ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اصلاحات کے بعد ریلوے نے گزشتہ چار ماہ میں 170 فیصد زیادہ سیمنٹ کی ترسیل کی؛ اب فلائی ایش مارکیٹ پر نظر


ماحول دوست نئے کنٹینر ویگنوں کی وجہ سے لوڈنگ اور اَن لوڈنگ میں آسانی ہوئی ہے، جبکہ لاگت اور کام مکمل ہونے کے وقت میں کمی کی آئی ہے

اس تبدیلی نے تعمیراتی صنعت میں خاموش انقلاب برپا کر دیا ہے؛ سیمنٹ کی کم قیمت سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے کم لاگت میں رہائش حاصل کرنے میں مدد ملی ہے

ریلوے کے ذریعے زیادہ سیمنٹ کی ترسیل سے سڑکوں پر ٹرکوں کا بوجھ کم ہوا ہے، ٹریفک ازدحام میں کمی آئی ہے اور مال برداری کی کارکردگی میں بہتری ہوئی ہے

وزیرِ ریلوے نے حکام پر زور دیا کہ فلائی ایش کی ترسیل کی وسیع صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں اور بجلی گھروں کے فضلے کو قومی دولت میں تبدیل کرنے میں مدد کریں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 MAY 2026 6:55PM by PIB Delhi

ریلوے اصلاحات کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر، بھارتی ریلوے نے گزشتہ چار ماہ کے دوران سیمنٹ کی ترسیل میں 170 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ سال نومبر میں سیمنٹ کی نقل و حمل کے شعبے میں متعارف کرائی گئی متعدد اصلاحات کے بعد سامنے آیا۔ یہ اصلاحات اختراعی بلک سیمنٹ ٹینک کنٹینر پر مبنی ہیں، جو بغیر رکاوٹ آغاز سے اختتام تک لاجسٹک سہولت فراہم کرتے ہیں۔ مرکزی وزیرِ ریلوے اشونی ویشنو نے آج کنٹینر سیکٹر میں اصلاحات اور ان کے نفاذ کا جائزہ لیا۔

سیمنٹ سے متعلق یہ اصلاحات ریلوے کے ذریعے زیادہ مقدار میں سیمنٹ کی ترسیل بڑھانے اور سڑکوں کے بجائے صاف ستھرے اور زیادہ مؤثر ریلوے لاجسٹکس کی حوصلہ افزائی کے لیے متعارف کرائی گئی تھیں۔ ریلوے نے سیمنٹ کی ملٹی ماڈل ہینڈلنگ کو فروغ دینے کے لیے مخصوص ٹینک کنٹینر اور بلک سیمنٹ ٹرمینل پالیسی متعارف کرائی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ نئے نظام نے لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کو آسان بنا دیا ہے اور اس سے مواد کے ضیاع میں بھی کمی آ رہی ہے۔ اب ایک مقام پر تیار ہونے والا سیمنٹ خصوصی ٹینک کنٹینروں کے ذریعے براہ راست استعمال کے مراکز تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے بار بار ہینڈلنگ کے مراحل کم ہوئے ہیں اور پلانٹ سے مارکیٹ تک رسائی کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ چونکہ یہ کنٹینر معیاری شکل کے ہیں اور ریڈی مکس کنکریٹ (آر ایم سی) مشینوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، اس لیے سیمنٹ تعمیراتی مقامات تک استعمال کے لیے تیار حالت میں پہنچتا ہے۔ اس سے ہینڈلنگ کے دو مراحل کم ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں لاجسٹک لاگت میں کمی اور ترسیل کے وقت میں بہتری آئی ہے۔

سیمنٹ لاجسٹکس میں بہتر ٹرن اَراؤنڈ تعمیراتی صنعت میں ایک خاموش انقلاب لا رہا ہے۔ ہینڈلنگ کے مراحل اور لاجسٹک اخراجات میں کمی کے باعث سیمنٹ کی مجموعی ترسیلی لاگت کم ہونے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں تعمیراتی سامان زیادہ سستا ہو سکتا ہے۔ یہ لاگتی بچت خاص طور پر رہائشی شعبے کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے تعمیراتی اخراجات میں کمی آتی ہے اور غریب و متوسط طبقے کے لیے رہائش کو زیادہ قابل استطاعت بنانے کے ہدف کو تقویت ملتی ہے۔

اختراعی ”میک ان انڈیا“ ٹینک کنٹینروں کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرین سے ٹریلر اور پھر دوبارہ ٹرین تک بغیر رکاوٹ منتقل ہو سکیں، جس سے مؤثر ڈور ٹو ڈور لاجسٹک سہولت ممکن ہوئی ہے۔ ہر کنٹینر مشینی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ روایتی تھیلوں میں سیمنٹ کی ترسیل کے مقابلے میں رساؤ اور پیکجنگ کے نقصانات کو بھی کم کرتا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اصلاحات ماحول دوست بھی ہیں، کیونکہ لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے دوران گرد و غبار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کنٹینروں کے ذریعے بلک ترسیل سے ایندھن کی کھپت اور اخراج میں کمی ہو رہی ہے، صاف ستھری لاجسٹکس کو فروغ مل رہا ہے اور سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہو رہا ہے۔

سیمنٹ کی ترسیل میں کامیابی کے بعد، ریلوے اب فلائی ایش کی ترسیل کے لیے بھی اسی نوعیت کی اصلاحات پر کام کر رہا ہے۔ سینیئر حکام کے ساتھ اس شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے، جناب اشونی ویشنو نے حکام پر زور دیا کہ وہ فلائی ایش کی ترسیل کی وسیع صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں اور تھرمل پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والے فضلے کو قومی دولت میں تبدیل کریں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک میں تقریباً 300 ملین میٹرک ٹن فلائی ایش پیدا ہوتی ہے، لیکن اس میں سے صرف تقریباً 13 ملین ٹن ہی اس وقت ریلوے کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ ریلوے کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور فلائی ایش کی ترسیل کو اینٹوں کے بھٹوں، سیمنٹ صنعتوں اور ملک بھر کے تعمیراتی مقامات تک آسان بنایا جائے۔ اسے ایک بڑا ”ویسٹ ٹو ویلتھ“ موقع قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلائی ایش، جسے اکثر پاور پلانٹس فضلہ سمجھتے ہیں، دراصل سڑکوں کی تعمیر، سیمنٹ سازی اور اینٹوں کی تیاری کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہے۔

فلائی ایش کی وسیع پیمانے پر ترسیل اور استعمال سے آلودگی میں کمی، صنعتی فضلے کی ری سائیکلنگ کو فروغ، اور اینٹوں و سیمنٹ جیسے تعمیراتی مواد کی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اسے مختلف تعمیراتی سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے پائیدار انفراسٹرکچر کی ترقی کو تقویت ملے گی۔

سیمنٹ کی ترسیل میں اصلاحات اور جدید کنٹینر ویگنوں کے آغاز نے بھارتی ریلوے میں زیادہ مؤثر، کم لاگت اور وسیع پیمانے پر قابلِ عمل مال برداری لاجسٹکس کی جانب ایک اہم قدم ثابت کیا ہے۔ اسی پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے، فلائی ایش پر توجہ سے ”ویسٹ ٹو ویلتھ“ کے تصور کو مزید تقویت ملنے اور بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبوں میں پائیدار مال برداری کو فروغ حاصل ہونے کی توقع ہے۔

***

ش ح۔ ف ش ع

U.N:7082


(ریلیز آئی ڈی: 2261219) وزیٹر کاؤنٹر : 9