PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ڈیم کی بحالی: پالیسی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 MAY 2026 1:32PM by PIB Delhi


15 مئی 2026

بھارت دنیا میں بڑے ڈیموں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے، جہاں 6628 ڈیم نشان زد ہیں۔ ان میں سے 26 فیصد سے زائد ڈیم 50 سال سے زیادہ پرانے ہو چکے ہیں، جس کے باعث منظم بحالی اور حفاظتی بہتری کی ضرورت ہے۔ ڈیم بحالی اور اس کی بہتری سے متعلق پروجیکٹ (ڈی آر آئی پی) کو مختلف مراحل میں نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیموں کی حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 نشان زد ڈیموں کی نگرانی، معائنہ، آپریشن اور دیکھ بھال کو یقینی بناتا ہے تاکہ ڈیم کی ناکامی سے متعلقہ آفات کی روک تھام کی جا سکے۔ یہ ایکٹ ڈیموں کے محفوظ اور مؤثر کام کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی نظام بھی فراہم کرتا ہے، نیز اس سے متعلقہ اور ضمنی امور کا احاطہ کرتا ہے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے دھرما ، جدید آلات، اور ابتدائی انتباہی نظام حقیقی وقت کی نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی ڈیم سیفٹی مینجمنٹ کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

 

 

تعارف

بھارت کے ڈیم آبپاشی، پن بجلی کی پیداوار، سیلاب کی روک تھام، پینے کے پانی کی فراہمی اور مجموعی آبی تحفظ میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ڈیموں نے زرعی ترقی، صنعتی فروغ اور ملک کی سماجی و معاشی پیش رفت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

جیسے جیسے بڑی تعداد میں ڈیم پرانے ہو رہے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے زیادہ اثرات رونما ہورہے ہیں، ان کی بحالی، آپریشنل حفاظت اور طویل مدتی مضبوطی کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت ہند اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اختیار کر رہی ہے، جس میں ساختی بحالی، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل نگرانی کے نظام اور خطرات پر مبنی حفاظتی انتظام شامل ہیں۔

بھارت میں ڈیموں کی موجودہ صورتحال

بھارت اس وقت دنیا کے سب سے بڑے ڈیم نیٹ ورکس میں سے ایک کا انتظام کر رہا ہے۔ ملک دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں 6628 نشان زد ڈیم موجود ہیں، جن میں سے 6545 فعال ہیں جبکہ 83 زیر تعمیر ہیں۔ ان ڈیموں کی مجموعی آبی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 330 ارب مکعب میٹر ہے۔ یہ ڈیم قومی غذائی، توانائی اور آبی تحفظ کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ان ڈیموں میں سے تقریباً 26 فیصد (1681 ڈیم) 50 سال سے زیادہ پرانے ہو چکے ہیں، جن میں 291 ڈیم ایسے ہیں جو 100 سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ تقریباً 42 فیصد ڈیم 25 سے 50 سال پرانے ہیں۔ بھارت کا سب سے پرانا ڈیم “کلّنئی (گرینڈ اینیکٹ)” تمل ناڈو میں واقع ہے، جو تقریباً 2000 سال سے فعال ہے اور پائیدار انجینئرنگ اور مؤثر دیکھ بھال کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔

تقریباً 98.5 فیصد ڈیم، یعنی 6448 ڈیم، ریاستی حکومتوں کی ملکیت ہیں۔ مرکزی سرکاری اداروں کے پاس 49 ڈیم (0.7 فیصد) ہیں، نجی اداروں کے پاس 36 ڈیم (0.6 فیصد) جبکہ مرکزی حکومت کے پاس 12 ڈیم (0.2 فیصد) ہیں۔ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ نشان زد ڈیم موجود ہیں، اس کے بعد مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ، راجستھان، کرناٹک اور اوڈیشہ کا نمبر آتا ہے۔

پرانا ہوتا ہوا بنیادی ڈھانچہ، پانی سطح میں چیزوں کا جمع ہونا، بدلتے ہوئے ہائیڈرولوجیکل پیٹرنز اور بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی نے منظم بحالی اور حفاظتی انتظام کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ بھارت میں 439 آبی ذخائر کے تجزیے (سی ڈبلیو سی کے اعداد و شمار کے مطابق) سے پتہ چلتا ہے کہ اوسطاً 42 سال پرانے آبی ذخائر کے ساتھ مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 19 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ ذخیرہ کرنے کی سالانہ اوسط کمی تقریباً 0.74 فیصد ہے، جو ہر سال تقریباً 1.81 ملین مکعب میٹر فی آبی ذخائر کے نقصان کے برابر ہے۔

