جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکز نے جل جیون مشن 2.0 کے تحت انڈمان اور نکوبار جزائر اور مغربی بنگال کے ساتھ اصلاحات سے منسلک مفاہمت ناموں پر دستخط کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAY 2026 7:44PM by PIB Delhi

جل جیون مشن 2.0 کے تحت اصلاحات سے منسلک نفاذ کے ملک گیر عمل کو جاری رکھتے ہوئے، آج انڈمان و نکوبار جزائر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے اور ریاست مغربی بنگال نے مرکزی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ یہ ایم او یو وکست بھارت @2047 کے وژن کے مطابق دیہی آبی فراہمی کے انتظام میں شفاف، جوابدہ اور کمیونٹی پر مبنی ماڈل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہیں۔

اصلاحات سے منسلک اس مفاہمتی یادداشت کے تحت گرام پنچایت کی قیادت میں خدمات پر مبنی اور کمیونٹی مرکوز دیہی آبی حکمرانی کا ماڈل نافذ کیا جائے گا، جو جل جیون مشن 2.0 کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔

ان مفاہمتی یادداشتوں پر مرکزی وزیر برائے جل شکتی جناب سی آر پاٹل، وزارتِ جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا، پینے کے پانی و صفائی محکمہ (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا، اور ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سینیئر افسران کی موجودگی میں منعقدہ الگ الگ طے شدہ اجلاسوں کے دوران دستخط کیے گئے۔

انڈمان و نکوبار جزائر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے، مفاہمتی یادداشت پر ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی جوائنٹ سیکریٹری (واٹر) محترمہ سواتی مینا نائک اور انڈمان و نکوبار جزائر کے سکریٹری و کمشنر کم سکریٹری ڈاکٹر سچن شندے نے دستخط کیے۔ یہ مفاہمتی یادداشت نئی دہلی میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس دفتر میں انڈمان و نکوبار جزائر کے ریزیڈنٹ کمشنر جناب ونود کمار یادو اور جے جے ایم کے انڈر سیکریٹری جناب ارون کمار کے درمیان تبادلہ کی گئی۔

انڈمان و نکوبار جزائر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ایڈمائرل ڈی کے جوشی، چیف سیکریٹری ڈاکٹر چندر بھوشن کمار، اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دیگر سینیئر افسران کی ورچوئل موجودگی میں کیا گیا۔

 

 

مرکز اور ریاست کے اشتراک کے ایک اہم مرحلے کے طور پر، ریاست مغربی بنگال کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط وزیر اعلیٰ مغربی بنگال کے دفتر میں وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری، حکومت مغربی بنگال کے چیف سیکریٹری جناب منوج کمار اگروال، اور ریاستی حکومت کے سینئر افسران کی معزز موجودگی میں کیے گئے۔ اس عمل کے دوران مغربی بنگال کے پرنسپل ریزیڈنٹ کمشنر جناب دشینت نریلا ڈی ڈی ڈبلیو ایس دفتر میں موجود تھے۔

مفاہمتی یادداشت پر ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی جوائنٹ سیکریٹری (واٹر) محترمہ سواتی مینا نائک اور مغربی بنگال کے محکمہ پی ایچ ای کے پرنسپل سیکریٹری جناب نارائن سوروپ نگم نے وزیر اعلیٰ مغربی بنگال کے دفتر میں دستخط کیے اور اس کا تبادلہ کیا۔

 

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے جل شکتی جناب سی آر پاٹل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں جل جیون مشن دیہی سطح پر وسیع پیمانے پر پہنچ چکا ہے، اور یہ مشن دیہی علاقوں میں وقار، صحت اور بااختیاری کو فروغ دینے کے لیے عوام پر مبنی ایک تحریک کے طور پر ابھرا ہے۔

مشن کی مدت کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب پاٹل نے کہا کہ اگرچہ اصل ہدف مئی 2024 تک مکمل ہونا تھا، تاہم وزیر اعظم کی رہنمائی میں اسے دسمبر 2028 تک توسیع دی گئی ہے، تاکہ ملک بھر میں 100 فیصد نل کے پانی کی فراہمی اور صفائی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

مرکزی وزیر نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو 100 فیصد دیہی نل کنکشن فراہم کرنے اور اپنے تمام بلاکس میں ’ہر گھر جل‘ سرٹیفکیشن حاصل کرنے میں پیش پیش ہونے پر سراہا۔ انہوں نے انتظامیہ کی تعریف کی کہ اس نے باقی ماندہ 40 فیصد کاموں کے لیے درکار مالی اخراجات میں 100 فیصد فنڈنگ فراہم کی ہے۔

اس کے علاوہ، مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ وہ تمام جاری آبی بنیادی ڈھانچے کی اسکیموں کی مالی مطابقت کو جلد مکمل کرے تاکہ حسابی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

