جل شکتی وزارت
ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے آٹھویں ضلعی کلکٹروں کے ‘پے جل سمواد’ کا انعقاد کیا، جس میں اضلاع نے جدید اور اختراعی طریقۂ کار پیش کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 MAY 2026 5:25PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے تحت پینے کے پانی و صفائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)کے محکمہ نے آج ضلعی کلکٹروں کے ‘پے جل سمواد’کے 8ویں ایڈیشن کا انعقاد ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیا، جس میں سینئر حکام، ضلعی کلکٹران/ ڈپٹی کمشنر اور ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے جل جیون مشن (جے جے ایم) کے مشن ڈائریکٹرز جمع ہوئے، تاکہ جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے نفاذ کو تیز کرنے اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے پر غور و خوض کیا جا سکے۔

پےجل سمواد کی صدارت ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کی، جبکہ نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے ایڈیشنل سیکرٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون اور ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اپنے خطاب میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری نے 2019 میں آغاز کے بعد سے جل جیون مشن کے تحت ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا، جس نے دیہی علاقوں میں ہینڈ پمپس اور مشترکہ ذرائع پر انحصار سے گھر گھر نل کے پانی کی فراہمی تک ایک بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کے دور میں چیلنجز کے باوجود اس مشن نے نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب اسے جل جیون مشن 2.0 کے تحت دسمبر 2028 تک بڑھا دیا گیا ہے، جس کے تحت تقریباً 81 فیصد دیہی گھرانوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔
پائیداری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچہ مرکز اور ریاستوں کی مشترکہ کوششوں سے قائم کیا گیا ہے، لیکن اس کی طویل مدتی فعالیت مضبوط مقامی حکمرانی پر منحصر ہے۔ جل جیون مشن 2.0 کے تحت گاؤں کے اندر موجود بنیادی ڈھانچہ گرام پنچایتوں کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ بڑے پیمانے کا بنیادی ڈھانچہ ریاستوں کے پاس ہی رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ گرام پنچایتیں مقامی سروس فراہم کنندہ کے طور پر کام کریں اور شفافیت و جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے گرام سبھاؤں کے ذریعے کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
مزید برآں انہوں نے ضلع سطح پر خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں ڈی ڈبلیو ایس ایم کی میٹنگوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ضلعی کلکٹروں سے کہا گیا کہ وہ باقاعدگی سے ماہانہ ڈی ڈبلیو ایس ایم اجلاس منعقد کریں، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کی صورتحال کا جائزہ لیں اور ان اجلاسوں کی کارروائی ڈی ڈبلیو ایس ایم ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کریں۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ اگرچہ بڑی تعداد میں اضلاع یہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کر رہے ہیں، لیکن بعض ریاستوں میں تعمیل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
سکریٹری نے ٹھوس کچرا مینجمنٹ قواعد کے نفاذ میں ضلعی کلکٹروں/ ڈپٹی کمشنروں کی بڑھتی ہوئی ذمہ داری کو بھی اجاگر کیا، جو یکم اپریل 2024 سے نافذ العمل ہیں اور جن کی نگرانی سپریم کورٹ کر رہی ہے۔