ڈیم بحالی و بہتری پروگرام (ڈی آر آئی پی)

حکومت ہند کا نمایاں منصوبہ، ڈیم بحالی اور بہتری پروگرام (ڈی آر آئی پی) ، تین مراحل میں نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ ڈیموں کی حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت ڈیموں کی ساختی مرمت، اسپل ویز اور گیٹ کی جدید کاری اور جدید نگرانی کے نظام کی تنصیب شامل ہے۔ڈی آر آئی پی دنیا کے سب سے بڑے ڈیم بحالی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے، جو ڈیم سیفٹی مینجمنٹ کے حوالے سے بھارت کے منظم اور خطرات پر مبنی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈی آر آئی پی مرحلہ اول (2012-2021)

ڈی آر آئی پی کا پہلا مرحلہ اپریل 2012 میں عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت سات ریاستوں کے 223 ڈیم شامل کیے گئے، جن میں جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، تمل ناڈو اور اتراکھنڈ شامل ہیں۔ اس پروگرام نے شریک ریاستوں اور اداروں میں ڈیم سیفٹی کے طریقۂ کار اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے تحت 223 ڈیموں کے لیے ڈیزائن فلڈ کا جائزہ، ڈیموں کی صحت کا معائنہ، بحالی کی تجاویز کی تیاری اور ان پر عمل درآمد مکمل کیا گیا، جبکہ 144 ڈیموں کے لیے بحالی کے کاموں کے ٹھیکے دیے گئے۔اس پروگرام میں درج ذیل نکات پر توجہ مرکوز کی گئی:

  • ڈیموں کی ساختی بحالی اور جدید کاری
  • ڈیم کی حفاظت کا معائنہ اور جانچ
  • ہنگامی عملی منصوبوں  کی تیاری(ای اے پی)
  • صلاحیت سازی بڑھانا اور تربیتی پروگرام
  • ڈیم کی حالت اور بحالی کی نگرانی سے متعلق ایپلیکیشن (ڈی ایم اے آر ایم اے) کا آغاز

ڈی آر آئی پی مرحلہ دوم اور سوم

ڈی آر آئی پی کے مرحلہ دوم اور سوم کا آغاز اکتوبر 2021 میں کیا گیا۔ مرحلہ دوم کی اسکیم عالمی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے اشتراک سے مالی معاونت کے تحت چلائی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کی کل لاگت 10,211 کروڑ روپے ہے، جس میں مرحلہ دوم کے لیے 5,107 کروڑ روپے اور مرحلہ سوم کے لیے 5,104 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں سے 7,000 کروڑ روپے بیرونی قرضے کی صورت میں جبکہ 3,211 کروڑ روپے شریک ریاستوں اور مرکزی اداروں کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔مرحلہ دوم اور سوم مجموعی طور پر 10 سال تک جاری رہیں گے، جبکہ ہر مرحلہ 6 سال پر مشتمل ہوگا اور ان کے درمیان 2 سال کا باہمی اشتراک ہوگا۔ 191 ڈیموں کے لیے بحالی کی تجاویز (پروجیکٹ اسکریننگ ٹیمپلیٹ-پی ایس ٹی)، جن کی مالیت 5,053 کروڑ روپے ہے، منظور کی جا چکی ہیں۔ 31 مارچ 2025 تک ڈی آر آئی پی مرحلہ دوم کے تحت مجموعی اخراجات 2,225 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ 43 ڈیموں پر بڑے پیمانے کی بحالی کے کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔

اس اسکیم میں 19 ریاستوں کے 736 ڈیموں اور تین مرکزی اداروں — سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) ، بھاکڑا بیاس مینجمنٹ بورڈ، اور دامودر ویلی کارپوریشن — کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈی آر آئی پی مرحلہ دوم اور سوم کے تحت جن اہم ڈیموں کی حفاظتی بہتری کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، ان میں بھاکڑا ڈیم (ہماچل پردیش)، رنجیت ساگر ڈیم (پنجاب)، این ٹی آر ساگر (تلنگانہ)، ناگارجن ساگر ڈیم (تلنگانہ)، گاندھی ساگر ڈیم (مدھیہ پردیش)، کڈانا (گجرات)، جرگو ڈیم (اتر پردیش)، امپھال بیراج (منی پور)، منتدو لیشکا ڈیم (میگھالیہ)، سیلابتی بیراج (مغربی بنگال) اور گایتری ڈیم (مغربی بنگال) شامل ہیں۔

