PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

کاروباری ماحول کو تبدیل کرنے والی پالیسی اصلاحات

प्रविष्टि तिथि: 05 MAR 2026 11:50AM by PIB Delhi

 

اہم نکات

· بھارت میں کاروباری اندراج میں تقریباً 27 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو21-2020 میں 1.55 لاکھ سے بڑھ کر 26-2025 میں (3 فروری 2026 تک) 1.98 لاکھ ہو گیا ہے۔

· مرکزی بجٹ 2026-27 مختلف اقدامات کے ذریعے بھارت کے کاروبار کرنے میں آسانی کے نظام کو مزید بہتر بناتا ہے، جن میں ڈیجیٹل تجارتی سہولت، ٹیکس میں یقینی صورتحال، کم تعمیل اور قانونی تنازعات، اعتماد پر مبنی کسٹمز نظام، اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ٹیکس نظام شامل ہیں۔

· ادارہ جاتی اصلاحات جیسے اسٹارٹ اپ انڈیا، کریڈٹ گارنٹی اسکیم اور ڈیجیٹل کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈلز ایک شفاف، ٹیکنالوجی سے لیس اور سرمایہ کار دوست نظام تشکیل دے رہے ہیں۔

· اس کے ساتھ ساتھ ضابطہ جاتی اصلاحات جیسے جن وشواس ایکٹ، آئی بی سی اور ایم اے ٹی وغیرہ صلاحیت سازی، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور اعتماد و جوابدہی پر مبنی حکمرانی کو ترجیح دے رہی ہیں۔

 

بھارت: ایک ابھرتی ہوئی عالمی کاروباری طاقت

گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ کاروبار کرنے کے لیے بھی دنیا کے سب سے پرکشش مقامات میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ ایک دہائی قبل حکومت نے ضابطہ جاتی اصلاحات کا ایک جامع اور پُرعزم پروگرام شروع کیا تھا، جس کا مقصد بھارت میں کاروبار کرنا آسان بنانا تھا۔

 

 

کاروبار کرنے میں آسانی (ای او ڈی بی) کے اقدامات کے آغاز اور کاروبار دوست اصلاحات کے ایک سلسلے کے ساتھ بھارت نے اب کارکردگی اور مواقع کے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے۔ ملک اور اس کی متحرک نوجوان کاروباری برادری اب اس اصلاح شدہ اور ترقی پر مبنی نظام کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بااختیار اور تیار ہیں۔ بھارتی کاروباری نظام مزید مضبوط ہوا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف پانچ سالوں میں فعال رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد میں تقریباً 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2020-21 میں 1.55 لاکھ سے بڑھ کر 2025–26 (3 فروری 2026 تک) میں 1.98 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آربی آئی) کے بزنس ایکسپیکٹیشن انڈیکس، جو مالی سال 25-2024 کے دوران اور مالی سال26-2025 کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) تک مسلسل 100 کے غیر جانبدار معیار سے اوپر رہا ہے، مستقبل کی پیداوار، روزگار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اشاریے مجموعی طور پر صنعتی اعتماد کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں اور ایسے کاروباری ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جہاں کمپنیاںمانگ اور ترقی کے امکانات کے بارے میں پُراعتماد ہیں۔

 

کاروبار کرنےمیں آسانی سےمتعلق حکومت کی حکمت عملی پر توجہ

کاروبار میں آسانی (ای او ڈی بی ) کاروباری سرگرمیوں، جدت طرازی اور دولت کی تخلیق کو فروغ دینے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے “کاروباری ماحول کی بہتری” کو ایک اسٹریٹجک ترجیح بنایا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے اور معاشی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔ ضابطہ جاتی اور قانونی فریم ورک میں اصلاحات، طریقۂ کار کو آسان  بنانے اور غیر ضروری تعمیلات کو ختم کرنے کے ذریعے حکومت ایک زیادہ شفاف، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی کاروباری نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج،ای او ڈی بی  بھارت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک مرکزی ستون بن چکا ہے۔ مرکزی بجٹ27-2026 اس وژن کو مزید آگے بڑھاتا ہے، جس میں ڈیجیٹل تجارت کی سہولت، ٹیکس میں یقین دہانی، تعمیل اور مقدمہ بازی میں کمی، اعتماد پر مبنی کسٹمز نظام، اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ٹیکس نظام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ مسلسل اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہیں اور بھارت کو ایک زیادہ مسابقتی اور کاروبار کے لیے تیار معیشت کے طور پر مستحکم کرتی ہیں۔

 

 

 

ادارہ جاتی اصلاحات: بھارت کے کاروباری ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا

بھارت کی اصلاحات پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی کاروباری مواقع کو فروغ دینے، مالیات تک رسائی کو وسعت دینے، ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے اور تجارتی سہولت کو بہتر کرنے پر مرکوز ہے۔ اس مقصد کے لیے اسٹارٹ اپ انڈیا، کریڈٹ گارنٹی اسکیمز، ڈیجیٹل کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈلز، انشورنس شعبے میں جامع اصلاحات اور مربوط کسٹمز نظام جیسے اقدامات کے ذریعے حکومت ایک زیادہ شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور سرمایہ کار دوست نظام تشکیل دے رہی ہے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ مالی شمولیت کو وسعت دیتے ہیں،اختراع کو فروغ دیتے ہیں، ایم ایس ایم ایز کی ترقی کو تیز کرتے ہیں اور بھارت کو عالمی تجارت و سرمایہ کاری کے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر مضبوط کرتے ہیں۔

اسٹارٹ اپ انڈیا

اسٹارٹ اپ انڈیا اقدام کے تحت، اہل کمپنیاں صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے(ڈی پی آئی آئی ٹی) محکمہ سے بطور اسٹارٹ اپ منظوری حاصل کر سکتی ہیں، جس کے ذریعے انہیں متعدد سہولیات تک رسائی ملتی ہے، جن میں ٹیکس مراعات، آسان تعمیلی طریقۂ کار، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) کی تیز رفتار پروسیسنگ اور دیگر ضابطہ جاتی معاونت شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایک مضبوط اور جامع اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے جو جدت طرازی کو فروغ دے، پائیدار معاشی ترقی کو آگے بڑھائے اور ملک بھر میں وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرے۔

فروری 2026 تک ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ 2.16 لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس کے ساتھ، بھارت دنیا کے بڑے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظاموں میں مضبوطی سے شامل ہے۔ 2016 سے شروع کی گئی ضابطہ جاتی اصلاحات کا مقصد ایز آف ڈوئنگ بزنس کو بہتر بنانا، سرمایہ حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانااور اسٹارٹ اپس کے لیے تعمیلی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

اسٹارٹ اپ انڈیا سے آگے بڑھتے ہوئے متعدد اقدامات نے بھارت کے اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کو مزید مضبوط بنایا ہے، جن کے ذریعے تکنیکی اختراع، دیہی کاروبار، تعلیمی تحقیق اور علاقائی شمولیت کو فروغ دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اسٹارٹ اپس کے لیے معاونت وسیع بنیادوں پر ہو، مرکزیت سے پاک ہو اور قومی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔

 

 

کریڈٹ گارنٹی اسکیم

کریڈٹ گارنٹی اسکیمیں ای اوڈی بی کو فروغ دیتی ہیں کیونکہ یہ ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کو بغیر ضمانت یا تیسرے فریق کی گارنٹی کے قرض فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس سے قرض دہندگان کے لیے خطرہ کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری افراد کو مالی وسائل تک آسان رسائی ملتی ہے، جدت طرازی کو فروغ ملتا ہے اور مجموعی کاروباری ماحول مزیدآسان  ہو جاتا ہے۔

اہم اسکیمیں:

  • بہت چھوٹی ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں سے متعلق کریڈٹ گارنٹی اسکیم (سی جی ٹی ایم ایس ای):بہت چھوٹی ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایز) کے لیے10 کروڑ روپےتک کے قرض پر کریڈٹ گارنٹی فراہم کرتی ہے۔
  • اسٹارٹ اپس کیلئےکریڈٹ گارنٹی اسکیم (سی جی ایس ایس):اسٹارٹ اپس کے لیے کریڈٹ گارنٹی فراہم کرتی ہے؛ نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت گارنٹی کوریج میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے فی اہل قرض دہندہ کے قرض کی حد10 کروڑ سے بڑھا کر20 کروڑروپے کر دی گئی ہے۔
  • برآمد کنندگان کیلئے کریڈٹ گارنٹی اسکیم (سی جی ایس ای):براہِ راست اور بالواسطہ برآمد کنندہ ایم ایس ایم ایز کے لیے20,000 کروڑروپے تک اضافی بغیر ضمانت کے  قرض  فراہم کی جاتی ہے۔

یہ اسکیمیں قرض کی منظوری کے عمل کو آسان اور تیز بنا کر سرمایہ تک رسائی میں درکار وقت اور لاگت کو بھی کم کرتی ہیں۔

 

کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈل(سی اے ایم)

پبلک سیکٹر بینکوں (پی ایس بی) نے 2025 میں ایم ایس ایم ای کے لیے ڈیجیٹل فُٹ پرنٹس پر مبنی کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈل (سی اے ایم) متعارف کرایا ہے۔ اس ماڈل کا مقصد ڈیجیٹل طور پر حاصل شدہ اور قابلِ تصدیق ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ایم ایس ایم ایز کے لیے قرض کی منظوری کے عمل کو خودکار بنانا ہے۔ اس کے تحت تمام قرض درخواستوں کے لیے معروضی بنیادوں پر فیصلہ سازی کی جاتی ہے اور موجودہ  اور نئے دونوں طرح کے ایم ایس ایم ای قرض دہندہ افراد کے لیے ماڈل پر مبنی حد  کا تعین کیا جاتا ہے۔