این جے جے ایم کے ایڈیشنل سیکرٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت جاری اصلاحات اور دیگر اہم حکومتی اقدامات کے پیش نظر تمام ضلعی سطح کی قیادت کی فعال شرکت نہایت ضروری ہے اور ان امور کی اعلیٰ ترین سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ضلعی کلکٹران نچلی سطح پر مشن کے اہداف کے مؤثر نفاذ، رابطہ کاری اور نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انتظامی جوابدہی اور بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے تمام ضلعی کلکٹروں اور ریاستی مشن ڈائریکٹرز پر زور دیا کہ وہ 22 مئی 2026 کو ضلعی کلکٹروں کے ساتھ ہونے والی آئندہ میٹنگ میں مکمل شرکت کو یقینی بنائیں۔ یہ اجلاس خاص طور پر جل جیون مشن 2.0 اور سوچھ بھارت مشن-گرامین کے تحت ترجیحی اقدامات پر اضلاع کو واضح رہنمائی فراہم کرے گا، خصوصاً جے جے ایم کے اصلاحاتی رہنما اصولوں اور گرے واٹر مینجمنٹ کے مسائل کے حوالے سے۔
ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی جانب سے ‘‘سجلام بھارت پی ایم گتی شکتی موبائل ایپلیکیشن’’ کے پروجیکٹ مانیٹرنگ ماڈیول اور سی آئی آر پی پر پیشکش
میٹنگ میں ‘‘سجلام بھارت پی ایم گتی شکتی موبائل ایپلیکیشن’’ کے پروجیکٹ مانیٹرنگ ماڈیول پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی، جو جل جیون مشن اسکیموں کی اثاثہ وار اور مرحلہ وار نگرانی کو ممکن بناتا ہے، جس میں تعمیر، جانچ، کمیشننگ اور حوالگی شامل ہیں۔ یہ ماڈیول ایک منظم ورک فلو کو مربوط کرتا ہے جس میں نامزد عملدرآمد ایجنسی(ڈی آئی اے) ، تھرڈ پارٹی انسپیکشن ایجنسی(ٹی پی آئی اے) اور فیلڈ انجینئرز شامل ہیں، جس سے شفافیت، جوابدہی اور ریئل ٹائم نگرانی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ ان ایجنسیوں کو شامل کریں اور اس ماڈیول کا فعال استعمال کریں۔ یہ پریزنٹیشن این جے جے ایم کی ڈپٹی سکریٹری ڈاکٹر انکیتا چکرورتی نے پیش کی۔
اس کے علاوہ این جے جے ایم کے ڈائریکٹر جناب وائی کے سنگھ نے جامع عملدرآمد و اصلاحاتی منصوبہ بندی(سی آئی آر پی) کے فریم ورک پر بھی پریزنٹیشن دی، جو اسکیم کے نفاذ اور اصلاحاتی اقدامات کو ایک منظم مانیٹرنگ نظام میں مربوط کرتا ہے۔ اس میں جسمانی پیش رفت، مالی نگرانی، حکومتی اصلاحات، پانی کے معیار کی جانچ، ذرائع کی پائیداری، ڈیجیٹل نظام اور استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔ اس فریم ورک کا مقصد اسکیموں کی بروقت تکمیل، فنڈز کے شفاف استعمال اور خدمات کی بہتر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
پےجل سمواد کے دوران اضلاع کی جانب سے پیش کردہ جدید اور بہترین عملی طریقۂ کار
پےجل سموادکے دوران مجموعی طور پر چھ اضلاع نے اپنی پیش رفت اور زمینی سطح پر اختیار کیے گئے بہترین طریقۂ کار پیش کیے، جو دیگر ریاستوں کے اضلاع کو جل جیون مشن 2.0 کے تحت بہتر کارکردگی کے لیے مدد فراہم کریں گے۔ ہر پریزنٹیشن متعلقہ ضلعی کلکٹر/ ضلع مجسٹریٹ/ ڈپٹی کمشنر/ ضلعی افسران نے پیش کی۔
- ناگپور، مہاراشٹر: ضلع کلکٹر جناب کمار آشیرواد نے قبائلی علاقے لاڈگاؤں میں ایک کمیونٹی کی قیادت میں اور کم لاگت والے اہم منصوبے کو پیش کیا، جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کے باعث پیدا ہونے والی پانی کی قلت کو ایک موجودہ ہینڈ پمپ کے رین واٹر ہارویسٹنگ پر مبنی بھرائی کے ذریعے حل کیا گیا۔ اس کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والا نظام، ذخیرہ کرنے کی سہولت اور گھریلو کنکشن فراہم کیے گئے، جس سے 24 گھنٹے پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن ہوئی۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 90 لاکھ روپے سے کم ہو کر تقریباً 14 لاکھ روپے رہ گئی۔ اس ماڈل نے مضبوط کمیونٹی شمولیت، کم لاگت ڈیزائن اور پائیدار آپریشن و بحالی کو نمایاں کیا۔

