سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جینومکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بایوٹیکنالوجی کےذریعے  بھارت ذاتی نوعیت اور درستگی پر مبنی طب کے دور میں داخل ہو رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے کہا کہ‘ ہیموفیلیا میں جین تھراپی کی کامیابی بھارت کی جینیاتی تحقیق میں مضبوط صلاحیت کا مظہر ہے’

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کم لاگت والے عالمی طبی مراکز میں ایک نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق بایو-ای3 پالیسی بھارت کو بایو مینوفیکچرنگ میں عالمی قائد بنانے میں مدد دے گی، جبکہ بایوٹیکنالوجی اگلے صنعتی انقلاب کی قیادت کر رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 6:19PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ اعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات، پنشن، نیوکلائی توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت جینومکس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید بایوٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ ذاتی نوعیت اور درستگی پر مبنی طب کے ایک انقلابی دور میں داخل ہو رہا ہے، جس کے ذریعے بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں شناخت اور علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی ہدفی علاج ممکن ہو سکے گا۔

این ایکس ٹی سمٹ 2026 “فار آل ہیومن کائنڈ”سے خطاب کرتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ بھارت کا وسیع جینیاتی تنوع اور تیزی سے بڑھتے ہوئے جینومک ڈیٹا بیس پیش گوئی پر مبنی صحت سے متعلق خدمات، درست تشخیص اورعلاج کے مخصوص طریقہ کار کے لیے بے مثال مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 4,000 سے 5,000 منفرد برادریوں اور دنیا کے سب سے بڑے جینیاتی ذخائر میں سے ایک کے حامل بھارت کو جینومک تحقیق میں نمایاں برتری حاصل ہے۔ وزیر موصوف نے “جینوم انڈیا” پہل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 10,000 بھارتی افراد کے جینوم کی ترتیب مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ طویل مدتی ہدف 10 لاکھ جینومز کی سیکوینسنگ ہے، تاکہ احتیاطی صحت سے متعلق خدمات اور بیماریوں کی پیش گوئی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

وزیرموصوف نے کہا کہ طب کا مستقبل ملٹی اومکس ٹیکنالوجیز، جینومکس، ٹرانسکرپٹومکس اور پروٹیومکس پر مبنی ہوگا، جنہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، تاکہ ڈاکٹر مریض کے جینیاتی پروفائل، طرزِ زندگی اور ماحولیاتی عوامل کی بنیاد پر ذاتی نوعیت کے نسخے تیار کر سکیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ، “مستقبل کی طب ،ذاتی نوعیت کی طب، درستگی پر مبنی طب اور ہر مریض کے لیے مخصوص نسخوں پر مبنی ہوگی۔”

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بایوٹیکنالوجی اور لائف سائنسز کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی کو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس شعبے کو نئی سمت عطا کی ہے۔ انہوں نے بایو-ای3 پالیسی (بایوٹیکنالوجی فار اکانومی، ایمپلائمنٹ اینڈ انوائرمنٹ) کا ذکر کیا، جس کا مقصد بایو مینوفیکچرنگ میں جدت کو فروغ دینا اور بھارت کو اس شعبے میں عالمی قائدین میں شامل کرنا ہے۔

وزیرموصوف نے کہا کہ بھارت پہلے ہی ایک بڑے بایو مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر سامنے آ چکا ہے، جو ایشیا–بحر الکاہل خطے میں تیسرے نمبر پر اور عالمی سطح پر نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ اس پیش رفت کو بایو فاؤنڈریز، بایو مینوفیکچرنگ کلسٹرز اور بایو-نیسٹ انکیوبیٹرز جیسے اقدامات سے تقویت حاصل ہوئی ہے، جو اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور بایوٹیکنالوجی میں جدت کو فروغ دینے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ بایوٹیکنالوجی کو بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انقلابی کردار ادا کیا تھا اگلے صنعتی انقلاب کی محرک قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیرموصوف نے جینیاتی بنیادوں پر تیار کردہ ویکسینز اور علاج کے شعبے میں بھارت کی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔ ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے یاد دلایا کہ بھارت نے کووڈ-19 کے خلاف دنیا کی پہلی ڈی این اے ویکسین تیار کی، جبکہ سروائیکل کینسر کی روک تھام کے لیے ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کے خلاف مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین بھی بنائی گئی ہے۔

جدید تحقیقات سے متعلق کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارتی سائنسداں ہیموفیلیا، جو خون بہنے کی ایک سنگین بیماری ہے، کے لیے جین تھراپی پر مبنی علاج کے کامیاب تجربات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر جینیاتی بیماریوں پر بھی ابھی تحقیق جاری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام خاص طور پر بریسٹ کینسر(چھاتی کے کینسر) جیسی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔ وزیر موصوف نےمصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی کے توسط سے بڑے پیمانے پر اسکریننگ اقدامات کو سراہا، جن کے ذریعے موبائل ہیلتھ یونٹس کے دور دراز گاؤں تک تشخیصی خدمات پہنچائی جا سکتی ہیں۔

 وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ابتدائی تشخیص کینسر کے علاج کے نتائج کو نمایاں طور پر بدل رہی ہے، اور بریسٹ کینسر(چھاتی کے کینسر) سمیت بعض اقسام کے کینسر اب ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر قابلِ علاج سمجھے جا رہے ہیں۔

سائنسی تحقیق کے ابھرتے ہوئے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت خلائی طب (اسپیس میڈیسن) کے اشتراکی منصوبوں میں بھی پیش رفت کر رہا ہے، جن میں خلا کے محکمے اور ایمس (ایمس) کے درمیان مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت مائیکرو گریویٹی میں انسانی جسم کے حیاتیاتی ردِعمل اور زمین پر صحت سے متعلق خدمات پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حال ہی میں متعارف کرائے گئے شانتی ایکٹ کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت پہلی بار بھارت کے جوہری شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولا گیا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس اصلاح سے اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز، جوہری ٹیکنالوجیز اور نیوکلیئر میڈیسن ریسرچ میں سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا،جس  کے نتیجے میں ایکیوٹ لیمفائیڈ لیوکیمیا اور فیٹی لیور جیسی بیماریوں کے علاج میں نئی پیش رفت ممکن ہوسکےگی۔

 وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ نیوکلیئر سیکٹر کو کھولنے سے نہ صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ حاصل ہوگا بلکہ اسٹارٹ اپس، کاروباری افراد اور چھوٹی کمپنیوں کے لیے بھی ابھرتی ہوئی نیوکلائی ٹیکنالوجیز میں حصہ لینے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیرموصوف نے جدید ٹیکنالوجیز، بشمول بایوٹیکنالوجی، نیوکلیئر سائنس اور صحت سے متعلق ابھرتے ہوئے حل میں نجی شعبے کی شراکت بڑھانے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) فنڈ کے قیام کو بھی اُجاگر کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مضبوط سائنسی تحقیق اور بڑے پیمانے پر صحت سے متعلق ڈیٹا نظام کی بدولت بھارت کو عالمی سطح پر کم لاگت اور صحت سے متعلق معیاری خدمات فراہم کرنے والے اہم مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

وزیر موصوف نے لائف سائنسز اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھارت کے ساتھ عالمی تعاون میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور اس یقین کو بھی اُجاگر کیا کہ “پارلیمنٹیرینز فورم آن لائف سائنسز” جیسے اقدامات بین الاقوامی تعاون اور علم کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

J1.jpg

تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ جمعہ کے روز نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں “این ایکس ٹی سمٹ 2026” کے تحت “مستقبل کی طب” کے موضوع پر منعقد خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے۔

 

****

 

ش ح۔ش م۔ ش ا

U NO: 7000


(ریلیز آئی ڈی: 2260542) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil