بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
مرکزی حکومت کی طرف سے 18 شہروں میں قومی سطح پر آغاز سے قبل بین وزارتی مشاورت کے لیے قومی واٹر میٹرو پالیسی کا مسودہ جاری
مرکزی حکومت کا ملک گیر منصوبے کے پہلے مرحلے میں گوہاٹی واٹر میٹرو شروع کرنے کا منصوبہ : سربانند سونووال
پہلے مرحلے میں سری نگر، پٹنہ، وارانسی، اجودھیا اور پریاگ راج میں بھی واٹر میٹرو سروس شروع کی جائے گی
آسام کے تیج پور اور ڈبروگڑھ کو منصوبے کے دوسرے مرحلے میں واٹر میٹرو کی سہولت فراہم کی جائے گی
قومی واٹر میٹرو پالیسی 2026 کا مسودہ بین وزارتی مشاورت کے لیے جاری کر دیا گیا ہے: جناب سربانند سونووال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAY 2026 8:50PM by PIB Delhi
بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے ملک میں متوقع واٹر میٹرو خدمات کے آغاز کے سلسلے میں جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ مرکزی وزیر سربانند سونووال نے آج یہاں کہا کہ حکومت نے ملک کے 18 شہروں میں واٹر میٹرو خدمات شروع کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جن میں گوہاٹی کو پہلے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
سری نگر، پٹنہ، وارانسی، اجودھیا اور پریاگ راج جیسے شہر بھی پہلے مرحلے میں شامل ہیں، جبکہ آسام کے تیج پور اور ڈبروگڑھ کو منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ وزارت نے اسی دوران “قومی واٹر میٹرو پالیسی 2026” کا مسودہ بین وزارتی مشاورت کے لیے جاری کر دیا ہے، جو شہری آبی نقل و حمل کے لیے قومی سطح کے باضابطہ فریم ورک کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
کوچی واٹر میٹرو کی کامیابی اور اس سے حاصل شدہ تجربات کی بنیاد پر مودی حکومت اب قومی فریم ورک کو وسعت دے رہی ہے تاکہ قابلِ آمدورفت کے آبی راستے رکھنے والے شہروں میں پانی پر مبنی شہری نقل و حمل کے جدید نظام متعارف کرائے جا سکیں۔ مجوزہ منصوبے کا مقصد اندرونی آبی گزرگاہوں کو مؤثر، پائیدار اور جدید عوامی ٹرانسپورٹ راہداریوں میں تبدیل کرنا ہے۔
اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا، “مجوزہ واٹر میٹرو نظام نسبتاً کم لاگت والا ہے کیونکہ اس میں موجودہ آبی گزرگاہوں کو کم سے کم تعمیراتی ڈھانچے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ تیز رفتار تعمیر، کم زمینی رقبے کی ضرورت، اور آپریشنل اخراجات میں کمی — خصوصاً برقی اور ہائبرڈ فیریوں کے استعمال کے ذریعے — اس نظام کو روایتی شہری ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ایک مؤثر اور ماحول کے موافق متبادل بناتی ہے۔ یہ خدمات شہروں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو آرام دہ، دلکش اور ہموار سفر کا تجربہ فراہم کریں گی۔”
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اس بات پر زور دیا کہ “قومی واٹر میٹرو پالیسی 2026” کے مسودے پر ریاستی حکومتوں سے بھی مشاورت کی جائے تاکہ ان کی قیمتی تجاویز حاصل کی جا سکیں۔
مجوزہ واٹر میٹرو نظام کو ایسے عوامی نقل و حمل کے حل کے طور پر تصور کیا گیا ہے جو روزمرہ سفر کرنے والوں اور سیاحتی ضروریات دونوں کو پورا کرے گا۔ یہ خدمات تمام قابلِ استعمال آمدورفت آبی گزرگاہوں پر چلائی جائیں گی۔ مرکزی وزیر سربانند سونووال نے مزید کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سبز ٹیکنالوجی پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت ہائبرڈ اور برقی انجن والے نظاموں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ وقتاً فوقتاً تکنیکی اپ گریڈیشن کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔”اس اقدام میں ایک جامع ماحولیاتی نظامی نقطۂ نظر کو اپنایا گیا ہے، جس کے تحت جہازوں کے ڈیزائن، ٹرمینل، چارجنگ انفراسٹرکچر اور حفاظتی ضوابط میں یکسانیت کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ جہاز سازی میں مقامی صنعت کو فروغ دینے اور موجودہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ساتھ ہموار کثیر جہتی رابطے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
