PIB Backgrounder
وِکست بھارت – جی رام جی ایکٹ، 2025
’’اکثر پوچھے جانے والے سوالات‘‘
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAY 2026 12:19PM by PIB Delhi
- وِکست بھارت – جی رام جی ایکٹ، 2025 کیا ہے؟
وِکست بھارت – جی رام جی ایکٹ، 2025 دیہی روزگار اور ترقی سے متعلق ایک قانون ہے، جس کا مقصد وِکست بھارت 2047 @ کے وژن کے مطابق دیہی ترقی کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس کے تحت دیہی کنبوں کو غیر ہنرمند اجرتی روزگار کے 125 دنوں کی قانونی ضمانت فراہم کی جاتی ہے اور پیداواری دیہی اثاثوں کی تخلیق کو فروغ دیا جاتا ہے۔
- یہ ایکٹ کب نافذ ہوگا؟
یہ ایکٹ مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یکم جولائی 2026 سے ملک کے تمام دیہی علاقوں میں نافذ ہوگا۔
- مہاتما گاندھی این آر ای جی اے کو کب منسوخ کیا جائے گا؟
مہاتما گاندھی این آر ای جی اے مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن کے مطابق 01/07/2026 سے منسوخ ہو جائے گا۔
- کیا یہ ایکٹ تمام ریاستوں میں ایک ساتھ نافذ ہوگا؟
جی ہاں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن کے بعد یہ ایکٹ 01/07/2026 سے پورے ملک میں ایک ساتھ نافذ ہوگا۔
- اس ایکٹ کے تحت کتنے دن کے روزگار کی ضمانت دی گئی ہے؟
یہ ایکٹ ہر اہل دیہی کنبے کے بالغ افراد کو، جو غیر ہنرمند جسمانی محنت کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہوں، ایک مالی سال میں 125 دن کے اجرتی روزگار کی ضمانت دیتا ہے۔
- کیا ریاستی حکومتوں کے لیے اس ایکٹ کے تحت اسکیمیں بنانا لازمی ہے؟
جی ہاں۔ ایکٹ کے نفاذ کے بعد ریاستی حکومتوں کے لیے مقررہ مدت کے اندر اس کے مطابق اسکیمیں نوٹیفائی کرنا لازمی ہوگا۔
- منسوخی کے بعد جاری کاموں کا کیا ہوگا؟
مہاتما گاندھی این آر ای جی اے کے تحت جاری منصوبے آغاز کی تاریخ پر وی بی-جی رام جی ایکٹ کے مطابق جاری رہ سکتے ہیں۔ان کاموں کو منظم طریقے سے منتقل کیا جائے گا اور انہیں مکمل کرنے کو ترجیح دی جائے گی تاکہ عوامی اثاثے ادھورے نہ رہیں اور اجتماعی فوائد برقرار رہیں۔
- کیا وِکست بھارت-جی رام جی ایکٹ کے دوران مہاتما گاندھی این آر ای جی اے کے تحت روزگار جاری رہے گا؟
جی ہاں۔ مہاتما گاندھی این آر ای جی اے کے تحت روزگار وی بی جی رام جی کے آغاز تک بلا تعطل جاری رہے گا۔
- عبوری دور میں مسلسل روزگار کی فراہمی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟
ابھرتی ہوئی طلب اور زمینی ضروریات کے مطابق ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مناسب لیبر بجٹ فراہم کیا گیا ہے تاکہ بلا رکاوٹ روزگار کے مواقع اور وقت پر اجرت کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔
- کیا عبوری مدت کے دوران نئے کام شروع کیے جا سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ جہاں جاری کام روزگار کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوں، وہاں وِکست بھارت-جی رام جی ایکٹ کے شیڈولI کے مطابق نئے کام شروع کیے جا سکتے ہیں۔
- کیا نئے ایکٹ کے تحت مزدوروں کو روزگار کی ضمانت ملتی رہے گی؟
جی ہاں۔ ہر وہ دیہی خاندان جس کے بالغ افراد غیر ہنرمند جسمانی محنت کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہوں، انہیں قانونی روزگار کی ضمانت حاصل رہے گی۔ یہ ضمانت 100 دن سے بڑھا کر 125 دن سالانہ کر دی گئی ہے۔
- کیا موجودہ جاب کارڈ/مزدور کارآمد رہیں گے؟
جی ہاں۔ موجودہ ایم جی این آر ای جی اے جاب کارڈ رکھنے والے مزدور، جن کی ای-کے وائی سی مکمل ہو چکی ہے، نئے دیہی روزگار گارنٹی کارڈ جاری ہونے تک وی بی جی رام جی ایکٹ کے مطابق کارآمد رہیں گے۔