ڈی آر آئی پی  مرحلہ دوم اور سوم کے چار اہم اجزاء

  • ڈیموں اور متعلقہ ڈھانچوں کی بحالی تاکہ حفاظت اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
  • ادارہ جاتی مضبوطی تاکہ ریاستی اور مرکزی سطح پر ڈیم سیفٹی نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔
  • آمدنی پیدا کرنے کے اقدامات تاکہ آپریشن اور دیکھ بھال کو پائیدار بنایا جا سکے۔
  • موثر نفاذ کیلئے پروجیکٹ کا انتظام

ادارہ جاتی فریم ورک: ڈیم سیفٹی ایکٹ ، 2021

ڈیم سیفٹی ایکٹ ، 2021 ، 30 دسمبر 2021 کو نافذ ہوا اور یہ ملک بھر میں مخصوص ڈیموں کی نگرانی ، معائنہ ، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے ۔  ایکٹ کے تحت ایک نشان زد ڈیم سے مراد ایک ایسا ڈیم ہے جس کی اونچائی 15 میٹر سے زیادہ ہے ، یا اونچائی 10 سے 15 میٹر کے درمیان ہے اگر یہ مقررہ تکنیکی معیار کو پورا کرتا ہے ۔  ایکٹ کے تحت مختلف دفعات کی تعمیل اب مقررہ ٹائم لائنز کے ساتھ ڈیم مالکان کی قانونی ذمہ داری بن گئی ہے ۔

یہ ایک چار سطحی ادارہ جاتی طریقہ کار قائم کرتا ہے جس میں اعلی اداروں کے طور پر ڈیم کی حفاظت سے متعلق قومی کمیٹی (این سی ڈی ایس) ، انضباطی اور نافذ کرنے والے اداے کے طور پر ڈیم کی حفاظت سے متعلق قومی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) ، ڈیم کی حفاظت پر ریاستی کمیٹیاں (ایس سی ڈی ایس) اور ریاستی سطح پر نگرانی ، معاملہ اور عمل درآمد کیلئے ذمہ دار ریاستی ڈیم حفاظتی تنظیمیں (ایس ڈی ایس او) شامل ہیں ۔  ڈیموں کی ملکیت رکھنے والی تمام 31 ریاستوں نے ایس ڈی ایس او تشکیل دی ہے ۔

اس قانون کے تحت مزید اہم حفاظتی اقدامات بھی لازمی قرار دیے گئے ہیں، جن میں باقاعدہ معائنہ، آلاتی نظام کی تنصیب، ڈیم کی حفاظت کا جامع جائزہ، خطرات کے تجزیاتی مطالعے  ، پانی کے بہاؤ کی پیش گوئی ، ابتدائی انتباہی نظام ، آبی ذخائر کا مربوط آپریشن، خطرے کی ممکنہ سطح  اور آپریشن و رکھ رکھاؤمینوئل اور ایمرجنسی ایکشن پلان (ای اے پی) کی تیاری شامل ہیں۔یہ ایکٹ ڈیم مالکان کو اس بات کا بھی پابند بناتا ہے کہ وہ دیکھ بھال اور مرمت کے لیے مناسب مالی وسائل مختص کریں، تاکہ حفاظتی تقاضوں کی تکمیل مستقل مالی فراہمی سے منسلک رہے۔

کچھ اہم حصولیابیاں درج ذیل ہیں :

  • تمام 6628 نشان زد ڈیموں کی حالت اور بحالی کی نگرانی سے متعلق ایپلیکیشن (ڈی ایچ اے آر ایم اے) پلیٹ فارم پر اندراج۔
  • ڈیم کی حفاظت کی نگرانی اور ڈیٹا مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے ڈی ایچ اے آر ایم اے ویب بیسڈ پلیٹ فارم اور موبائل ایپلیکیشن کا آغاز۔
  • سالانہ تقریباً 13,000 ڈیموں کا معائنہ ، جن کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔
  • ویب پر مبنی تشخیصی جائزہ کے آلے کے ذریعے ملک بھر کے نشان زد ڈیموں کی فوری خطرات کی جانچ کا نفاذ۔ اب تک یہ عمل 5553 نشان زد ڈیموں کے لیے مکمل کیا جا چکا ہے۔
  • ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت سرکاری گزٹ میں 20 ضوابط کی اشاعت۔
  • ایم این آئی ٹی جے پور میں نیشنل سینٹر فار ارتھ کوئیک سیفٹی آف ڈیمز کا قیام۔

