قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق  (این ایچ آر سی)نے ‘نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ: حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ ذمہ داری’ کے موضوع پر اپنے کور گروپ کا اجلاس منعقد کیا


چیئرپرسن  جسٹس وی راما سبرامنین نے محض پالیسی سازی کے بجائے،بین ریاستی ہم آہنگی ، سماجی تحفظ سے متعلق منتقلی کی سہولت اور لیبر قوانین کے مضبوط نفاذ جیسی منظم اصلاحات پر زور دیا

ممبر ، جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا  کہ وقت پر اجرت  کی  ادائیگی نہ  ہونے سے وہ مقصد ہی پورا نہیں ہوتا ہے جس کے لئے مزدور اپنے گھروں سے دور جاتے ہیں

سکریٹری جنرل ، جناب بھرت لال نے ون نیشن ون راشن کارڈ اسکیم کی تعریف کی ، قوانین اور نفاذ کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا

کثیر فریقی بات چیت میں پیس کی گئی کئی تجاویز میں تارکین وطن  کارکنوں کے لیے یکساں اور بروقت اجرت کی ادائیگی کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی تاکہ ان کے لئے ضروری عوامی خدمات ، صحت کی دیکھ بھال ، صفائی -ستھرائی ، رہائش ، بچوں کے لیے تعلیم اور سماجی تحفظ کے فوائد تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAY 2026 11:56AM by PIB Delhi

ہندوستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این ایچ آر سی) نے نئی دہلی میں اپنے احاطے میں ہائبرڈ موڈ میں‘نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ: حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ ذمہ داری’ کے موضوع پر ایک کور گروپ میٹنگ کا انعقاد کیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے این ایچ آر سی کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنین نے کہا کہ دوسروں  کے مقابلے میں نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کو زیادہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ زیادہ تر کا تعلق غیر منظم شعبے سے ہے۔ زبان کی رکاوٹیں ، نقل و حرکت اور مستحکم پناہ گاہ کی کمی انہیں منظم طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ سے روکتی ہے۔ انہوں نے کارکنوں کے حقوق کے لیے ٹریڈ یونینوں کی مضبوط روایت کو بھی یاد کیا۔این ایچ آر سی کے رکن ، جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی ، سکریٹری جنرل ، جناب بھرت لال ، ڈی جی ( تحقیقات) محترمہ  انوپما نیلیکر چندرا ، رجسٹرار (قانون) جناب جوگندر سنگھ ، جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار اور محترمہ سیدنگپوئی چھاکچھواک، حکومت ہند کے سینئر عہدیداروں ، اہم شعبوں کے ماہرین اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کےنمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔

جسٹس راما سبرامنین نے 1979 کے قانون کا حوالہ دیا جس میں نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کو تسلیم کیا گیا تھا اور صنعتی تنازعات ایکٹ کی دفعات جو 240 دن کے مسلسل کام کے بعد تحفظ فراہم کرتی ہیں ، جبکہ اہلیت کی مدت سے پہلے وقفے دینے والے آجروں جیسی خامیوں کا بھی ذکر  کیا۔انہوں نے ہندوستان کے رول کو اجاگر کیا اور حکومتوں کو مشورہ دینے میں اس کے بنیادی گروپ کے کردار پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان میں 1979 سے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے تحفظ سمیت سخت لیبر قوانین ہیں ، لیکن ان پر عمل درآمد باعث تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کو درپیش مسائل وسیع پیمانے پر لوگوں کو معلوم ہیں اور کمیشن کو توقع ہے کہ کثیر فریقین کی بات چیت کے نتیجے میں عمل درآمد کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو سفارشات کے طور پر عملی حل تجویز کیے جائیں گے۔

جسٹس راما سبرامنین نے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے لیے تعمیل پر مبنی نقطہ نظر سے حقوق پر مبنی ثقافت کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے بین ریاستی ہم آہنگی ، سماجی تحفظ کی منتقلی کی سہولت اور لیبر قوانین کے مضبوط نفاذ جیسی منظم اصلاحات پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ تعمیرات ، ہوٹل ، کاروبار اور گھریلو کاموں میں مصروف نقل مکانی کرنے والے کارکنوں پر فوری توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لسانی اور شناختی بنیادوں پر قائم تنظیموں کے نمائندوں کو کوآرڈینیشن کونسل میں شامل کیا جائے تاکہ نقل مکانی کرنے والے  کارکنوں کے لیے مجموعی نظام  کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