منصوبہ بندی کے معیار کی وضاحت کرتے ہوئے جنا ب سربانند سونووال نے کہا، “واٹر میٹرو منصوبوں کو اُن علاقوں میں ترجیح دی جائے گی جہاں جغرافیائی حالات موزوں ہوں، جن میں مسلسل یا نیم ہموار آبی گزرگاہیں موجود ہوں۔ ایسے شہر جن کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہو اور جہاں نقل و حمل کی واضح ضرورت موجود ہو، خصوصاً سیاحتی راہداریوں میں، انہیں ترجیح دی جائے گی۔” تاہم، بعض معاملوں میں ان معیاروں میں نرمی بھی برتی جا سکتی ہے، خاص طور پر اگر منصوبے سڑکوں پر دباؤ کم کرنے، دور دراز یا پانی سے گھرے علاقوں تک رابطہ بہتر بنانے، یا سیلاب اور دیگر رکاوٹوں کے دوران نقل و حمل کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
ترقیاتی فریم ورک ایک جامع نظامی نقطۂ نظر پر مبنی ہے، جس میں جہاز، پونٹون، جیٹیاں، ایندھن اور چارجنگ انفراسٹرکچر، ٹرمینل، مسافروں کی سہولیات اور نیویگیشن سے متعلق آلات شامل ہیں۔ منصوبے کے لیے مختلف مالیاتی ماڈلز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں مرکز اور ریاست کی مشترکہ فنڈنگ، مکمل طور پر ریاستی فنڈنگ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) اور مکمل مرکزی فنڈنگ والے منصوبے شامل ہیں۔ وزارت نے طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے واسطے مؤثر منصوبہ بندی، فلیٹ کے مناسب استعمال اور آپریشنل نظم و نسق کے ذریعے لاگت میں کمی کی حکمتِ عملی پر بھی زور دیا ہے۔
انلینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) نے 25 فروری 2025 کو کوچی میٹرو ریل لمیٹڈ (کے ایم آر ایل) کو 18 شہروں کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی انجام دینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس مطالعے میں موجودہ عوامی نقل و حمل کے نظام کا جائزہ، سفری طلب کا تخمینہ، مالی و اقتصادی افادیت (ایف آئی آر آر اور ای آئی آر آر) اور کثیر جہتی ٹرانسپورٹ انضمام کا تجزیہ شامل ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق تمام 18 مقامات کے دورے مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 17 شہروں کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹس جمع کر دی گئی ہیں، صرف لکشدیپ کی رپورٹ ابھی باقی ہے۔ سری نگر، پٹنہ، گوہاٹی، وارانسی اور ایودھیا کی فزیبلٹی رپورٹس پہلے ہی منظور کی جا چکی ہیں۔
“قومی واٹر میٹرو پالیسی 2026” کے مسودے پر گفتگو کرتے ہوئے جناب سربانند سونووال نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی عظیم بحری وراثت کی جھلک ٹرمینل اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے ڈیزائن اور طرزِ تعمیر میں نمایاں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “منظرنامے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور مقامی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی طور پر موزوں تعمیراتی مواد استعمال کیا جائے۔”
جناب سربانند سونووال نے مزید کہا کہ ہندوستان کے آبی راستوں میں تبدیلی کے عمل کے حوالے سے بیداری اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مقامی سطح پر سرگرم تعاون ضروری ہے، خصوصاً نوجوان طلبہ کو اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ پائیداری پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی فوائد کا واضح انداز میں تعین اور اس کی تشہیر حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
جناب سربانند سونووال نے مزید کہا کہ واٹر میٹرو منصوبے شہروں کے حسن، وقار اور تاریخی شناخت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی معیار کی پائیدار نقل و حمل کی سہولیات بھی فراہم کریں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقصد ایسی عوامی خدمات فراہم کرنا ہونا چاہیے جو ترقی یافتہ ممالک کے بہترین معیار کے مساوی ہوں۔ اس اقدام کو “سنہری موقع” قرار دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ وزارت ہندوستان میں ٹرانسپورٹ انقلاب کے اگلے مرحلے کو جدید، پائیدار اور جامع نقل و حمل کے حل کے ذریعے آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

***
ش ح۔ م ش ع ۔ م ا
UN-7230
(ریلیز آئی ڈی: 2262589)
وزیٹر کاؤنٹر : 9