ڈیم کی حفاظت سے متعلق قومی کمیٹی (این سی ڈی ایس)

این سی ڈی ایس، ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت قائم کردہ اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارہ ہے، جو ملک بھر میں ڈیم کی حفاظت کے یکساں معیارات کو یقینی بنانے کے لیے پالیسیوں کی تشکیل اور ضوابط کی سفارش کا ذمہ دار ہے۔یہ کمیٹی فرسٹ شیڈول میں درج فرائض انجام دیتی ہے، جو ڈیم کی ناکامی سے متعلق آفات کی روک تھام اور ڈیم سیفٹی کے معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ این سی ڈی ایس تکنیکی اور ضابطہ جاتی معیارات مقرر کرکے قومی ڈیم سیفٹی فریم ورک کی رہنمائی کرتی ہے تاکہ ڈیم کو درپیش خطرات اور آفات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔فروری 2022 میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک این سی ڈی ایس 11 اجلاس منعقد کر چکی ہے اور ڈیم سیفٹی کے ضابطہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ڈیم کی حفاظت سے متعلق قومی اتھارٹی (این ڈی ایس اے)

این ڈی ایس اے وہ فرائض انجام دیتی ہے جو سیکنڈ شیڈول میں درج ہیں اور جو نیشنل کمیٹی کی جانب سے وضع کردہ پالیسیوں، رہنما اصولوں اور معیارات کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہیں۔یہ ادارہ نشان زد ڈیموں کی مناسب نگرانی، معائنہ اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے تاکہ ڈیم سیفٹی کے نظام کو مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔

 

ڈیم مالکان” سے مراد مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت، یا ایک یا ایک سے زیادہ حکومتوں کی مشترکہ ملکیت، یا کوئی عوامی شعبے کا ادارہ ، یا مقامی اتھارٹی، یا کوئی کمپنی، اور ان میں سے کوئی ایک یا تمام وہ افراد یا ادارے ہیں جو کسی نشان زد ڈیم کے مالک ہوں، اس کو کنٹرول کرتے ہوں، اس کا آپریشن کرتے ہوں یا اس کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں۔

ریاستی سطح کے ادارے اور ڈیم مالکان

ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت ڈیم کی حفاظٹ سے متعلق ریاستی کمیٹیاں (ایس سی ڈی ایس) کی تشکیل اور ڈیم کی حفاظت سے متعلق ریاستی تنظیمیں (ایس ڈی ایس او) کا قیام لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جہاں نشان زد ڈیم موجود ہیں، نے قانون کے مطابق ایس سی ڈی ایس اور ایس ڈی ایس او قائم کر دیے ہیں۔ ایس ڈی ایس او اپنی حدود کے اندر تمام نشان زد ڈیموں کی مسلسل نگرانی، معائنہ اور مانیٹرنگ کی ذمہ دار ہیں۔ یہ ادارے ڈیموں کا ڈیٹا بیس برقرار رکھتے ہیں، این ڈی ایس اے کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ڈیموں کی کمزوری اور خطرے کی درجہ بندی کرتے ہیں اور ڈیم مالکان کو حفاظتی اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہیں۔

ڈیم مالکان پر ایکٹ کے تحت مختلف ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  • ہر ڈیم پر ڈیم کی حفاظت سے متعلق یونٹ کا قیام
  • مانسون سے قبل اور بعد معائنہ، اور کسی آفت یا خرابی کے آثار ظاہر ہونے پر فوری معائنہ
  • دیکھ بھال اور مرمت کے لیے مناسب فنڈز مختص کرنا
  • ایمرجنسی ایکشن پلان  تیار کرنا
  • مقررہ وقفوں پر خطرات کا جائزہ لینے کیلئے مطالعہ کرنا
  • تکنیکی دستاویزات تیار اور مرتب کرنا
  • ماہرین کے پینلز کے ذریعے باقاعدہ جامع ڈیم سیفٹی جائزے  کروانا
  • ہائیڈرو میٹرولوجیکل اسٹیشنز اور سیسمولوجیکل اسٹیشنز کا قیام
  • ڈیم کی حفاظت کے لیے آلاتی نظام  کی تنصیب
  • ابتدائی انتباہی نظام  کا قیام