یہ ماڈل نہ صرف ایم ایس ایم ایز کے لیے ای او ڈی بی (ایز آف ڈوئنگ بزنس)کو بہتر بناتا ہے بلکہ کریڈٹ گارنٹی اسکیموں، جیسے کریڈٹ گارنٹی فنڈ ٹرسٹ سے متعلق بہت چھوٹی ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (سی جی ٹی ایم ایس ای)، کے ساتھ بھی مربوط ہے۔

یکم اپریل سے 30 نومبر 2025 کے دوران، سی اے ایم کے کریڈٹ پروگراموں کے تحت پبلک سیکٹر بینکوں نے3.2 لاکھ کروڑ روپےسے زائد مالیت کی ایم ایس ایم ای قرض درخواستوں میں سے 41.5 ہزار کروڑروپے  سے زیادہ کے قرض منظور کیے۔

 

سب کا بیمہ، سب کی رکشا( انشورنس قوانین میں ترمیم) ایکٹ 2025

‘‘سب کا بیمہ، سب کیرکشا (انشورنس قوانین میں ترمیم) ایکٹ، 2025’’ کے تحت جامع اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں انشورنس ایکٹ 1938، لائف انشورنس کارپوریشن ایکٹ 1956، اور انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1999 میں ترامیم شامل ہیں۔ اس کا مقصد پالیسی شراکت داروں کے تحفظ کو مضبوط بنانا، انشورنس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، شعبے کی ترقی کو تیز کرنا، اور ای او ڈی بی (ایز آف ڈوئنگ بزنس )کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہے۔

ایک اہم اصلاح براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حد کو بڑھا کر سو فیصد کرنا ہے، جس سے نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، سرمایہ کی دستیابی بڑھانے، اور افراد و کاروبار کے لیے تحفظ کے خلا کو پُر کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ ایکٹ ای او ڈی بی کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل اقدامات متعارف کراتا ہے:

  • انشورنس انٹرمیڈیٹریز کے لیے ایک مرتبہ رجسٹریشن کی سہولت، تاکہ ہموار آپریشن اور بہتر سروس کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • شیئر ٹرانسفرز کے لیے آئی آر ڈی اے آئی کی منظوری کی حد کو 1 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنا، جس سے تعمیل کے عمل کو مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
  • غیر ملکی ری اِنشوررز کے لیے نیٹ اونڈ فنڈ کی شرط کو 5,000 کروڑروپے سے کم کر کے 1,000 کروڑروپے کرنا، جس سے ری اِنشورنس میں شرکت اور صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

یہ اصلاحات مجموعی طور پر ایک زیادہ مؤثر، سرمایہ کار دوست اور شفاف انشورنس ماحولیاتی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔

 

تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری

 

بھارت کو ایک مسابقتی عالمی تجارتی اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کا مقصد کارگو کلیئرنس کے عمل کو آسان بنانا، کسٹمز کے نظام کو جدید بنانا اور سرمایہ کاروں تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اقدامات ڈیجیٹل انضمام، تیز تر منظوریوں، ٹیکنالوجی پر مبنی رسک مینجمنٹ اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع پر مرکوز ہیں، جو ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور سرمایہ کار دوست تجارتی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔

اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • کارگو کلیئرنس کی منظوری کے لیے سنگل اور باہم مربوط ڈیجیٹل ونڈو کا قیام۔
  • ایسی اشیاء کے لیے جن پر کسی قسم کی تعمیل کی شرط لاگو نہیں، درآمد کنندہ کی جانب سے آن لائن رجسٹریشن اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے فوراً بعد کسٹمز کے ذریعے فوری کلیئرنس۔
  • کسٹمز انٹیگریٹڈ سسٹم (سی آئی ایس) کو دو سال کے اندر ایک جامع، مربوط اور قابلِ توسیع پلیٹ فارم کے طور پر نافذ کیا جائے گا، جو تمام کسٹمز عمل کو یکجا کرے گا۔
  • جدید امیجنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ساتھ نان اِنٹروسیو اسکیننگ کے استعمال کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا، تاکہ بڑے بندرگاہوں پر ہر کنٹینر کی اسکیننگ ممکن بنائی جا سکے۔
  • بیرونِ ملک مقیم افراد (پی آر او آئیز) کو پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اسکیم (پی آئی ایس) کے تحت بھارتی لسٹڈ کمپنیوں کے ایکویٹی آلات میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ، فی فرد سرمایہ کاری کی حد کو 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے اور مجموعی حد کو 10 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

 

