شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
’’ہندوستانی معیشت میں علم اور علمی مصنوعات کے حصے کی پیمائش کے خاکۂ کار‘‘ سے متعلق بنیادی دستاویز پر آراء اور تجاویز پیش کرنے کی دعوت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 MAY 2026 9:46AM by PIB Delhi
تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، مہارتوں کے پیچیدہ تقاضے اور مسابقتی ماحول میں تنظیمی جدّتیں اس بات کی بڑھتی ہوئی عکاسی کرتی ہیں کہ معیشت میں علم کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ معیشت میں علم کے کردار اور اس کے حصے کا جائزہ لیا جائے اور ایسی پالیسی تجاویز پیش کی جائیں جو اس کے بدلتے ہوئے رجحانات کو مؤثر انداز میں ظاہر کر سکیں۔
اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے شماریات و پروگرام عمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) ہندوستانی معیشت میں علم اور علمی مصنوعات کے حصے کی پیمائش کے لیے ایک جامع خاکۂ کار تیار کرنے کی مشق کر رہی ہے۔ چونکہ اس نوعیت کی کوئی قابلِ موازنہ مثال موجود نہیں ہے، اس لیے یہ اقدام اپنی نوعیت کا ایک نیا اور منفرد قدم ہے، جس کے لیے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔
فروری 2025 میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کی سفارشات کی بنیاد پر اس مقصد کے لیے ایک تکنیکی مشاورتی گروپ (ٹی اے جی) تشکیل دیا گیا۔ اس گروپ کی صدارت ڈاکٹر آر بالاسبرامانیم نے کی، جو اُس وقت صلاحیت سازی کمیشن کے رکن تھے۔ اس گروپ میں تھنک ٹینکس، صنعتی اداروں، جامعات اور مرکزی حکومت کی وزارتوں کے نمائندے شامل تھے۔
ستمبر 2025 میں ایک فکری و مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی مصنوعات کی درجہ بندی تیار کرنے اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں ان کے حصے کی پیمائش کے لیے ممکنہ مقداری اشاریوں اور اعداد و شمار کے ذرائع کی نشاندہی پر غور کیا گیا۔
تکنیکی مشاورتی گروپ کی سفارشات، مشاورتی نشست میں پیش کی گئی تجاویز اور مختلف ماہرین کے ساتھ بعد ازاں ہونے والی تفصیلی گفتگو کی بنیاد پر، وزارت نے ’’ہندوستانی معیشت میں علم اور علمی مصنوعات کے حصے کی پیمائش کے خاکۂ کار‘‘ کے عنوان سے ایک بنیادی دستاویز تیار کی ہے۔
یہ بنیادی دستاویز یہاں دستیاب ہے:
وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد (ایم او ایس پی آئی) اعلانات صفحہ
یہ دستاویز چار ابواب پر مشتمل ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
باب اول: علم اور علمی معیشت — تصوری مباحث
باب دوم: دستیاب طریقۂ ہائے کار اور مقداری پیمانے
باب سوم: ہندوستانی روایتی علم — جہات اور چیلنجز
باب چہارم: معیشت میں علم کے حصے کی قدر پیمائی — ایک ابتدائی خاکہ
پہلا باب علم کی مختلف جہات، اس کی تخلیق، اس کی حرکیات اور معیشت پر اس کے اثرات سے متعلق حالیہ مباحث پر تصوری گفتگو پیش کرتا ہے۔
دوسرا باب تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، دانشورانہ املاک کے حقوق، ڈیجیٹل معیشت اور علمی پیداوار کے جائزے کے لیے دستیاب طریقۂ ہائے کار کو بیان کرتا ہے اور علم کے ان اجزاء کی قدر متعین کرنے کے لیے چند پیمانے بھی پیش کرتا ہے۔
تیسرا باب ہندوستانی معیشت میں روایتی علم کے پھیلاؤ اور مختلف سرگرمیوں میں اس کے کردار کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں روایتی علم کے تحفظ، دستاویزی اندراج اور درجہ بندی سے متعلق مطالعات اور اقدامات کا مطالعہ کیا گیا ہے، نیز اس سے متعلق پیمانے بھی پیش کیے گئے ہیں۔
چوتھا باب اس امر کی ابتدائی کوشش پیش کرتا ہے کہ مختلف شواہد کو یکجا کرکے ایک ایسا جامع خاکہ تیار کیا جائے جو معیشت پر علم کے اثرات کو مؤثر انداز میں ظاہر کر سکے اور اس کے بنیادی اجزاء کی وضاحت کرے۔
اس عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے، شماریات و پروگرام عمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے اب ’’علمی نظامات کمیٹی‘‘ تشکیل دی ہے، جس کی صدارت جناب رتن پی واٹل کر رہے ہیں، جو وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے سابق رکن سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ’’معیشت میں علم اور علمی مصنوعات کے حصے کی پیمائش کے خاکۂ کار‘‘ پر ایک قابلِ عمل پالیسی دستاویز تیار کرے۔ مذکورہ بنیادی دستاویز اسی قابلِ عمل پالیسی دستاویز کی بنیاد فراہم کرے گی۔
تمام فریقین اور عام عوام سے مشاورتی عمل کے حصے کے طور پر بیس پیپر پر تبصرے اور تجاویز طلب کی جاتی ہیں۔ فیڈ بیک اس وزارت کے ساتھ ای میل آئی ڈی: maneesh.jindal@mospi.gov.in اور neeraj.kumar007[at]nic[dot]in پر 15 جون 2026 تک شیئر کیا جا سکتا ہے، جس سے فریم ورک کو جلد حتمی شکل دی جا سکے گی۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-7144
(ریلیز آئی ڈی: 2261728)
وزیٹر کاؤنٹر : 20