صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) جناب جتیندر سنگھ نے کیرالہ کے شہر ترواننت پورم میں واقع سری چترا تیرونل انسٹی ٹیوٹ برائے طبی علوم و ٹیکنالوجی کے 42ویں بیچ کے سالانہ کانووکیشن سے ورچوئل خطاب کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو بھی موجود تھیں


جناب جتیندر سنگھ نے طبی آلات کی مقامی، کم خرچ اور مؤثر اختراعات میں ادارے کے کردار اور صنعتوں کو کامیاب ٹیکنالوجی منتقلی کی بھرپور ستائش کی

محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے آیوشمان بھارت کے تحت فلاحی و صحت افزا نگہداشت اور ڈیجیٹل صحت کے انضمام کے ذریعے مسلسل طبی نگہداشت کے نظام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جنیرک ادویات اور طبی آلات کے شعبے میں اختراع اور تحقیقاتی عمل کو آسان بنانے کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات پر بھی زور دیا

انہوں نے طبی آلات کی اختراع میں انجینئروں اور ڈاکٹروں کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر کے لیے اخلاقیات، ہمدردی اور سائنسی برتری کو ہمیشہ مقدم رکھیں

اس موقع پر مجموعی طور پر 130 طلبہ و طالبات کو مختلف پروگراموں میں اسناد اور ڈگریاں عطا کی گئیں، جن میں ڈی ایم، ایم سی ایچ، پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ اور سرٹیفکیٹ کورسز، ماسٹر آف پبلک ہیلتھ، پی ایچ ڈی، ڈپلومہ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرامز اور نیورولوجیکل سائنسز میں اے سی پی شامل ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAY 2026 1:59PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) جناب جتیندر سنگھ نے آج کیرالہ کے شہر ترواننت پورم میں واقع سری چترا تیرونل انسٹی ٹیوٹ برائے طبی علوم و ٹیکنالوجی کے 42ویں بیچ کے سالانہ کانووکیشن سے ورچوئل خطاب کیا۔ اس تقریب میں مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ یہ ادارہ قومی اہمیت کا حامل ایک ممتاز تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہے اور حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت ایک قانونی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001NIL6.jpg

اپنے خطاب میں جناب جتیندر سنگھ نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات اور ادارے کو اس کی گولڈن جوبلی تقریبات پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ادارے کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تقریباً 800 مستقل فیکلٹی اراکین کی تقرری کی منظوری سے ادارے کی عملی استعداد تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔

انہوں نے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے نو منزلہ پردھان منتری سواستھیا سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) بلاک اور چار منزلہ سروسز بلاک کے قیام کو بھی سراہا اور کہا کہ ’’یہ نئی سہولیات اس ادارے کو نیورو سرجری اور قلبی علوم کے میدان میں ملک کے سب سے بڑے مراکز میں شامل کر دیں گی۔‘‘

جناب جتیندر سنگھ نے ادارے کے ڈاکٹروں کو 2020 سے اب تک پردھان منتری آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت 17 ہزار سے زائد مریضوں کے علاج پر مبارکباد دی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مالنی واسُندھرا سینٹر کے سنگِ بنیاد کا ذکر کرتے ہوئے اسے اعصابی اور سرطان سے متعلق بیماریوں کے لیے دقیق، غیر جراحی اور جدید علاج کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

ادارے کی جانب سے مقامی طبی آلات کی تیاری میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اس ادارے کی نمایاں خصوصیت ایسے طبی آلات کی تیاری ہے جو عالمی معیار کے، انتہائی مؤثر، اور ساتھ ہی مقامی و کم خرچ ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ادارے میں تیار ہونے والی کئی عالمی معیار کی اور کم لاگت والی ٹیکنالوجیز ہر سال صنعتوں کو منتقل کی جاتی ہیں، جن میں اس سال منتقل کی جانے والی سات ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔

ادارے کے 8 اداروں پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اقدام کا ذکر کرتے ہوئے جناب جتیندر سنگھ نے اسے ’’ایک منفرد کوشش‘‘ قرار دیا، جس کے تحت ملک کے 8 ممتاز اداروں کو ایک اشتراکی تحقیقی نظام قائم کرنے اور باہمی تعاون پر مبنی تحقیقی ماحول فروغ دینے کے لیے یکجا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسی شراکت داریاں بین الشعبہ جاتی اختراع کو مضبوط کریں گی اور ملک کی سائنسی و طبی صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھائیں گی۔‘‘

انہوں نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن اور ادارے کے درمیان خلائی طب کے شعبے میں تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ اقدام آنے والے برسوں میں تحقیق، اختراع اور طبی عمل کے لیے خصوصاً طبی سائنس کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کرے گا۔

گولڈن جوبلی تقریبات پر ادارے کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے سری چترا تیرونل انسٹی ٹیوٹ برائے طبی علوم و ٹیکنالوجی کو دنیا کے اس خطے کے ممتاز ترین اداروں میں شمار کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002IEWS.jpg

اپنے خطاب میں مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے ممتاز اور منفرد ادارے سے تعلیم مکمل کر رہے ہیں، جہاں انجینئر اور طبی ماہرین باہمی تعاون کے ساتھ صحت کے شعبے میں جدّت، نئے طبی آلات کی تیاری، اور جدید ترین تحقیق کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور یقین ظاہر کیا کہ وہ آنے والے برسوں میں صحت اور طبی سائنس کے فروغ میں اہم اور بامعنی کردار ادا کریں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00366AE.jpg

قومی صحت پالیسی اور حکومت کے صحت سے متعلق اقدامات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے کہا کہ ’’آیوشمان بھارت کا تصور اس مقصد کے تحت قائم کیا گیا ہے کہ شہریوں کو مسلسل طبی نگہداشت فراہم کی جائے تاکہ وہ طویل اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔‘‘

انہوں نے قومی صحت پالیسی 2017 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں احتیاطی، فروغی، علاجی، بحالیاتی اور تسکینی صحت خدمات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے بنیادی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت و تندرستی پر مبنی مؤثر توجہ اور بیماریوں کی ابتدائی جانچ سے امراضِ قلب، اعصابی بیماریوں اور دیگر غیر متعدی امراض کے بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی صحت پالیسی کے تحت ’’صحت کے نظام نے اپنی توجہ صرف تولیدی و اطفال صحت اور متعدی امراض تک محدود رکھنے کے بجائے صحت افزا طرزِ نگہداشت کی جانب وسعت دی ہے، جس میں بنیادی سطح پر بیماریوں کی جانچ اور احتیاطی صحت خدمات پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ توسیع شدہ طبی خدماتی پیکیج میں اب غیر متعدی امراض کی اسکریننگ، ذہنی صحت کی نگہداشت، معمر افراد کی نگہداشت اور تسکینی طبی خدمات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بیماریوں کی جانچ اور ابتدائی تشخیص کے سلسلے میں ادارے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

آیوشمان بھارت کے مختلف ستونوں کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے کہا کہ یہ منصوبہ آیوشمان آروگیہ مندروں اور پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم-جے اے وائی) پر مبنی ہے، جن کا مشترکہ مقصد مربوط اور مسلسل طبی نگہداشت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بنیادی صحت مراکز میں جانچ کے بعد مریضوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں، سب ڈسٹرکٹ اسپتالوں، ضلعی اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور منظور شدہ اسپتالوں میں ثانوی اور اعلیٰ درجے کے علاج کے لیے بھیجا جاتا ہے، جس میں پی ایم-جے اے وائی کے تحت نجی طبی ادارے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’اس منصوبے کے تحت 60 کروڑ سے زائد شہریوں کو صحتی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘

محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے طویل مدتی ڈیجیٹل صحتی ریکارڈ کے ذریعے مسلسل طبی نگہداشت کو یقینی بنانے کے لیے اے بی ایچ اے اکاؤنٹ نظام قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ اقدام افراد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی صحت سے متعلق معلومات کو محفوظ انداز میں مختلف طبی اداروں کے ساتھ اپنی رضامندی کے تحت حاصل اور شیئر کر سکیں، جس سے مریضوں کی حوالہ جاتی خدمات مضبوط ہوتی ہیں اور زندگی و علاج کے مختلف مراحل میں مکمل طبی تاریخ کی بنیاد پر دقیق طبی نگہداشت کو فروغ ملتا ہے۔‘‘

پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم) کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صحتی ڈھانچے میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور وباؤں کا مقابلہ کرنے کے قابل طبی نظام تیار کرنا ہے۔ انہوں نے نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مربوط صحتی معلوماتی پلیٹ فارم اور اس مشن کے تحت طبی اداروں کو فراہم کی جانے والی معاونت کا بھی حوالہ دیا۔

مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری نے پردھان منتری سواستھیا سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت ملک بھر میں 75 سپر اسپیشلٹی بلاکس قائم کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں 22 نئے اے آئی آئی ایم ایس اداروں کی بھی معاونت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ دور دراز اور سہولتوں سے محروم علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیں، اور کہا کہ نئے اے آئی آئی ایم ایس  ادارے دشوار گزار علاقوں میں صحتی خدمات کو مضبوط بنانے کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق حکومتی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں آئی آئی ٹی کانپور کے اشتراک سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی صحتی مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی بھی شامل ہے۔

انہوں نے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے تیار کردہ ’’بھاشِنی‘‘ نامی اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم کا بھی ذکر کیا، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی آلات اور نظاموں کے معیاری جائزے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے زور دیا کہ حکومت ضابطہ جاتی نظام کو اس انداز میں مضبوط بنا رہی ہے کہ عوامی تحفظ بھی یقینی رہے اور تحقیق، اختراع اور تجارتی ترقی کو بھی فروغ ملے۔

انہوں نے سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کم خطرے والی ادویات کے لیے ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں، جن میں ٹیسٹ لائسنس سے متعلق تقاضوں میں نرمی بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’بعض جنیرک ادویات، خصوصاً کم خطرے والے زمروں کے لیے بایو اویلیبلٹی اور بایو ایکویویلنس مطالعات سے متعلق طریقۂ کار کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ طبی آلات کے شعبے میں بھی اسی نوعیت کی ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مسلسل سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ علم اور ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، اس لیے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید معلومات اور پیش رفت سے ہمیشہ باخبر رہیں۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کریں، کیونکہ شفقت اور مؤثر گفتگو مریض کی زندگی میں نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ اجتماعی تعاون اور اخلاقی طرزِ عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اختراع کو فروغ دینے کے لیے انجینئروں اور ڈاکٹروں کے درمیان باہمی تعاون نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخلاقی اقدار اور دیانت داری ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے سری چترا تیرونل انسٹی ٹیوٹ برائے طبی علوم و ٹیکنالوجی کی تحقیق اور اختراع کے ذریعے سماج کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ ادارے کے کام سے لاکھوں افراد کو فائدہ اور راحت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی آئندہ پیشہ ورانہ زندگی میں جدّت، خدمت اور سائنسی برتری کے اسی جذبے کو برقرار رکھیں۔

اس موقع پر مجموعی طور پر 130 طلبہ و طالبات کو ڈگریاں اور اسناد عطا کی گئیں، جن میں ڈی ایم پروگراموں کے 29 طلبہ شامل تھے۔ ان پروگراموں میں امراضِ قلب، اعصابی امراض، نیورو امیجنگ اور مداخلتی نیورو ریڈیالوجی، قلبی امیجنگ و عروقی مداخلتی ریڈیالوجی، قلبی و عروقی اینستھیزیا، اور نیورو اینستھیزیا شامل تھے۔

ایم سی ایچ پروگراموں میں 7 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں، جن میں قلبی و صدری جراحی، عروقی جراحی اور نیورو سرجری شامل ہیں۔

اسی طرح 15 طلبہ کو پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ پروگراموں (پوسٹ ڈی ایم/ایم سی ایچ./ڈی این بی)، 40 طلبہ کو ماسٹر آف پبلک ہیلتھ، 4 طلبہ کو خون کی منتقلی سے منتقل ہونے والی بیماریوں کی جانچ اور نیوروپیتھالوجی کے پوسٹ ڈاکٹریٹ سرٹیفکیٹ کورسز، 11 محققین کو پی ایچ ڈی، 22 طلبہ کو ڈپلومہ اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورسز، جبکہ 2 اراکین کو نیورولوجیکل سائنسز میں اے سی پی کی اسناد عطا کی گئیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0040QCW.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005653I.jpg

ادارے کے اُن ممتاز اساتذہ کو بھی اسنادِ امتیاز عطا کی گئیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں اعزازات حاصل کیے ہیں۔ اس موقع پر ادارے کی گولڈن جوبلی کے یادگاری نشان (لوگو) اور اس تقریب کے لیے تیار کردہ خصوصی نغمے کی بھی رونمائی کی گئی۔

ڈاکٹر کرشنا ایم ایلا، جو بھارت بایوٹیک انٹرنیشنل لمیٹڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین اور شریک بانی ہیں، اس تقریب میں بطور مہمانِ اعزاز مشترکہ طور پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر جناب کرس گوپال کرشنن، ڈاکٹر سنجے بہاری، معزز مہمانان، اساتذہ کرام اور طلبہ کے والدین بھی موجود تھے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-7147


(ریلیز آئی ڈی: 2261741) وزیٹر کاؤنٹر : 16