادر سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے کوریا کی جنگ کے دوران عظیم ترین قربانی دی تھی۔ انہوں نے جمہوریۂ کوریا کے عوام کے ساتھ بھارت کی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی جرأت، لگن اور حب الوطنی کا جذبہ ہمیشہ تحریک کا ایک مستقل ذریعہ رہے گا۔
******
ش ح۔ ک ح –ت ع
U.NO.7326
(ریلیز آئی ڈی: 2263382)
وزیٹر کاؤنٹر : 6