- کون اس ایکٹ کے تحت روزگار کے لیے اہل ہوگا؟
ہر وہ دیہی خاندان جس کے بالغ افراد غیر ہنرمند جسمانی محنت کے لیے رضامند ہوں، اس ایکٹ کے تحت روزگار کے لیے اہل ہوگا۔
- رجسٹریشن کیسے ہوگا؟
جن کنبوں کے پاس جاب کارڈ نہیں ہے وہ اپنے بالغ فرد کے ذریعے گرام پنچایت میں نام، عمر اور پتہ جمع کرا کر رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
- روزگار کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
دیہی علاقوں کے بالغ افراد گرام پنچایت کے ذریعے روزگار کیلئے درخواست دے سکتے ہیں، چاہے وہ زبانی ہو، فارم 6 کے ذریعے ہو یا ڈیجیٹل طریقے سے۔
- کتنے دن کے اندر روزگار دینا لازمی ہے؟
درخواست کے 15 دن کے اندر روزگار فراہم کرنا ضروری ہے۔
- اگر 15 دن میں روزگار نہ ملے تو کیا ہوگا؟
مزدور کو بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے کا حق ہوگا۔
- بے روزگاری الاؤنس کتنا ہوگا؟
پہلے 30 دن کے لیے کم از کم مقررہ اجرت کا ایک چوتھائی اور اس کے بعد کم از کم نصف اجرت بطور الاؤنس ادا کیا جائے گا، جیسا کہ ریاستی حکومت کے نوٹیفکیشن میں طے ہوگا۔
- کیا وِکست بھارت-جی رام جی اسکیم کے تحت بڑھا ہوا اجرتی ریٹ دیا جائے گا؟
جی ہاں۔ اس ایکٹ کی دفعہ 10 کے مطابق بڑھا ہوا اجرتی ریٹ فراہم کیا جائے گا۔ جب تک نئی اجرتی شرح کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، اس وقت تک مہاتما گاندھی این آر ای جی اے کی موجودہ اجرتی شرحیں نافذ رہیں گی۔
- اجرت کی ادائیگی کس وقفے پر ہوگی؟
اجرت ہفتہ وار یا کسی بھی صورت میں حاضری بند ہونے کے بعد دو ہفتوں کے اندر ادا کی جائے گی۔
- اجرت کی ادائیگی کیسے کی جاتی ہے؟
مزدوروں کو اجرت ان کے ذاتی بینک یا ڈاک خانہ اکاؤنٹس میں براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔
- اجرت میں تاخیر کی صورت میں کیا ہوگا؟
اگر حاضری بند ہونے کے 15 دن کے اندر اجرت ادا نہ کی جائے تو مزدور تاخیر کے بدلے بقایا اجرت کے 0.05 فیصد یومیہ شرح سے معاوضے کے حقدار ہوں گے۔
- نئے ایکٹ کے تحت حاضری کیسے درج ہوگی؟
حاضری چہرہ شناخت (فیس ریکگنیشن) پر مبنی نظام کے ذریعے درج کی جائے گی۔ تاہم کمزور یا غیر موجود نیٹ ورک، تکنیکی مسائل یا دیگر غیر معمولی حالات میں متبادل نظام بھی دستیاب ہوگا۔
- کیا مزدوروں کو کام کی جگہ پر سہولیات ملیں گی؟
جی ہاں۔ کام کی جگہ پر صاف پینے کا پانی، بچوں کے لیے سایہ، آرام کی جگہ اور فرسٹ ایڈ کٹ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
- کیا زرعی موسم میں کام جاری رہے گا؟
بوائی اور کٹائی جیسے مصروف زرعی اوقات میں ریاستی حکومتیں ایک مخصوص مدت نوٹیفائی کریں گی جس دوران اس اسکیم کے تحت کام نہیں ہوگا۔
- اگر کام 5 کلومیٹر سے زیادہ دور ہو تو کیا ہوگا؟
زیادہ سے زیادہ 5 کلومیٹر کے اندر روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اگر اس سے دور کام دیا جائے تو مزدور کو ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات کے لیے اضافی 10 فیصد اجرت دی جائے گی۔
- ضلع سطح پر کون ذمہ دار ہوگا؟
ضلع کلکٹر یا نامزد افسر ضلع پروگرام کوآرڈینیٹر (ڈی پی سی) ہوگا۔
- پروگرام افسر کون ہوگا؟
تحصیل/بلاک سطح پر بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر سے کم درجے کا کوئی افسر پروگرام افسر نہیں ہوگا۔
- گرام پنچایت کا کیا کردار ہوگا؟
گرام پنچایت اس اسکیم کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کرے گی، جس میں رجسٹریشن، روزگار کی درخواستیں، کاموں کا اجرا، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں کی تیاری شامل ہے۔