این ایچ آر سی ، انڈیا کے رکن ، جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کو نہ تو مناسب احترام دیا جاتا ہے اور نہ ہی اجرت ۔ انہوں نے کہا کہ وقت پر اجرت نہ دیئے جانے سے ان کے گھر چھوڑنے کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا۔ انہیں مناسب  اجرت ، رہائش ، صحت اور تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے بچے وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ آنے والے خاندان کے افراد کا ایک ڈیٹا بیس بھی بنایا جانا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انہیں بھی تمام واجب الادا فوائد حاصل ہوسکیں ۔

اس سے قبل ، این ایچ آر سی ، انڈیا کے سکریٹری جنرل ، جناب بھرت لال نے نقل مکانی سے متعلق ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والے افراد ہر سطح پر معیشت کو چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تقریبا 28.9 فیصد آبادی دیہی اور شہری علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے مائیگرینٹ ورکرز پر مشتمل ہے ، جو معیشت کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کووڈ-19 کے بحران کے دوران درپیش شدید مشکلات کو یاد کرتے ہوئے ، انہوں نے آؤٹ سورس کارکنوں کے استحصال پر تشویش کا اظہار کیا ، جن میں سے بہت سے کارکنوں کو مبینہ طور پر کم از کم اجرت بھی نہیں ملتی ہے، ٹھیکیدار مبینہ طور پر پیمنٹ ایپس کے ذریعے بڑی رقم کاٹ لیتے ہیں ۔ انہوں نے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے تئیں زیادہ سماجی حساسیت کی ضرورت پر زور دیا۔

کارکنوں کے لیے ہدف شدہ سرمایہ کاری اور فلاحی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نتیجے میں ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس تناظر میں ، انہوں نے نقل مکانی کرنے والے افراد  پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ احمد آباد کے ایک مطالعے کا حوالہ دیا ۔ فلاحی اقدامات کے نتیجے میں فیکٹری کارکنوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، جو بڑھ کر 1.38 گنا ہو گیا اور خاندانی بہبود ، تعلیم اور ان کے بچوں کے مستقبل کے امکانات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بعض اوقات امتیازی سلوک اور نا انصافی کا احساس تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ منصفانہ اجرت اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جسے نئے لیبر ضابطے اور ڈیجیٹل حکمرانی کے نظام کی حمایت حاصل ہے، انہوں نے کووڈ-19 کے دوران ہندوستان کے این ایچ آر سی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ون نیشن ون راشن کارڈ جیسے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے، انہوں نے قوانین اور نفاذ کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مضبوط بین ریاستی ہم آہنگی ، سماجی تحفظ کی منتقلی کی سہولت ، کارکنوں کی مہارت میں اضافہ اور تعمیل پر مبنی طریقوں سے حقوق پر مبنی نقطہ نظر کی طرف تبدیلی پر بھی زور دیا ۔

