ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پروجیکٹ چیتا:  ہندوستان  کا تاریخی جنگلی حیات کی بحالی کا منصوبہ نمایاں پیش رفت اور امید افزا مستقبل کی جانب گامزن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAY 2026 5:02PM by PIB Delhi

پروجیکٹ چیتا کے تحت آج ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیرِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے کی۔ اجلاس کا مقصد پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور و خوض کرنا تھا۔ اس اجلاس میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی ( ایم او ای ایف سی سی) کے سینئر افسران، پروجیکٹ سے وابستہ ماہرین اور ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق سینئر فیلڈ افسران نے شرکت کی۔

پروجیکٹ چیتا  ہندوستان  میں چیتے کی دوبارہ آبادکاری کے لیے ایک اہم اور تاریخی اقدام ہے، جس کا مقصد اس نوع کو ملک میں اس کے معدوم ہونے کے بعد دوبارہ متعارف کرانا ہے۔ اس پروگرام کا آغاز 20 چیتوں کی بانی آبادی کی نامیبیا اور جنوبی افریقہ سے منتقلی کے ذریعے کیا گیا، جس میں بعد ازاں بوٹسوانا سے 9 مزید چیتے شامل کیے گئے۔ یہ عمل بین الاقوامی تعاون اور سائنسی منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا۔

منصوبے نے مختلف چیلنجز کے باوجود حوصلہ افزا نتائج حاصل کیے ہیں۔ موجودہ چیتوں کی تعداد 53 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 33  ہندوستان  میں پیدا ہونے والے چیتے شامل ہیں۔ یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ چیتے مقامی ماحول میں کامیابی سے مطابقت پیدا کر رہے ہیں اور افزائش نسل بھی مؤثر انداز میں جاری ہے۔ درآمد شدہ چیتوں اور ان کے بچوں کی بقا کی شرح عالمی معیار کے مطابق اور بعض صورتوں میں اس سے بہتر پائی گئی ہے، جو سائنسی انتظام اور نگرانی کے نظام کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس منصوبے کی حکمتِ عملی طویل المدتی پائیداری کے لیے لینڈ اسکیپ بیسڈ اپروچ پر مبنی ہے۔ کونو نیشنل پارک کو مرکزی مقام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جبکہ گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچوری کو اضافی مسکن کے طور پر ترقی دی گئی ہے تاکہ  اس کی آبادی میں مزید وسعت دی جا سکے۔ یہ مقامات وسطی  ہندوستا ن  کے ایک بڑے باہم ومربوط ماحولیاتی خطے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد چیتوں کی نقل و حرکت اور جینیاتی تبادلے کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے علاوہ گجرات کے بنّی گھاس کے میدانوں میں بھی منصوبے کی توسیع کے لیے تیاری جاری ہے، جہاں مسکن اور شکار کی دستیابی کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

سائنسی نگرانی سے ظاہر ہوا ہے کہ چیتے  ہندوستانی  حالات کے مطابق بہتر طور پر ڈھل رہے ہیں، ان کے رویہ مستحکم ہیں، ان کے لئےشکار کے استعمال میں کارکردگی اچھی ہے اور کسی بڑے جسمانی دباؤ کے آثار نہیں ملے۔

اگلے مرحلے میں منصوبے کو مزید مستحکم اور وسعت دینے پر توجہ دی جائے گی، جس میں مزید چیتوں کی منتقلی، مدھیہ پردیش کے نوروادھی وائلڈ لائف سینکچوری جیسے نئے مقامات کی ترقی اور مختلف علاقوں میں میٹا پاپولیشن فریم ورک کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ افریقی ممالک سے مسلسل چیتوں کی فراہمی بھی جینیاتی تنوع برقرار رکھنے کے لیے ضروری تصور کی جا رہی ہے۔

پروجیکٹ چیتا مسلسل پیش رفت کے ساتھ ایک عالمی سطح کی اہمیت رکھنے والا تحفظِ حیاتِ وحش کا منصوبہ بنتا جا رہا ہے۔ سائنسی رہنمائی، ادارہ جاتی تعاون اور مربوط عملدرآمد کے ذریعے یہ منصوبہ طویل المدتی کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ملک میں چیتے کی بحالی اور کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔

 

********

ش ح- ظ الف- ج

UR- 7272


(ریلیز آئی ڈی: 2262926) وزیٹر کاؤنٹر : 8