ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آئی آئی ٹی ایم پونے نے جدید ترین انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح کیا اور ماحولیاتی صنعت کاری میں انقلاب لانے کے لیے اہم’’ ڈبلیو آئی ایس ای-2026‘‘ کےاجلاس کی میزبانی کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 MAY 2026 5:21PM by PIB Delhi

وزارت ارضیاتی سائنس کاادارہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) پونے نے آج موسم اور آب و ہوا کے اسٹارٹ اپس کے لیے اپنے مخصوص انکیوبیشن سینٹر کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس اہم موقع کی مناسبت سے ایک روزہ قومی اجلاس بعنوان ‘ویدر اینڈ کلائمیٹ انوویشن میٹ فار اسٹارٹ اپس اینڈ انٹرپرینیورز (ڈبلیو آئی ایس ای-2026)کا انعقاد کیا گیا، جوہندوستان کے موسمیاتی خدمات میں نجی شعبے کی شمولیت کے ایک نئے دور کی علامت ہے۔

اس سہولت کا افتتاح وزارت ارضیاتی سائنس میں سکریٹری ومہمان خصوصی ڈاکٹر ایم روی چندرن نے کیا۔ اس تقریب میں مہمای ذی وقار ڈاکٹر شیلش نائک (ڈائریکٹر، این آئی اے ایس اور سابق سکریٹری،ایم او ای ایس)، ڈاکٹر سوریہ چندر راؤ (ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی ایم) اور دیگر ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔یہ انکیوبیشن سینٹر نیشنل انٹرپرائز فار ایٹموسفیرک ٹیکنالوجی (این ای اے ٹی) کا ایک اہم حصہ ہے، جو ایم او ای ایس کے تحت’مشن موسم‘ کا ایک پرجوش ذیلی منصوبہ ہے، جس کا مقصد عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

وزارت برائے ارضیاتی سائنس کے سکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں اجتماعی عمل کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جدید موسمی پیٹرنز کی پیچیدگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ روایتی تحقیق سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور کثیر شراکتی نظام اپنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ “مشن موسم” ایک بنیادی قدم ہے ،جو ایک “موسم کے لحاظ سے تیار اور آب و ہوا کے اعتبار سے ہوشیا ملک” کی تعمیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جس میں جدید مشاہدات، مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلنگ اور مقامی سطح پر معلومات کی ترسیل کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

گہری سائنسی تحقیق اور عملی اطلاق کے درمیان خلا کو پُر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سکریٹری نے کہا:

’’مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاروباری افراد دوسروں کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی تعاون یقینی طور پر کئی حل پیدا کرے گا۔ یہ صرف معاشی ضرورت ہی نہیں بلکہ زندگی اور روزگار کے تحفظ کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔‘‘

ترقی کے چار بنیادی ستون: سکریٹری نے پیشگوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مشاہدات، ماڈلنگ، صارف-مخصوص ایپلی کیشنز، اور معلومات کی ترسیل کو بنیادی اور ناگزیر ستون قرار دیا۔

مشن موسم: یہ ایک پانچ سالہ منصوبہ ہے جس کا مقصد مختلف وزارتوں اور اسٹارٹ اپس کی شمولیت کے ذریعے ’’ہیلتھ سسٹم اپروچ‘‘ کے تحت موسمی پیشگوئیوں اور آب و ہوا سے متعلق بڑے پیمانے کی بصیرت کو وسعت دینا ہے۔

فوری عملی اقدامات: انہوں نے اختراع  کاروں کو وزارت کے ریموٹ سینسنگ اور ری اینالیسس ڈیٹاسمیت ’مفت اور کھلے‘وسائل کے استعمال کرنے کی دعوت دی تاکہ زراعت، ہوا بازی اور آفات کے انتظام جیسے شعبوں کے لیے کم لاگت اور انتہائی مقامی سطح کے حل تیار کیے جا سکیں۔