- کوراپٹ، اڈیشہ: ضلع کلکٹر جناب منوج مہاجن نے پہاڑی خطہ، بکھری ہوئی قبائلی بستیوں اور کم آبادی کی کثافت جیسے چیلنجز کو اجاگر کیا اور حل کے طور پر چشموں پر مبنی کششِ ثقل نظام، شمسی توانائی پر مبنی اسکیموں اور میگا پائپڈ واٹر سپلائی اسکیموں (بسوُدھا) کا امتزاج پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع نے ڈیجیٹل نگرانی کو مضبوط کیا ہے، جبکہ پانی کے معیار کی جانچ میں اپنی مددد آپ گروپس اور لیبارٹریز کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے مضبوط شکایات کے ازالے کے نظام، مون سون سے قبل جراثیم کشی اور پائیداری کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ کوراپٹ میں ڈیٹا پر مبنی نگرانی کا طریقۂ کار اپنایا گیا ہے، جس کے تحت پورٹل پر اسٹاک اور کام کی تصدیق کے ذریعے جاری منصوبوں کی روزانہ کی پیش رفت کو ٹریک کیا جاتا ہے۔ کلکٹر نے بتایا کہ پہلے بعض مکمل شدہ کام بھی پورٹل پر اپ ڈیٹ نہیں ہوتے تھے، جس سے نگرانی میں خلا پیدا ہوتا تھا۔ اب ضلع نے اپنا نظام مضبوط کیا ہے تاکہ ہر سرگرمی کو مکمل قرار دینے سے پہلے اسے پورٹل پر درست طور پر ظاہر کیا جائے۔

- کولم، کیرالہ: ضلع کلکٹر جناب دیوی داس این نے جل جیون مشن کے تحت پیش رفت کو خودکار پمپ آپریشنز، آن لائن مانیٹرنگ سسٹمز اور چوبیس گھٹنے شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے نمایاں کیا، جس میں عموماً شکایات 24 گھنٹوں کے اندر حل کر دی جاتی ہیں۔ ضلع نے کنکشنز کی 100 فیصد میٹرنگ حاصل کر لی ہے اور بلنگ و وصولی کے لیے کڈمبشری یونٹس کو استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں ادارہ جاتی کوریج بھی یقینی بنائی گئی ہے، جسے مضبوط پانی کے معیار کی نگرانی کے نظام کی معاونت حاصل ہے۔کلکٹر نے منرو جزیرے کا ایک کیس اسٹڈی بھی پیش کیا، جو آٹھ چھوٹے جزیروں پر مشتمل ایک پنچایت ہے جس کی آبادی تقریباً 9,599 افراد پر مشتمل ہے۔ پہلے یہاں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت تھی اور انحصار ٹیوب ویلز پر تھا۔ جے جے ایم سے پہلے تقریباً 2,600 کنکشن موجود تھے جبکہ مشن کے تحت تقریباً 500 اضافی کنکشن فراہم کیے گئے۔ جے جے ایم اقدام کے بعد علاقے میں پینے کے پانی کی صورتحال بہتر ہوئی اور اب اسے‘‘ہر گھر جل’’ قرار دیا جا چکا ہے۔

مظفر نگر، اتر پردیش: ضلع مجسٹریٹ جناب اومیش مشرا نے جل جیون مشن کے نفاذ کے ساتھ ساتھ پانی کے تحفظ کے اقدامات پر مبنی ایک جامع ماڈل پیش کیا، جس میں دریا کی بحالی، تالابوں کی ازسرِ نو تعمیر اور عوامی سطح پر چلائی جانے والی مہمات جیسے‘‘پانی کی پاٹھ شالا’’ شامل ہیں۔ باقاعدہ گرام سبھا کی بنیاد پر نگرانی، ‘‘جل سیوا آنکلن’’ اور خواتین کی قیادت میں پانی کی جانچ جیسے اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری اور کمیونٹی کی ملکیت کے بڑھتے ہوئے احساس کو نمایاں کیا گیا۔ضلع نے ‘‘دھرا سے دھروہر تک’ مہم کا آغاز کیا۔ عوامی شرکت کے ذریعے بن ندی کو تقریباً 42 کلومیٹر تک کھدائی اور بحالی کے ذریعے فروغ دیا گیا جبکہ سوٹ ندی کو تقریباً 17 کلومیٹر تک بحال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اَمروہہ میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری آئی۔ اس کام کا ذکر معزز وزیر اعظم نے بھی ‘‘من کی بات’’ میں کیا۔امروہہ کے بعد اسی نوعیت کے دریا تحفظ کے کام بجنور میں شروع کیے گئے، جہاں مالن ندی، جس کا تاریخی حوالہ کالی داس کی ‘‘ابھِگیان شکنتلم’’ میں ملتا ہے، کو صاف کیا گیا اور اسے مقامی روزگار اور کمیونٹی کی کوششوں سے جوڑا گیا۔ کُشی نگر میں ہرایاوتی ندی، جو بھگوان بدھ کے مہاپری نروان سے منسلک ہے، کو محفوظ کیا گیا، جو تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ مظفر نگر میں سُولانی ندی پر کام شروع کیا گیا، جو تاریخی شکُرتال علاقے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ تمام کام مضبوط عوامی شمولیت کے ساتھ کیے گئے، جن میں میڈیا، اساتذہ، ملازمین، تاجروں اور مقامی شہریوں کی بھرپور حمایت شامل تھی۔