انضباطی اصلاحات کاروبار کرنےمیں آسان کو بڑھا رہی ہیں

متوازی ضابطہ جاتی اصلاحات نے کاروبار میں آسانی(ای او ڈی بی)کو بہتر بنانے کے لیے صلاحیت سازی، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور اعتماد و جوابدہی پر مبنی طرزِ حکمرانی کو ترجیح دی ہے۔ حالیہ اقدامات مالیاتی منڈیوں، ٹیکس نظام، لیبر قوانین، دیوالیہ پن کے حل، کسٹمز انتظامیہ، معیار کے ضوابط، اور تعمیل کی سادگی جیسے مختلف شعبوں پر محیط ہیں۔قوانین کو یکجا کرنے، معمولی جرائم کو جرم سے خارج کرنے، کارروائی کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور شفافیت کو مضبوط کرنے کے ذریعے ان اصلاحات نے ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو کم کیا ہے، جبکہ جوابدہی کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ مربوط اقدامات ضابطہ جاتی یقین دہانی کو مستحکم کرتے ہیں، مسابقت کو فروغ دیتے ہیںاور ایک زیادہ مؤثر اور مضبوط کاروباری ماحول کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

 

آر بی آئی کی ماسٹر ڈائریکشنز

ریزرو بینک آف انڈیا (آربی آئی) نے اپنے ضابطہ جاتی فریم ورک کو آسان اور منظم بناتے ہوئے 9,000 سے زائد سرکولرز اور رہنما ہدایات کو مختلف زمروں کے ریگولیٹڈ اداروں کے لیے 238 فنکشن مخصوص ماسٹر ڈائریکشنز میں یکجا کر دیا ہے۔ نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (این اے بی اےآر ڈی) کے ساتھ اشتراک میں، علاقائی دیہی بینکوں اور کوآپریٹو بینکوں کے لیے جاری ہدایات کو بھی یکجا اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ شفافیت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

رسائی کو بہتر بنانے اور تعمیلی بوجھ کو کم کرنے کے مقصد کے تحت، مجموعی طور پر 9,446 سرکولرز کو منسوخ کیا جا رہا ہے، 3,809 کو ماسٹر سرکولرز میں ضم کیا گیا ہے، جبکہ 5,673 کو متروک قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام وضاحت کو بہتر بناتا ہے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کو مزیدمستحکم کرتا ہے۔

 

سیبی کی جانب سے ضوابط کو آسان  بنانے اور شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات

ای او ڈی بی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کو فروغ دینے اور کیپٹل مارکیٹس کو مزیدمضبوط کرنے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے ضابطہ جاتی تقاضوں کو آسان بنانے اور شفافیت کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اس سلسلے میں، سیبی نے سیکیورٹائزڈ ڈیٹانسٹرومنٹس (ایس ڈی آئی) کے جاری ہونے اور لسٹنگ سے متعلق رہنما اصولوں کو ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے معیاری اثاثوں کی سیکیورٹائزیشن سے متعلق ضوابط کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔

اس اقدام سے ضابطہ جاتی ہم آہنگی میں اضافہ، تعمیلی عمل میں آسانی اور جاری کنندگان کے لیے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے میں مدد ملتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک زیادہ شفاف اور مؤثر مالیاتی نظام فروغ پاتا ہے۔

 

جرمانوں اور قانونی کارروائی کو معقول بنانا

تعمیلی بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد جرمانوں کو معقول بنانا، معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں کو غیر فوجداری بنانا، اور تشخیص و قانونی کارروائی کے نظام کو آسان بنانا ہےتاکہ ٹیکس نظام زیادہ شفاف، قابلِ پیش گوئی اور کاروبار دوست بن سکے۔

 

اہم اقدامات درج ذیل ہیں

  • مربوط جائزہ اور جرمانہ سے متعلق احکامات:  جن میں اپیل کے دوران جرمانوں پر سود شامل نہیں ہوگا؛ اور پیشگی جمع (پری ڈپازٹ) کو بنیادی ٹیکس مطالبے پر 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔
  • دوبارہ تشخیص کے بعد بھی اضافی 10 فیصد ٹیکس کے ساتھ ریٹرن جمع کرانے کی سہولت۔
  • جرمانہ اور قانونی کارروائی سے استثنا: انڈر رپورٹنگ سے بڑھا کر مس رپورٹنگ تک، بشرطیکہ مکمل ٹیکس اور سود ادا کیا جائے۔
  • کھاتہ جاتی ریکارڈ (کتب) پیش نہ کرنے اور عین  ادائیگیوں پرٹی ڈی ایس سے متعلق خلاف ورزیوں کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا گیا ہے؛ اب معمولی نوعیت کے جرائم پر صرف جرمانہ عائد ہوگا۔
  • متناسب قانونی کارروائی کا فریم ورک: زیادہ سے زیادہ 2 سال تک قید، جسے جرمانے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
  • 1 اکتوبر 2024 سے 20 لاکھ سے کم غیرغیرمنکشف بیرونی  اثاثوں پر چھوٹ۔