- کیا ٹھیکیداروں کو اجازت دی جائے گی؟
نہیں۔ اس ایکٹ کے تحت مالی معاونت سے چلنے والے کاموں کے لیے ٹھیکیداروں کی تقرری نہیں کی جا سکتی۔
- کیا بھاری مشینری استعمال کی جا سکتی ہے؟
نہیں۔ تمام کام جسمانی محنت سے کیے جائیں گے اور جہاں تک ممکن ہو، مزدوروں کی جگہ لینے والی مشینوں کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
- اس ایکٹ کے تحت فنڈز کی تقسیم کا نظام کیا ہے؟
فنڈز کی تقسیم درج ذیل ہوگی:
- شمال مشرقی اور ہمالیائی ریاستوں کے لیے 90:10 کا تناسب
- دیگر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں (قانون ساز اسمبلی والے) کے لیے 60:40 کا تناسب
- قانون ساز اسمبلی کے بغیر مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 100 فیصد مرکزی مالی اعانت
- ریاستی الاٹمنٹ کیسے طے ہوگا؟
ریاستی سطح پر فنڈز کی تقسیم مرکزی حکومت کے مقرر کردہ معروضی معیار کی بنیاد پر کی جائے گی۔
- مواد (میٹیریل) پر خرچ کی حد کیا ہے؟
اس ایکٹ کے تحت مواد پر ہونے والا خرچ ضلع سطح پر 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔
- شفافیت کیسے یقینی بنائی جاتی ہے؟
ہر کام کی جگہ پر ایک “عوامی بورڈ” لگایا جائے گا جس میں کام کی تفصیل، اندازاً مزدور دن، مواد کی مقدار اور اخراجات درج ہوں گے۔
- عوام کو پیش رفت کے بارے میں کیسے آگاہ کیا جاتا ہے؟
ہفتہ وار بنیاد پر ڈیجیٹل اور جسمانی طور پر معلومات ظاہر کی جائیں گی، جس میں حاضری، ادائیگی اور منظوریوں کی تفصیل شامل ہوگی۔ گرام پنچایتیں باقاعدہ عوامی میٹنگز بھی منعقد کریں گی۔
- وی جی پی پی (وِکست گرام پنچایت منصوبہ) کیا ہے؟
یہ ایک مقامی ترقیاتی منصوبہ ہے جو گرام پنچایتیں شراکتی اور شواہد پر مبنی طریقے سے تیار کرتی ہیں تاکہ وِکست بھارت @2047 کے وژن کے مطابق دیہی ترقی ممکن ہو سکے۔
- وی جی پی پی کیوں اہم ہے؟
کیونکہ اس ایکٹ کے تحت تمام کام اسی منصوبے کے مطابق شروع کیے جائیں گے جو گرام پنچایت اور گرام سبھا کی منظوری سے تیار ہوتا ہے، تاکہ ضرورت پر مبنی اور مربوط دیہی ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
- اس ایکٹ کے تحت کس قسم کے کاموں کی اجازت ہے؟
یہ ایکٹ پائیدار اور مضبوط دیہی ترقی کے مقصد سے چار اہم موضوعاتی شعبوں کے تحت کاموں کی اجازت دیتا ہے:
- پانی کی سلامتی سے متعلق کام
- دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی
- روزگار اور معاش سے متعلق بنیادی ڈھانچہ
- شدید موسمی حالات سے تحفظ سے متعلق کام
- کیا دیگر اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ یہ ایکٹ مرکزی، ریاستی اور مقامی اسکیموں کے اشتراک کے ذریعے‘‘ایک منصوبہ، متعدد مالی معاونت’’ کے اصول کو فروغ دیتا ہے۔
- کیا پی ایم اے وائی-جی کے کام 95/90 شخص-دن کی اجرتی مدد کے لیے شامل کیے جا سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ نافذ شدہ ہدایات کے مطابق، رہائشی (ہاؤسنگ) پی ایم اے وائی-جی کے کاموں کو اس ایکٹ کے تحت 95/90 شخص-دن اجرتی معاونت کے لیے شامل کیا جا سکتا ہے۔
- کیا قدرتی آفات کے دوران رعایت دی جاتی ہے؟
جی ہاں۔ قدرتی آفات یا غیر معمولی حالات میں، ریاستی حکومت کی سفارش پر مرکزی حکومت خصوصی رعایت دے سکتی ہے، جیسے کہ منظور شدہ کاموں میں توسیع، اجرتی روزگار میں اضافہ، اور دستاویزی تقاضوں میں نرمی۔
حوالہ:
دیہی ترقی کی وزارت
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.6900
(ریلیز آئی ڈی: 2259758)
وزیٹر کاؤنٹر : 12