- پالی، راجستھان: ضلع کلکٹر جناب رویندر گوسوامی نے اس ضلع کی پانی کی کمی والے علاقے سے پانی کے ٹرینوں پر انحصار سے نکل کر بہتر خدماتی فراہمی تک کی منتقلی کو اجاگر کیا، جس میں زیرِ زمین اور سطحی پانی کے مشترکہ استعمال، بارش کے پانی کے ذخیرہ اور بڑے پیمانے پر بھرائی کے ڈھانچوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ضلع نے آپریشن اور بحالی کے لیے کمیونٹی کی صلاحیت سازی، بفر اسٹوریج کے قیام اور غیر منافع بخش پانی میں کمی پر توجہ دی ہے، جبکہ نمکین پانی اور طویل ٹرانسمیشن پائپ لائنز جیسے چیلنجز سے بھی نمٹا جا رہا ہے۔کلکٹر نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اضلاع کو ہر گرمی کے موسم میں مکمل شدہ اسکیموں کے لیے 25 لاکھ روپے جاری کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ ان کی فعالیت برقرار رکھی جا سکے۔ اس سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے کہ پہلے سے تیار کردہ بنیادی ڈھانچہ سخت گرمی کے مہینوں میں بھی فعال رہے۔
- دھنباد، جھارکھنڈ: ڈپٹی کمشنر جناب ادتیہ رنجن نے پانی کی دستیابی میں خلا کو پُر کرنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی طریقۂ کار پیش کیا، جس میں بڑے پیمانے پر تالابوں کی بحالی، خشک بورویلز کی بحالی، گرے واٹر مینجمنٹ اور اداروں میں بارش کے پانی کا ذخیرہ شامل ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ‘‘جل سیوا ایپ’’ اثاثوں کی ریئل ٹائم نگرانی اور شکایات کے ازالے کو ممکن بناتی ہے، جس کی مدد تربیت یافتہ ‘‘جل سہیاس’’ اور غیرمرکزی مرمت کے نظام سے لی جاتی ہے، جس سے کارکردگی اور خدمات کی فراہمی بہتر ہوئی ہے۔ضلع نے خشک بورہولز کی بحالی پر بھی کام کیا۔ تقریباً 104 خشک بورہولز کو سنگل ولیج اسکیمز، پرانے جل مینارز اور 14ویں اور 15ویں فنانس کمیشن کی اسکیموں کے تحت بنائے گئے منصوبوں میں نشان زد کیا گیا۔ تقریباً 300 قریبی آبی ذخائر کو ان خشک بورہولز سے منسلک کیا گیا۔ ہر خشک بورہول کے لیے 500 میٹر کے دائرے میں نشیبی علاقے اور موجودہ تالابوں کی نشاندہی کی گئی اور آٹھ مختلف فنڈنگ ذرائع کے ذریعے بحالی کا کام کیا گیا۔

ان پریزنٹیشنز نے جل جیون مشن کے تحت حاصل کردہ کامیابیوں، جاری چیلنجز اور بہترین عملی طریقۂ کار کو اجاگر کیا، اور ‘‘ہر گھر جل’’ کے ہدف کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے مختلف اور متنوع طریقوں کو نمایاں کیا۔
اپنے اختتامی خطاب میں این جے جے ایم کے ایڈیشنل سیکرٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے اضلاع کی جانب سے پیش کیے گئے اختراعی طریقۂ کار کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ جل جیون مشن 2.0 کی کامیابی ضلعی کلکٹروں کی فعال اور پیش قدم قیادت پر منحصر ہے۔
ضلع کلکٹروں کے پے جل سموادکے آٹھویں ایڈیشن میں ملک بھر سے ضلعی کلکٹر/ ڈپٹی کمشنر/ ضلعی افسران، مشن ڈائریکٹرز اور ریاستی مشن ٹیموں نے شرکت کی۔
**********
ش ح۔ ع ح ۔ش ب ن
U-7122
(ریلیز آئی ڈی: 2261517)
وزیٹر کاؤنٹر : 7