 

اعتماد  پر مبنی نظام

موخر ڈیوٹی ادائیگی ایک ایسا طریقۂ کار ہے جس میں کسٹمز کلیئرنس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ اصول “پہلے کلیئرنس، بعد میں ادائیگی” پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد بندرگاہ  سے گودام  تک بغیر رکاوٹ ترسیل کو ممکن بنانا ہے، تاکہ جسٹ اِن ٹائم مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا سکے۔

آتھرائزڈ اکنامک آپریٹر (اے ای او) وہ کاروباری ادارہ ہوتا ہے جو بین الاقوامی تجارت میں اشیاء کی نقل و حرکت میں شامل ہو اور قومی کسٹمز قوانین کی تعمیل کرتا ہو۔ ایسے ادارے کو عالمی کسٹمز تنظیم (ڈبلیو سی او) یا اس کے مساوی سپلائی چین سیکیورٹی معیارات کے تحت منظور کیا جاتا ہے۔

ایز آف ڈوئنگ بزنس کو بہتر بنانے کے لیے حکومت اعتماد پر مبنی کسٹمز نظام کو فروغ دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں،مرکزی بجٹ 26-2026 میں ٹئیر 2 اور ٹئیر 3 آتھرائزڈ اکنامک آپریٹرز (اے ای او) کے لیے ڈیوٹی کی موخر ادائیگی کی مدت کو 15 دن سے بڑھا کر 30 دن کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بندرگاہ سے گودام تک بہتر اور تیز تر ترسیل کو یقینی بنانا اور جسٹ اِن ٹائم مینوفیکچرنگ کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

اس مدت میں توسیع کا مطلب یہ ہے کہ درآمد شدہ اشیاء پر کسٹمز یا درآمدی ڈیوٹی کی ادائیگی فوری طور پر کرنے کے بجائے، ایک مقررہ مدت کے بعد کی جا سکے گی، جس سے کاروباروں کے لیے نقد کے فلو میں بہتری آئے گی۔

دیگر تجاویز میں شامل ہیں:

  • اہل مینوفیکچرر-امپورٹرز کو بھی موخر ڈیوٹی ادائیگی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے انہیں مستقبل میں مکمل ٹئیر 3 آتھرائزڈ اکنامک آپریٹر (اے ای او  ) کے طور پر منظوری حاصل کرنے کی ترغیب ملے گی۔
  • کاروباری یقین دہانی اور بہتر منصوبہ بندی کے لیے ایڈوانس رولنگ کی مدتِ میعاد، جو کسٹمز پر لازم ہوتی ہے، 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔
  • اے ای او   منظوری کی بنیاد پر کارگو کی کلیئرنس میں ترجیحی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
  • قابلِ اعتماد امپورٹرز کو رسک سسٹمز میں تسلیم کیا گیا ہے، جس سے جانچ پڑتال کم ہوتی ہے، جبکہ الیکٹرانک سیل شدہ برآمدی کارگو کو فیکٹری سے براہِ راست جہاز تک کلیئرنس دی جاتی ہے۔
  • غیر تعمیلی اشیاء کے لیے، قابلِ اعتماد امپورٹرز کی فائلنگ خودکار طور پر کسٹمز کو اطلاع دے گی، جس سے آمد کے ساتھ ہی فوری کلیئرنس ممکن ہوگی۔
  • کسٹمز ویئرہاؤسنگ فریم ورک کو آپریٹر مرکوز نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس میں خود اعلانات ، الیکٹرانک ٹریکنگ، اور رسک پر مبنی آڈٹس شامل ہیں جس سے تاخیر اور تعمیلی لاگت میں کمی آئے گی۔

 

جن وشواس ایکٹ

اعتماد پر مبنی ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے اہم غیر فوجداری اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ جن وشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ، 2023 کے تحت 42 قوانین کی 183 دفعات کو غیر فوجداری بنا دیا گیا، جس سے معمولی اور تکنیکی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر فوجداری ذمہ داری کم ہوئی۔

ان کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے، جن وشواس (ترمیمی دفعات) بل، 2025جس میں مجموعی طور پر 355 دفعات شامل ہیں،288 دفعات میں غیر فوجداری بنانے کے لیے ترامیم کی تجویز پیش کرتا ہے تاکہ ایز آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ 67 دفعات کا مقصد ایز آف لیونگ کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اقدام حکومت کے وژن “کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی” کی عکاسی کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے ساتھ بہتر کاروباری ماحول کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

 

