اقلیتی امور کی وزارتت
‘‘ہندوستان اقلیتوں کے لیے سب سے محفوظ اور سب سے زیادہ جامع ملکوں میں سے ایک ہے’’: مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو
قومی اقلیتی کمیشن نئی دہلی میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کانفرنس کا انعقاد
غور و خوض کے دوران ادارہ جاتی مضبوطی ، اقلیتی بہبود اور جامع ترقی پرتوجہ مرکوز کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAY 2026 6:19PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے قومی اقلیتی کمیشن (این سی ایم) نے آج سشما سوراج بھون ، نئی دہلی میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کانفرنس کا انعقاد کیا ۔ کانفرنس میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے نمائندوں ، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر عہدیداروں ، پالیسی سازوں اور اقلیتی برادریوں کے ممتاز نمائندوں کو اقلیتی فلاح و بہبود ، ادارہ جاتی مضبوطی اور جامع ترقی سے متعلق امور پر غور و فکر کرنے کے لیے اکٹھا کیا گیا ۔

اس کانفرنس نے مکالمے ، ہم آہنگی اور خیالات کے تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جس کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے میکانزم کو مضبوط کرنا اور ملک بھر میں اقلیتی برادریوں کے لیے فلاحی اقدامات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے ۔

کانفرنس میں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو اور اقلیتی امور کے وزیر مملکت جناب جارج کورین نے شرکت کی ۔ اس موقع پر موجود معزز شخصیات میں جناب برجیس دیسائی ، ممبر ، این سی ایم ؛ محترمہ ایس منوری بیگم ، ممبر ، این سی ایم ؛ محترمہ برجیس دیسائی ، ممبر ، این سی ای،الکا اپادھیائے ، سکریٹری ، این سی ایم ؛ جناب دانش آزاد انصاری ، وزیر مملکت ، حکومت اتر پردیش ، جناب محمد زما خان ، وزیر اقلیتی بہبود ، حکومت بہار اور ڈاکٹر عطیہ نند ، جوائنٹ سکریٹری ، این سی ایم شامل تھے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے کہا ، "ہندوستان کی ترقی اور نمو میں تمام اقلیتی برادریوں کا نمایاں تعاون ہے ۔ پارسی برادری نے صنعت اور معیشت میں غیر معمولی تعاون کیا ہے ، عیسائیوں نے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کیا ہے ، جبکہ مسلمانوں ، بودھوں ، جینوں اور دیگر اقلیتی برادریوں نے ہندوستان کے ثقافتی ، دانشورانہ اور سماجی تانے بانے کو بے شمار طریقوں سے تقویت بخشی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا ، "ہندوستان ہمیشہ سے ہی اقلیتوں کے لیے سب سے محفوظ اور سب سے زیادہ جامع ممالک میں سے ایک ہے ۔ جب ہم برصغیر پاک و ہند کے پڑوسی ممالک کو دیکھتے ہیں ، تو ہم اکثر اقلیتی برادریوں کو اپنےوجود کےلئے چیلنجوں کا سامنا کرتے اور ہندوستان میں پناہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ افغانستان سے لے کر سری لنکا تک ، پورے خطے کی اقلیتوں نے ہندوستان کو پناہ گاہ ، سلامتی اور وقار کی جگہ کے طور پر دیکھا ہے ۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جارج کورین، اقلیتی امور کے وزیرِ مملکت نے پی ایم جے وی کے جیسی فلاحی اسکیموں پر توجہ مرکوز کی، جو جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے اقلیتی برادریوں کو بااختیار بنا رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی حکومت اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور انہیں 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت بنانے کے لیے آگے لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنے خطاب میں الکا اپادھیائے نے کمیشن کے شکایات کے ازالے کے موثرنظام کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کمیشن نے شکایات کے فوری ازالے میں مضبوط کارکردگی برقرار رکھی ہے، جو اس کی بروقت مداخلت اور حل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔2021–22 سے 2025–26 کے دوران کل 9,558 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 9,230 شکایات نمٹا دی گئیں، جو تصفیہ میں مسلسل اضافہ کی شرح کو ظاہر کرتا ہے۔ سکریٹری نے کمیشن کے نئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں مطالعات اور عوامی رسائی کے پروگرام ، خصوصاً بدھ، جین اور پارسی برادریوں پر سیمینارز کا انعقادشامل ہیں ۔

جناب دانش آزاد انصاری وزیرِ مملکت حکومتِ اتر پردیش نے پس ماندہ مسلم برادری کے حوالے سے بات کی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی کوششوں کو اجاگر کیا، جو وزیراعظم نریندر مودی کے 2047 تک وکست بھارت کے وژن کے لیے اہم ہیں۔
جناب محمد زماں خان ، وزیرِ اقلیتی فلاح حکومتِ بہار نے اقلیتی فلاحی اسکیموں کی ضرورت اور تحفظ کے احساس کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
جناب برجیس دیسائی نے کمیشن کے دائرۂ اختیار کی بعض حدود کی نشاندہی کی اور کہا کہ ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی سے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کو مزیدمستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
محترمہ ایس منوری بیگم نے اقلیتی برادریوں کو بااختیار بنانے میں پی ایم وکاس یوجنا کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اجتماعی کوششوں اور بہتر بیداری کے ذریعے اہم ترقی اور پیش رفت ممکن ہے۔
تکنیکی سیشنز
تکنیکی سیشن–I: ملک کی ترقی میں اقلیتوں کارول
اس اجلاس میں اقلیتی برادریوں کی قومی تعمیر، سماجی و اقتصادی ترقی، تعلیم، کاروبار، فلاحی خدمات، ثقافت اور سماجی ہم آہنگی میں شاندار خدمات پر غور کیا گیا۔ سیشن کی نظامت میکائیل وی ولیمس جوماؤنٹ کارمل اسکولس اور مسیحی برادری کی نمائندگی کرتے ہیں۔معزز مقررین میں عاطف رشید سابق نائب چیئرمین این سی ایم شامل تھے، جو مسلم برادری کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہوں نے حکومتِ ہند کی مختلف فلاحی اسکیموں کو مسلم کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے لیے سراہا۔منجیت سنگھ جی کے سابق صدر دہلی سکھ گرودوارہ منجمنٹ کمیٹی نے سکھ برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سکھ برادری نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بدھ مت برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے وین بھکو بھدیا نے کہا کہ بھارت نے دنیا کو جنگ (یُدھ) نہیں بلکہ بدھ دیا۔ڈاکٹرشگن جین جوانٹرنیشنل ا سکول آف جین اسٹڈیز کے بانی ہیں انہوں نے جین برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں جین برادری کے رول کو اجاگر کیا اور حکومت کی جانب سے جینوں کو اقلیتی حیثیت دینے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ دلی پارسی انجمن کے صدر عادل نرگول و الا نےبرادری کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سب سے چھوٹی اقلیتی برادری ہونے کے باوجود پارسیوں نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی برادریوں نے بھارت کے تکثیری مزاج کو تقویت بخشی ہے اور تعلیم، صحت، سماجی خدمت، تجارت، فنون اور ثقافت جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام طبقات کے لیے مساوی مواقع اور شمولیتی ترقی کو مزید فروغ دیا جانا چاہئے۔
تکنیکی سیشن–II: ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی کارکردگی – مسائل اور چیلنجز
اس سیشن میں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کو درپیش عملی مسائل، ادارہ جاتی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس میں برجیس دیسائی ممبر این سی ایم سمیت مختلف ریاستی اقلیتی کمیشنوں کے صدرنشینوں نے حصہ لیا، جن میں طبیب الرحمن چیئرمین آسام ریاستی اقلیتی کمیشن، جناب ہدایت اللہ خان چیئر مین جھارکھنڈ ریاستی اقلیتی کمیشن،جناب یو نثاراحمد چیئرمین کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن،جناب پیارے ضیا خان چیئرمین مہاراشٹر ریاستی اقلیتی کمیشن اور محمد دیپک شاہ چیئرمین منی پور ریاستی ا قلیتی کمیشن شامل تھے۔
شرکاء نے ادارہ جاتی صلاحیت، انتظامی ہم آہنگی، شکایات کے ازالے کے نظام، عملے اور وسائل کی کمی، اور قانون و طریقہ کار سے متعلق چیلنجز پر غور کیا جو ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی مؤثر کارکردگی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بین ریاستی تعاون اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ اقلیتی امور پر بہتر اور فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔
تکنیکی سیشن III: اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے بہترین طورطریقے:
اس اجلاس نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کامیاب اقدامات اور جدیدطرز حکمرانی ماڈل کی نمائش کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ۔ اس سیشن میں بہار ریاستی اقلیتی بہبود کے محکمے کے پرنسپل سکریٹری جناب رابرٹ ایل چونگتھو ، آسام کے اقلیتی بہبود اور ترقی کے محکمے کے سکریٹری جناب سومن علی احمد ، کیرالم کے اقلیتی بہبود کے محکمے کے ڈائریکٹر جناب سبین سمید ، میگھالیہ کے سماجی بہبود کے محکمے کے کمشنر اور سکریٹری جناب پروین بکشی ، تمل ناڈو کے پسماندہ طبقات ، انتہائی پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود کے محکمے کے سکریٹری تھرو ای سروانویلرج اور اقلیتی بہبود کے محکمے کے خصوصی سکریٹری اور ڈائریکٹر جناب نرمل ادھیکاری نے پریزنٹیشنز پیش کیں ۔
حصہ لینے والی ریاستوں نے تعلیمی امداد ، ہنر مندی کے فروغ ، اسکالرشپ سپورٹ ، روزی روٹی کے فروغ ، سماجی فلاحی اسکیموں اور ادارہ جاتی اختراعات سے متعلق تجربات شیئر کیے جن کا مقصد اقلیتی برادریوں تک رسائی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے ۔ توقع ہے کہ بہترین طریقوں کے تبادلے سے پالیسی سے متعلق معلومات کاحصول اور ریاستوں میں فلاحی مداخلتوں میں زیادہ ہم آہنگی میں مدد ملے گی ۔
کانفرنس کا اختتام اقلیتی حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون ، مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پائیدار مشغولیت کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ ہوا ۔ توقع ہے کہ بات چیت سے جامع حکمرانی کومستحکم بنانے اور ملک بھر میں اقلیتی فلاح و بہبود کے طریقہ کار کی موثریت کو بڑھانے میں نمایاں تعاون فراہم ہوگا ۔
*****
ش ح۔ش ب۔ ف ر
U-7294
(ریلیز آئی ڈی: 2263109)
وزیٹر کاؤنٹر : 6