این ایچ آر سی ، انڈیا کے جوائنٹ سکریٹری ، جناب سمیر کمار نے تین تکنیکی اجلاسوں کا جائزہ پیش کیا ، جن میں ‘قانونی اور ادارہ جاتی خاکہ: تحفظ اور نفاذ میں فرق’ ، ‘ہندوستان میں نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ میں کاروبار کا کردار’ اور ‘ہندوستان میں نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کی شناخت: کثیر فریقی نقطہ نظر’ شامل ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نقل مکانی کرنے والے کارکن معیشت ، بنیادی ڈھانچے ، لاجسٹکس ، گھریلو کام اور روزمرہ کی زندگی کے لیے بہت اہم ہیں ۔ اس تناظر میں، انہوں نے یاد کیا کہ اترپردیش کے نوئیڈا میں کارکنوں کے احتجاج نے کس طرح  زور پکڑا۔ انہوں نے حالیہ ریاستی انتخابات کے دوران گھر واپس آنے والے مائیگرینٹ ورکرز  کا بھی حوالہ دیا ، جس نے مزدوروں کی قلت پیدا کی جس نے شہروں اور عوامی نظام کو متاثر کیا ۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے ڈپٹی جنرل منیجر جناب ومل بھٹار نے وضاحت کی کہ کس طرح ای ایس جی رپورٹنگ کے تحت کاروباری ذمہ داری اور پائیدار یت رپورٹ (بی آر ایس آر)، سیبی میں درج کمپنی کی ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی (ای ایس جی) کی کارکردگی کا انکشاف کرتی ہے، جس میں نقل مکانی کرنے والے اور ٹھیکے کےکارکنان سمیت محنت کشوں کی فلاح کا ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے ۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا تذکرہ  کیا کہ زیادہ تر نقل مکانی کرنے والے ایم ایس ایم ای اور غیر منظم شعبے میں اپنی موجودگی کی وجہ سے ضابطے سے باہر ہیں۔ محترمہ  انوجا باپٹ ، پالیسی ڈویژن ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ،بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کو وسیع تر خاندانی اور ماحولیاتی نظام کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور کہا کہ پی ایم وشوکرما ، پی ایم ای جی پی اور ادیم رجسٹریشن جیسی ایم ایس ایم ای اسکیمیں مقامی ذرائع معاش پیدا کرکے پریشانی کی نقل مکانی کو کم کر سکتی ہیں۔

محنت اور روزگار کی وزارت کے ڈائریکٹر جناب دیپانگکر گوہا نے کہا کہ ای-شرم پورٹل ایک مضبوط بنیاد ہے ، لیکن اس کی اصل قدر نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرکاری اسکیموں میں اس کے ڈیٹا کے بہتر انضمام اور استعمال پر منحصر ہے۔ کارپوریٹ امور کی وزارت کے جوائنٹ ڈائریکٹر (سی ایس آر) جناب کے سی مینا نے تعمیل کے فریم ورک اور رپورٹنگ ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ درج کمپنیوں کے لیے کچھ رپورٹنگ ذمہ داریاں رضاکارانہ یا بدلتی ہوئی ہیں اور قانونی تقاضے مختلف ہیں۔

پراکسس انسٹی ٹیوٹ فار پارٹیسیپیٹری پریکٹس کے سی ای او جناب ٹام تھامس نے سماجی تحفظ کی کوریج کے لیے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کا پتہ لگانے کے لیے بہتر ڈیٹا سسٹم ، خاص طور پر ای-شرم پورٹل جیسے پلیٹ فارم کو جوڑنے اور مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیٹا بیس کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل  کو بہتر بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی تاکہ جزوی کوریج بھی پالیسی کو نشانہ بنانے اور فلاح و بہبود کی فراہمی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکے۔

ڈاکٹر کشلے ، ریسرچ ایسوسی ایٹ ، سینٹر فار مائیگریشن ، موبیلٹی اینڈ ڈائیاسپورا اسٹڈیز ، انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز نے تعمیراتی کارکنوں پر توجہ مرکوز کی اور ذیلی معاہدے کے مسائل، دستاویزات کی کمی، فلاحی اسکیموں سے محرومی اور کفایتی رہائش اور منصفانہ کم از کم  اجرت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ بین الاقوامی تنظیم برائے نقل مکانی (آئی او ایم) کے دفتر کے سربراہ جناب سنجے اوستھی نے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کی تعمیل، اخلاقی بھرتی کے نظام ، بھرتی فیس کے مکمل خاتمے ، ذیلی معاہدے کے سلسلے میں جوابدگی اور شکایات کے ازالے کے مضبوط نظام اور ڈیٹا سسٹم پر زور دیا۔