دیوالیہ پن اور دیوالیہ کاری کا ضابطہ (آئی بی سی)، 2016

انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (آئی بی سی) نے بھارت کے دیوالیہ پن کے نظام میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، کیونکہ اس نے مالی مشکلات  میں مبتلا کمپنیوں کے بروقت حل کو ممکن بنایا اور قرض دہندگان کے لیے وصولیوں میں بہتری لائی۔ کارپوریٹ بحالی یا تصفیہ کے لیے ایک واضح، منظم اور وقت مقررہ طریقہ کار قائم کر کے اس نے شفافیت کو فروغ دیا، قرض دہندگان کے اعتماد کو مضبوط کیا اور ایک زیادہ قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول کو فروغ دیا۔

آئی بی سی کا بنیادی مقصد مالی بحران میں مبتلا کارپوریٹ قرض داروں (سی ڈی) کو بحال کرنا ہے۔ آغاز سے ستمبر 2025 تک، مجموعی طور پر 3,865 کارپوریٹ قرض داروں کو بحال کیا گیا، جن میں سے 1,300 کو ریزولوشن منصوبوں کے ذریعے، 1,342 کو اپیل، نظرثانی یا تصفیہ کے ذریعے اور 1,223 کو واپسی کے ذریعے بحال کیا گیا۔ 30 ستمبر 2025 تک، قرض دہندگان نے ریزولوشن منصوبوں کے تحت 3.99 لاکھ کروڑروپے کی وصولی کی، جو تصفیہ شدہ اثاثوں کی مالیت کا تقریباً 170 فیصد اور منصفانہ مالیت کا تقریباً 94 فیصد ہے (1,177 معاملات کی بنیاد پر)۔ مجموعی طور پر، قرض دہندگان نے اپنے منظور شدہ دعووں کا 32 فیصد سے زیادہ وصول کیا ہے۔

اثاثوں کی قدر کو زیادہ سے زیادہ کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، قرض کی دستیابی کو بہتر بنانے، اور تمام فریقین کے مفادات میں توازن قائم کرنے کے ذریعے، اس کوڈ نے مجموعی کریڈٹ نظام کو مضبوط کیا ہے اور ملک میں کاروباری اعتماد کو بہتر بنایا ہے۔

سیکیورٹز  مارکٹس  کوڈ، 2025 (ایس ایم سی)

 

ایس ایم سی کوڈ، 2025 نے سیکیورٹیز کنٹریکٹس (ریگولیشن) ایکٹ، 1956، سیبی ایکٹ، 1992 اور ڈپازٹریز ایکٹ، 1996 کی جگہ لے لی ہے، اس طرح بھارت کی سیکیورٹیز مارکیٹس کو منظم کرنے والے غیریکساں قوانین کو یکجا کر دیا گیا ہے۔یہ کوڈ مختلف اہم امور کا احاطہ کرتا ہے، جن میں بورڈ کی تشکیل، خودمختاری، مفادات کے تصادم سے نمٹنا، شفافیت، ریگولیٹری سینڈ باکسنگ، سرمایہ کاروں کا تحفظ، مارکیٹ انفراسٹرکچر اداروں کی حکمرانی، اور کاروبار میں آسانی (ای او ڈی بی) شامل ہیں۔

 

کوالٹی کنٹرول آرڈرز( کیو سی اوز)

مختلف وزارتوں اور محکموں کی جانب سے جاری کیے گئے کوالٹی کنٹرول آرڈرز (کیوسی او) بھارت کے معیاری نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا نفاذ مضبوط معیاروں کو یقینی بنا کر عالمی مینوفیکچرنگ میں بھارت کے حصے کو بڑھانے کے ہدف کی حمایت کرتا ہے، صارفین کی حفاظت کو بہتر بناتا ہے، غیر معیاری مصنوعات کے چلن کو روکتا ہے، سرمایہ کاری کو راغب کرتا ہے اور حادثات و جانی نقصان کے خطرات کو کم کرتا ہے۔کیوسی اوزمصنوعات میں نقائص اور خرابیوں کی بروقت نشاندہی کو ممکن بناتے ہیں، جس سےقابلِ اعتماد مصنوعات اور زیادہ معقول لاگت کے ذریعے مینوفیکچررز اور صارفین دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

تعمیلی بوجھ کو کم کرنے اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دینےخصوصاً ایم ایس ایم ای کے لیےتشکیل اور نفاذ کے مراحل میں صنعتوں، شعبہ جاتی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ وسیع مشاورت کی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھارت نے لازمی کوالٹی اشورنس فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک، 143 کیوسی اوزکے تحت 723 مصنوعات کو نوٹیفائی کیا جا چکا ہےجو 2019 میں 214 مصنوعات کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔ یہ متوازن حکمتِ عملی معیار کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ضابطہ جاتی کارکردگی اور کاروباری سہولت کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔

 

انضباطی تعمیلی بوجھ سے متعلق(آر سی بی) اقدام

2020 میں شروع کیا گیا آرسی بی پہل، کاروباروں اور شہریوں پر ضابطہ جاتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے تحت مرکزی وزارتوں، محکموں اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے جامع خود جائزہکیا جاتا ہے۔گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس اقدام کے تحت 47,000 سے زائد تعمیلی تقاضوں کو کم یا ختم کیا جا چکا ہے، جس سے کاروباری ماحول کو مزید آسان، مؤثر اور سہل بنانے میں مدد ملی ہے۔