لازمی معائنہ

ڈیم مالکان کیلئے 24 اپریل 2024 کو مطلع کردہ ضابطے کے مطابق تمام نشان زد ڈیموں کا مانسون سے قبل اور بعد معائنہ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔  مانسون سے پہلے اور بعد کے معائنے کی بنیاد پر ان کی تین زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے ۔  زمرہ I اہم خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اگر حل نہ کی جائیں تو ناکامی کا باعث بن سکتی ہیں ۔  زمرہ II میں بڑی خامیوں والے ڈیم شامل ہیں جن پر فوری اصلاحی کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔  زمرہ III ایسے ڈیموں کا احاطہ کرتا ہے جن میں معمولی یا کوئی کمی نہیں ہے ۔  2025 کے مانسون کے بعد کے معائنے کی بنیاد پر ، 3 ڈیم زمرہ I اور 188 ڈیم زمرہ II کے تحت آتے ہیں ۔   ڈیم کے زمرے کے لحاظ سے ڈیم مالکان مقررہ وقت میں مناسب مرمت کے اقدامات کرتے ہیں ۔

صلاحیت سازی میں اضافہ

ڈیم کے تحفظ کے شعبے میں سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ایز) قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان میں آئی آئی ٹی روڑکی میں ایسے مراکز شامل ہیں جن کی توجہ زلزلہ کے لحاظ سے حساس علاقے کی میپنگ اور آبی ذخائر میں پانی کی تہہ پر چیزوں کے جمنے پر مرکوز ہے، جبکہ آئی آئی ایس سی بنگلور میں ڈیموں کے جامع رسک اسیسمنٹ، جدید تعمیر و بحالی اور ڈیم مواد کی جانچ پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ایم این آئی ٹی جے پور میں ڈیموں کی زلزلے سے حفاظت کیلئے قومی مرکز بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ ڈیم سیفٹی میں ایم ٹیک پروگرام بھی آئی آئی ٹی روڑکی اور آئی آئی ایس سی  بنگلور میں 2021-22سے شروع کیا گیا ہے۔

جرائم اور سزائیں

قانون کا دسواں باب ان جرائم اور سزاؤں کا تعین کرتا ہے جو کسی بھی ایسی رکاوٹ یا انکار کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں جو مرکزی حکومت، یا ریاستی حکومت، یا قومی کمیٹی، یا اتھارٹی، ایا اسٹیٹ کمیٹی یا اسٹیٹ ڈیم سیفٹی آرگنائزیشن کی ہدایات کی تعمیل میں رکاوٹ ڈالے۔اس میں سزا کے طور پر ایک سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ اگر اس طرح کی رکاوٹ یا عدم تعمیل سے انسانی جانوں کا نقصان ہو یا اس کا فوری خطرہ پیدا ہو تو سزا دو سال کی قید تک بڑھ سکتی ہے۔

مستقبل کی راہ

بھارت کا وسیع ڈیم نیٹ ورک، جو کئی دہائیوں میں تعمیر کیا گیا ہے، معیشت کے اہم شعبوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ اثاثے پرانے ہو رہے ہیں اور موسمیاتی حالات میں غیر یقینی اضافہ ہو رہا ہے، توجہ اب توسیع سے ہٹ کر حفاظت، استحکام اور لائف سائیکل مینجمنٹ پر مرکوز ہو گئی ہے۔ ڈی آر آئی پی  جیسے بڑے پروگرام، ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت قانونی نگرانی، اور ڈی ایچ اے آر ایم اے جیسے ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال بھارت کے ڈیم سیفٹی نظام کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ڈیموں کی حفاظت کو مضبوط بناتے ہیں، پرانے ہورہے ڈھانچے کی کارکردگی میں بہتری لاتے ہیں اور ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے میں استحکام پیدا کرتے ہیں۔

حوالہ جات

جل شکتی کی وزارت

بین الاقوامی کمیشن برائے آبپاشی اور نکاسی آب

ورلڈ بینک

دیگر

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں

 

**************

ش ح ۔ م ش ۔ م الف

U. No.7105


(ریلیز آئی ڈی: 2261521) وزیٹر کاؤنٹر : 9