محترمہ نصرت ، بزنس اینڈ ہیومن رائٹس اسپیشلسٹ ، نمائندہ ، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی انڈیا) نے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے تئیں کارپوریٹ ذمہ داری کے واضح اور مختلف شعبوں کے مطابق متعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے ذمہ دار کاروباری طرزِ عمل کے قومی رہنما خطوط کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے اور کاروبار و انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں میں بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے کی تجویز دی۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے نقل مکانی  کے بنیادی اصولوں اور حقوق کے ماہر جناب انصاف نظام نے نہ صرف نقل مکانی کرنے والے بلکہ تمام کارکنوں کے لیے حقوق پر مبنی نقطہ نظر پر زور دیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ ساختی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور حکمرانی اور نفاذ کے نظام کو بہتر بناتے ہوئے لیبر قوانین کو برقرار رکھا جائے۔ ورلڈ بینچ مارکنگ الائنس کے ایشیا پالیسی لیڈر جناب نمت اگروال نے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے لیے اجرت کے ڈھانچے میں ثالثی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

پارٹنرز ان چینج کے ڈائریکٹر جناب پردیپ نارائنن نے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) کے انکشافات میں ہندوستان کی قیادت کا ذکر کیا اور ای ایس جی کی درجہ بندی کو نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کی فلاح و بہبود سے جوڑنے کی تجویز پیش کی۔ ڈاکٹر جتندر سنگھ ، ڈپٹی سکریٹری جنرل ، پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ای-شرم کو آدھار ، ای پی ایف ، ای ایس آئی سی اور ریاستی اسکیموں ، کیو آر پر مبنی مہاجر شناختی کارڈ اور ایک قومی مہاجر مزدور ڈیش بورڈ کے ساتھ مربوط کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے بی آر ایس آر رپورٹنگ میں کثیر لسانی شکایات کے بندوبست، ٹھیکیداروں کی تعمیل کے اعلانات، روانگی سے پہلے کی تربیت اور نقل مکانی سے متعلق مخصوص انکشافات کی بھی تجویز پیش کی۔انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مائیگریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے بانی صدر جناب ایس گریدھیا راجن نے حقیقی وقت میں نقل مکانی کے اعداد و شمار ، شعبے سے متعلق  اقدامات  اور نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کو ‘مہمان’ کے بجائے مستقل شراکت داروں کے طور پر تسلیم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے خراب حالات زندگی ، اجرت کی چوری، اوور ٹائم کی کمی ، خدمات میں لسانی  رکاوٹیں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مسائل، بین ریاستی ہم آہنگی میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی مشکلات  پر روشنی ڈالی۔اجیویکا بیورو کے ڈائریکٹر (نالج اینڈ لرننگ) جناب سنتوش پونیا نے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سب کے لیے یکساں نقطہ نظر سے ہٹ کر زمینی حقائق کے مطابق پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

دیگر مقررین میں جناب اننت سوروپ، سکریٹری جنرل، فکی؛ جناب سنیل مشرا، پرنسپل ایڈوائزر، کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری؛ ڈاکٹر راجیش کمار ڈنگیٹی، چیف جنرل منیجر، سیبی؛ پروفیسر وسنتھی سرینیواس، آئی آئی ایم بی ؛ ڈاکٹر ودیا ٹیکو، سینئر نائب صدر، آدتیہ برلا مینجمنٹ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ؛ محترمہ کیتھرین لاز ، لیبر مائیگریشن اسپیشلسٹ، ڈی ڈبلیو ٹی-ساؤتھ ایشیا ؛ محترمہ پچامون یوئفنٹونگ، ایشیا پیسیفک ممبر، یو این ورکنگ گروپ آن بزنس اینڈ ہیومن رائٹس؛ جناب کیلاش بھنڈاری، جوائنٹ ڈائریکٹر، محکمہ پبلک انٹرپرائزز؛ جناب ایس ارودیہ راجن، بانی چیئر، آئی آئی ایم اے ڈی؛ این ایچ آر سی اسپیشل مانیٹر، جناب ڈی ایس دھاپولا؛ خصوصی نمائندہ، محترمہ  شومیتا بسواس  اور دیگر شامل تھے۔

بحث سے نکلی کچھ تجاویز درج ذیل ہیں:

  • نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوآرڈینیشن کونسل کی ضرورت ؛
  • شعبہ وار تنظیموں اور ایسے ممبر نیٹ ورکس پر توجہ دی جائے جو مشترکہ لسانی شناخت کی بنیاد پر قائم ہوں، تاکہ مہاجر مزدور آسانی سے ان سے رابطہ کر سکیں اور مدد و مؤثر ابلاغ حاصل کر سکیں؛
  • ضلع کے لحاظ سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے قومی مہاجر مزدوروں کا ڈیش بورڈ قائم کیا؛
  • صرف ای-شرم تک محدود رہنے کے بجائے تمام سرکاری نظاموں کے  ڈیٹا بیس کو جوڑنا اور ہم آہنگ کرنا تاکہ حقیقی وقت کی حکمرانی کے لیے مہاجر مزدوروں سے متعلق ایک جامع معلوماتی نظام تشکیل دیا جا سکے؛
  • ویلیو چین اور سپلائی چین سے متعلق انکشاف سے متعلق معیارات کو زیادہ وسیع اور یکساں بنایا جائے تاکہ نقلل مکانی کرنے والے کارکنوں کا ڈیٹا ای ایس جی اور بی آر ایس آر  طرز کی رپورٹنگ، حتیٰ کہ بڑی لسٹڈ کمپنیوں سے آگے بھی کا حصہ بن سکے؛
  • ٹیکسٹائل، گیگ ورک اور تعمیرات جیسے اُن شعبوں کے لیے جہاں مہاجر مزدوروں کی تعداد زیادہ ہے، مخصوص کارپوریٹ ذمہ داری رہنما اصول متعارف کرائے جائیں، بجائے اس کے کہ صرف عمومی کاروباری ذمہ داری کے فریم ورک پر انحصار کیا جائے؛
  • مہاجر مزدوروں کے لیے قومی سطح پر ایک باضابطہ مشاورتی یا مشاورت کا نظام قائم کیا جائے تاکہ پالیسی سازی میں ان کی براہِ راست نمائندگی یقینی بنائی جا سکے؛
  • آپریشنل سطح پر محکموں کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنانا ، کارکنوں کی شکایات کو دور کرنے میں کثیر سطحی بیوروکریٹک منظوریوں کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کو کم کرنا ؛
  • ضلعی اور حقیقی وقت کی سطح پرنقل مکانی کے ڈیٹا سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنا ، کیونکہ موجودہ قومی ڈیٹا کو پرانا اور بحران کے جواب کے لیے ناکافی قرار دیا گیاہے؛
  • نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کے لیے فلاحی اسکیموں ، خاص طور پر تعمیرات ، مہمان نوازی اور گھریلو کاموں میں تصدیق کے عمل کو معیاری بنانا ، تاکہ وہ تعلیمی مدد اور بیمہ جیسے فوائد حاصل کر سکیں؛
  • شہری منصوبہ بندی کے فریم ورک میں نقل مکانی کرنے والے کارکنوں کی ضروریات کو بعد کی ضرورت کے طور پر نہیں بلکہ رہائش اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا جائے؛
  • موجودہ اسکیموں سے آگے پورٹیبلٹی فن تعمیر کو مضبوط بنانا ، نہ صرف راشن بلکہ صحت ، بیمہ اور فلاحی حقوق تک بھی ریاست کے پار ہموار رسائی کو یقینی بنانا؛
  • کاروبار اور انسانی حقوق کے فریم ورک کے تحت ‘کارپوریٹ ذمہ داری’ کے واضح اظہار کو فروغ دینا ، خاص طور پر غیر رسمی اور ذیلی معاہدے کی ابہام کو دور کرنے کے لیے ؛
  • ریٹنگ سسٹمز کے ذریعے ایسے ترغیباتی اقدامات متعارف کرائے جائیں کہ جو کمپنیاں مہاجر مزدوروں کی فلاح و بہبود بہتر بنائیں انہیں بہتر ای ایس جی  ریٹنگز ملیں، تاکہ مارکیٹ کے نظام کے ذریعے تعمیل کی حوصلہ افزائی ہو؛