 

مزید برآں، توسیع شدہ آر سی بی+ اقدام کے تحت، ریاستوں کے ذریعے نافذ کردہ 23 قوانین میںنشانزد 6,262 تعمیلی تقاضوں میں سے 4,846 کو پہلے ہی کم کیا جا چکا ہے، جس سے ضابطہ جاتی سادگی کو مزید فروغ ملا ہے۔

 

کم از کم متبادل ٹیکس(ایم اے ٹی)

کم از کم متبادل ٹیکس (ایم اے ٹی) بھارت میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دیتا ہے کیونکہیہ ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جس کے تحت منافع بخش کمپنیاں کم از کم ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ مرکزی بجٹ 27-2026 میں ایم اے ٹی فریم ورک کے تحت اہم معقولیت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

غیر مقیم افراد جو مفروضہ ٹیکس نظام  اختیار کرتے ہیں، انہیں کم از کم متبادل ٹیکس (ایم اے ٹی) کے اطلاق سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز ہے، تاکہ تعمیل کا بوجھ کم ہو اور ٹیکس کے حوالے سے یقین دہانی میں اضافہ ہو۔بائی  بیک  پر ٹیکس کے نظام کو مزید منظم بنانے کے لیےیہ تجویز دی گئی ہے کہ تمام شیئر ہولڈرز کے ہاتھ میں بائی  بیک کو کیپیٹل گینز  کے طور پر ٹیکس نظام میں شامل  کیا جائے۔

اس کے علاوہ، ایم اے ٹیکو حتمی ٹیکس کے طور پر تسلیم کرنے اور اس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کرکے 14 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد ٹیکس کے ڈھانچے کو سادہ بنانا اور ساتھ ہی محصولات کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

لیبر اصلاحات

29 مرکزی مزدور قوانین کو چار لیبر کوڈز میں ضم کرنے سے کاروبار کرنے میں آسانی (ای او ڈی بی ) میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ضابطہ کاری کو سادہ بنایا گیا، منظوری کے عمل کا وقت کم کیا گیا، اور خاص طور پر چھوٹے، بہت چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو زیادہ عملی مضبوطی فراہم کی گئی۔

  • ان کوڈز کے تحت فیکٹری کے قیامیا توسیع کی اجازت دینے کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، جبکہ مجموعی منظوری کا وقت 90 دن سے کم کرکے 30 دن کر دیا گیا ہے۔
  • یہ کوڈز کنٹریکٹ لیبر کے ضوابط کو بھی آسان بناتے ہیں، جس کے تحت 50 سے کم ملازمین رکھنے والے ٹھیکیداروں کو لائسنس لینے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک سنگل رجسٹریشن، ایک ہی ریٹرن اور پورے بھارت کے لیے پانچ سال تک کارآمد واحد لائسنس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں خودکار منظوری کی سہولت بھی شامل ہے۔
  • ان کوڈز کے تحت چھ مختلف بورڈز کو ختم کرکے ایک واحد قومی سہ فریقی  بورڈ قائم کیا گیا ہے۔ خلاف ورزیوں کے لیے درجے کے مطابق مالی جرمانوں کے ذریعے کمپاؤنڈنگ کی اجازت دی گئی ہے، فوجداری سزاؤں کی جگہ دیوانی جرمانے متعارف کرائے گئے ہیں اور قانونی کارروائی سے پہلے تعمیل کے لیے 30 دن کا نوٹس دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • ان اصلاحات کے تحت برطرفی ، بندش  اور اسٹیڈنگ آرڈرز کے لیے حد کو بڑھا کر 300 ملازمین کر دیاگیاہے، جس سے اداروں کو پیشگی منظوری کے بغیر زیادہ عملی لچک حاصل ہو گئی ہے۔

                                   

جی ایس ٹی 2.0

ستمبر 2025 میں متعارف کرائی گئی جی ایس ٹی اصلاحات نے کاروبار میں آسانی (ای او ڈی بی ) کو مضبوط کیا ہے، کیونکہ اس سے ٹیکس سلیب کو آسان بنایا گیا، اہم شعبوں میں شرحیں کم کی گئیں، جس کے نتیجے میں ٹیکس کا بوجھ کم ہوا اور قیمتوں میں مسابقت بڑھی۔ دو شرحوں پر مبنی سادہ نظام کی طرف پیش رفت سے تعمیل  اور لین دین کے اخراجات میں کمی آئی ہے، جبکہ شرحوں کی معقول ترتیب  سے اشیاء کی دستیابی بہتر ہوئی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا۔