ریاست مغربی بنگال سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے وزیر اعلیٰ مغربی بنگال سے درخواست کی کہ وہ ریاست میں پانی سے متعلق مسائل کا جائزہ لیں اور جل جیون مشن 2.0 کے نفاذ کو تیز کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کریں۔ مرکزی وزیر نے تاریخی طور پر پسماندہ اضلاع دارجلنگ، کالیمپونگ اور پرولیا میں فوری زمینی جائزے کی درخواست کی۔ انہوں نے جل سنچے جن بھاگیداری (عوامی شمولیت) کے نفاذ اور کرم بھومی سے ماتر بھومی مہم پر فعال توجہ دینے پر بھی زور دیا۔

نئی دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی قانونی اور ساختی حدود پر بات کرتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے مرکز کے زیر انتظام علاقے اور ریاستی حکومت سے جل جیون مشن 2.0 کے رہنما خطوط پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ ان رہنما خطوط کے تحت انہوں نے دونوں حکومتوں سے آپریشن و مینٹیننس (او اینڈ ایم) پالیسی کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی سطح کے بنیادی ڈھانچے کے آپریشن، روزمرہ دیکھ بھال، اور مقامی پانی کے ٹیرف و محصول کی وصولی کی مکمل ذمہ داری قانونی اور انتظامی طور پر متعلقہ ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹیوں کو منتقل کی جانی چاہیے۔

جناب پاٹل نے مزید کہا کہ جل جیون مشن محض ایک اسکیم نہیں بلکہ زندگی پر اثر انداز ہونے والا ایک مشن ہے، جو خاص طور پر خواتین اور دیہی برادریوں کی صحت، وقار اور معیارِ زندگی میں بنیادی بہتری لا رہا ہے۔ لہٰذا ہر گاؤں میں پینے کے پانی کی باقاعدہ اور مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ ہونا چاہیے۔

 

 

انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ایڈمائرل ڈی کے جوشی نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی اس کامیابی کو اجاگر کیا کہ انڈمان و نکوبار جزائر نے سال 2021 میں دیہی گھرانوں کو نل کے پانی کی فراہمی میں 100 فیصد کوریج حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے نئے مرحلے کے تحت کمیونٹی کی قیادت میں بنیادی ڈھانچے کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پہلے ہی غیر مرکزی آزمائشی اقدامات شروع کیے جا چکے ہیں۔ سپی گھاٹ گرام پنچایت میں ایک جامع پائلٹ پروجیکٹ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ نے جل جیون مشن کے ابتدائی مرحلے کو کامیابی سے مکمل کیا اور 40 مکمل شدہ دیہی آبی منصوبوں میں مختص بجٹ کا مؤثر استعمال کیا۔

اس کے ساتھ ہی، انہوں نے انڈمان و نکوبار جزائر کی کمزوریوں پر روشنی ڈالی کہ یہاں وسیع دریائی نظام یا مستقل قدرتی اندرونی آبی ذخائر موجود نہیں ہیں، جس کے باعث بنیادی آبی فراہمی مکمل طور پر بارش کے پانی کو مقامی ذخائر میں جمع کرنے پر منحصر ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے انہوں نے مرکزی معاونت کی درخواست کی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت وزارتِ جل شکتی اور مقامی انتظامیہ کے درمیان ان حساس آبی نظاموں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کو مزید مستحکم کرے گی۔

 

 

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مرکزی حکومت نے ریاست کو منظم انداز میں بڑے پیمانے پر مالی معاونت فراہم کی ہے۔ انہوں نے مسلسل تعاون پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت نئے معاہدے کے بعد ریاستی حکومت بنگال کے عوام کے لیے کام کرتے ہوئے تمام دیہی گھرانوں تک صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ہر گھر جل‘ وژن کے تحت کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرے گی۔

اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر ریاست کی نازک مالی صورتحال اور عوامی فلاح کے لیے مرکزی تعاون پر اس کے اہم انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے، مغربی بنگال میں زیر التوا آبپاشی منصوبوں کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت میں تیزی لانے کی درخواست کی۔

 

 

اپنے افتتاحی کلمات میں پینے کے پانی و صفائی کے محکمہ (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط جل جیون مشن کے تحت مرکز اور مرکز زیر انتظام علاقے/ریاست کے درمیان ہر گھر تک محفوظ، صاف اور پائیدار پینے کا پانی فراہم کرنے کے مشترکہ عزم کی علامت ہیں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ اس معاہدے کے تحت اب گرام پنچایتوں کو دیہی آبی نظام کے انتظام اور پانی کے ٹیکس کی وصولی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ گاؤں کی سطح پر سیچوریشن پلان کو حتمی شکل دی جا سکے اور پنچایتوں کو ’ہر گھر جل‘ کے طور پر تصدیق دی جا سکے۔

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 7228


(ریلیز آئی ڈی: 2262593) وزیٹر کاؤنٹر : 9