افتتاح کے بعد ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ ہوا ،جس میں موسم اور آب و ہوا کی سائنس میں ایک اسٹریٹجک تبدیلی کو اجاگر کیا گیا، یعنی تحقیق سے نکل کر عملی اور اسٹارٹ اپ پر مبنی حل کی طرف پیش رفت، جو زراعت، قابلِ تجدید توانائی، صحت اور آفات کے انتظام جیسے اہم شعبوں میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ اس تقریب کا مرکزی نکتہ “موسم کے تئیں حساسیت، معاشی ذہانت کی طرف رہنمائی” (weather intelligence leads to economic intelligence)تھا، جہاں جدت کار جدید ترین فضائی ڈیٹا کو خوراک کے تحفظ، توانائی کے نظام کے استحکام اور شہری لچک کے لیے عملی آلات میں تبدیل کر رہے ہیں۔بانیوں اور محققین کے درمیان باہمی تعاون کے لیے ایک پرجوش ماحول پیدا کرتے ہوئے، ڈبلیو آئی ایس ای کی ورکشاپ سیشنز نے اس بات پر زور دیا کہ آب و ہوا میں لچکدار مستقبل “قابلِ عمل پیشگوئی” اور پیچیدہ سائنسی معلومات کو آخری صارف تک پہنچانے کے خلا کوپر کرنے پر منحصر ہے۔

یہ تقریب ’’مشن موسم‘‘ کے عملی نفاذ کو بھی اجاگر کرتی ہے، جس میں ایک نظامی (سسٹم وائیڈ) نقطۂ نظر اپنایا گیا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس  ہندوستان کے موسمیاتی ڈھانچے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مختلف موضوعاتی پینلز کی قیادت این سی ایم آر ڈبلیو ایف، آئی آئی ایس ای آر پونے اور مختلف آئی آئی ٹی ایز جیسے ممتاز اداروں کے ماہرین نے کی، جہاں ڈبلیو آئی ایس ای 2026 نے ایک متنوع ماحولیاتی نظام کو پیش کیا—جس میں انتہائی مقامی سطح کی پیشگوئی سے لے کر مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت سے متعلق اقدامات شامل تھے—جس کا مقصد انسانی جانوں اور روزگار کا تحفظ ہے۔مباحثوں کے اختتام پر یہ واضح پیغام سامنے آیا کہ کلائمیٹ ٹیک جدت اب کوئی محدود یا مخصوص شعبہ نہیں رہی بلکہ ایک مرکزی کاروباری موقع اور سماجی ضرورت بن چکی ہے، جس کے لیے گہرا بین شعبہ جاتی تعاون ضروری ہے تاکہ یہ نظام جامع، قابل توسیع اور مؤثر رہ سکے۔

ڈبلیو آئی ایس ای -2026 کی افتتاحی تقریب اور اسٹارٹ اپ پروگرام میں کلائمیٹ ٹیک کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جس میں افتتاحی سیشن کے لیے مجموعی طور پر 400 شرکاء شامل رہے۔ اس پروگرام میں 100 افراد (اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے خواہشمند بانیان) کی مضبوط شرکت بھی شامل تھی، جو سائنسی ڈیٹا کو عملی اور حقیقی دنیا کے اثرات میں تبدیل کرنے پر مرکوز تھے۔

یہ باہمی تعاون پر مبنی ماحولیاتی نظام ممتاز قومی اداروں کے ماہرین اور مینٹورز کی موجودگی سے مزید مضبوط ہوا۔ اہم شریک اداروں میں نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف)، انڈین میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) اور نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ (این سی پی او آر) شامل تھے۔

تعلیمی اور تحقیقی قیادت کی نمائندگی انٹرنیشنل کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی-ایریڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی)، آئی آئی ایس ای آر پونے، مختلف آئی آئی ٹیز (جن میں دہلی، بامبے اور گاندھی نگر شامل ہیں) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) کے ماہرین نے کی۔

***

 

 

ش ح ۔م ع ا۔  ن ع

U. No.7123

 


(ریلیز آئی ڈی: 2261537) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi , Tamil