  • اُن ‘‘غیر مرئی ویلیو چین’’کی نشاندہی اور ضابطہ بندی کی جائے جہاں کسی ایک کمپنی کی واضح ذمہ داری نہیں ہوتی اور شعبہ جاتی بڑی کمپنیوں کو مشترکہ طور پرنقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے حالات کا ذمہ دار بنایا جائے؛
  • مختلف صنعتی شعبوں  کو این ایچ آر سی/کور گروپ پلیٹ فارم میں لائیں تاکہ وہ صرف پالیسی پر بات چیت کے بجائے عملی ، سیکٹر سے متعلق مہاجر فلاح و بہبود کے حل تیار کریں ۔
  • اجتماعی سودے بازی میں  اختراعات سے متعلق تعلیم کو فروغ بنانا ، خاص طور پر ان کارکنوں کے لئے جو روایتی ٹریڈ یونین کے ڈھانچے سے باہر ہوں۔
  • لیبر پالیسی میں ذات پات کی بنیاد پر کمزوریوں کا تجزیہ شامل کیا جائے اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائلیوں کے قومی کمیشن سمیت تاریخی طور پر نقل مکانی پر مشتمل آبادیوں سے متعلق اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے؛
  • تاریخی طور پر نقل مکانی کرنےوالی آبادیوں کے لیے انسانی حقوق ، ذات پات اور قبائلی کمیشنوں کو شامل کرتے ہوئے مربوط کثیر کمیشن پالیسی ردعمل تیار کرنا ؛
  • پالیسی سازی کے بجائے عملی نفاذ پر مبنی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے تاکہ مباحث حقیقی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل ہو سکیں، نہ کہ صرف علمی گفتگو تک محدود رہیں؛
  • ٹھیکیدار کی سطح پر  نقل مکانی کرنےو الے کارکنوں کی فلاح و بہبود کے اعلامیے کو لازمی قرار دیا جائے ، جس میں سپلائرز کو اجرت، حفاظت، رہائش اور بھرتی کی شرائط پر تعمیل کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؛
  • سخت ٹائم لائن کے ساتھ قابل عمل شکایات کا نظام بنایا جائے ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے  کہ شکایات کو نہ صرف درج کیا جائے بلکہ مقررہ مدت کے اندر ازالہ کیا جائے ۔
  • زیادہ نقل مکانی والے اضلاع میں منظم قبل از روانگی تربیتی پروگرام متعارف کروائے جائیں ، جس میں حقوق سے متعلق آگاہی، معاہدوں، اجرتوں اور قانونی تحفظات کا احاطہ کیا جائے ۔
  • ای ایس جی/بی آر ایس آر فریم ورک میں نقل مکانی کرنے والے کارکنوں سے متعلق مخصوص انکشافات شامل کئے جائیں ، جس میں رجسٹریشن کی حیثیت، اجرت کے آڈٹ ، شکایات کے حل کی شرح اور رہائش/حفاظت کی تعمیل شامل ہو ۔
  • کم از کم اجرت کے بجائے ‘‘زندہ رہنے کے قابل اجرت‘‘کے معیار کی طرف پیش رفت کی جائے، جو قانونی حدوں کے بجائے شہری علاقوں کی حقیقی معاشی لاگتِ زندگی پر مبنی ہو؛
  • نقل مکانی کرنے والی آبادی کے لیے طویل مدتی رہائش اور خدمات تک رسائی کو مربوط کرتے ہوئے نقل مکانی سے متعلق  حساس شہری منصوبہ بندی کا فریم ورک تیار کرنا ؛
  • اجرت کی چوری کو کم کرنے اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے پے رول ریکارڈ سے منسلک ڈیجیٹل اجرت کی ادائیگی کے نظام کو فروغ دینا ؛
  • بین ریاستی نقل مکانی کی راہداریوں کی سطح پر ہم آہنگی کے نظام کو، خصوصاً زیادہ کارکن بھیجنے اور زیادہ کارکنوں کی  آمد والی ریاستوں کے درمیان مضبوط بنایا جائے۔

کمیشن ان مختلف تجاویز پر مزید غور و خوض کے بعد حکومت کو اپنی حتمی سفارشات پیش کرے گا۔

 

***

(ش ح۔م ش۔ ن ع)

UR-7016


(ریلیز آئی ڈی: 2260778) وزیٹر کاؤنٹر : 9