اس کے اثرات ٹیکس دہندگان کے دائرے میں توسیع کی صورت میں نظر آتے ہیں، جہاں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 2017 میں تقریباً 60 لاکھ سے بڑھ کر جنوری 2026 میں 1.6 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جوباضابطہ معیشت کی بڑھتی ہوئی پہل  کی نشاندہی کرتی ہے۔ مزید برآں، محنت کش صنعتوں اور زرعی پیداوار کے شعبوں جیسے ٹیکسٹائل اور کھاد میں انورٹیڈ ڈیوٹی ڈھانچے کی اصلاح سے لاگت اور ورکنگ کیپیٹل کے دباؤ میں کمی آئی، جس سے کاروباری سرگرمیاں آسان ہوئیں۔

 

 نتیجہ

بھارت کا ایک عالمی کاروباری طاقت کے طور پر ابھرنا مسلسل اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات پر مبنی ہے، جو ٹیکس، ضابطہ کاری، مالیات، محنت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کی گئی ہیں۔ تعمیل کو آسان بنانے، اعتماد پر مبنی حکمرانی، ڈیجیٹل تجارتی نظام، اور اسٹارٹ اپ کی معاونت جیسے اقدامات ایک شفاف، قابلِ پیش گوئی اور ترقی پر مبنی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔

اداروں کے بڑھتے ہوئے اندراج، مضبوط کاروباری جذبات، باضابطہ معیشت میں توسیع، اور کریڈٹ تک بہتر رسائی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ صنعت اور سرمایہ کار دونوں کا اعتماد مضبوط ہو رہا ہے۔جیسے جیسے بھارت عالمی ویلیو چین میں اپنی شمولیت کو مزیدمضبوط کر رہا ہے اور اپنے پالیسی ڈھانچے کو مستحکم بنا رہا ہے، وہ صرف کاروبار کرنے میں آسانی  کو بہتر نہیں بنا رہا بلکہ ایک ایسا معاشی منظرنامہ تشکیل دے رہا ہے جو زیادہ مضبوط، مسابقتی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔

حوالہ جات

وزارتِ مالیات

https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf

https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2210599&reg=3&lang=1

https://incometaxindia.gov.in/Pages/faqs.aspx?k=FAQs+on+Computation+of+tax&c=4

کارپوریٹ امور کی وزارت

https://sansad.in/getFile/annex/270/AU381_Ff7hlQ.pdf?source=pqars

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2157539&reg=3&lang=2

تجارت وصنعت کی وزارت

https://www.dpiit.gov.in/ministry/about-us/details/Title=Ease-of-Doing-Business-(EoDB)-ITMwETMtQWa

https://www.investindia.gov.in/blogs/business-friendly-reforms-indias-path-prosperity

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201280&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225808&reg=3&lang=2#:~:text=With%20a%20view%20to%20improve,of%20Ease%20of%20Doing%20Business.

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2157460&reg=3&lang=2

https://sansad.in/getFile/annex/268/AU1488_UIHVq7.pdf?source=pqars

https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/startupgov/regulatory_updates.html

https://www.investindia.gov.in/blogs/collateral-free-funding-reality-indian-entrepreneurs-credit-guarantee-scheme-startups

https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/credit-guarantee-scheme-for-startups.html

https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/credit-guarantee-scheme-for-startups.html

https://www.startupindia.gov.in/

چھوٹی ،بہت چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کی وزارت

https://dcmsme.gov.in/CLCS_TUS_Scheme/Credit_Guarantee_Scheme/Scheme_Guidelines.aspx

ریزروبینک آف انڈیا

https://rbidocs.rbi.org.in/rdocs//PublicationReport/Pdfs/0FSRDEC25D1EB9AAEE5724BD5A3E068490996BAD5.PDF

ہندوستان کا سفارت خانہ، ہیگ، ہالینڈ

https://www.indianembassynetherlands.gov.in/page/ease-of-doing-business-in-india/#:~:text=INDIA%20%E2%80%93%20EASE%20OF%20DOING%20BUSINESS%20RANKING&text=In%202014%2C%20the%20Government%20of,a%20more%20business%2Dfriendly%20environment

بھارتی کسٹمس

https://www.jawaharcustoms.gov.in/pdf/Authorised%20Economic%20Operator%20(اے ای او)_FAQ_English.pdf

انویسٹر۔گو

https://www.investor.gov/introduction-investing/investing-basics/investment-products/certificates-deposit-cds

لنکڈ ان

https://www.linkedin.com/company/startup-india/?originalSubdomain=in

اشیا اور خدمات ٹیکس سے متعلق نیٹ ورک

https://gstn.org.in/

دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن بورڈ آف انڈیا

https://ibbi.gov.in/uploads/publication/e42fddce80e99d28b683a7e21c81110e.pdf

پی آئی بی آرکائیو

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=157227&NoteId=157227&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2214872&reg=3&lang=2

 

پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں

***

ش ح۔ش آ۔خ م

U-7216


(रिलीज़ आईडी: 2262480) आगंतुक पटल : 34
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil