شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جیوتیرادتیہ سندھیا نے سکم کے دورے کے دوران نامچی میں اہم ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا


انہوں نے شمال مشرق میں کھیلوں اور علاقائی ترقی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کو اجاگر کیا

شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کے اہم توجہاتی شعبوں میں تعلیم، سیاحت، صحت اور کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے

مرکزی وزیر سندھیا نے کھانگچیند زونگا اسٹیٹ یونیورسٹی، ٹیمی ٹی اسٹیٹ، آئی ایچ سی اے ای اور بھالیہ ڈھونگا اسکائی واک منصوبے کا دورہ کیا

سندھیا نے نامچی میں طلبہ، چائے باغان کے کارکنوں اور نوجوان کھلاڑیوں سے بات چیت کی

بھالیہ ڈھونگا اسکائی واک منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جو مجوزہ 3,200 میٹر طویل ڈھانچہ تکمیل کے بعد دنیا کا بلند ترین اسکائی واک بن جائے گا

प्रविष्टि तिथि: 15 MAY 2026 7:40PM by PIB Delhi

مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر، جیوتیرادتیہ سندھیا نے سکم کے اپنے سرکاری دورے کے دوسرے دن نامچی میں مختلف مصروفیات انجام دیں، جہاں انہوں نے تعلیم، سیاحت، چائے کی پیداوار اور کھیلوں کی ترقی کے شعبوں میں اہم اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس دورے کے دوران وزیر سندھیا نے مقامی اسٹیک ہولڈروں، طلبہ، چائے باغان کے کارکنوں اور نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات کی، اور شمال مشرقی خطے میں بنیادی ڈھانچے، روزگار کے مواقع اور نچلی سطح پر ترقی کے لیے حکومت ہند کی مسلسل توجہ کا اعادہ کیا۔

مرکزی وزیر سندھیا نے نامچی کے تارکو میں زیر تعمیر کھانگچیند زونگا سکم اسٹیٹ یونیورسٹی کا دورہ کیا، جو سکم میں قائم کی جانے والی پہلی ریاستی یونیورسٹی ہے۔ 28 ایکڑ پر پھیلی اس یونیورسٹی کو شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کے تحت نارتھ ایسٹرن کونسل کی جانب سے جزوی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے لیے 9.61 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کی تکمیل کے بعد یہاں 1,500 سے زائد طلبہ کے لیے گنجائش متوقع ہے۔

 

 

دورے کے دوران وزیر نے انتظامی بلاک اور کیمپس کے بنیادی ڈھانچے کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ کیمپس کے اطراف قدرتی مناظر اور پیدل چلنے کے راستوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے تجویز دی کہ یونیورسٹی کے ڈیزائن فریم ورک میں مزید ہریالی اور قدرتی عناصر شامل کیے جائیں تاکہ یہ بنیادی ڈھانچہ سکم کی ماحولیاتی خصوصیات سے مزید ہم آہنگ ہو سکے۔ انہوں نے جاری تعمیراتی کام کی رفتار پر انجینئرنگ اور عمل درآمد کرنے والی ٹیموں کو مبارکباد بھی دی۔

بعد ازاں وزیر سندھیا نے نامچی میں ٹیمی ٹی اسٹیٹ اور ٹیمی ٹی پروسیسنگ یونٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چائے باغان کے کارکنوں اور اسٹیٹ سے وابستہ حکام سے بات چیت کی۔ انہوں نے چائے کی پیداوار، پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا اور اسٹیٹ کی بین الاقوامی منڈی تک رسائی اور برآمدی امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

 

 

وزیر کو حکام کی جانب سے ٹیمی ٹی کی ایل پی جی پر مبنی چائے سازی کے عمل کی جانب منتقلی کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس کے تحت کوئلے کے استعمال کو ختم کرتے ہوئے پیداوار کے دوران کاربن کے ذرات میں کمی لائی جا رہی ہے۔ وزیر کو یہ بھی تجویز دی گئی کہ چائے کے اس باغان کو جی آئی سرٹیفیکیشن حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے باغات اور پروسیسنگ سہولیات کے دورے کے دوران خواتین چائے چننے والی کارکنوں اور اسٹیٹ کے دیگر مزدوروں سے بھی ملاقات کی، اور اس دوران روانی کے ساتھ نیپالی زبان میں گفتگو کی۔

وزیر سندھیا نے چیمچے میں واقع انڈین ہمالین سینٹر فار ایڈونچر اینڈ ایکو ٹورزم (آئی ایچ سی اے ای) کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے مجوزہ نامچی– ٹیمی– راونگلا سیاحتی سرکٹ کا جائزہ لیا، جسے حکومت سکم اور شمال مشرقی خطے کی وزارت کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ مجوزہ سرکٹ وزارت کے وسیع تر علاقائی سیاحتی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ شمال مشرقی خطے کی وزارت کی معاونت سے ایسے ہی دو سیاحتی سرکٹ تریپورہ اور میگھالیہ میں پہلے ہی زیرِ عمل ہیں۔

جائزے کے دوران وزیر نے آئی ایچ سی اے ای میں تیار کی جانے والی سہولیات اور سرگرمیوں کا معائنہ کیا، جن میں راک کلائمبنگ، آئس کلائمبنگ، سائیکلنگ ٹریکس، ٹریکنگ، اسکیئنگ، کوہ پیمائی اور رہنمائی کے ساتھ ایکو ٹورزم سرگرمیاں شامل ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ مختلف عمر کے سیاحوں کے لیے مزید تفریحی اور سیاحتی سرگرمیوں کا اضافہ خطے کے سیاحتی نظام کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس موقع پر خطے میں مذہبی اور سیاحتی راستوں، بشمول چار دھام کوریڈور، سے متعلق معاون بنیادی ڈھانچے اور سیاحتی سہولیات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس کے بعد وزیر سندھیا نے نامچی کے بھائی چنگ اسٹیڈیم میں سکم پریمیئر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے سیمی فائنل میچ میں شرکت کی۔ وزیر نے مقامی نوجوان فنکاروں کی جانب سے پیش کیے گئے روایتی نیپالی مارونی رقص سمیت ثقافتی پروگراموں کا بھی مشاہدہ کیا۔

 

 

کھلاڑیوں اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اُس وژن کو اجاگر کیا جس کے تحت شمال مشرقی خطے کو ملک کا ایک بڑا کھیلوں کا مرکز بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کی قیادت میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے بھر میں نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی شناخت، سائنسی کوچنگ، اسپورٹس سائنس کے انضمام اور کھلاڑیوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیر سندھیا نے ”ایک کھیل، ایک ریاست“ کے ترقیاتی نظریے پر بھی روشنی ڈالی اور وزارت کے 60:40 فریم ورک کا ذکر کیا، جس کے تحت کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کوچنگ، ٹیلنٹ کی تلاش اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکم پریمیئر لیگ ریاست بھر کے نوجوان فٹبالرز کے لیے مواقع پیدا کرنے میں بڑھتا ہوا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

 

 

مرکزی وزیر سندھیا نے 3.5 کلومیٹر طویل بھالیہ ڈھونگا روپ وے کے ذریعے سفر بھی کیا اور وزارت کی پی ایم-ڈی وائن (PM-DevINE) اسکیم کے تحت 220 کروڑ روپے کی لاگت سے نامچی میں تعمیر کیے جا رہے بھالیہ ڈھونگا اسکائی واک منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران جناب سندھیا نے منصوبے پر عمل درآمد کی پیش رفت اور اس سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کے مختلف اجزاء کا معائنہ کیا۔ تکمیل کے بعد 240 میٹر طویل گول شیشے پر مشتمل بھالیہ ڈھونگا اسکائی واک، جو 3,200 میٹر کی بلندی پر تجویز کیا گیا ہے، دنیا کا بلند ترین اسکائی واک بننے کی توقع ہے اور اس سے سکم کے سیاحتی بنیادی ڈھانچے اور ایڈونچر ٹورزم کی صلاحیت کو مزید تقویت ملے گی۔

 

 

***********

ش ح۔ ف ش ع

U: 7137


(रिलीज़ आईडी: 2261626) आगंतुक पटल : 36
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Manipuri , Tamil