سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ‘قومی یومِ ٹیکنالوجی’ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد بھارت میں تکنیکی تبدیلی کا زیادہ تر حصہ گزشتہ ایک دہائی میں ہوا ہے


بھارت دنیا کے تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ نظام کے طور پر ابھرا؛ سائنسی اداروں اور ٹیکنالوجیز کے درمیان مزید ہم آہنگی پر زور

بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں عالمی اختراعی اشاریے میں80ویں سے 38ویں پوزیشن تک ترقی کی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر نے سائنسی برادری پر زور دیا کہ وہ وزارتوں کے درمیان مزید سائنسی اشتراک کو فروغ دیں؛ وزیراعظم کی سات نکاتی اپیل کو دل و جان سے اپنانے کی تلقین

قومی یومِ ٹیکنالوجی کے موقع پر ‘وگیان ٹیک 2026’ میں چودہ سائنسی وزارتیں اور محکمے یکجا ہوئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAY 2026 4:45PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر (آزادانہ چارج ) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ آزاد بھارت میں تکنیکی تبدیلی کا بڑا حصہ گزشتہ ایک دہائی میں ہوا ہے، جس کی وجہ فیصلہ کن پالیسی اصلاحات، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے مضبوط سیاسی سرپرستی، تحقیق کی بہتر آزادی اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔

انہوں نے ’وگیان ٹیک 2026‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس ہمیشہ سے سائنسی صلاحیت اور باصلاحیت انسانی وسائل موجود تھے، لیکن 2014 کے بعد سائنس اور جدت  طرازی کو غیر معمولی قومی ترجیح ملی، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں تیز رفتار تکنیکی ترقی ہوئی۔

وزیرموصوف  نے کہا کہ بھارت کا اسٹارٹ اپ نظام جو 2014 میں محض 350 سے 400 اسٹارٹ اپس تک محدود تھا، آج دو لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اختراعی اشاریے میں بھارت کی درجہ بندی80 سے بڑھ کر 38 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ملک آج  پیٹنٹس کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے، جہاں ایک لاکھ سے زائد  پیٹنٹس فائل کیے گئے ہیں جن میں55 فیصد سے زیادہ بھارتی شہریوں کی جانب سے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سائنسی اشاعتوں اور اختراع پر مبنی تحقیق کے میدان میں بھی دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نمائش کا افتتاح بھی کیا اور دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام میں شریک نمائش کنندگان سے ملاقات کی۔ اس تقریب کا موضوع ’ترقی یافتہ بھارت کے لیے بھارت کے اختراعی نظام کی تعمیر‘ تھا۔ اس پروگرام میں پہلی بار سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق سے وابستہ چودہ وزارتیں اور محکمے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔

اس موقع پر ’ٹیک-سنگره‘ نامی ایک مجموعہ بھی جاری کیا گیا، جس میں شریک وزارتوں اور محکموں کے خود مختار اداروں اور لیبارٹریوں کی جانب سے تیار کردہ دیسی ٹیکنالوجیز کو پیش کیا گیا۔ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدامات اور مفاہمت ناموں کے تبادلے بھی شامل تھے۔

اس تقریب میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر پروفیسر اجے کمار سود، محکمہ بایو ٹیکنالوجی کے سیکریٹری، بی آر آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور بی آئی آر اے سی کے چیئرمین ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، وزارتِ ارضیاتی علوم کے سیکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن اور ڈی ایس ٹی، سی ایس آئی آر، آئی سی ایم آر، نیتی آیوگ سمیت دیگر سائنسی اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے قومی یومِ ٹیکنالوجی کی مبارکباد دی اور ایک ہی پلیٹ فارم پر متعدد سائنس وزارتوں اور محکموں کے یکجا ہونے کو بھارت کے اختراعی اور تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شروع کیے گئے کئی تاریخی اقدامات نے بھارت کو صفِ اول کے سائنسی ممالک میں شامل کر دیا ہے۔ انہوں نے نیشنل کوانٹم مشن، انڈیا اے آئی مشن، انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن، تحقیق و ترقی اور اختراع سے متعلق اقدامات، خواتین سائنس دانوں کے لیے وائز-کرن اسکیم اور اسٹارٹ اپس کے لیے نِدھی پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جدت، کاروباری مواقع اور جامع سائنسی ترقی کے لیے مسلسل مواقع میں اضافہ کیا ہے۔

وزیر موصوف نے انتظامی اصلاحات کا بھی ذکر کیا جن کے تحت سائنسی اداروں کو زیادہ خودمختاری اور لچک فراہم کی گئی ہے، جن میں خریداری کے ضوابط میں نرمی اور ادارہ جاتی سربراہان کو عالمی ٹینڈر سے استثنیٰ کے اختیارات کی تفویض شامل ہے، تاکہ تحقیق اور اختراع کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

انہوں نے سائنسی اداروں کے درمیان گہری شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف وزارتوں کے اندر ہم آہنگی کافی نہیں، بلکہ مختلف سائنسی شعبوں کے درمیان وسیع تر اشتراک ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین، جینومکس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے مشترکہ موضوعات پر کام کرنے والے اداروں کو ایک مربوط فریم ورک میں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ قومی سطح پر زیادہ بڑے اور مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حالیہ سات نکاتی عوامی اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنسی برادری پر زور دیا کہ وہ اس اپیل پر مکمل طور پر عمل کرے، خصوصاً اس بات پر زور دیا کہ غیر ضروری بیرونِ ملک سفر سے گریز کیا جائے اور جہاں ممکن ہو زیادہ ذمہ دار اور مؤثر طریقۂ کار اپنایا جائے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ آئندہ برسوں میں ترقی یافتہ بھارت کی سمت ہونے والی ہر پیش رفت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی سے جڑی ہوگی، جس سے بھارت کا سائنسی نظام ملک کے 2047 کے ہدف کی طرف سفر میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا۔

اپنے خطاب میں پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر پروفیسر اجے کمار سود نے اس پروگرام کو بھارتی سائنس کے لیے ایک تاریخی  ’ہول آف گورنمنٹ‘  اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان ٹیکنالوجیز کا باہمی اشتراک اور ہم آہنگی قومی چیلنجز جیسے صحت، موسمیاتی تبدیلی، دفاع اور زراعت وغیرہ سے نمٹنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

************

ش ح۔م م۔ش ت

 (U: 6919)


(ریلیز آئی ڈی: 2259932) وزیٹر کاؤنٹر : 11