وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

 وزارت ثقافت اور ساہتیہ اکادمی کے مشترکہ زیر اہتمام نئی دہلی میں آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کی صد سالہ یومِ پیدائش تقریبات اور قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 MAY 2026 6:20PM by PIB Delhi

وزارت ثقافت، ساہتیہ اکادمی، شری لال بہادر شاستری نیشنل سنسکرت یونیورسٹی، سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی اور نیشنل سنسکرت یونیورسٹی کے اشتراک سے جمعہ 15 مئی 2026 کو نئی دہلی میں واقع واچسپتی سبھاگار، شری لال بہادر شاستری نیشنل سنسکرت یونیورسٹی میں ’’سنسکرت اور ہندوستانی ثقافت کے شعبے میں آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کی خدمات‘‘ کے موضوع پر یومیہ قومی سیمینار اور ان کی صد سالہ یومِ پیدائش تقریبات کا مشترکہ طور پر انعقاد کیا گیا۔

اس سیمینار کا انعقاد ممتاز سنسکرت اسکالر، معروف ماہرِ تعلیم اور سنسکرت زبان و ہندوستانی ثقافتی ورثے کے نمایاں فروغ دہندہ آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں کیا گیا۔

May be an image of one or more people, dais and text

 

افتتاحی اجلاس کا آغاز صبح 10 بجے سمر نندا کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ اس موقع پر ہری کرشن ستپتھی نے ابتدائی کلمات پیش کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سمر نندا نے حاضرین کو بتایا کہ امیت شاہ کی صدارت والی قومی عمل درآمد کمیٹی نے آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کے اعزاز میں 11 اپریل 2026 سے 11 اپریل 2027 تک ملک بھر میں یادگاری پروگراموں، تعلیمی سیمیناروں، ثقافتی تقریبات، نمائشوں اور روحانی اجتماعات کے انعقاد کی منظوری دی ہے۔

سمر نندا نے کہا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے اور محدود وسائل کے باوجود شری دنیش چندر جوشی نے اپنی علمی خدمات، ریاضت، روحانی نظم و ضبط اور غیر متزلزل عزم کے ذریعے ہندوستانی ثقافت کے ایک درخشاں علمبردار کے طور پر مقام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی آج بھی اس حقیقت کی لازوال مثال ہے کہ عظمت آسائشوں سے نہیں بلکہ لگن، ثابت قدمی اور باطنی قوت سے حاصل ہوتی ہے۔

آچاریہ دنیش چندر جوشی کی ہندوستانی ثقافتی ورثے کے تئیں گہری وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے سمر نندا نے کہا کہ آچاریہ نے برطانوی دورِ حکومت میں ہندوستان کو قریب سے دیکھا تھا اور وہ اس نفسیاتی و ثقافتی یلغار کو بخوبی سمجھتے تھے جس کا مقصد سنسکرت زبان، گروکل نظام اور سناتن ثقافت کی بنیادوں کو کمزور کرنا تھا۔

انہوں نے نالندہ یونیورسٹی، تکششیلا اور وکرم شیلا جیسے قدیم علمی مراکز کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض کتابوں اور مخطوطات پر حملے نہیں تھے بلکہ ہندوستان کی روح اور اس کی مقدس علمی روایت پر کاری ضرب تھے۔

May be an image of one or more people, people studying, newsroom and text

انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ آچاریہ کا پختہ یقین تھا کہ ہندوستان کی روحانی شعور کے تحفظ کے لیے سنسکرت زبان کا محفوظ رہنا نہایت ضروری ہے۔ ان کے نزدیک حب الوطنی محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مقدس عہد تھا۔ انہوں نے پوری زندگی سنسکرت زبان اور ہندوستانی ثقافت کے احیا اور تحفظ کے لیے وقف کر دی۔

افتتاحی اجلاس میں متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں مرلی منوہر پاٹھک بھی شامل تھے۔ صدارتی خطاب مادھو کوشک نے پیش کیا، جبکہ بھاگیرتھی نندا نے اظہارِ تشکر ادا کیا۔

افتتاحی اجلاس کی اہم جھلکیوں میں آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کے نام سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا بھی شامل تھا، جو سنسکرت علوم اور ہندوستانی ثقافت کے فروغ میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں جاری کیا گیا۔

اس یادگاری ڈاک ٹکٹ کے اجرا کو سنسکرت زبان اور ہندوستانی علمی روایت کے تحفظ و فروغ کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کو قومی خراجِ عقیدت قرار دیا گیا۔

May be an image of one or more people, hospital and text

 

سیمینار میں تین علمی اجلاس منعقد کیے گئے، جو آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کی مختلف خدمات اور علمی پہلوؤں کے لیے مخصوص تھے۔

پہلا اجلاس ’’آچاریہ شری دنیش چندر جوشی: ویدک ثقافت کے عظیم فروغ دہندہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا، جس کی صدارت راماکانت پانڈے نے کی۔ اس اجلاس میں پرکاش پنت، کیرتی ولبھ شکلا اور انل کمار نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔

دوسرا اجلاس ’’آچاریہ شری دنیش چندر جوشی: پورانک ورثے، روحانی شعور اور تیرتھ ثقافت کے نمایاں علمبردار‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت بہاری لال شرما نے کی، جبکہ رام ونئے سنگھ، رادھے شیام گنگوار اور سرویش کمار تیواری نے اپنے مقالات پیش کیے۔

تیسرے اجلاس میں ’’آچاریہ شری دنیش چندر جوشی: سنسکرت، ثقافت اور سنسکار کے سفیر‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت اوم ناتھ بیمالی نے کی، جبکہ پریم شنکر شرما، بھارتیندو پانڈے اور سنیل جوشی نے تحقیقی مقالے پیش کیے۔

اختتامی اجلاس کی صدارت ہری کرشن ستپتھی نے کی۔ اختتامی خطاب شیو شنکر مشرا نے پیش کیا، جبکہ این سریش بابو نے اظہارِ تشکر ادا کیا۔

ملک بھر سے آئے ہوئے اسکالرس، ماہرینِ تعلیم، سنسکرت ادیبوں، محققین اور طلبہ نے سیمینار میں پُرجوش شرکت کی اور سنسکرت مطالعات، ہندوستانی فلسفے اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے آچاریہ شری دنیش چندر جوشی کی خدمات کی مستقل اہمیت پر روشنی ڈالی۔

منتظمین نے قومی سطح پر مسلسل علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے سنسکرت زبان، ادب اور ہندوستانی ثقافتی روایات کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

 

************

 

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 7134 )


(ریلیز آئی ڈی: 2261572) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , Urdu , हिन्दी , Tamil